سلطان العلماء رحمہ اللہ کے موقف کو دیکھنا اِس لیے ضروری ہے، کیونکہ اِس موضوع کے فنی پہلو پر یہ سب سے زیادہ وقیع تحریر ہے۔ یہ تحریر اِس قدر جامع، حتمی اور شاندار ہے کہ اِسے پڑھ لینے کے بعد کسی دوسری چیز کو پڑھنے کی شاید ضرورت نہیں رہتی۔ اشاعرہ کے موقف کو اور ان کے تضادات کو بھی سمجھنے میں یہ انتہائی مفید دکھائی دیتی ہے۔ سلطان العلماء کی ذہانت اور شجاعت کا ذکر تو عام ہے اور ذہبی رحمہ اللہ نے اُنھیں اُن چنیدہ لوگوں میں شامل کیا ہے، جو درجۂ اجتہاد کو پہنچے۔ لیکن جو موقف جناب نے اِس تحریر میں اختیار کیا ہے، محض یہ حصہ اُن کے نابغۂ روزگار ہونے کی کافی دلیل ہے۔
لہذا ہم اِس تحریر کو اپنے قارئین کے سامنے جوں کا توں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اِس کا ایک ایک لفظ معرفت کا خزانہ اور علم کا اوج کمال ہے۔ نظر کے وجوب پر کلام نہایت عمدہ ہے۔ بالخصوص اس کا آخری حصہ جہاں اُنھوں نے تجسیم و تنزیہ کے حوالے سے کلام کیا ہے اور تکفیر کی بحث کی ہے، وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ آج کل جو بحث جاری ہے کہ مسلمان کون ہے اور کافر کون ہے۔ اس حوالے سے ہمارے اسلاف کی پوزیشن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
پھر اشاعرہ اور معتزلہ کے مواقف کا موازنہ کرتے ہوئے، اُن کے درمیان قائم ہونے والے اضداد اور اُن کی توجیہ کو بیان کیا ہے۔ یہ یقیناً قابلِ توجہ اور لائقِ تحسین ہے۔
متن کا ترجمہ حاضر ہے:
……
چودہویں نوع یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے عوام کے حق میں ذکر کیا ہے اس کا اعتقاد رکھنا خواص کے حق میں علم کے قائم مقام ہے، کیونکہ عوام کے لیے ان امور کی معرفت میں ظاہری مشقت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خواص کو یہ تکلیف دی ہے کہ وہ اسے ازلیت اور ابدیت اور تفرد بالالہیت کے ساتھ پہچانیں اور یہ کہ وہ حی ہے عالم ہے قادر ہے مرید ہے سمیع ہے بصیر ہے متکلم ہے اور اپنی اخبار میں صادق ہے۔ اور عوام کو یہ تکلیف دی ہے کہ وہ ان امور کا اعتقاد رکھیں کیونکہ ان کے لیے معرفت کے دلائل پر واقف ہونا دشوار ہے پس ان سے اس اعتقاد پر ہی اکتفاء کیا گیا۔
اور جہاں تک یہ مسئلہ ہے کہ وہ عالم بالعلم ہے اور قادر بالقدرۃ ہے تو یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس کی پیچیدگی کے سبب لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ اسی طرح اس کے کلام کے قدم کے بارے میں اور اس بارے میں کہ اس نے اپنی ذات کے لیے جو وجہ اور یدین اور عینین کی صفات ذکر فرمائی ہیں وہ ذات کے ساتھ قائم صفاتِ معنوی ہیں یا ان کی تاویل کی جائے گی اس طرح کہ وجہ سے ذات مراد لی جائے اور یدین سے قدرت مراد لی جائے اور عینین سے علم مراد لیا جائے۔ اسی طرح لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ آیا اس کے لیے جہت ہے یا جہت نہیں اور یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں نزاع طویل ہے اور اس کے دلائل پر واقف ہونا دشوار ہے۔ اصحابِ اشعری نے قِدَم اور بقاء کے بارے میں تردد کیا ہے کہ آیا یہ دونوں صفاتِ سلبی میں سے ہیں یا صفاتِ ذاتی میں سے۔ اور امام اشعری کے اقوال اس قدر کثیر ہیں کہ ابن فورک نے انہیں دو مجلدات میں جمع کیا ہے اور یہ سب ایسے مسائل ہیں جن میں مجتہدین کے لیے تصویب ممکن نہیں، بلکہ حق ان میں سے ایک کے ساتھ ہے اور باقی خطا پر ہیں۔ لیکن یہ خطا معفو عنہ ہے، کیونکہ اس سے نکلنا اور اس سے آزاد ہونا دشوار ہے۔ خصوصاً جہت کا اعتقاد رکھنے والے کا قول، کیونکہ ایسی موجود کا اعتقاد جو نہ متحرک ہو، نہ ساکن، نہ عالم سے منفصل نہ متصل، نہ اس میں داخل، نہ اس سے خارج ایسی چیز ہے، جس تک کوئی شخص فطرت سے عادتاً نہیں پہنچ سکتا اور اس تک رسائی صرف انتہائی دشوار اور پیچیدہ دلائل پر واقف ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔ پس اسی مشقت کے سبب اللہ تعالیٰ نے عامی کے حق میں اس سے عفو فرما دیا ہے۔
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے کسی کو بھی جو اسلام قبول کرتے، اس امر کی تحقیق پر مجبور نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہیں اس حال پر برقرار رکھتے تھے، جس سے انہیں نکالنا ممکن نہ تھا۔ اور خلفائے راشدین اور علمائے مہتدین ہمیشہ اس پر لوگوں کو برقرار رکھتے رہے، باوجود اس علم کے کہ عوام نے اس میں حق تک رسائی نہیں پائی اور اس کی طرف ہدایت نہیں پائی۔ اور ان پر احکامِ اسلام جاری کیے جیسے نکاح کا جواز اور وراثت اور ان پر نمازِ جنازہ پڑھنا اور انہیں غسل دینا اور کفنانا اور اٹھانا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔ اور اگر اللہ نے انہیں اس معاملے میں مسامحت نہ فرمائی ہوتی اور اس سے عفو نہ کیا ہوتا تو اجماعِ مسلمین کے ساتھ ان پر احکامِ مسلمین جاری نہ کیے جاتے۔ اور جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ الٰہ کسی انسان یا کسی دوسری چیز کے جسم میں حلول کرتا ہے، تو وہ کافر ہے۔ شریعت نے مجسمہ سے صرف اس لیے عفو کیا ہے کہ تجسیم لوگوں پر غالب ہے، کیونکہ وہ کسی ایسی موجود کو نہیں سمجھ سکتے، جو کسی جہت میں نہ ہو۔ بخلاف حلول کے۔ اس کی ابتلا عام نہیں ہے اور کسی عاقل کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا اس لیے اس سے عفو نہیں کیا جائے گا۔
اس شخص کے قول کا کوئی اعتبار نہیں جو بلوغ کے وقت تمام مکلفین پر نظر کو واجب قرار دیتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اس سے غافل ہیں اور اس سے واقف نہیں ہیں اور اس کی طرف ہدایت نہیں پائی اور اس کے باوجود سلفِ صالحین یعنی صحابہ اور تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی نے بھی انہیں فاسق نہیں کہا۔
لاریب، نظر مکلفین پر واجب نہیں ہے، مگر جب وہ ایسے امور میں شک کریں جن کا اعتقاد واجب ہے، تو پھر ان پر اس کی تحقیق اور نظر لازم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس کا اعتقاد رکھیں یا اسے جان لیں۔
اور ہم ان عوام کو کیسے کافر قرار دیں، جو یہ نہیں جانتے کہ کلامِ الٰہی ایک معنیٰ قدیم ہے جو بنفسہ قائم ہے اور ساتھ یہ بھی حکم لگاتے ہیں کہ وہ امر ہے، نہی ہے، وعد ہے، وعید ہے خبر ہے، استخبار ہے، ندا ہے اور مسموع ہے۔ حالانکہ وہ صوت نہیں ہے اور ایسے اعتقاد کا رکھنا ان معتقدین کے لیے انتہائی دشوار ہے، جو اسے قطعیات میں سے سمجھتے ہیں اور اس کے منکرین کو کافر قرار دیتے ہیں۔
اسی طرح ہم عامی کو اس جہالت پر کیسے کافر قرار دیں کہ نبوت اس معنی میں عبارت ہے کہ نبی اللہ کی طرف سے خبر دینے والا ہے۔
پس نبوت کوئی وجودی صفت کی طرف نہیں لوٹتی بلکہ وہ اس نسبت کے تعلق سے عبارت ہے اور قول مقول لہ اور مقول فیہ کے لیے کوئی ثبوتی صفت کو واجب نہیں کرتا۔
یا اس معنی میں کہ نبوت اللہ کی طرف سے اس کی خبر دینے سے عبارت ہیں پس وہ ایک ثبوتی صفت کی طرف لوٹتی ہے، جو اس کے ساتھ قائم ہے۔
پہلی صورت میں فعیل بمعنی مفعول ہوگا اور دوسری صورت میں فعیل بمعنی فاعل ہوگا۔
اور امام اشعری نے اپنی وفات کے وقت اہلِ قبلہ کی تکفیر سے رجوع فرما لیا تھا کیونکہ صفات سے جہالت موصوف سے جہالت نہیں ہے اور عبارات میں اختلاف کیا گیا ہے جبکہ مشار الیہ ایک ہی ہے۔
انہوں نے اپنی بیان کردہ بات کی مثال اس شخص سے دی جس نے اپنے غلاموں کو خط لکھا کہ انہیں بعض چیزوں کا حکم دے اور بعض سے منع کرے۔ تو انہوں نے اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہ وہ ان کا آقا ہے، اس کی صفات میں اختلاف کر لیا۔ بعض نے کہا کہ وہ سرمگیں آنکھوں والا ہے اور بعض نے کہا نیلی آنکھوں والا ہے اور بعض نے کہا سیاہ آنکھوں والا ہے اور بعض نے کہا وہ میانہ قد ہے اور بعض نے کہا وہ لمبا ہے اور اسی طرح اس کے رنگ میں اختلاف کیا کہ گورا ہے یا کالا یا گندمی یا سرخ ہے۔
تو یہ جائز نہیں کہ کہا جائے کہ اس کی صفت میں ان کا اختلاف اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ ان کا آقا ہے، جس کی اطاعت اور بندگی ان پر واجب ہے۔
اسی طرح مسلمانوں کا صفاتِ الٰہ میں اختلاف اس بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ وہ ان کا خالق اور آقا ہے۔ جس کی اطاعت اور عبادت ان پر واجب ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے اپنے باپ کی صفات میں اختلاف کیا، باوجود اس اتفاق کے کہ وہ ان کی اصل ہے، جس کے پانی سے وہ پیدا ہوئے اور ان کا اس کی صفات میں اختلاف اس بارے میں اختلاف نہیں ہے کہ وہ اسی سے پیدا ہوئے اور اسی سے خلق ہوئے۔
اگر کہا جائے کہ اس بارے میں اختلاف سے کہ آیا وہ سبحانہ کسی جہت میں ہے لازم آتا ہے کہ وہ حادث ہو تو ہم کہیں گے کہ لازمِ مذہب مذہب نہیں ہے۔
کیونکہ مجسمہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک جہت میں ہے اور اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ قدیم ازلی ہے اور محدث نہیں ہے۔ پس جس شخص کا صریح قول اس کے خلاف ہو اس کے مذہب کی طرف اسے منسوب کرنا جائز نہیں، اگرچہ وہ اس کے قول سے لازم آتا ہو۔
اور یہ تعجب کی بات ہے کہ اشاعرہ نے خود بہت سی صفات میں اختلاف کیا ہے جیسے قِدَم اور بقاء اور وجہ اور یدین اور عینین میں اور احوال میں جیسے عالمیت اور قادریت اور کلام کی تعدد اور اتحاد کے بارے میں اور اس کے باوجود ان میں سے کسی نے کسی کو کافر نہیں کہا اور انہوں نے نفاۃِ صفات کی تکفیر کے بارے میں اختلاف کیا، باوجود اس اتفاق کے کہ وہ حی ہے، قادر ہے سمیع ہے بصیر ہے، متکلم ہے۔ پس انہوں نے اس کے ان صفات کے ساتھ کامل ہونے پر اتفاق کیا اور مذکور صفات کے ساتھ اس کی تعلیل میں اختلاف کیا۔
مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ ہر کمال کے ساتھ موصوف ہے اور ہر نقص سے پاک ہے لیکن انہوں نے بعض اوصاف کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے یہ اعتقاد رکھا کہ وہ کمال ہیں پس انہوں نے انہیں اس کے لیے ثابت کیا اور بعض نے یہ اعتقاد رکھا کہ وہ نقص ہیں۔ پس انہوں نے انہیں اس سے نفی کیا۔ اس کی مثالیں یہ ہیں۔
پہلی مثال: معتزلہ کا یہ قول کہ انسان اپنے افعال کا خالق ہے کیونکہ اگر اللہ انہیں پیدا کرتا اور پھر ان پر اسے ملامت کرتا اور برا کہتا حالانکہ اس نے انہیں نہیں کیا اور ان پر اسے عذاب دیتا، حالانکہ اس نے انہیں وجود نہیں دیا تو وہ ظالم ہوتا اور ظلم نقص ہے اور یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ کوئی کچھ کرے اور پھر دوسرے کو اس پر ملامت کرے اور کہے کہ تو نے یہ کیوں کیا اور کیسے کیا۔
اہلِ سنت کہتے ہیں کہ اللہ انسان کے افعال کا خالق ہے، کیونکہ اگر انسان انہیں خلق کرتا تو الٰہ انہیں خلق کرنے پر قادر نہ ہوتا اور قدرت کی نفی عیب اور نقص ہے اور رب کا اس چیز پر عذاب دینا، جو اس نے خلق کی ہے ظلم نہیں ہے بدلیل اس کے کہ وہ جانوروں اور مجانین اور اطفال کو عذاب دیتا ہے. وہ اپنی ملک میں جیسے چاہے تصرف کرتا ہے اور تحسین و تقبیح کا قول باطل ہے۔
پس انہوں نے رائے قائم کی کہ اس کا کمال بندوں کے افعال کے خلق میں ہے اور انہوں نے اس چیز پر انہیں عذاب دینے کو جو انہوں نے خلق نہیں کی اس کے افعال میں سے جائز اور قبیح نہیں سمجھا۔
دوسری مثال: مجسمہ اور منزہہ کا اختلاف کہ اگر وہ جسم ہوتا تو حادث ہوتا اور اسے کمالِ ازلیت فوت ہو جاتی۔
تیسری مثال: معتزلی کا اللہ سبحانہ پر مطیعین کو ثواب دینا واجب قرار دینا تاکہ ان پر ظلم نہ ہو اور ظلم نقص ہے اور اشعری کا یہ قول کہ یہ نقص نہیں ہے کیونکہ اس پر کوئی حق واجب نہیں ہے اور اگر کسی دوسرے کا حق اس پر واجب ہوتا تو وہ اس کی قید میں ہوتا اور غیروں کی قید میں رہنا نقص ہے۔
چوتھی مثال: معتزلہ کا یہ قول کہ اللہ طاعات کا ارادہ رکھتا ہے، اگرچہ واقع نہ ہوں۔ چونکہ ان کا ارادہ کمال ہے اور معاصی کو ناپسند کرتا ہے اگرچہ واقع ہو جائیں کیونکہ ان کا ارادہ نقص ہے اور اشعری کا یہ قول کہ اگر وہ اس چیز کا ارادہ کرتا جو واقع نہ ہو تو یہ اس کے ارادے میں نقص ہوتا اس وجہ سے کہ اس کا ارادہ جس چیز سے متعلق ہوا اس میں نفوذ سے عاجز آ گیا اور اگر وہ معاصی کو ناپسند کرتا، باوجود ان کے واقع ہونے کے تو یہ اس کی کراہت میں عجز ہوتا اور یہ نقص ہے۔
پانچویں مثال: معتزلہ کا اللہ پر اپنے بندوں کے صلاح کا لحاظ رکھنا واجب قرار دینا۔ اس وجہ سے کہ اسے ترک کرنے میں نقص ہے اور اشعری کا یہ قول کہ یہ لازم نہیں ہے کیونکہ الزام نقص ہے اور الٰہ کا کمال یہ ہے کہ وہ متالہین کی قید میں نہ ہو۔
[قواعد الاحکام فی مصالح الانام، العز ابن عبدالسلام، عزالدین عبد العزیز بن عبدالسلام، جزء 1, ص 202]



کمنت کیجے