اسلامی کلام کی ابتدائی صدیوں میں ہونے والی ایک بحث علم کی حقیقت سے متعلق تھی۔ جس طرح افلاطون و ارسطو نے جزیات سے متعلق کلی احکام کی توجیہ کے لئے اپنے اپنے انداز میں کلیات کا سہارا لیا، معتزلہ نے اس کا حل “معدوم شے ہے” اور “نظریہ حال” سے پیش کیا۔ فی الوقت نظریہ حال کو چھوڑ کر معدوم شے ہے پر بات کرنا ہے۔
معتزلہ کا کہنا تھا کہ وجود و عدم کے مابین ثبوت الگ سے ایک کیفیت و حکم ہے اور عالم کے وجود سے قبل ماہیات (essences) اگرچہ معدوم تھیں مگر وہ شے تھیں۔ اس نظرئیے کو اختیار کرنے کی ایک اہم وجہ ان کا تصور علم تھا جس کے مطابق علم عالم و معلوم کے مابین ایک رسی کی مانند تعلق یا واسطہ ہے اور یہ تعلق استوار ہونے کے لئے ہر دو جانب کوئی شے یا حقیقت ہونا چاہئے۔ چنانچہ اگر کائنات سے قبل عدم بمعنی لاشئ تھا تو خدا کا ازلی علم متحقق نہ ہوسکے گا اس لئے کہ تعلق کے لئے اس متعلق (relatum) کا ماقبل تحقق چاہئے جس سے یہ تعلق استوار ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خدا کو اگر ازلی طور پر حقائق کا علم تھا تو ماننا ہوگا کہ معلوم ایک دوسرے سے متمیز (differentiated) تھے اور یہ تمیز ان کے معدوم بمعنی لاشئی (کچھ نہ) ہونے کے خلاف ہے۔ پس ماننا ہوگا کہ وہ معدوم کے باوجود شے (یعنی کچھ) تھے، لہذا ان کا “کچھ ہونا” ان کی معرفت سے ماقبل ہے۔ اسی بنا پر ان کا کہنا تھا کہ معدوم شے نما یہ ماہیات ازلی ہیں، یہ نہ کسی فاعل کے فعل یا اختیار (جعل جاعل) سے ہیں اور نہ کسی کے علم خیال و ذہن کے تحت ( mind or knowledge dependent)، خدا کا علم ان ازلی ثابت ماہیات یعنی اشیا سے متعلق تھا۔ نوٹ کرنا چاہئے کہ معتزلہ کا یہ موقف افلاطون کا عالم مثال نہیں ہے۔ معتزلی مفکرین اپنے نظرئیے کی صحت کے لئے قرآنی آیت إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ سے بھی استدلال کرتے تھے کہ یہاں خطاب کی ضمیر شے کی طرف لوٹ رہی ہے جبکہ وہ ابھی موجود نہ تھی۔ ان مفکرین کے مطابق خدا کے فعل خلق کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان معدوم ماہیات (جو شے ہیں) کو وجود سے متصف کرتا ہے، یہ ان کا نظریہ حدوث تھا۔ معتزلہ کا یہ نظریہ وجود و ماہیت کی دوئی پر استوار تھا۔ ان پر المعدوم شیئ کے اس مخصوص نظرئیے (نیز اس کے ساتھ نظریہ حال ملا لینے) کی بنا پر عالم کو قدیم ماننے کا الزام لگا۔
وجودی مفکرین (جنہیں اہل عرفان وغیرہ بھی کہہ دیا جاتا ہے) اصولی طور پر معتزلہ کے اس تصور علم اور تجزئیے سے متفق ہیں اور ان کے مطابق یہ معدوم مگر ثابت ماہیات (جنہیں معتزلہ اشیا کہتے تھے) اعیان ثابتہ ہیں اور خدا کا تخلیقی فعل ان اعیان (پر اپنے اسما کی تجلیات کے ذریعے ان) کو موجود یعنی ظاہر کرنا ہے۔ یہ حضرات تقریباً وہی عقلی دلائل بیان کرتے ہیں جو معتزلہ نے پیش کئے، درج بالا آیت بھی ان کے پسندیدہ دلائل میں سے ایک ہے۔ یہاں وجودی مفکرین کے نظرئیے کی دیگر تفصیلات بیان کرنا مقصود نہیں، صرف یہ بات واضح کرنا مقصود ہے کہ یہ جو تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ گویا علامہ ابن سینا (م 429 ھ) سے ماقبل کلام محض کوئی جدلیاتی قسم کا انڈر ڈویلپڈ ڈسکورس تھا اور بعد میں اس میں “گہرائی” پیدا ہوئی تو یہ غلط فہمی ہے۔ وجودی مفکرین نے اپنی فکر کا بنیادی ڈھانچہ (جیسے کہ تصور علم، وجود و ماہیت میں دوئی، اس نظرئیے کے بنیادی دلائل وغیرہ) ابتدائی تین چار صدیوں کی بحثوں ہی سے اخذ کیا ہے، اگرچہ انہوں نے اس کی تفصیلات میں پیش رفت کی ہو (مثلاً یہ حضرات اعیان کو اسمائے الہیہ کے تحت رکھتے ہیں وغیرہ)۔ خود علامہ ابن سینا اپنے سے ماقبل کلامی روایت سے مختلف آئیڈیاز سیکھ کر اپنا نظام فکر بناتے رہے ہیں (مثلاً ماہیات کے “وجود ذہنی” کا ان کا نظریہ ارسطوی فریم ورک کے اندر معتزلہ کے “لاموجود ولا معدوم” کا متبادل فراہم کرنے کی کوشش تھی)۔
یہاں مختصراً اس بات کا ذکر مفید ہوگا کہ معتزلہ کے درج بالا نظرئیے کے برخلاف ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کا نظریہ تھا جنہوں نے اس مفروضے کو رد کیا کہ علم گویا کوئی آلاتی شے ہے جو رسی کی مانند تعلق ہے اور جس کے ثبوت کے لئے شے کا وجود یا ثبوت متحقق ہونا لازم ہے۔ علم ان کے نزدیک کشفی صفت ہے جس کی شرط معلوم کا وجود نہیں، معدوم کا علم بھی ممکن ہے۔ یہ حضرات معدوم کے شے ہونے کی نفی کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے نزدیک وجود و ماہیت میں دوئی نہیں بلکہ وجود الگ سے کوئی صفت یا حقیقت ہی نہیں، کسی ماہیت کے پائے جانے ہی کو اس کا وجود کہا جاتا ہے۔ چنانچہ خدا کا فعل ازلی ثابت ماہیات (جو گویا وجود و عدم کے مابین لٹکی ہوئی ہیں) کے ساتھ وجود متصل کرنا نہیں بلکہ ماہیات کو عدم سے وجود دینا یا ان کی ایجاد ہے، یعنی وہ نہ تھیں اور خدا کے فعل سے ہوئیں۔ یہ ان کا نظریہ حدوث (creation ex nihilo) ہے جو معتزلہ کے نظریہ حدوث سے مختلف ہے۔ ائمہ اشاعرہ و ماتریدیہ کے مطابق جزیات کی توجیہ کے لئے خارج و ذہن میں کسی کلی کو ماننے کی ضرورت نہیں بلکہ اس قسم کے مواقف طرح طرح کے مسائل کا باعث ہیں۔ اس نظرئیے کے دلائل اور درج بالا نظرئیے پر جرح علم کلام کی کتب میں موجود ہیں جن کی تفصیل یہاں مقصود نہیں (مثلاً امام رازی علم کے اس نظرئیے کے حاملین سے ایک سوال یہ پوچھتے ہیں کہ اگر علم کے لئے معلوم کا ثبوت و وجود وغیرہ شرط ہے تو محالات (impossibles) کے علم کی کیا توجیہ ہے جبکہ یہ طے ہے کہ محال کا کوئی وجود و تحقق ممکن نہیں؟ اہل سنت کی جانب سے یہ قرآنی آیت پیش کی گئی: وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا)۔ یاد رہے کہ یہ متبادل موقف بھی علامہ ابن سینا سے قبل ابتدائی صدیوں ہی میں طے ہوچکا تھا۔ کتاب “الفقہ الاکبر” میں یہ عبارت درج ہے:
يعلم الله تَعَالَى فِي الْمَعْدُوم فِي حَال عَدمه مَعْدُوما وَيعلم انه كَيفَ يكون إِذا أوجده وَيعلم الله الْمَوْجُود فِي حَال وجوده
(مفہوم: اللہ تعالیٰ معدوم کو عدم کی حالت میں معدوم ہی جاننے والا ہے، اور یہ بھی جانتا ہے کہ جب وہ اسے ایجاد کرے گا تو وہ کیسا ہوگا، اور اللہ موجود کو اس کے وجود کی حالت میں بھی جانتا ہے)
یہ عبارت اس دور میں ہونے والی اسی بحث سے متعلق اہل سنت کے موقف کو فریم کررہی ہے۔ علامہ ابن فورک (م 406 ھ) نے “مقالات الاشعری” میں اس بحث سے متعلق معدوم کے احکام پر امام اشعری کے موقف کو بیان کیا ہے اور جسے پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موضوع پر بحث کس قدر وضوح کے ساتھ ہوچکی تھی۔ مشہور زمانہ کتاب “العقائد النسفیة” کے متن میں اہل سنت کا موقف بتانے کے لئے جو یہ بات درج ہے کہ “المعدوم لیس بشیئ” (معدوم شے نہیں ہے) یہ بھی طالب علم کو لگے بندھے الفاظ میں درج بالا بحث ہی کی بازگشت سنانے کے لئے ہے۔




کمنت کیجے