مسلمانوں کے ہاں عقلی مباحث میں علم و ادراک (knowledge and perception) سے متعلق رپریزنٹیشنلسٹ نظریہ علامہ ابن سینا نے پیش کیا کہ ادراک کے عمل میں ہم شے کے کسی ذھنی وجود کو دیکھتے ہیں جس کے ذریعے خارج از ذھن ماہیات کا علم و ادراک ہوتا ہے۔ اسے وجود ذھنی کا نظریہ (theory of mental existence) کہتے ہیں جو کنسپچوئیل ازم (conceptualism) کی ایک صورت ہے۔ ابن سینا کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خیال میں ذھن میں شے کی ماھیت آتی ہے۔ امام رازی نے ابن سینا کی کتاب پر شرح لکھتے ہوئے اس نظریے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آپ نے دو مقدمات کی نفی کی ہے:
(الف) علم نفس یا ذھن میں محض کسی شے کے انطباع و حصولِ صورت سے عبارت ہے، یعنی یہ نظریہ کہ علم حصول معلوم ( obtaining of object of knowledge) کے ہم معنی ہے،
(ب) علم ذھن میں منطبع یا حاصل ہونے والی کسی صورت کا کشف و ادراک ہے، یعنی علم صورت ذھنی کے ساتھ ربط کا نام ہے۔
وجود ذھنی والوں پر آپ کا ایک سوال بالکل متعین ہے: کیا ذہن میں شے کی عین ماہیت آجاتی ہے یا کچھ اور جیسے اس کی کوئی مثال یا شبیہہ؟ اگر عین ماھیت آتی ہے تو آگ کے مشاہدے سے ذھن کو جل جانا چاہئے کیونکہ خارج از ذھن آگ ذھن جیسے اجسام کو جلاتی ہے۔ اور اگر عین ماھیت نہیں آتی بلکہ کچھ اور آتا ہے، تو اب جو علم تمہیں حاصل ہوگا وہ عین خارجی ماھیت کا نہیں بلکہ اس کے سوا کسی شے کا ہوگا جبکہ یہ علم کو ناممکن بنا دینا اور سوفسطائیت ہے۔ امام صاحب کی بحث میں اور بھی نکات موجود ہیں۔
آپ کا یہ سوال اتنا ٹو دا پوائینٹ تھا کہ ابن سینا کے اس نظریے کے مدافعین کو متعدد توجیہات وضع کرنا پڑیں۔ مثلاً بعض نے کہا کہ عالم یا مدرِک کے ذھن میں عین ماھیت نہیں آتی بلکہ اس کی کوئی صورت و شبیہہ وغیرہ آتی ہے جس کے واسطے (mediation) سے خارجی ماھیت کا علم ہوجاتا ہے۔ یوں وجود ذھنی کے نظریے کی دو تشریحات ہوگئیں: حصولِ ماھیت کا نظریہ (quiddity theory) اور حصولِ شبیہہ کا نظریہ (phantasm theory)۔ یہ بحث جب آگے بڑھتی ہے تو علامہ سید شریف جرجانی نے ماھیت کے بجائے ذھن میں اس کی شبیہہ آنے کے نظریے کی مشکل کو بھانپتے ہوئے کہا کہ ایسی بات کہنا دراصل رازی کے اس الزام کو قبول کرلینا ہے کہ اس نظریے کے مطابق ادراک کے عمل میں خارجی ماھیت کا علم نہیں ہوتا کیونکہ وہ متعلقِ ادراک نہیں۔ جرجانی نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ از خود ماھیت من حیث الماھیت کے لئے دو وجودی محل مانے جائیں: وجود خارجی اور وجود ذھنی (یعنی از خود ماھیت ہی دو طرح پائی جاتی ہے یا اس کے modes of existence دو طرح کے ہیں)۔ ان سے قبل علامہ طوسی نے بھی نفس الامر سے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا جہاں وہ ماھیت کے لئے تین وجودی سطحیں لے آتے ہیں: خارج از ذھن جزیات میں، ذھن میں اور یونیورسل عقل میں۔ نفس الامر کے نام پر اس قسم کے کچھ متبادل وجودی صوفی فکر کے حاملین بھی پیش کرتے نظر آتے ہیں جہاں وہ نفس الامر کو یونیورسل عقل کے بجائے اعیان ثابتہ قرار دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں برصغیر میں خیرآبادی روایت سے منسلک حضرات بھی کچھ ذیلی فرق کے ساتھ وجود ذھنی کے نظریے کے قائل رہے ہیں۔ ان کے مطابق ذھن میں شے کی صورت یا شبیہہ آتی ہے نہ کہ ماہیت، تاہم علم ذھن میں اس حصول صورت پر زائد ایک اضافی صفت ہے جو بالذات صورت ذھنی مگر بالعرض خارجی ماہیت سے متعلق ہوتی ہے۔
کیا ان باتوں سے واقعی مسائل حل ہوجاتے ہیں یا دو چند ہوجاتے ہیں؟ یہاں ہم اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتے، یہاں صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ کانٹ دراصل ابن سینا کی وجود ذھنی کی اس روایت کا ایک وارث ہے، وہ بھی اپنے ماحول میں موجود سوالات کے پیش نظر کچھ فرق کے ساتھ اپنے انداز میں علم کو ذھن میں حاصل ہونے والا ایک مظہر قرار دیتا ہے (ہماری منطق کی کتب میں علم کی جو یہ تعریف درج ہے کہ علم “حصول صورۃ الشیء فی الذھن” ہے، وہ مسلم فلاسفہ کے نظریے ہی کی رو سے ہے)، اور اس کی فکر بعینہہ اسی مشکل کا شکار ہے جو امام رازی نے ابن سینا کی فکر پر اٹھا دی تھی کہ تمہارے نظریے کا حاصل یہ سوفسطائیت ہے کہ ہم خارجی شے کو نہیں جانتے۔ ابن سینا کے نظریے کے حاملین اگرچہ اس نتیجے کو ماننے سے گریز (resist) کرتے آئے تھے، البتہ کانٹ نے اس نتیجے کا برملا اظہار کرتے ہوئے اسے قبول کرلیا کہ ہاں ہم تھنگ ان اٹ سیلف کو نہیں جانتے بلکہ اس کے مظہر کو جانتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کانٹ اسی قسم کا غلط فلسفہ کررہا تھا جو وجود ذھنی کے حاملین اس سے پہلے کرتے آئے ہیں۔ کانٹ برٹش امپریسزم، جو رپریزنٹشنل ازم کی ایک تشریح تھی، کے ٹریپ سے باہر نہیں نکل سکا۔
یہاں بس یہ بات نوٹ کرلیجئے کہ علم اور ادراک کے بارے میں ابن سینا سے ماقبل چلے آنے والا مدمقابل نظریہ متکلمین کی ایک جماعت کا تھا جن کے مطابق ادراک کے عمل میں شے، اس کی ماھیت یا اس کی کوئی شبیہہ وغیرہ کچھ بھی مدرِک میں نہیں آتے، ادراک مدرِک اور خارج میں موجود مدرَک کے مابین براہ راست نسبت ہے، عالم و مدرِک کے ساتھ معلوم و مدرَک نہیں بلکہ علم و ادراک قائم ہوتے ہیں جو الگ و مختلف اعراض یا صفات ہیں اور جن کی حقیقت معلوم و مدرَک کو ظاہر (disclose or reveal) کرنا یا اس کا کشف ہے (امام ماتریدی کے الفاظ میں علم صفة الانجلائیة یا illuminating state ہے)۔ آج کی زبان میں اسے ڈائریکٹ رئیل ازم کہتے ہیں جو آج بھی ایک زندہ و طاقتور فلسفہ ہے۔




کمنت کیجے