میں آپ کو قرآن مجید سے ایک واقع سنانا چاہتا ہوں۔ حضرت عیسیٰ؈ سے کوئی ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ یمن میں قوم سبا کی حکومت تھی۔ اپنے زمانے کے یہ سب سے زیادہ تہذیب یافتہ اور امیر لوگ تھے۔ بارش کے پانی کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیم بنا رکھے تھے۔ اپنے خاص جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء کے مابین تجارت کنٹرول کرتے تھے۔ ملکہ سبا ان کی حکمران تھی۔ جب حضرت سلیمان؈ کی فوجوں نے اس کی سلطنت کا محاصرہ کیا تو ملکہ سبا نے اپنے عمائدین کی مجلس بلائی اور سب سے ایک سوال کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ لڑنا چاہیے یا کہ ہتھیار ڈال دینے چاہیں؟ قرآن پاک (سورۃ النمل، آیت: ۳۳) میں عمائدین کا جواب لکھا ہے:
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّاُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ ڏ وَّالْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَاذَا تَاْمُرِيْنَ.
(وہ بولے کہ ہم قوت والے لوگ ہیں اور سخت جنگجو ہیں۔ البتہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے جو بھی آپ فیصلہ کریں گی ہمیں قبول ہو گا)
ملکہ سبا نے اپنی تقریر (سورۃ النمل، آیت: ۳۴) میںکہا:
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوْٓا اَعِزَّةَ اَهْلِهَآ اَذِلَّةً ۚ وَكَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ.
(بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد پھیلاتے ہیں۔ اس کے عزت والے لوگوں کو بے عزت کر دیتے ہیں اور یہ بھی ایسا ہی کریں گے)
میر رائے میں جدید سیاسی تاریخ میں بادشاہت اور فوجی حکومت کے کردار کے بارے میں یہ سب سے زیادہ واضح بیان ہے۔ علامہ محمد اسد نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ داخل ہونے سے مراد قوت سے داخلہ ہے۔ چاہے بیرونی حملے کی شکل میں ہو یا کہ داخلی طور پر طاقت کے بل بوتے پر اقتدار پر قبضہ ہو۔ بادشاہ سے وہ شخص بھی مراد ہے جس نے طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کیا ہو اور اپنے لوگوں کو طاقت کے زور پر غلام بنا رکھا ہو
سید مودودیؒ کے خیال میں ناجائز قابض اس لیے یہ کام کرتے ہیں تاکہ قوم بے بس ہو جائے۔ کوئی ان کے خلاف کھڑا نہ ہو سکے۔ وہ عزت نفس ختم کرتے ہیں۔ غلامی، خوشامد، جاسوسی وغیرہ کے کلچر کو رواج دیتے ہیں۔
فساد اور بے عزتی بہت جامع اصطلاحات ہیں۔ قرآن مجید نے یہ دو الفاظ استعمال کرکے غاصبوں کی ذہنیت اور ان کے ہتھکنڈوں پر بہت جامع تبصرہ کیا ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کیا پچھلے چار سو سالوں میں آپ کے ساتھ یہی نہیںہوا؟ ایسٹ انڈیا کمپنی، تاج برطانیہ ہو یا پاکستان کے غاصب حکمران، سب نے یہاں فساد پھیلایا ہے۔ سب نے یہاں بے عزتی کو رواج دیا ہے۔
جب بھی ہم کسی مسلمان ڈکٹیٹر ، بادشاہ, یا پاپائیت کے خلاف بات کرتے ہیں تو ان کے حامی علماء کی تحریروں پر نکتہ چینی کرتے ہیں تو اس کو اسلام سے عناد قرار دیا جاتا ہے۔ ملوکیت اور ملائیت کا یہ تانا بانا ان دونوں کے طبقاتی مفادات کو مستحکم بنا دیتا ہے لیکن ا س سے مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کو شدید نقصان پہنچتا ہے جو صدیوں کے سیاسی جبرو تشدد، مذہبی جورو ستم، غربت و بے چارگی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے کراہتے رہے اور اب بھی آہ و فغاں کر رہے ہیں۔ محمد اقبالؒ کہتے ہیں:
باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتۂ سلطانی و مُلّائی و پیری!
(تمہارے ضمیر کے اس صاف آئینے کا ایک ٹکڑا تک باقی نہ رہا)
(افسوس اس پر جسے بادشاہوں، ملاؤں اور صوفیوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا)




کمنت کیجے