جب یہ بتایا جائے اسلام کی سچائی کی معرفت کے دلائل آج بھی قطعی علم کا فائدہ دینے والے ہیں جیسے نبی علیہ السلام کے دور میں، تو بعض لوگ دلیل کی قوتِ معرفت اور لوگوں کے شخصی احوال کو خلط ملط کرکے یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ نبی کے دور میں دعوت جس طرح پہنچائی گئی اس سے لوگوں کے عذر ختم ہوگئے تھے جبکہ آج ایسا نہیں۔ ہمارے نزدیک ایسے مفروضات نرا تحکم ہیں جن کی کوئی عقلی و نقلی دلیل موجود نہیں نیز یہ باتیں دلیل اور عذر کا مفہوم نہ سمجھنے کی بنا ہر ہیں۔ ذیل میں اس مفروضے پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
اس دلیل کو بغور دیکھا جائے تو یہاں لوگوں کے اعتراضات و شبہات یا ان کے احوال وغیرہ ہی کو دلیل بنالیا گیا ہوتا ہے جبکہ حجت کی تکمیل کا مدار دلیل کی معرفتی قوت پر ہے نہ کہ مخاطبین کے احوال پر۔ جن امور کو یہ حضرات غلط طور پر علمیاتی عذر قرار دیتے ہیں، اس کے بعد ان کے اس مفروضے کی کوئی دلیل موجود نہیں رہتی کہ نبی علیہ السلام کے تمام مخالفین نے پورا علم و یقین حاصل ہوجانے کے باوجود جان بوجھ کر آپ کا انکار کیا۔ خود قرآن کی متعدد آیات اس مفروضے کے خلاف ہیں۔ قرآن نے ایسی متعدد وجوہات بیان کی ہیں جس کی بنا پر لوگ اپنے تئیں نبی کی بات کو یا لائق التفات نہ سمجھتے تھے یا قابل رد سمجھتے تھے اور یا پھر انہوں نے دیگر وجوہات کی بنا پر حق کی جانب توجہ نہ دی لیکن اس کے باوجود وہ عند اللہ سزا کے مستحق ہیں۔ مثلاً قرآن مجید نے مخالفین رسول کے انکار کے بارے میں درج ذیل تبصرے کئے ہیں:
• بعض دلیل پر غور و فکر کے بجائے اگلوں کی تقلید کو حق کا معیار سمجھتے تھے اور اس لئے دعوت کے جواب میں ان کا یہی کہنا تھا کہ ہمیں ہمارے اگلوں کی باتیں کافی ہیں (وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا)
• بعض لوگ اللہ کے حضور یہ کہیں گے کہ ہم اپنے اکابر کی اطاعت کرنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے (وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا
نیز روز قیامت وہ اپنے بڑوں کو کوسیں گے کہ اگر تم استکبار سے کام نہ لیتے تو ہم ہدایت والے ہوتے (إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ۔ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۗ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ ۖ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ۔ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ ۖ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ
وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا
• بعض کے بارے میں آیا کہ وہ دلیل کے بجائے گمان و اٹل پچو کی پیروی کرنے والے ہیں (إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ
• بعض لوگوں کے بارے میں آیا کہ وہ سنی کو ان سنی کردیتے تھے اور دلیل پر خود بھی غور نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے تھے (وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰ إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا ۚ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ )
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَسْمَعُوا لِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُونَ
• بعض کے بارے میں آیا کہ دنیاوی مفادات اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دینے باعث گمراہ ہوئے (الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا)
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ
رَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا
الغرض قرآن نے منکرین کے انکار کو محض “مکمل علم حاصل ہوجانے کے باوجود جانتے بوجھتے” کے اس مفہوم تک محدود نہیں کیا جو یہ حضرات مراد لیتے ہیں، بلکہ خواہشات، تعصبات، سماجی حیثیت، تقلید، نفسیانی خواہشات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ یہ سب ایسے امور ہیں جو آج بھی پائے جاتے ہیں اور جن کی بنا پر لوگ ایک واضح دلیل قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں۔ چنانچہ درج بالا تمام کیفیات اس سے متعلق نہیں کہ لوگ شخصی طور پر قطعی علم حاصل ہونے کے باوجود جان بوجھ کر کیوں انکار کررہے تھے بلکہ اس سے متعلق ہیں کہ دلیل ظاہر ہوجانے کے باوجود کیوں انکار کررہے تھے۔ لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اولین مخاطبین کی نفسیاتی و معرفتی حالت بعد والوں سے نوعا یکسر مختلف تھی۔
اسی طرح قرآن نے کفار کے مختلف شبہات بھی ذکر کئے ہیں جنہیں وہ اپنے علمیاتی و اخلاقی تناظرات میں اپنے تئیں بامعنی سمجھتے تھے، مثلا:
• بعض نے اس شبہے کی وجہ سے حق کا انکار کیا کہ آخر فرشتے کے بجائے کسی انسان کو نبی کیوں بنایا گیا؟ (وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَنْ يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَىٰ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسُولًا)
• کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا یا ہمیں فرشتہ کیوں نہیں نظر آتا؟ (وَقَالُوا مَالِ هَذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا)
• ہمارے معاشرے کا کوئی بڑا آدمی کیوں کر نبی نہ بنایا گیا کہ ہم اس کی پیروی کرتے؟ (وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ)
• ہماری خواہش کے مطابق نشانیاں کیوں ظاہر نہیں کی جارہیں کہ مثلا آسمان گرا دو، آسمان پر چڑھ جاو وغیرہ؟ (وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا …)
• قرآن ہماری خواہش کے مطابق کیوں نہیں آتا؟ (وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَٰذَا أَوْ بَدِّلْهُ)
• نسخ پر اعتراضات، یعنی احکام بدلتے کیوں ہیں؟ (وَإِذَا بَدَّلْنَا آيَةً مَّكَانَ آيَةٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مُفْتَرٍ)
• اہل کتاب کی خواہش تھی کہ سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہو (وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ)
• بعض چیزوں کی حلت و حرمت پر اعتراضات (جیسے مویشیوں و کھیتیوں کے بارے میں، حرمت شراب پر، تقسیم وراثت پر، قتال پر، صدقات کی تقسیم پر وغیرہ)
• اتنا ہی نہیں بلکہ لوگ نبی علیہ السلام کے معجزات کی دلیل کو جھٹلانے کے لئے تاویلات بھی بناتے تھے کہ یہ سب جادو ہے (كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ نیز وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ) یا آپ کو کوئی انسان یہ کلام سکھاتا ہے (وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ) یا یہ سب باتیں پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں (وَإِذَا قِيلَ لَهُم مَّاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ قَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ)
اپنے علمیاتی و اخلاقی تناظرات پر مبنی اس قبیل کے شبہات لوگ آج بھی پیش کرتے ہیں۔ الغرض ہمارے احباب نے یہ فرض کرلیا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی شبہ لاحق ہے اور اسے اس کا جواب دے دیا گیا ہو مگر وہ اسے قبول کرنے پر راضی نہیں تو مطلب گویا یہ ہے کہ از خود دلیل یا اس کی پیشکش تام نہیں یا وہ دلیل نبی کے دور میں زیادہ تام ہوگئی تھی مگر آج نہیں۔ لیکن اس کے برعکس خود قرآن بتاتا ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں بھی لوگ ہر قسم کے شبہات کھڑے کرتے رہے تھے، اگر نفسِ اعتراض یا معترض کا عدم اطمینان حجت کے ناقص ہونے کی دلیل ہو تو پھر قرآن کا پورا خطاب اولین و مابعد سب مخاطبین کے حق میں غیر مکمل حجت بن جاتا ہے۔ الغرض محض شبہ یا عدم قبولیت کو عدم قیامِ حجت کی دلیل بنانا درست نہیں۔ اس بات کی غلطی کو ہم الگ سے تفصیلاً بتا چکے ہیں کہ دلیل کی قوت و ضعف خود دلیل کی اپنی صفات سے طے ہوتی ہے، ناظر کی قبولیت و عدم قبولیت یا عدم قبولیت کی شخصی وجوہات سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی علیہ السلام کی نبوت کی حجت اس وقت بھی آپ کے مخاطبین پر تام ہوگئی تھی جبکہ آپ علیہ السلام کی دعوت کو ابھی زیادہ قبولیت نہ ملی تھی نیز آپ کو کوئی سیاسی غلبہ و بالادستی میسر نہ آئی تھی۔
– “اہل کتاب نبی کو بیٹوں کی طرح جانتے ہیں” سے استدلال
اس ضمن میں ایک دعوی یہ کیا جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام کے مخالفین آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے تھے جس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا جاتا ہے کہ ان کا انکار حق پہچان لینے کے بعد جان بوجھ کر تھا اور ساتھ ہی درج بالا قسم کے امور کا نام عذر رکھ کر یہ کہنا شروع کردیا جاتا ہے کہ سب لوگوں کے درج بالا قسم کے سب عذر ختم ہوگئے تھے۔ تاہم یہ استدلال چند وجوہ سے مخدوش ہے:
• پہلی بات: سورۃ بقرۃ کی اس آیت (الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ) کی ایک توجیہ کی رو سے یہاں ضمیر نبی علیہ السلام کی جانب نہیں بلکہ تحویل قبلہ کی جانب لوٹ رہی ہے۔
• دوسری بات: اگر اسے نبی علیہ السلام کے بارے میں ہی مانا جائے جو راجح رائے ہے، تو بھی:
الف) قرآن نے یہ بات سب مشرکین و کفار کے بارے میں نہیں بلکہ صرف اہل کتاب کے لئے کہی ہے، لہذا اس سے سب مخالفین کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا
ب) یہ بات بھی اہل کتاب کے تمام افراد کے بارے میں نہیں بلکہ ان کے بڑے علماء کے بارے میں ہے، ایسا اس لئے کہ یہ علما اپنی کتب میں مذکور نبی علیہ السلام کی نشانیوں سے واقف تھے
ج) ان اہل کتاب کی یہ معرفت بھی دلائل اور نشانیوں کے ذریعے تھی، نہ کہ ایسا براہ راست علم جو بعد والوں کے لیے ناممکن ہو
• تیسری بات یہ کہ دلیل عقلی و برھان (بذریعہ معجزہ) سے نبی کی صداقت کا حاصل ہونے والا علم اس علم سے زیادہ قطعی ہے جو سابقہ کتب میں مذکور نشانیوں سے حاصل ہوتا ہے (دیکھئے امام رازی کی تفسیر کا یہی مقام)
• چوتھی بات یہ کہ اس آیت سے تمام لوگوں کے بارے میں ایسا نتیجہ اخذ کرنا خود قرآن کے خلاف ہے جیسا کہ درج بالا تفصیلات سے واضح ہے
خلاصہ یہ کہ اولین مخاطبین پر خصوصی اتمام حجت کا نظریہ اس مفروضے پر قائم ہے کہ اولین مخاطبین کو نبی کی صداقت کا ایسا علم حاصل تھا جو بعد والوں کو حاصل نہیں ہوسکتا نیز ان کا انکار قلبی طور پر حق کو پہچان لینے کے بعد جانتے بوجھتے تھا، جبکہ نہ تو اس فرق پر کوئی عقلی یا نقلی دلیل موجود ہے اور نہ ہی قرآن اس مفروضے کی تائید کرتا ہے۔ پس ہم اس مفروضے کو قبول نہیں کرتے کہ عند اللہ مسئولیت کے باب میں نبی علیہ السلام کے براہ راست مخاطبین اور بعد کے دور کے وہ لوگ جن تک نبی علیہ السلام کی دعوت پہنچی، آپ کی سچائی کو جان سکنے کے اعتبار سے ان میں کوئی نوعی فرق ہے، قیام حجت کا تعلق براہ راست و بالواسطہ مخاطب ہونے سے نہیں بلکہ دلیل کی دلالت اور اس پر صحیح نظر کی صلاحیت کا ہے، اور یہ دونوں بعد والوں کے لیے بھی متحقق ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص درست نتیجے تک نہیں پہنچا تو یہ یقینی طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ یا وہ نظر کرنے سے اعراض کررہا ہے اور یا اس کے نفس و نظر میں کجی ہے، ایسی ہر صورت اسے ذمہ دار ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ جن چیزوں کا نام یہ لوگ عذر وغیرہ رکھ رہے ہوتے ہیں، علمی اصطلاح میں انہیں ہر قسم کی ذمہ داری سے گلو خلاصہ کا عذر نہیں کہا جاتا (یہاں تفصیل کا وقت نہیں، اس کے لئے اصول فقہ میں عوارض اہلیت کی بحث دیکھنا چاہئے، جس قسم کی باتیں یہ حضرات کرتے ہیں وہ دراصل جدید فلسفے کے اثرات ہیں جہاں علم کو سبجیکٹو بنا دیا گیا ہے)۔ قرآنی آیت (رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ) کا یہی معنی ہے، یعنی ہم اپنے رسولوں کی سچائی کی دلیل یا ان کے ذریعے نجات و کامیابی کے احکام واضح کردیتے ہیں تاکہ کوئی دلیل کی جہت سے یہ عذر نہ پیش کرسکے کہ وہ واضح نہ تھی جسے مدارک علم (حس، نظر و تواتر) سے جانا نہ جاسکتا ہو، آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ نبی کے براہ راست مخاطبین پر کوئی خصوصی قسم کا اتمام حجت کردیا جاتا ہے جس کے بعد ان کے تمام امکانی شبہات و نفسی و سماجی وجوہات وغیرہ ختم ہوجاتی ہیں اور وہ حق کا انکار قطعی علم ہونے کے باوجود جانتے بوجھتے کررہے ہوتے ہیں۔ انسانی نفسیات میں یہ بھی شامل ہے کہ بعض لوگ دلیل پر اس وقت تک غور کرنے کے لئے سنجیدہ نہیں ہوتے یہاں تک کہ تلوار انہیں زیر کردے۔
چنانچہ بعض شرعی احکام لاگو کرنے کے معاملے میں لوگوں کے قلبی احوال معلوم ہونے کی یہ شرط کہ “وہ جانتے بوجھتے انکار کررہے ہیں یا نہیں” ایک غیر متعلق قضیہ ہے جس کی عقل و نقل میں دلیل موجود نہیں، تکلیف جن امور پر مبنی ہے اس کا تعلق دلیل کی صفت سے ہے۔ اس سے یہ بحث بھی ختم ہوجاتی ہے جو ایک گروہ تکفیر کے باب میں کھڑی کرتا ہے کہ کسی شخص پر کافر کا اطلاق تب تک درست نہیں جب تک اس کے قلبی حال کا علم نہ ہو کہ وہ “قطعی طور پر علم ہونے کے باوجود جانتے بوجھتے انکار کررہا ہے”۔ ایسی باتیں تحکمات ہیں۔




کمنت کیجے