Home » دنیا کے نئے سوالات اور ہمارے عقائد و معمولات کا اعلامیہ
تاریخ / جغرافیہ • تہذیبی مطالعات

دنیا کے نئے سوالات اور ہمارے عقائد و معمولات کا اعلامیہ

وسیم رضا ماتریدی

اکیسویں صدی کا انسان علم، شعور اور تہذیب کے ایک غیر معمولی انقلاب سے گزر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت انسانی عقل، تخلیق اور علم کی روایتی تعریفوں کو چیلنج کر رہی ہے؛ جینیاتی انجینئرنگ زندگی اور انسانی فطرت کے تصورات کو نئے سوالات سے دوچار کر رہی ہے؛ نیورو سائنس شعور، ارادے اور انسانی آزادی کی نئی توضیحات پیش کر رہی ہے؛ اور معاصر فلسفہ خدا، مذہب، وحی، اخلاق، وجود اور حقیقت کے بنیادی مسائل پر نئے مباحث پیدا کر رہا ہے۔ دوسری طرف ماحولیاتی بحران، معاشی ناہمواری، جنگیں، تہذیبی کشمکش اور انسان کی بڑھتی ہوئی وجودی تنہائی ایک نئی فکری اور اخلاقی رہنمائی کا تقاضا کر رہی ہیں۔ دنیا ان سوالات پر علمی ادارے قائم کر رہی ہے، تحقیقات کر رہی ہے اور مستقبل کی نئی صورت گری میں مصروف ہے۔

اس کے مقابلے میں ہمارے ہاں علمائے اہلِ سنت کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور اس کی اجتماعی علمی توانائی ایک مرتبہ پھر انہی اعتقادی تعبیرات اور مذہبی معمولات کے اثبات و تحفظ پر صرف ہوتی دکھائی دیتی ہے، جو گزشتہ کئی صدیوں سے مسلکی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔ عقائد و معمولاتِ اہلِ سنت کے حالیہ اعلامیے کو دیکھیے تو بنیادی ترجیح مذہبی شناخت کی حفاظت، مخصوص اعتقادی مؤقف کی توثیق اور بعض غیر شرعی اعمال سے براءت ہے۔ ان مسائل کی اپنی تاریخی، فقہی اور کلامی اہمیت سے انکار نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کے انسان کے سامنے مذہب کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہ گیا ہے؟ کیا ہماری علمی قیادت کے نزدیک عقائد کے تحفظ کا مطلب صرف موروثی تعبیرات کی تجدیدِ توثیق ہے، یا ان عقائد کی روشنی میں جدید انسان کے فکری، وجودی اور تہذیبی سوالات کا جواب دینا بھی اس کی ذمہ داری ہے؟

اس صورتِ حال کا زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ جس علمی روایت کی نسبت ہم امام ابو منصور ماتریدی، امام ابو الحسن اشعری، امام غزالی اور دیگر عظیم متکلمین سے قائم کرتے ہیں، اس کے بنیادی علمی منہج سے ہماری وابستگی مسلسل کمزور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ان متکلمین نے اپنے عہد کے فلسفیانہ تصورات، مذہبی مناقشات اور عقلی اعتراضات کا سامنا کیا، ان کے فکری مقدمات کو سمجھا اور اپنے زمانے کی علمی زبان میں مذہبی عقائد کی توضیح کی۔ انہوں نے محض سابقہ اقوال کی حفاظت نہیں کی بلکہ علمِ کلام کو اپنے عہد کے زندہ سوالات سے مربوط رکھا۔ آج اگر ان کی روایت کے وارث ہونے کا دعویٰ رکھنے والے علماء جدید فلسفے، فلسفۂ سائنس، مصنوعی ذہانت، انسانی شعور اور معاصر نظریاتِ اخلاق سے بامعنی مکالمہ پیدا نہیں کرتے تو سوال صرف علمی پسماندگی کا نہیں بلکہ خود اپنی روایت کے تخلیقی اور استدلالی منہج سے دوری کا بھی ہے۔

یہاں اصل مسئلہ کسی خاص عقیدے کی صحت یا کسی معمول کے جواز و عدمِ جواز کا نہیں، بلکہ مذہبی ترجیحات اور علمی شعور کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے کا ہے۔ جن مباحث پر صدیوں سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں، مناظرے ہو چکے ہیں اور فتاویٰ مرتب کیے جا چکے ہیں، ان کے اعادے پر ایک مرتبہ پھر اجتماعی توانائی صرف کرنا کس حد تک نتیجہ خیز ہے؟ بالخصوص اس وقت جب نئی نسل مذہب کی معنویت، خدا کے وجود، انسانی آزادی، اخلاقی اقدار اور سائنسی علم کے ساتھ مذہبی عقائد کی نسبت جیسے سوالات کا سامنا کر رہی ہو۔ کیا ہمارے دینی اداروں کے پاس ان سوالات کے لیے کوئی مربوط تحقیقی منصوبہ، کوئی معاصر کلامی بیانیہ اور کوئی ایسا علمی پروگرام موجود ہے جو نوجوان نسل کو مذہب کی عقلی اور وجودی معنویت سے روشناس کرا سکے؟ یا ہم مذہبی شناخت کے تحفظ کو ہی مذہبی فکر کی تمام تر خدمت سمجھ بیٹھے ہیں؟

اہلِ سنت کی علمی روایت کو آج محض ایک اور اعلامیے سے زیادہ ایک نئے علمی عہدنامے کی ضرورت ہے؛ ایسے عہدنامے کی جو کلاسیکی علمِ کلام کو معاصر فلسفے سے، دینی اخلاقیات کو جدید انسانی مسائل سے اور روحانی روایت کو موجودہ انسان کے وجودی بحران سے مربوط کرے۔ عقائد کا تحفظ یقیناً ضروری ہے، لیکن کسی عقیدے کی حقیقی علمی زندگی اس کی مسلسل تکرار میں نہیں، بلکہ اس کی اس استدلالی قوت میں ظاہر ہوتی ہے جس سے وہ ہر نئے عہد کے سوالات کا سامنا کر سکے۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم آنے والی نسلوں کو محض اپنے تاریخی اختلافات ورثے میں دینا چاہتے ہیں یا ایک ایسی زندہ علمی روایت بھی، جو انہیں بدلتی ہوئی دنیا میں مذہب، انسان اور زندگی کے معنی سمجھنے میں مدد دے سکے۔ ہمارا اصل فکری بحران شاید یہی ہے کہ دنیا مستقبل کے سوالات مرتب کر رہی ہے، اور ہم ابھی تک ماضی کے جوابات کی توثیق کو اپنی سب سے بڑی علمی کامیابی سمجھ رہے ہیں۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں