Home » ریاستِ پاکستان میں احتجاج /مظاہرے اور ان میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ
سماجیات / فنون وثقافت سیاست واقتصاد

ریاستِ پاکستان میں احتجاج /مظاہرے اور ان میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ

محمد طلحہ

پاکستان میں احتجاج کی تاریخ بہت پرانی ہے لوگ اپنے مطالبات کے حصول کے لئے احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں۔

تحریک ختم نبوت

اللہ تعالی نے مسلمانوں پر فضل وکرم  فرمایا کہ  ایک طویل جدوجہد کے بعد آزادریاست  ، ملک پاکستان 1947 ء  میں  مسلمانوں کو عطا کیا   پاکستان جب بن گیا تو اس  کے بعد بہت سے اہم کلیدی عہدوں پر قادیانی آگئے  تو اس موقع اورحالت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے  علماء اور دینی جماعتوں کے نمائندوں نے  اس سے متعلق  اپنا  واضح  موقف اور مطالبات پیش کئے  تو اس موقع پر پورے ملک میں تحریک ختم نبوت 1953ء چلی  جس میں  ہزاروں ، لاکھوں لوگ   گھروں سے باہر نکلے  اس موقع پر ملتان میں  پولیس نے مظاہرین  پر اندھا دھند فائرنگ کی   اس فائرنگ سے کئ نماز ی جان سے چلے گئے  بہرحال اس تحریک کے دوران پھر توڑ پھوڑ اور ہنگامے ہوئے  گویا کہ یہ تحریک خون ریز تھی ملک میں پہلی مرتبہ ہڑتال ہوئی    مظاہرین نے کراچی جو اس وقت وفاقی دارالحکومت تھا اس پر بڑا دباؤ ڈالا  بالآخرحکومت نے تحریک ختم نبوت کی راست اقدام  کمیٹی کے 721اراکین کو گرفتار کیا اس احتجاج وہنگامہ آرائی میں بہت جانی ومالی نقصان  بھی  ہوا۔  [i]

صدر پاکستان سکندر مرزا کے خلاف احتجاج اور مارشل لا

1956ء  میں پہلے نامزد صدر سکندر مرزا کے خلاف ملک میں  احتجاج شروع ہوا تقریبا پانچ برس ہی گزرے تھے کہ    پورے ملک میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا  لگادیا اور صدر سکندر مرزا کو برطرف کردیا ۔[ii]

1956ء  خان عبدالقیوم خان کی قیادت  میں ایک طویل جلوس نکلا جو اٹھارہ میل پر مشتمل تھا یہ جلوس راولپنڈی سے شروع ہو کر گجرات تک   محیط ہے  یہ جلوس بھی ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذکا سبب بنا بہرحال   اس جلوس نے حکمرانوں پر  کافی رعب ودباو پڑا   بالآخر عبدالقیوم خان کو گرفتار کیا گیا اورپھر اسے  سخت تشدد کا نشانہ بنایا  گیا ۔

60ءکی دھائی میں صدرایوب کے مارشل لاء کےخلاف ملک میں بہت احتجاج ہوئے  تحریکیں چلی جس میں باقی مسائل کے ساتھ ساتھ مہنگائی اور  کسانوں کے مسائل بھی شامل ہے  1965ءکی جنگ کے بعد مہنگائی  ، طبقاتی تفریق  ، کسانوں اور مزدوروں کے مسائل شامل تھے۔[iii]

ایوب خان کے حق میں جلوس

1965ء پاکستان کے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کو محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ووٹنگ میں بھاری اکثریت ملی تو ایوب خان کے بیٹے نے اس خوشی میں کراچی میں ایک بڑا جلوس نکالا جس کے نتیجے میں کراچی بھر میں فسادات پھوٹ پڑے،  کئی جانیں چلی گئی  اور لوگوں کی املاک کو کافی نقصان پہنچا ۔[iv]

ایوب خان کا استعفی

1965ءکی جنگ کے بعد صدر ایوب خان کی ساکھ بہت زیادہ متاثر ہوئی   احتجاجی تحریکوں نے پھر سر اٹھانا شروع کئے،  1968ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے خلاف تحریک شروع کردئے راستے    بند ہو گئے  ملک میں افرا تفری پھیل گئ اس میں بھی کافی نقصان ہوا  اس  احتجاجی تحریک کی ابتدا، سندھ کے شہر  حیدرآباد سے  ہوئ  7 نومبر  1968ءکوایک سانحہ پیش آیا  راوالپنڈی میں عبدالحمید نامی طالب علم پر پولیس کی فائرنگ  ہوئی  جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہو گیا   بالآخر 1969ءکو ایوب خان نے ان دھرنوں سے تنگ آکر استعفی دیدیا اور  اقتدار جنرل یحٰی خان کے سپرد کردیا پھر جنرل یحٰی خان نے ایک دفعہ پھر ملک میں مارشل لاء لگادیا  ، ایوب خان کا دور اقتدار  11 سال رہا ہے۔ [v]

تحریک نظام مصطفیﷺ

1970ءکی دھائی  میں نظام مصطفی ﷺ تحریک چلی،  یہ تحریک ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھی  1970ء کا جب الیکشن ہوا تو شیخ مجیب الرحمن کو مشرقی پاکستان میں اور  ذوالفقار علی بھٹو کو مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل ہوئی شیخ مجیب الرحمن کو  اقتدار نہ دیا گیا تو یہ احتجاجی تحریکیں اور تنازع مزید شدت اختیار کر گئے جس کی وجہ سے بھارت کو بہت ذیادہ فائدہ ہوا تو پھر پاکستان دو ٹکڑے  ہو گیا۔[vi]

1972ءمیں بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم کے بن گئے   اپریل 1977ء کو پاکستان قومی اتحاد نے لانگ مارچ کرنے کا کہا اس وقت احتجاجی سرگرمیاں پورے ملک میں پھیل گئی تھی جس کیوجہ سے اس میں بھی جانی ومالی بہت نقصان اٹھانا پڑا      آٹھ مارچ 1977ء سے پانچ جولائی  1977ء تک پورے ملک میں جو افرا تفری   پھیلی  اس میں تقریبا 425 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔[vii]

1977ءمیں جنرل   ضیا، الحق نے اس چیز سے فائدہ اٹھایا اور بھٹو کو اقتدار سے باہر کردیا اس بار بھی آئین معطل کر کے مارشل لاء لگادیا گیا 1979ء میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔[viii]

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کااحتجاج

جنرل ضیاء الحق نے  1980ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات  کی روشنی میں صلوۃ اور زکوۃ کا نظام نافذ کیا میں زکوۃ وعشر آرڈیننس کے خلاف  تحریک نفاذفقہ جعفریہ نے حکومت کے خلاف ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا  مظاہرین نے سیکٹریٹ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں بیورکریسی مفلوج ہوگئی اس موقع پر حکومت جھک گئی۔[ix]

ایم آر ڑی کا احتجاج

تحریک بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کی تحریک نے 1980ءکی  دھائی  میں احتجاج شروع کیا،  ایم آرڈی میں مختلف جماعتیں اورپارٹیاں  شامل تھی جس میں پاکستان پیپلزپارٹی ، نیشنل ڈیمو کریٹک ،تحریک استقلال ،پاکستان مسلم لیگ  اور عوامی تحریک شامل تھی۔[x]

ایم کیو ایم کا احتجاج

1986ءمیں  ایم کیو ایم  جس کا شروع میں نام مہاجر قومی مومنٹ نے  کراچی اور حیدرآباد میں میں ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کی لاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا ، روڈ پر لاش رکھ کر احتجاج ک[xi]ا یہ طریقہ اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا جس کے نتیجے میں 50 لاشیں گری،  کراچی  جیسا پرامن شہر 35 سال تک احتجاج کی زد میں رہا۔[xii]

پاکستان مسلم لیگ نون   اور پاکستان پیپلز پارٹی کا احتجاج

1988ء میں نواز  شریف نے بینظیر بھٹو کے خلاف احتجاج کی تحریک چلائ  پھر اس کے بعد بینظیر نے نواز شریف کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا۔[xiii]

بینظیر بھٹو کا ٹرین مارچ

1992ءمیں بینظیر بھٹو نے ٹرین مارچ کیا  جس کا آغاز لاہور سے ہوا   اس لانگ مارچ کی روک  تھام کے لئے حکومت وقت نے شرکاء مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے کا بندوبست کر لیا جس کے نے نتیجے میں پولیس کو آپریشن بھی کرنا پڑا   بے نظیر بھٹو نے اگلے سال 1993ء میں پھر لانگ مارچ کا منصوبہ بنایا لیکن یہ دونوں مارچ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے نوازشریف کی حکومت کو صدر غلام اسحاق نے ختم کیا لیکن مئ 1993ءمیں عدلیہ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا۔[xiv]

قاضی حسین احمد کا دھرنا

24 جون 1996 کو جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد ہزاروں کارکنوں کو لیکر ایک بڑے ملین مارچ کی صورت میں  اسلام آباد کی طرف نکلے  بس ایک ہی مطالبہ تھا کہ بے نظیر حکومت نے کرپشن کی حدوں کو پار کردیا ہے اس لئے فورا یہ حکومت اقتدار کو چھوڑ دے  پھر ہوا وہی جس کے لئے دھرنا دیا گیا تھا   5 دسمبر صدر پاکستان فاروق لغاری نےاسمبلی توڑ ڈالی پھر بے نظیر حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔ یاد رہے کہ قاضی حسین احمد نے ہی پاکستان میں دھرنے کی اصطلاح کو متعارف کروایا ہے۔ [xv]

1999ء میں کارگل جنگ ہوئی پھر اس کے بعد نواز شریف نے جنرل مشرف کو برطرف کردیا جنرل ضیاءالدین کو فوج کا سربراہ لگادیا جس کے نتیجے میں جنرل مشرف نے نواز شریف کو گرفتار کر کے خود اقتدار  کی کرسی سنبھال لی۔[xvi]

وکلابرادری کا احتجاج

2007ء میں جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان کومعزول کردیا  تو اس کے خلاف وکلا برادری نے جسٹس افتخار چوہدری کی زیر قیادت تحریک چلائی مسلم لیگ ن نے اس وکلاء تحریک کی بھرپور حمایت کی   جنرل مشرف نہیں چاہتے تھے کہ جسٹس افتخار چوہدری کراچی پہنچے  ایم کیو ایم بھی یہی چاہتی تھی اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں  کا موقف یہ تھا کہ چیف جسٹس کراچی پہنچے بہرحال اس دن خون کی ہولی  جو کھیلی گئ  اس میں تقریبا 56  افراد جان سے چلے گئے اور سینکٹروں لوگ شدید زخمی ہوئے اور  اس کے علاوہ  بھی بہت نقصان ہوا   پھر اس کے بعد نون لیگ نے لانگ مارچ کیا اس مارچ سے بھی مظاہرین نے اپنے مطالبات منوالئے تھے۔[xvii]

اس سانحہ کو بارہ مئ کاسانحہ بھی کہا جاتا ہے  جس میں قتل وغارت کی حد ہی ہو گئ تھی  کسی کی جان محفوظ نہ تھی  انسان کی جان  کو پانی سے بھی سستا کر دیا گیا  گاڑیوں کو نذر آتش  کر دیا ۔

بینظیر بھٹو کا قتل

بینظیر بھٹو 27 نے  دسمبر 2007 ءکو لیاقت باغ راوالپنڈی میں جلسہ عام  سے خطاب کیا  جس کے بعد ان پر حملہ کیا گیا بینظیر بھٹو جاں بحق ہوگئی اس سانحہ کے بعد پورے ملک میں احتجاج ہوئے جس کیوجہ سے سرکاری املاک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا   گاڑیوں اور ریل گاڑیوں کو آگ لگادی گئی ، گویا کہ ریلوے کا  نظام درھم برھم ہو گیا تھا ۔[xviii]

ماڈل ٹاون سانحہ

جسٹس باقر علی نجفی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت کے وزیر پاکستان مسلم لیگ نون کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ تھے 16 جون 2014 ءکو انھوں نے  فیصلہ کیا کہ سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری  کو کسی صورت لانگ مارچ  نہیں کرنے دے گے۔     [xix]

بہرحال 16 جون 2014 کی رات پولیس منہاج القرآن پہنچی   عوامی کی تحریک کی طرف سے پولیس پرپتھراؤکیا گیا تو اس موقع پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہوئے تھے  ۔[xx]

پاکستان تحریک انصاف کادھرنا

2013ء میں نون لیگ کو حکومت ملی پھر عمران خان نے دھرنے دینا شروع کئے اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوامی تحریک نے جس کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی اس دھرنے پورا پورا ساتھ دیا۔[xxi]

2014ء پی ٹی آئی نے ایک طویل دھرنا  اسلام آباد کے ڈی چوک میں دیا  یہ دھرنا 126 دنوں پر مشتمل تھا اس میں مظاہرین نے پارلیمنٹ کی حفاظتی دیواروں پر حملہ کرکے انھیں نقصان پہنچائی گئ  وزیر اعظم ہاؤس پر حملہ کیا  پولیس نے ان تمام حملوں کو روکنے کی پوری کوشش کی تو پولیس پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک اعلی افسر عصمت اللہ جونیجو شدید زخمی ہوئے پی ٹی وی پر قبضہ کیا گیا اس طویل دھرنے میں پاکستانی کی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچا اور ملک کو 75 کروڑ 50 لاکھ سے زائد نقصان  پہنچا۔ [xxii]

2014  ء ہی میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے  آزادی مارچ میں دوران خطاب سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا ارادہ کیا اور کہا کہ کوئی بھی بجلی ، گیس کے بل اور ٹیکس ادا نہ کرے، [xxiii]

اس  احتجاج کو “سول نافرمانی” کہا جاتا ہے  ہے، اس میں حکومت کے ساتھ کسی طرح کا بھی  تعاون اور اطاعت نہیں ہوتی ہے ،  مظاہرین حکومت پر دباؤ ڈال اپنے مطالبات اور حاکم وقت کے فیصلہ پر اظہار  ناراضگی اختیار کی جاتی ہے۔

فیض آباد دھرنا

2017 میں تحریک لبیک پاکستان اور تحریک لبیک یارسول اللہ نے اراکین اسمبلی کے حلف نامے میں تبدیلی کی بناء پر ملک گیر احتجاج کیا یہ احتجاج تقریبا تین روز تک جاری رہا وفاقی دارالحکومت کے راستے ، اور باقی نجی زندگی مفلوج ہو گئ تھی   بالآخر ایک معاہدے کے تحت اس  احتجاج کو ختم کر دیا گیا۔  [xxiv]

مسیحی خاتون آسیہ بی بی

توہین رسالت کی مرتکب مسیحی عورت آسیہ بی بی گرفتار تھی   عدالت عظمی نے  آسیہ بی بی کو  31 کتوبر 2018ء کو بری کردیا تھا  سپریم کورٹ اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہوئے سٹرکیں بند کردی گئ   اس احتجاج کے دوران بھی سرکاری املاک کو بہت نقصان پہنچا   [xxv]اب حکومت نے پنچاب میں جو نقصان ہوا ہے اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی  جس کی مالیت 26 کروڑ ہے  اس کے علاوہ لوگوں کی موٹر سائیکلوں کو آگ لگادی گئ تھی  2 ہزار 936 افراد کے خلاف مقدمہ کیا گیا ۔[xxvi]

تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج

نومبر 2020ء تحریک لبیک  پاکستان نے  فرانس میں نبی اکرمﷺ کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا  اس احتجاج کو روکنے کے لئے پولیس نے اسلام آباد کے راستوں کو کینٹینرز لگا کر بند کردیا  اس احتجاج میں پولیس کے اہلکار اور ٹی ایل پی کے کارکن زخمی  ہوئے  اس احتجاج کے بعد 20 اپریل 2021 ءکو تحریک لبیک نے پھر دوبارہ دھرنا دیا اس دھرنے میں مظاہرین نے تشدد کا راستہ اختیار کیاجس کے نتیجے میں کم ازکم چار پولیس اہلکار جان سے چلے گئے مظاہرین نے شدید پتھراؤ کیا جس سے ایک ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ او ز سمیت 50 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے   جس سے  کافی نقصان ہوا پولیس کے جوان بھی شہید ہوئے  ۔[xxvii]

چمن میں شہریوں کا احتجاج

30 جولائی   2020 کو وفاقی حکومت نے کچھ وجوہات کی بنا ء پر چمن باڈر بند کردیا تھا ظاہربات ہے کہ چمن ایک ایسامقام ہے جہاں پر تجارتی معاملات کو بڑا فروغ ملتا ہے  باڈر کے بند ہونے کی بناء پر ہزاروں لوگوں کو کافی مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا تھا حکومت کے اس اقدام کے خلاف چمن کے شہریوں نے احتجاج کیا یہ احتجاج تقریبا دو ماہ تک جاری رہا لیکن اس احتجاج سے کوئی  مقصد حاصل نہ ہو سکا  اس دوران حکومت نے شہریوں پر فائرنگ کرنی شروع کردی ۔[xxviii]

ایم کیو ایم کا  احتجاج

27 جنوری  2022 کو کراچی میں  ایم کیو ایم کے ایک کارکن  اسلم کی ہلاکت کے بعد  متحدہ قومی موومنٹ  نے وزیر اعلی ہاوس کے باہر احتجاج شروع کیا  دوران احتجاج مظاہرین پر تشدد ،  لاٹھی چارج  بھی کیا گیا  بقول ایم کیو ایم کے  ایک شخص کی ہلاکت بھی اس میں ہوئی  ہے ۔

تحریک لبیک کا لانگ مارچ

اس لانگ مارچ کے دوران تحریک لبیک کا مختلف اضلاع میں پولیس وانتظامیہ کے ساتھ تشدد کیا  اس دوران پولیس کے 3 اہلکار  جبکہ 100 اہلکار زخمی ہوئے  ترجمان پنچاب  پولیس کے مطابق پولیس  کی 11 گاڑیاں ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوئی اور اس کے علاوہ سرکاری املاک کو کڑوڑوں کا نقصان پہنچا ہے [xxix]   لانگ مارچ سے جو مالی نقصان ہوا اس کا تخمینہ 15 ملین بنتا ہے اور مارچ میں امن امان کی بحالی کے حوالہ سے  جو ریاست کا 149 ملین خرچ  ہوا  ۔[xxx]

پاکستان تحریک انصاف کادھرنا

حا لیہ دنوں میں پاکستان تحریک انصاف نے احتجاج شروع کیا جس کی وجہ سے پورے ملک میں سڑکیں  موٹروے اور جی ٹی روڈ بلاک کردیئے گئے شہریوں کو بہت زیادہ تکالیف اٹھانا پڑیں    عام شہری ہو یا طالب علم اسی طرح ایمبولینس ان مظاہروں کی وجہ سے شدید متاثر ہوتے ہیں، فیض آباد چوک میں پولیس سے سخت تصادم ہوا  لاہور میں گورنر ہاوس کے گیٹ پر توڑ پھوڑ کی  ،  لائٹس اور کیمروں کو توڑ ڈالا  پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے جوابی کاروائی میں پتھر مارے  بالآخر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے شیلنگ کی۔  [xxxi]

سانحہ حویلیاں

16 اکتوبر بروزاتوار کو  تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ  علامہ  سعد رضوی نے     ہری پور سے حویلیاں براستہ جی ٹی روڈ جلوس نکالنے کی کوشش کی حکومت چاہتی تھی کہ یہ جلوس  جی ٹی روڑ سے نہ جائیں    تحریک لبیک اس بات پر بضد تھی کہ ہم ہر صورت میں حویلیاں جائیں گے اس دوارن جو تصادم ہوا اس کے نتیجے میں   متعدد افراد اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے  اور  دو افراد جان سے بھی چلے گئے ۔ [xxxii]

[i]مجاھد الحسینی ، تحریک تحفظ  ختم نبوت ، 1953ء،  ختم نبوت پبلی کیشنز ، لاہور، ص : 11

[ii]  فاروق عادل،  بی بی سی نیوز اردو ، 2 نومبر 2020ء

[iii]  سید صفدر گردیزی ، اردو نیوز ، 25 مارچ 2021ء

[iv]   اختر بلوچ ، ایوب کازوال گوہر کا کمال ،  ڈان نیوز ،

[v]   روزنامہ اسلام،  لاہور ، 9 اپریل 2021ء

[vi]  ابو عمار زاھدالراشدی، نظام مصطفی ایک  قومی ضرورت ، 19 اپریل ، 2016ء

[vii] چوہدری وقار مصطفی  ،بی بی سی  نیوز ، 4 جولائي 2021ء

[viii] گردیزی ، اردو نیوز ، 16 نومبر 2021ء

[ix]  ابو عمار ذاھدالراشدی ، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں رکاوٹ یا معاون ، مجلہ ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ ، فروری 1990ء

[x]  ایم آرڈی جمہوریت کاپل، بی بی سی نیوز،  26 ستمبر 2013 ء

[xi]

[xii]   مبین طاہر رضوان ، ایم کیوایم 1992ء سے 2018ء تک ، ڈان نیوز، 2019ء

[xiii]   فاروق عادل ، بی بی سی نیوز ، 2 نومبر 2020 ء

[xiv]  محمد لقمان ، ، بینظیر کا ٹرین مارچ  ، 27 مارچ 2019ء

 [xv]  نواز رضا ، دھرنے کی سیاست اور قاضی حسین احمد، 16 جنوری2022ء

[xvi]  بارہ اکتوبر جب نوازشریف کا تختہ الٹ دیا گیا ، ڈان نيوز،  10 اكتوبر 2020ء

[xvii]  عبادالحق ، مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، 12 جنوری ، 2007

[xviii]   Pakistan suffers “ colossal” damage in violence, world news December 31 , 2007 / 5 : 38 pm

[xix]جسٹس باقر علی  ، ماڈل ٹاؤن آپریشن ، 06 دسمبر 2017 ء

[xx]  ماڈل ٹاؤن واقعہ  ، بی بی سی اردو نیوز ، 11 فروری 2020ء

[xxi]  احمد اعجاز ، پی ٹی آئی کے دھرنے ، بی بی سی نیوز ، 24 مئی  2022ء

[xxii]  احمد اعجاز ، پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے ، بی بی سی نیوز ، 24 مئی  2022ء

[xxiii]  تحریک انصا ف کا سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان ،  وائس آف امریکہ ، اردو ، اگست 17 ، 2014ء

[xxiv]  تحریک لبیک کے دھرنوں کی تاریخ ، کب کیا ہوا ، اکتوبر ، 29 ، 2021ء

[xxv]  آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج جاری ، اردو نیوز ، بی بی سی ، 31 اکتوبر 2018ء

[xxvi]  روزنامہ جنگ ، آسیہ مسیح / مظاہرے ، نقصان ازالے کے لئے سپریم کورٹ نے پلان طلب کر لیا ، 29 دسمبر 2018ء

[xxvii]  تحریک لبیک کے دھرنوں کی تاریخ ،کب کیا ہوا ،  وائس آف امریکہ  ، 29 اکتوبر ، 2021 ء

[xxviii]  چمن ریاستی جبر کی مذمت ، لال اسلام ، اگست 1 ، 2020 ء

[xxix]  لانگ مارچ کے دوران مشتعل مظاہرین ،  26 مئی،2022ء

[xxx]  محمد عامر رانا ، بحرانی صورتحال میں پولیس کی کارکردگی ، روزنامہ ڈان،  30 مئی  ، 2022 ء

[xxxi]  رانا عاصم  علی ، پاکستان کی سیاست میں احتجاجی دھرنوں ، مظاہروں کی تاریخ  ، وائس آف امريكه،  مئی  25 ، 2022 ء

[xxxii]  سانحہ ہری پور ،حویلیاں  ، دنیا نیوز، 19 اکتوبر ، 2022 ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محمد طلحہ صاحب جناح جامع اسکول اینڈ کالج ہری پور ہزارہ میں بطور لیکچرر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

منتظمین

ا کمنٹ

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں