Home » اخلاقیات کے تضاد کو سمجھنے کی ایک اہم جہت اور ہم سب کا مسئلہ
انگریزی کتب • سماجیات / فنون وثقافت

اخلاقیات کے تضاد کو سمجھنے کی ایک اہم جہت اور ہم سب کا مسئلہ

محمد عکاشہ نیازی

برٹرینڈ رسل کی ایک معروف کتاب ہے What        I         Believe، جس میں وہ مذہب، اخلاق، انسانی زندگی اور معاشرتی رویّوں کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرتا ہے۔ کتاب کا تیسرا باب Moral        Rules یعنی اخلاقی اصول کے عنوان سے ہے۔
اس باب میں رسل بنیادی طور پر اس سوال پر گفتگو کرتا ہے کہ اخلاقی اصولوں کی بنیاد کیا ہونی چاہیے اور کسی عمل کو اچھا یا برا قرار دیتے وقت اس کے حقیقی نتائج اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو کس قدر اہمیت دینی چاہیے۔ وہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اخلاقیات محض چند ممنوعات کی فہرست کا نام نہیں بلکہ انسانوں کے باہمی تعلق، ان کے مفادات، باہمی نقصان، ظلم، تعلیم، معاشرتی ناانصافی اور انسانی تکلیف جیسے مسائل بھی اخلاقی بحث کا حصہ ہیں۔ اس کے نزدیک ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معاشرے بعض اوقات ان چیزوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں جن کا نقصان محدود ہوتا ہے جبکہ بڑے اور حقیقی نقصانات معمول بن کر نظر انداز ہوتے رہتے ہیں۔
اسی بحث کے دوران رسل مذہبی پیشواؤں کے بارے میں ایک جملہ لکھتا ہے کہ مذہبی پیشوا، اخلاق کے معلّم کی حیثیت سے، عموماً دو طرح ناکام رہتے ہیں: وہ ایسے کاموں کی مذمت کرتے ہیں جن سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور ایسے کاموں کو نظر انداز کرتے ہیں جن سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔
رسل کے الفاظ یہ ہیں:
Clergy       men,        almost        necessarily,        fail        in         two        ways         as        teachers        of         morals.        They          condemn        acts         which        do        no harm,        and         they        condone        acts         which         do         great         harm
اگرچہ رسل کی پوری بات سے اتفاق ضروری نہیں، خصوصاً اس کے بہت سے اخلاقی تصورات اسلامی تصورِ حلال و حرام سے مختلف ہیں، لیکن اس جملے نے اخلاقی ترجیحات کے حوالے سے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ اخلاقیات کی ضرورت ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اخلاقیات میں کس چیز کو کتنا اہم سمجھتے ہیں؟ کیا ہم کسی ایسے معاملے پر گھنٹوں وعظ کر سکتے ہیں جس سے کسی دوسرے انسان کو کوئی حقیقی نقصان نہیں پہنچ رہا لیکن اسی مجلس میں ظلم، بددیانتی، دھوکا، وعدہ خلافی، کاروباری خیانت، گھریلو تشدد، ملازم کا حق مارنا، وراثت میں ناانصافی، قرض واپس نہ کرنا، جھوٹ، تہمت اور معاشرتی استحصال جیسے معاملات پر چند جملوں سے آگے نہ بڑھیں؟ یہ سوال اس کتاب کے تیسرے باب کا سب سے اہم اخلاقی سوال ہے اور یہی ہمارے معاشرے کے لیے بھی قابلِ غور ہے۔
ہماری مذہبی نقطہء نظر سے کی جانے والی ناصحانہ گفتگو میں بعض اوقات چند مخصوص موضوعات غیر معمولی طور پر نمایاں ہوجاتے ہیں۔ مثلاً نگاہ کی حفاظت، لباس، نوجوانوں کے مخصوص فتنوں اور بعض ظاہری معاشرتی برائیوں پر مسلسل گفتگو ہوتی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم موضوعات ہیں، لیکن اگر اخلاقی تربیت کا بڑا حصہ انہی چند چیزوں کے گرد گھومنے لگے تو پھر اخلاقیات کے بہت سے بنیادی پہلو ہماری توجہ سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اگر ایک نوجوان اپنی نگاہ کی حفاظت کرتا ہے مگر ملازم کی تنخواہ روک لیتا ہے، کاروبار میں جھوٹ بولتا ہے، والدین سے بدتمیزی کرتا ہے، بہن کا حقِ وراثت دبا لیتا ہے، دوست کے ساتھ خیانت کرتا ہے، قرض واپس نہیں کرتا یا کسی کمزور شخص کو اپنے اثر و رسوخ سے دبا دیتا ہے تو کیا ہم اسے محض اس لیے اخلاقی انسان کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اخلاقیات کے چند مخصوص ظاہری ابواب میں احتیاط کی ہے؟

یہاں ایک دوسری دلچسپ صورت بھی ہمارے سامنے آتی ہے۔ کچھ عرصے سے یہ جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے کہ ہم عبادات پر تو بہت زور دیتے ہیں، اصل تو معاملات ہیں۔ اصولی طور پر یہ بات درست سمت کی طرف اشارہ کرتی ہے، لیکن اگر یہی جملہ خود ایک ایسا فیشن بن جائے جسے ہر مجلس میں بغیر کسی عملی نتیجے کے دہرایا جاتا رہے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کتنی مرتبہ کہتے ہیں کہ معاملات درست ہونے چاہییں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے دینی مزاج نے واقعی لوگوں کو معاملات میں بہتر بنایا ہے؟ کیا وہ وعدہ پورا کرتا ہے؟ کیا قرض ادا کرتا ہے؟ کیا کاروبار میں دیانت دار ہے؟ کیا اپنے ماتحت کے ساتھ انصاف کرتا ہے؟ کیا گھر میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے باعثِ اطمینان ہے؟ کیا اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت محفوظ رکھتا ہے؟ ایک شخص روزانہ لوگوں کو بتاتا رہے کہ اسلام میں حقوق العباد بہت اہم ہیں لیکن اس کے مدرسے کا ملازم کئی ماہ کی تنخواہ کا منتظر ہو، اس کا قرض خواہ اس کے دروازے پر آتا ہو اور وہ ٹالتا رہے، کاروبار میں عیب چھپاتا ہو یا گھر میں اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ سختی کرتا ہو تو صرف حقوق العباد کا وعظ اس کے اخلاق کی اصلاح نہیں کرتا۔ اخلاقی تربیت کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ ہم نے کتنی مرتبہ اخلاقیات پر گفتگو کی، بلکہ اصل پیمانہ یہ ہے کہ گفتگو کے بعد انسان کے رویّے میں کیا تبدیلی آئی۔

اسی بحث کو تصوف کے میدان میں بھی بڑی احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تصوف کی اصل روایت میں باطن کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اخلاق، تواضع، ایثار، حسنِ معاشرت، حقوق العباد اور تزکیۂ نفس کا ایک بڑا تصور موجود رہا ہے لیکن ہر زندہ روایت کی طرح یہاں بھی یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہم نے اصل مقاصد کو کس حد تک زندہ رکھا ہے؟ بعض اوقات کسی مخصوص خانقاہی یا واعظانہ مزاج میں اصلاح کے چند موضوعات (جیسے نگاہ کی حفاظت، نوجوانوں کے فتنوں، عمامہ پہننا ، تسبیح پڑھنا ، مرشد کے ‘مزاج’ کی پاسداری کرنا ، ‘بزرگوں’ کی ‘صحبت’ میں بیٹھنا یا دیگر ظاہری عادات برتنا) پر مسلسل گفتگو ہونے لگتی ہے۔ یہ موضوعات اہم ہیں لیکن اگر اخلاقی تربیت کا پورا دائرہ انہی تک محدود ہوجائے تو انسان کے اخلاق کا ایک بڑا حصہ نظر انداز ہو جاتا ہے۔ وہ شخص جو نگاہ کا بہت خیال رکھتا ہے لیکن زبان سے لوگوں کی عزت پامال کرتا ہے، جو نوجوانوں کو گناہوں سے بچنے کے طویل اسباق دیتا ہے لیکن اپنے کاروباری شریک کے ساتھ انصاف نہیں کرتا، جو ظاہری تقویٰ کی تلقین کرتا ہے لیکن اپنے ماتحت کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ رکھتا ہے یا گھر میں حقوق ادا نہیں کرتا، وہ دراصل اخلاقی تضادات کی ایک فہرست مرتب کررہا ہے۔ اخلاقیات کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہے کہ انسان اس اخلاق کو اپنے اُن معاملات میں بھی نافذ کرے جہاں اسے کوئی داد نہیں ملتی۔

ہمارے بعض مذہبی خطابات میں ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہوگیا ہے کہ چند ایسے موضوعات جو نوجوان نسل کو فوراً متوجہ کرتے ہیں (جیسے ڈپریشن کا سبب کیا ہے، نوجوان بے راہ رو کیوں ہورہے ہیں، موبائل اور سوشل میڈیا کا نقصان، نگاہ کیسے بچائی جائے، یا ‘فتنوں’ سے کیسے بچیں؟) بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ یہ اہم سوالات ہیں لیکن اگر دینی خطاب کا بڑا حصہ صرف انہی فوری توجہ کھینچنے والے موضوعات میں گردش کرتا رہے تو اخلاقی تربیت کا دائرہ بہت محدود ہوجاتا ہے۔ نوجوان کو یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کام کی جگہ پر دیانت کیا ہے، کاروبار میں امانت کیا ہے، اختلاف میں تہذیب کیا ہے، طاقت ملنے کے بعد انسان کیسے بدلتا ہے، ماں باپ کے بغیر انسان کیسے بدل جاتا ہے، کمزور آدمی کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہے، ملازم ہمارے لیے انسان ہے یا صرف مزدور، ہم قرض کیوں واپس نہیں کرتے، وعدہ کیوں توڑتے ہیں، کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کیوں نہیں بچاتے، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے کردار کشی کیوں کردیتے ہیں، اور اپنے سیاسی یا فکری مخالف کے لیے وہی اخلاق کیوں نہیں رکھتے جو دوست کے لیے رکھتے ہیں؟ یہ بھی تو اخلاقیات ہیں۔
یہاں ایک اور تکلیف دہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ کبھی ایسا شخص جو مذہبی اصطلاحات سے زیادہ واقف نہیں ہوتا، عملی معاملات میں ہم سے بہتر اخلاق کا مظاہرہ کررہا ہوتا ہے۔ وہ وعدہ پورا کرتا ہے، ملازم کا حق وقت پر دیتا ہے، کاروبار میں دھوکا نہیں دیتا، کسی کی بات دوسروں تک نہیں پہنچاتا اور اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت برقرار رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی شخص مذہبی اصطلاحات کا بڑا علم رکھنے کے باوجود اپنے قریب رہنے والوں کے لیے مشکل بن جائے تو ہمیں صرف اس شخص کو نہیں بلکہ اپنے تربیتی طریقۂ کار کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اسلامی اخلاقیات کا کمال صرف یہ نہیں کہ انسان جانتا ہو کہ کون سی چیز حرام ہے بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ اس کے ہاتھ، زبان، مال، اختیار اور رویّے سے دوسرے انسان محفوظ ہوں۔
اسی لیے رسل کا یہ جملہ اپنی جگہ ایک فلسفیانہ اعتراض سہی اور اس کے تمام مقدمات کو اسلامی معیار پر قبول کرنا ضروری نہیں، لیکن اس جملے کو اپنے معاشرے کے سامنے ایک سوال کی طرح رکھا جاسکتا ہے کہ کیا ہم واقعی ہر برائی کو اس کے حقیقی نقصان کے مطابق اہمیت دیتے ہیں؟ یا ہمارے ہاں بھی کچھ نسبتاً معمولی چیزیں ہماری اخلاقی گفتگو کا مرکز بن جاتی ہیں، جبکہ بڑے نقصانات ہماری عادت، تعلق، ادارے، خانقاہ، مدرسے، بازار اور معاشرتی نظام کے اندر معمول بن کر رہ جاتے ہیں؟ ہمیں اپنے دینی اور اخلاقی خطاب میں اخلاقی ترجیحات کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

سو باتوں کی ایک بات یہی ہے کہ ہمیں صرف یہ نہیں بتانا کہ کیا حرام ہے اور کیا حلال، بلکہ یہ بھی سکھانا ہوگا کہ کون سی برائی کتنی بڑی ہے، کس انسان کو کتنا نقصان پہنچاتی ہے، اس کے پیچھے کون سی انسانی کمزوری یا معاشرتی ساخت کام کرتی ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے عملی طور پر کیا کرنا چاہیے۔
اس ضمن میں یہ بھی اہم ہے کہ شریعت نے صرف یہ نہیں بتایا کہ کون سی چیز جائز ہے اور کون سی ناجائز؛ اس نے اعمال اور احکام کے درمیان مراتب بھی قائم کیے ہیں۔ ہر فرض یا حرام یکساں درجے کا نہیں اور ہر منکر پر یکساں شدت سے نکیر بھی نہیں کی جاسکتی۔ قرآن مجید نے خود بعض اعمال کے باہمی تقابل میں فرمایا: لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ — “یہ اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہیں۔‘” (التوبۃ: 9-19) یعنی نیکی نیکی ہونے کے باوجود اپنے مراتب رکھتی ہے۔ اسی اصول کو فقہائے کرام نے ’’مراتب الاحکام‘‘ کے عنوان سے بیان کیا ہے کہ فرائض، واجبات، سنت، مکروہ اور حرام کے بنیادی درجوں کے اندر بھی مراتب ہوتے ہیں۔ بعض حرام زیادہ شدید ہیں اور بعض نسبتاً کم؛ بعض منکرات پر نکیر زیادہ سخت ہوگی اور بعض پر اس سے کم۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تفقہ اور محض معلومات کے درمیان فرق پیدا ہوتا ہے۔ فقیہ صرف یہ نہیں جانتا کہ یہ حرام ہے؛ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ یہ حرام کس درجے کا ہے، اس کا نقصان کیا ہے، اور اس وقت شریعت کا مقصد کس چیز کا تقاضا کرتا ہے۔
مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کا منقول جملہ اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے کہ: “غیر منکر پر نکیر کرنا خود منکر ہے۔” یعنی جس چیز کو شریعت نے منکر قرار ہی نہیں دیا، اس پر اس طرح نکیر کرنا کہ گویا وہ قطعی حرام ہے، خود شریعت کے مزاج سے تجاوز ہے۔ اور شاید یہی نکتہ ہماری موجودہ مذہبی گفتگو میں سب سے زیادہ توجہ کا محتاج ہے۔ ہمیں صرف منکرات کی فہرست نہیں چاہیے، ہمیں مراتبِ منکرات کا شعور بھی چاہیے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں