Home » مغربی تہذیب کے داخلی بحران پر چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ایک مکالمہ
تہذیبی مطالعات سماجیات / فنون وثقافت

مغربی تہذیب کے داخلی بحران پر چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ ایک مکالمہ

سوال:
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے۔ ایک طرف تحریک تنویر (Enlightenment) کا فراہم کردہ مبنی بر عقل اخلاقی تخیل ہے اور دوسری طرف سیاسی و سرمایہ دارانہ قوتوں کی، حصول طاقت اور غلبے کی خواہش ہے؟ اور یہ دونوں باہم متصادم ہیں ؟
جواب:
جی بالکل ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے:
ایک طرف اخلاقی تخیل ہے جو تحریک تنویر (Enlightenment) نے فراہم کیا—انسانی وقار، آزادی، مساوات اور انصاف جیسے آفاقی اصول۔
دوسری طرف طاقت اور اقتدار کی خواہش (Will        to         Power) ہے جو سیاسی قوتوں اور سرمایہ دارانہ مفادات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔
تحریک تنویر کا مقصد یہ تھا کہ انسان کو توہمات اور غیر عقلی اختیار سے آزاد کر کے عقل، آزادی اور انسانی مساوات پر مبنی معاشرتی و سیاسی ڈھانچے تشکیل دیے جائیں۔ کانٹ، روسو اور لاک جیسے مفکرین نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا جہاں سیاست و معاشرت کی بنیاد عقل اور اخلاق پر ہو، نہ کہ طاقت پر۔ اس سے ایک اخلاقی تخیل پیدا ہوا: جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور عقلِ عامہ کی بالادستی۔
لیکن حقیقت میں، مغربی معاشروں نے اکثر طاقت، غلبے اور توسیع کو ترجیح دی جس کا ظہور سیاسی طور پر قومی ریاستوں کے ابھار، نوآبادیاتی سلطنتوں، اور بعد ازاں عالمی بالادستی کی صورت میں ہوا۔ معاشی طور پر سرمایہ داری نے بے پناہ پیداواری قوت پیدا کی، لیکن یہ نظام مقابلے، استحصال اور سرمائے کے انبار پر مبنی رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تحریک تنویر کے عالمگیر اصول اکثر مخصوص مفادات کے ہاتھوں مسخ یا استعمال ہوئے (جیسے نوآبادیاتی نظام کو ’’مہذب بنانے‘‘ کے نام پر جواز دینا)۔
تضاد کی نوعیت یہ ہے:
اصول بمقابلہ مفادات: آفاقی اصولوں کو ریاستی و سرمایہ دارانہ مفادات توڑتے ہیں۔
آزادی بمقابلہ غلبہ: آزادی کا وعظ کیا جاتا ہے، مگر غلامی، استعمار اور معاشی استحصال بھی ساتھ چلتا ہے۔
عقل بمقابلہ آلہ جاتی عقل: اصل مقصد انسان کی آزادی تھی، مگر عقل بتدریج صرف وسیلہ پرستی (Instrumental        Reason) میں ڈھل گئی—یعنی عقل کا استعمال صرف کارکردگی بہتر بنانے، نفع بڑھانے اور کنٹرول کے لیے ہونے لگا۔ (اس نکتے کی میکس ہاک ہائیمر اور ادورنو جیسے مفکرین نے تفصیلی وضاحت کی ہے)۔
سوال:
آپ نے ہاک ہائیمر اور اڈورنو کی تنقید کا حوالہ دیا۔ کیا اس کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں؟
جواب:
ہاک ہائمر اور آدورنو نے دکھایا ہے کہ:
روشنیِ عقل، جو ابتدا میں انسان کو افسانوی تصورات اور جبر سے آزاد کرنے نکلی تھی، بالآخر خود ایک نئی اساطیر (Myth) اور جبر میں ڈھل گئی۔ یعنی عقل کی آزادی کا تصور انسان کو خودمختار بنانے کے خواب میں ڈھل گیا، اور عملاً عقل محض حساب، کنٹرول اور کارکردگی کا آلہ بن کر رہ گئی۔ فطرت کو مسخر کرنے کی کوشش نے معاشرے اور انسان کو بھی انتظامی کنٹرول کا شکار بنا دیا۔
معاشی دائرے میں سرمایہ داری نے تحریک تنویر کے اصولوں کو اشیا اور نفع کی منطق میں بدل دیا۔ چنانچہ
آزادی محض ’’صارفانہ انتخاب‘‘ بن گئی، انفرادیت ’’برانڈنگ‘‘ میں بدل گئی، اور جمہوریت ’’رائے سازی‘‘ کی منڈی میں۔
ثقافتی صنعت (Culture        Industry)—یعنی میڈیا، تفریح اور اشتہار بازی—انسان کو آزاد کرنے کے بجائے قابو میں رکھنے کا ذریعہ بن گئی۔
یوں، تضاد صرف یہ نہیں کہ ایک طرف اصول ہیں اور دوسری طرف طاقت و سرمایہ، بلکہ خود تنویری عقل کا ڈھانچہ جب آلہ جاتی بن گیا تو وہی آزادی کے خواب کو کھا گیا۔ انسان اور فطرت کی ہم آہنگی کے بجائے عقل نے ہر چیز کو قابو میں لانے کا ’’اسطورہ‘‘ تراش لیا۔
آج کے حالات میں اس تضاد کے مظاہر یہ ہیں:
سیاست میں: جمہوریت اور انسانی حقوق کا نعرہ اکثر طاقت کی سیاست اور عسکری مفادات کا پردہ ہوتا ہے۔
سرمایہ داری میں: ٹیکنالوجی اور سائنس، جو ترقی کے نام پر سامنے آتے ہیں، زیادہ تر کنٹرول، نگرانی اور لامحدود کھپت کے خادم ہیں۔
ثقافت میں: آزادیِ اظہار کے پردے میں ابلاغی صنعتیں عوامی شعور کو مسخر کرتی ہیں۔
ہاک ہائمر اور آدورنو کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کا تضاد محض یہ نہیں کہ تحریک تنویر کے اصول طاقت و سرمایہ کے مدمقابل ہیں، بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ عقل خود، جب آلہ جاتی عقل میں بدل گئی تو وہی طاقت اور سرمایہ کے لیے بنیادی ذریعہ بن گئی۔ اس طرح آزادی، وقار اور مساوات کا خواب، بس خواب ہی رہ گیا۔
سوال:
ہاک ہائمر اور اڈورنو کی تحریک تنویر پر تنقید کے پس منظر میں کیا ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ تحریک تنویر کی قدریں اور نظریات مغربی تہذیب کا تاسیسی لمحہ نہیں تھے، بلکہ وہ دراصل “Will to Power” کی اس بالادستی کا تسلسل تھے جو مغرب میں نوآبادیات، سرمایہ داری اور سائنسی انقلاب کے ذریعے پہلے ہی غالب آ چکی تھی؟
جواب:
یہ ایک نہایت گہرا اور قابل غور سوال ہے۔ آئیے اسے ہاک ہائمر اور اڈورنو کی کتاب Dialectic        of        Enlightenment کی روشنی میں کھولتے ہیں۔
ہاک ہائمر اور اڈورنو یہ واضح کرتے ہیں کہ تحریک تنویر مغربی جدیدیت کی شروعات یا کوئی بالکل نیا آغاز نہیں تھا۔ بلکہ یہ اس تاریخی عمل کی انتہا تھی جو پہلے ہی جاری تھا — یعنی سرمایہ داری، نوآبادیاتی توسیع اور سائنسی انقلاب میں موجود “آلاتی عقل” (instrumental        rationality) کی تشکیل۔ ان کے مطابق تحریک تنویر نے ان رجحانات کو مزید منظم اور عالمگیر کر دیا۔ لہٰذا آپ کی بات درست ہے کہ تحریک تنویر کی قدریں مغربی تہذیب کی اصل بنیاد نہیں تھیں بلکہ زیادہ تر ان گہرے میلانات کی نظریاتی صورت گری تھیں جو پہلے سے چل رہے تھے۔
اگر ہم نطشے (Nietzsche) کے مفہوم میں “Will        to         Power” کو دیکھیں (یعنی غلبے، کنٹرول اور توسیع کی جبلّت)، تو Enlightenment کی عقلیت کو اس موجودہ رجحان کی ایک باقاعدہ شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہاک ہائمر اور اڈورنو کہتے ہیں کہ اساطیر (myth) اور Enlightenment ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں بلکہ تسلسل میں ہیں: تحریک تنویر نے فطرت کو غیر اساطیری تو بنایا مگر اسے ایک نئی محکومیت کے تحت کر دیا۔
تحریک تنویر سے بہت پہلے یورپ نے نوآبادیاتی قبضے، غلامی اور اقتصادی استحصال شروع کر دیا تھا۔ ابتدائی سرمایہ دارانہ نظام دولت جمع کرنے اور غلبے پر قائم تھا۔ اور سائنسی انقلاب نے فطرت کو قابو کرنے اور پیمائش کے اصول متعارف کروائے، جو بعد میں تحریک تنویر کی عقلیت کی بنیاد بنے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو تحریک تنویر کی قدریں (عقل، خودمختاری، آزادی) دراصل اسی طاقت ور عمل کی توجیہ یا تائید جواز بن جاتی ہیں۔
یقیناً‌ تحریک تنویر نے انسان کو توہمات، جبر اور روایت پرستی سے آزادی کا وعدہ بھی دیا۔ لیکن ہاک ہائمر اور اڈورنو کے نزدیک تحریک تنویر کی شکل میں جو عقل سامنے آئی، وہ “آلاتی عقل” تھی، جس میں غلبے اور محکومیت کے بیج چھپے ہوئے تھے۔ یوں آزادی کے دعوے کے باوجود، تحریک تنویر نے طاقت کے انہی رجحانات کو مزید مضبوط اور جائز قرار دیا۔
اس لحاظ سے تحریک تنویر غلبے کے سفر میں ایک نئی منزل تھی جہاں غلبے کے رجحانات مزید گہرے ہو گئے۔ اس نے آزادی کے امکانات پیدا کیے (انسانی حقوق، جمہوریت وغیرہ) مگر ساتھ ہی نوآبادیات، سرمایہ داری اور بیوروکریسی کے نظام کو بھی جواز بخشا۔
اگر اس تنقید کو تسلیم کیا جائے تو مغربی جدیدیت کی بنیاد تحریک تنویر پر نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی سلسلے پر ہے جس کی جڑیں غلبے میں ہیں۔ تحریک تنویر نے بس ان رجحانات کو ایک “عقلی ترقی” کا لبادہ اوڑھا دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا نکتہ بالکل Dialectic         of           Enlightenment کے قریب ہے: تحریک تنویر مغربی جدیدیت کا آغاز نہیں بلکہ اس کی نظریاتی صورت گری ہے جو پہلے سے موجود نوآبادیات، سرمایہ داری اور سائنسی غلبے پر کھڑی تھی۔
سوال:
اگر تحریک تنویر طاقت، توسیع اور غلبے کی پہلے سے موجود قوتوں کی ایک نظریاتی صورت گری تھی، تو پھر وہ ’’عقلی’’ اور ’’اخلاقی’’ اقدار کیسے سامنے آئیں جنہیں اس نے پیش کیا؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مطلق العنانیت (absolutism) کے ردعمل کے طور پر سامنے آئیں؟ یا ان کا محرک یہ احساس تھا کہ طاقت اور غلبے کی راہ پر مزید ترقی عقل پر مبنی اقدار کے ذریعے ہی ممکن ہے؟ دوسرے لفظوں میں، کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ تحریک تنویر کی اقدار آلاتی ذہنیت ہی سے نکلی تھیں نہ کہ کسی خالص اخلاقی وژن سے؟ نیز کیا یہ کہنا بھی درست ہوگا کہ یہ بنیادی طور پر مغربی معاشروں کے لیے تھیں، نہ کہ غیر مغربی اقوام کے ساتھ تعلقات میں راہ نما اصولوں کے طور پر پیش کی گئی تھیں؟
جواب:
یہ نہایت اہم سوال ہے اور تحریک تنویر کی تفہیم میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا نکتہ بھی یہی ہے۔ آئیے اسے ہاک ہائمر، اڈورنو اور تنقیدی روایت کی روشنی میں دیکھتے ہیں:
ہاک ہائمر اور اڈورنو کے نزدیک تحریک تنویر کی “عقلی اقدار” (عقل، ترقی، خودمختاری، آزادی) محض اخلاقی وژن سے نہیں ابھری تھیں بلکہ وہ اسی آلاتی عقل سے جڑی ہوئی تھیں جو سرمایہ داری، نوآبادیاتی توسیع اور سائنسی انقلاب میں پہلے ہی غالب تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ عقلیت کو ایک آلے کے طور پر برتا جا رہا تھا۔ آزادی، مساوات اور قانون کی حکمرانی جیسے اصول یورپ کے اندر تو سماجی وسیاسی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے تھے، لیکن یہی اصول دوسروں پر تسلط کا جواز بھی فراہم کرتے تھے۔
آپ کی یہ بات درست ہے کہ تحریک تنویر کی اقدار دراصل مطلق العنان بادشاہت، جاگیرداری اور مذہبی جبر کے ردعمل کے طور پر سامنے آئیں، اور یہ ردعمل محض اخلاقی نہیں تھا بلکہ حکمتِ عملی پر مبنی تھا۔ چونکہ یورپ پہلے ہی سرمایہ دارانہ اور سامراجی توسیع کی راہ پر تھا، اس لیے جاگیرداری اور مطلق العنانیت کی رکاوٹوں کو توڑنا ضروری تھا تاکہ نئی پیداواری اور سیاسی قوتیں آزاد ہو سکیں۔ اس طرح عقل پر مبنی اقدار نے انسان کو بادشاہ اور کلیسا کے جبر سے تو آزادی دلائی، لیکن ساتھ ہی یورپی معاشروں کو زیادہ قابلِ تنظیم، پیداواری طور پر مؤثر اور خارجی طور پر توسیع پسند بھی بنا دیا۔
تحریک تنویر کی اقدار کی دوہری نوعیت کا نکتہ بھی درست ہے۔ مغربی معاشروں کے لیے یہ اقدار ترقی، شہریت، معاہدۂ عمرانی، انسانی حقوق اور بالآخر جمہوریت کے اصولوں کی صورت میں اپنائی گئیں۔ ان سے اندرونی سطح پر اصلاح اور ہم آہنگی کو جواز ملا۔ لیکن غیر مغربی معاشروں کے لیے یہی اقدار معطل یا مسخ کر دی گئیں۔ نوآبادیات کے زیرِ اثر اقوام کے لیے اکثر “ابھی وہ تیار نہیں” کا نکتہ اٹھایا جاتا تھا، یعنی وہ ازخود عقل، آزادی یا ترقی کے اہل نہیں۔ یوں “آفاقی” اقدار کا دعویٰ اصل میں خطیبانہ تھا، یعنی باتوں کی حد تک یہ اقدار سب کے لیے، مگر عملاً‌ صرف مغرب کے لیے تھیں۔ یہ تضاد کانٹ اور مل جیسے مفکرین میں صاف دکھائی دیتا ہے جو داخلی طور پر آزادی کے داعی، مگر بیرونی دنیا میں نوآبادیاتی سرپرستی کے حامی تھے۔
لہٰذا یہ کہنا درست ہے کہ تحریک تنویر کی اقدار خالص اخلاقی وژن سے زیادہ ایک آلاتی ذہنیت سے نکلی تھیں، جو مغربی توسیع اور غلبے کے ساتھ ہم آہنگ تھی۔ اخلاقی پہلو موجود ضرور تھا، لیکن وہ طاقت اور غلبے کے اس ڈھانچے سے الگ نہیں تھا۔ یہ اقدار آلاتی عقل کی نظریاتی صورت گری تھیں جو مغربی معاشروں کے اندرونی ارتقا اور بیرونی غلبے، دونوں کے لیے ناگزیر تھی۔
سوال:
ایسا لگتا ہے کہ آپ نے میرے سوال میں موجود مفروضے کو درست مانتے ہوئے بس اس کی تائید کر دی ہے۔ کیا آپ تحریک تنویر کی اخلاقی سوچ کے پس منظر کا ایک متوازن جائزہ پیش کر سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اخلاقی فلسفے کی ایک گہری اور مضبوط روایت قبل از مسیحی اور مسیحی ادوار میں موجود تھی اور اس کا اثر لازماً تنویری مفکرین کی سوچ پر بھی پڑا ہوگا۔
جواب:
یہ نہایت درست اور اہم نکتہ ہے۔ آپ بجا طور پر کہہ رہے ہیں کہ میرے پچھلے جواب میں، میں نے زیادہ زور ہاک ہائمر اور اڈورنو کی تنقید پر دیا، جس میں تنویری فکر کو غلبے اور اقتدار کی عقلیت کا تسلسل سمجھا گیا ہے۔ لیکن اگر متوازن زاویہ اختیار کریں تو یہ ماننا ہوگا کہ تنویری فکر صرف طاقت کا ایک نقاب نہیں تھی بلکہ اُس نے پہلے سے موجود اخلاقی روایات کو بھی اپنے اندر سمویا۔
مثلاً‌ اخلاقی فضائل (ارسطو)، فطری قانون (رواقی فلاسفہ) اور کائنات کے عقلی نظم وترتیب کے تصورات تنویری مفکرین کو یونانی فلسفے سے ورثے میں ملے تھے۔ عقل کے، اخلاقی رجحان کا حامل ہونے کا تصور اسی پس منظر سے آیا تھا۔
قرونِ وسطیٰ اور اوائلِ جدید دور کے مسیحی مفکرین نے فطری قانون (ایکوائنس)، ضمیر کے فرائض اور انسانی شرف کے تصورات کو واضح کیا تھا، جنھیں تنویری فکر میں سیکولر سانچے میں ڈھال لیا گیا۔
نشاۃِ ثانیہ سے پیدا ہونے والے ہیومنزم نے انسانی شرف، اخلاقی خودمختاری اور تعلیم کے ذریعے انسانی شخصیت میں فضائل پیدا کرنے کے اصولوں پر زور دیا تھا۔
یوں تنویری مفکرین نے اخلاقیات کو بالکل نئے سرے سے نہیں تراشا بلکہ پرانی اور پرثروت اخلاقی روایت کو نئے سانچوں میں ڈھالنے کی کوشش کی:
کانٹ (Kant) نے اخلاقیات کو خودمختاری اور فرض مطلق (categorical         imperative) پر استوار کیا — جو ایک ایسا آفاقی اصول ہے جو ہر عقلی وجود پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ محض سیاسی نہیں بلکہ حقیقی اخلاقی کاوش تھی۔
لاک، روسو، اور مونٹیسکیو نے حقوق، معاہدۂ عمرانی اور آزادی کے نظریات کو بطور اخلاقی اور اقداری منصوبے کے پیش کیا تاکہ انسانی زندگی کو شرف اور وقار حاصل ہو۔
افادیت پسند مفکرین (Bentham, Mill) نے مسرت کے اصول کو بنیاد بنا کر اخلاقیات کو منظم کرنے کی کوشش کی — یہ انداز فکر بھی اخلاقی طرز احساس ہی سے پیدا ہوا تھا۔
اس تجزیے کی روشنی میں متوازن مؤقف یہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ تنویری فکر کے پس منظر میں سیاسی اور طاقت کے مقاصد بھی کارفرما تھے، لیکن اخلاقی وژن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ تنویری اقدار طاقت سے جڑی تھیں لیکن انہیں صرف اسی میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ کانٹ یا روسو جیسے مفکرین نے واقعی سنجیدگی سے سوالات اٹھائے تھے کہ انسان، آزادی کے ساتھ اخلاقی زندگی کیسے گزار سکتا ہے۔ تنویری فکر نے ہی ایسے اخلاقی تصورات بھی فراہم کیے جنہیں پھر غلامی کے خاتمے، خواتین کی آزادی اور انقلابی تحریکوں کے جواز کے لیے استعمال کیا گیا۔
تحریک تنویر کا اخلاقی فلسفہ دو ستونوں پر کھڑا ہے:
1. یونانی، مسیحی اور ہیومنسٹ اخلاقی روایات کو جدید عقلی سانچے میں پیش کرنا۔
2. طاقت، سرمایہ داری اور توسیع کے ڈھانچوں سے گہرا تعلق۔
یہ دونوں پہلو ایک ساتھ موجود ہیں۔ نہ تو اسے محض اخلاقی منصوبہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی صرف غلبے کا آلہ۔ تنویری فکر میں اخلاقی سوچ محض غلبے کے تصورات کے زیراثر پیدا نہیں ہوئی، بلکہ اس نے یونانی، مسیحی اور انسانی شرف پر مبنی دیگر فلسفیانہ روایات سے گہرا رشتہ قائم رکھا۔ البتہ یہ کہنا درست ہے کہ جدید سرمایہ داری اور سامراج کے تناظر میں ان اقدار کا استعمال بیک وقت اخلاقی بھی تھا اور آلاتی بھی: ایک طرف اس نے آزادی اور انسانی حقوق کی صورت میں نجات دہندہ کا کردار ادا کیا، اور دوسری طرف طاقت اور غلبے کو بھی جواز فراہم کیا۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں