Home » فقہ مالکی حقائق کے آئینے میں
اسلامی فکری روایت تاریخ / جغرافیہ شخصیات وافکار فقہ وقانون

فقہ مالکی حقائق کے آئینے میں

حسن ابن ساقی

اسلام ایک زندہ اور متحرک دین ہے، جس کی بنیاد محض الفاظ و نصوص پر نہیں بلکہ ایک مسلسل عملی روایت پر بھی قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم سنتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ آیا ہم اسے صرف روایات کے الفاظ سے اخذ کریں یا اس زندہ عملی تسلسل کو بھی ملحوظ رکھیں جو عہدِ صحابہؓ سے نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ اسی مقام پر فقہِ مالکی ایک منفرد اور گہرے اصول کے ساتھ سامنے آتی ہے، جسے “عملِ اہلِ مدینہ” کہا جاتا ہے۔
امام دار الھجرۃ مالک بن انس رحمہ اللہ (93ھ–179ھ) مدینہ منورہ کے وہ جلیل القدر فقیہ و محدث ہیں جنہوں نے اپنی علمی زندگی اسی شہر میں بسر کی جو رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مرکز اور صحابۂ کرامؓ کا گہوارہ تھا۔ امام مالکؒ کے نزدیک مدینہ کے اہلِ علم اور ان کے عمومی دینی تعامل کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہ وہ معاشرہ ہے جس نے براہِراست رسول اکرم ﷺ کی سنت کو دیکھا، سنا اور اس پر عمل کیا۔
اہلِ مدینہ کا عمل اور امام مالک رحمہ اللہ:
امام مالکؒ کے اصول کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ مدینہ کے لوگوں کا اجتماعی عمل محض اتفاقی یا شخصی اجتہاد پر قائم نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل اور متواتر روایت ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو صحابہؓ سے تابعینؒ اور پھر تبع تابعین تک بلا تعطل منتقل ہوا ہے۔
اسی حقیقت کو امام مالک علیہ الرحمہ کے اس قول سے سمجھا جا سکتا ہے:
“لَنْ يُصْلِحَ آخِرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا مَا أَصْلَحَ أَوَّلَهَا”
کہ اس امت کے آخری لوگوں کی اصلاح بھی اسی چیز سے ہوگی جس سے اس کے ابتدائی لوگوں کی اصلاح ہوئی۔
اسی طرح دوسری جگہ وہ فرماتے ہیں:
“السُّنَّةُ عِنْدَنَا الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا”
ہمارے نزدیک وہی سنت معتبر ہے جس پر اہلِ علم کا اختلاف نہ ہو۔
ان اقوال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام مالکؒ کے نزدیک وہ سنت زیادہ قوی ہے جس پر ایک زندہ اور مسلسل عمل جاری ہو۔
دیکھا جائے تو امام صاحب کی شہرۂ آفاق کتاب “الموطأ” محض احادیث کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک عملی فقہی دستاویز ہے۔ اس میں جا بجا یہ تعبیر ملتی ہے:
“الأمرُ المُجْتَمَعُ عليهِ عندنا”
کہ ہمارے ہاں جس امر پر اتفاق پایا جاتا ہے۔۔۔
یہ جملہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امام صاحب کے نزدیک اجتماعی تعامل ایک معتبر شرعی دلیل کی حیثیت رکھتا ہے، اور وہ محض انفرادی روایات پر اکتفا نہیں کرتے۔
اسی طرح امام صاحب کے اصول کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی خبرِ واحد (یعنی ایسی روایات جو محدود افراد سے مروی ہوں) اہلِ مدینہ کے متواتر عمل کے خلاف ہو، تو وہ عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کی بنیاد درج ذیل نکات پر ہے:
عملِ اہلِ مدینہ ایک اجتماعی اور مسلسل روایت ہے۔۔۔
یہ براہِ راست صحابہؓ کے تعامل سے جڑا ہوا ہے۔۔۔
خبرِ واحد میں احتمالِ خطا موجود ہوتا ہے(خبرِ واحد میں احتمالِ خطا کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ روایت جھوٹی یا ناقابلِ اعتماد ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی سے (خواہ وہ کتنا ہی ثقہ کیوں نہ ہو) بھول یا چوک کا امکان موجود ہوتا ہے۔)
خیر امام صاحب کے نزدیک اہلِ مدینہ کا عمل متواتر نقل کی ایک قسم ہے۔
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ امام صاحب کا یہ اصول محض نقلی نہیں بلکہ ایک مضبوط عقلی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ کیونکہ وگرنہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مدینہ کی وہ جماعت، جس میں سینکڑوں صحابہؓ اور تابعینؒ موجود تھے، رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد چند ہی دہائیوں کے اندر اجتماعی طور پر دین کے عملی پہلوؤں میں غلطی پر جمع ہو جاتے؟
عقلِ سلیم اس امکان کو تسلیم نہیں کرتی۔ لہٰذا مدینہ کا اجتماعی عمل جو ایک طرح کے “تواترِ عملی” کی حیثیت رکھتا ہے ، بالکل اسی طرح ہے جیسے قرآن مجید کا متن تواتر کے ساتھ محفوظ ہوا۔
اور یہ کہنا درست نہیں کہ فقہِ مالکی میں حدیث کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام صاحب خود جلیل القدر محدث تھے اور “الموطأ” اولین حدیثی مجموعات میں شمار ہوتی ہے۔۔۔
وہ احادیث کو قبول کرتے ہیں، مگر ان کی تطبیق میں سیاق، تعاملِ صحابہؓ اور عملِ اہلِ مدینہ کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔۔۔
یعنی ان کا منہج ایک جامع اور متوازن منہج ہے، جو نصوص اور عمل دونوں کو یکجا کرتا ہے۔
اگرچہ فقہِ مالکی کا یہ اصول منفرد ہے، لیکن دیگر ائمۂ کرام کے مناہج بھی اپنی جگہ مضبوط اور مدلل ہیں۔ ہر امام نے اپنے زمانے، ماحول اور علمی وسائل کے مطابق قرآن و سنت کے فہم کے لیے اصول وضع کیے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ صرف ایک ہی طریقہ مطلقاً برتر ہے، ایک حد تک مبالغہ ہو سکتا ہے۔
البتہ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ فقہِ مالکی کا “عملِ اہلِ مدینہ” والا اصول، سنتِ نبوی ﷺ کے فہم میں ایک نہایت گہرا، تاریخی اور عملی زاویہ فراہم کرتا ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں