جناب نواز کمال نے ”دیوبندی علمی مراکز پسپا ہو رہے ہیں“ کے زیرعنوان ۲۳/ اکتوبر کو ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انھوں نے ”اہلِ سنتِ و الجماعت“ کے عقیدے کے بارے میں دو اعلامیوں پر گفتگو کی ہے۔ ان میں سے ایک دیوبندی اور دوسرا بریلوی علما کی طرف سے جاری کیا گیا ہے۔ یہ پوسٹ جس فرقہ وارانہ ملی صورت حال کے پس منظر میں لکھی گئی ہے وہ کوئی نئی نہیں۔ برصغیر میں اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کا بحران طویل عرصے سے چلا آتا ہے اور اس میں متجدد، غیر سیاسی اور سیاسی علما کا کردار حد درجہ افسوسناک رہا ہے۔ اس میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دیوبندی، اہلِ حدیث اور بریلوی مکاتبِ فکر کی فرقہ وارانہ تقسیم عین اسی سوال پر ہی سامنے آئی تھی کہ اہلِ سنت و الجماعت کون ہیں اور ان کا ”درست“ عقیدہ کیا ہے۔ معقولات اور نظری علوم اور عقلی دلائل کے خاتمے کے بعد واحد ذریعہ یہی رہ گیا تھا کہ ان میں سے ہر فرقہ اور مکتبِ فکر خود کو زور زبردستی اہلِ سنت و الجماعت قرار دے۔ حقیقی اقتدار کی عدم فراہمی میں اپنی سنیت کو منوانے کے لیے مخالفین کی تکفیر کا سیاسی حربہ بروئے کار لایا گیا۔ مسئلہ یہ تھا کہ معقولات، نظری علوم اور فکری جدلیات میں رہتے ہوئے عقیدے کے بیان اور اس کے دفاع کی بجائے فرقہ وارانہ سیاست بازی کو اختیار کیا گیا تاکہ ”دشمن“ کو ختم کیا جا سکے۔ ان اعلامیوں کو دیوبندی یا بریلوی تو کہا جا سکتا ہے لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اہل سنت و الجماعت کون ہے اور کیوں ہے، اس لیے کہ اپنے اپنے خیال میں ہر مکتبِ فکر اہلِ سنت و الجماعت ہی ہے۔ اہل حدیث مکتبِ فکر کا کوئی اعلامیہ ابھی جاری نہیں ہوا، اور شاید وہ ابھی زیرِ تحریر ہو۔ اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک ہی عقیدے کے حامل افراد کے اعلامیے یا بیانیے دو نہیں ہو سکتے۔ ہماری تاریخ میں گزشتہ دو سو سال سے جو تکفیر جاری ہے وہ عین اسی مسئلے سے شروع ہوئی تھی کہ درست عقیدہ کیا ہے اور اہل سنت و الجماعت کون ہیں؟ یہ کہنا کہ ”دیوبندی علمی مراکز پسپا ہو رہے ہیں“ فرقہ واریت اور تکفیر کے تناظر ہی میں ممکن ہے، کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت پسپا ہو رہے ہیں اور ان کے علمی مراکز اجڑ چکے ہیں اور سوائے فرقہ واریت اور دھونس دھاندلی کے کچھ باقی نہیں رہا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دیوبندی پسپا ہو رہے ہیں تو کیا بریلوی اور اہل حدیث مکاتبِ فکر کوئی معرکے سر کر رہے ہیں؟ اس میں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ کن کن محاذوں پر پیشرفت کر رہے ہیں تاکہ ہم بھی خوشی منا سکیں کہ اہل سنت و الجماعت کچھ نہ کچھ محاذوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ تکفیر پر کمر بستہ فرقے دراصل ہر وقت ترقی ہی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ وہ نئے نئے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی طرف سے ان کے عقائد گھڑتے رہتے ہیں، اور اپنے عقیدے کی خبر نہیں ہوتی کہ اس پر کیا بیتی ہے۔
عقیدہ جاتی اعلامیوں کو دیکھنے سے صرف ایک بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ اب عقیدے کے معاملات بھی سیاست بازی سے طے ہوتے ہیں، اور دینِ اسلام اور اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ کسی کا مسئلہ نہیں ہے۔ ”اعلامیہ“ بنیادی طور پر ایک سیاسی اصطلاح ہے اور انگریزی لفظ communique کا ترجمہ ہے۔ ہمارے علما مذہبی سیاست بازی، ہوسِ اقتدار، جدید ریاست سے ساز باز، اپنی طبقاتی تشکیل اور معاشی مفادات کے تحفظ کے بارے میں بہت حساس ہیں اور ان مقاصد کے حصول اور تحفظ کے لیے وہ مذہب کو بطور آلہ استعمال کرتے ہیں۔ عالمی اور علاقائی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں اپنے اپنے ولی ہائے نعمت کی آئندہ اور ممکنہ حیثیت نے ہمارے متجددین اور سیاسی علما کو بھی گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس طرح کے ”اعلامیے“ جاری کیے جا رہے ہیں۔ ”بیانیہ“ بھی ایک سیاسی اصطلاح ہے اور اس طرح کے ”ایمانی اعلامیے“ ان بیانیوں کو بچانے کے لیے بطور فرمودات جاری ہو رہے ہیں جو مذہبی طبقات اور فرقوں کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ”اعلامیہ“ عام طور پر سربراہان و وزرائے مملکت علاقائی اور عالمی سطح پر غیرملکی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد جاری کرتے ہیں۔ اس سے ہمارے علما کے ادراکِ ذاتی (self perception) کے بارے میں بھی آگہی حاصل ہوتی ہے اور ان کی دینداری کا پول کھل جاتا ہے۔ انھوں نے خود کو نفوس قدسیہ باور کرا رکھا ہے اور وہ کبھی بھی آقا علیہ الصلٰوۃ و السلام کے امتی، اللہ تعالیٰ کے عبد اور مسلمانوں کے خیرخواہ کی جگہ پر کھڑے ہو کر تو کوئی مذہبی موقف سامنے نہیں لاتے کیونکہ وہ خود کو بھی کسی خیالی مملکت کے سربراہان و وزرا ہی سمجھتے ہیں، اور اپنی سیاسی طاقت کے اظہار کے لیے وہ ایسے اعلامیے جاری کرتے ہیں جن کا مقصد عامۃ المسلمین کی تکفیر کے بیانیوں کا دفاع اور حقیقی سربراہان اور وزرا کی خوشامد ہوتا ہے۔ ہمارے علما اصولِ دین کی معقولاتی روایت میں کھڑے ہو کر عقیدے کے دفاع میں تو ایک فقرہ نہیں بول سکتے اور اعلامیے پر اعلامیے جاری ہو رہے ہیں۔ علما کی سیاست بازی کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ قیامت کے دن حساب کتاب تو ہم جیسے عام مسلمانوں کا ہونا ہے اور علما اس امت کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا انھوں نے کوئی حساب نہیں دینا۔
گزارش ہے کہ برصغیر کی حد تک، اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کو بالترتیب شیعت اور وہابیت کا چیلنج درپیش ہوا۔ اٹھارھویں صدی شیعہ سنی تنازع کی صدی ہے۔ اہلِ تشیع سے شکستِ فاش کے بعد، اہلِ سنت و الجماعت کے فعال، قدرے خوشحال اور کسی حد تک جدید طبقے نے وہابیت کو اختیار کیا تاکہ شیعت کا مقابلہ کیا جا سکے، اور اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ بالکل ہی ترک کر دیا۔ عقیدے میں دیوبندی اور اہلِ حدیث مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے گھاٹ ہی سے پانی پیتے ہیں لیکن تقلید کے معاملے میں ان کے راستے الگ ہیں۔ اٹھارھویں صدی کا شیعہ سنی تنازع اہلِ سنت و الجماعت میں عقیدے کی نئی تشکیل کا سبب بنا اور ان کے ایک نہایت فعال گروہ میں تحریکِ اصلاح و ج.ہا.د کا آغاز ہوا۔ برصغیر میں وہابی عقیدے کی نئی تشکیل مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں آ کر مکمل ہو جاتی ہے۔ مولانا شاہ صاحب نے اہلِ تشیع کے عقیدۂ امامت کا سامنا کرنے کے لیے امامت کا ایک بالکل نیا عقیدہ وضع کیا، اور مابین شیعہ سنی جو محلِ نزاع تھا وہیں پر اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ مولانا شاہ صاحب نے اہلِ سنت و الجماعت کے روایتی عقیدۂ توحید اور عقیدۂ رسالت کو بالکل ترک کر دیا، اور تقلید کو شرک قرار دیا لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس کے بعد بھی وہ ”اہلِ سنت و الجماعت“ ہی رہے ہیں۔ یہیں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ کتنا کچھ باقی رہ گیا تھا۔ مکتبِ وہابیت اہلِ سنت و الجماعت کو علی الاطلاق مشرک اور اہلِ تشیع کو علی الاطلاق کافر قرار دیتا ہے۔ بریلویت اصل میں شیعت کے خلاف ردِ عمل نہیں تھی، اور نہ اس کا شیعت کے کچھ لینا دینا ہے۔ بریلوی مکتبِ فکر کی مذہبی اور رسومیاتی تشکیل تحریک اصلاح و ج.ہا.د کے بالمقابل ہوئی ہے۔ اہلِ سنت و الجماعت کا کلاسیکل عقیدہ اپنے روایتی بیان کے ساتھ مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان جیسے علما کے ہاں یقیناً موجود رہا لیکن بتدریج ان جیسے علما اور ان کے تصویب کردہ مذہبی مواقف کو بھی مین اسٹریم سے نکال باہر کیا گیا۔ ہماری رائے میں اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کی وہابیت اور شیعت سے نسبتیں بالکل ایک جیسی ہیں، اور اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہر دو کے مقابل قطعی باہم یک نگر (mutually exclusive) ہے۔ اگر اہلِ وہابیت سنی ہیں تو پھر شیعوں سے عقیدہ جاتی اختلاف کی بھی کوئی معنویت باقی نہیں رہتی، اور سب کے بھائی بھائی ہونے کا نعرہ لگاتے ہوئے اہل سنت و الجماعت کے عقیدے کو کسی طاق نسیاں میں رکھ دینا چاہیے کیونکہ اگر وہابی اہل سنت و الجماعت ہو سکتے ہیں تو شیعہ کیوں نہیں ہو سکتے؟ اس سے کم از کم دنیا میں بڑے فائدے اٹھائے جا سکتے ہیں۔ میری رائے میں، شیعہ، سنی اور وہابی عقیدے میں فرق مطلق ہیں اور ان میں کوئی تصفیہ اور تطبیق ممکن نہیں ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ ان فرقوں کے ہوتے ہوئے کسی سیاسی مصالحت کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
موجودہ صورت حال کو سمجھنے کے لیے برصغیر کی مسلم تاریخ کو دیکھ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں تاکہ سیاسی طاقت اور عقیدے کی حرکیات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ سنہ ۱۷۰۷ء میں اورنگ زیب عالمگیرؒ کے انتقال کے بعد جب بہادر شاہ اول تخت نشین ہوا تو اس نے اپنا تقیہ توڑ کر شیعہ ہونے کا اعلان کیا، اور مغلیہ سلطنت کو شیعہ عقائد و فقہ کے مطابق چلانے کا اعلان کیا۔ بہادر شاہ اول کے سامنے سلطنتِ صفویہ کے بنیادگزار شاہ اسماعیل صفوی کی مثال موجود تھی جس نے بزور شمشیر ایران میں شیعت کو نافذ کیا تھا، اور جو اہلِ سنت و الجماعت اپنے عقائد پر قائم رہے تھے انھیں تہہ تیغ کیا گیا یا مملکت سے بیدخل کر دیا گیا۔ بہادر شاہ اول ہندوستان کے سنی مسلم معاشرے کو بھی بزور شمشیر شیعہ بنانا چاہتا تھا، اور تخت پر بیٹھتے ہی اس نے ہر مسجد میں جمعے کا خطبہ شیعہ عقائد کے مطابق پڑھنے کا حکم بالجبر نافذ کرنے کی کوشش کی تھی اور خطبے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے وصی ہونے کا عقیدہ شامل کیا گیا تھا۔ بہادر شاہ اول نے تخت نشین ہوتے ہی اہلِ سنت و الجماعت کے عقائد اور طرز زندگی اور سنی سیاسی طاقت کی بنیادوں پر کاری ضرب لگائی۔ شیعہ سنی کشمکش اور سیاسی جدلیات جو شہنشاہ نصیر الدین محمد ہمایوں کے عہد سے مغل دربار کا حصہ چلی آتی تھی، اب ایک خانہ جنگی کی صورت میں پورے مسلم معاشرے میں پھیل گئی۔ بہادر شاہ اول کے شیعہ فرمودات کی سب سے زیادہ مزاحمت لاہور سے ہوئی جہاں عامۃ المسلمین اپنے عظیم اور سرفروش علما کی زیر قیادت بادشاہ کے مذہبی جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ صورت حال اس قدر بگڑ گئی تھی کہ بہادر شاہ اول نے شیعہ عقائد کو بالجبر نافذ کرنے کے لیے لاہور پر فوج کشی کی۔ قریب تھا کہ لاہور میں اہلِ سنت و الجماعت کا قتل عام شروع ہو جاتا لیکن علما کی پامردی، سنی عوام کی شدید مزاحمت، اپنے سنی عقیدے سے دستبردار ہونے سے قطعی انکار اور کچھ شہزادوں کی مشاورت پر بادشاہ کو اپنا حکم واپس لینا پڑا۔ بہادر شاہ اول بزور شمشیر ہندوستان کو شیعہ تو نہ بنا سکا، لیکن اس نے اہلِ سنت و الجماعت کے نظام اقتدار کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور مسلم طاقت برصغیر میں پھر کبھی بحال نہ ہو سکی۔
بہادر شاہ اول کی پالیسیوں سے پوری مغل انتظامیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اور مسلم معاشرے میں ابتری پھیل گئی۔ بادشاہ کے انتقال کے بعد، سادات بارہہ نے اپنی سفاکانہ تزویرات سے سلطنت مغلیہ کے دوبارہ ابھرنے کے امکانات ہی کا خاتمہ کر دیا۔ رہی سہی کسر سنہ ۱۷۳۹ء میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار کے حملے نے پوری کر دی۔ نادر شاہ افشار کے حملے سے نہ صرف مغلیہ سلطنت بالکل ہی دیوالیہ ہو گئی بلکہ اہلِ سنت و الجماعت کے امرا و نبلا کو مسلم مراکزِ طاقت سے ہی بے دخل کر دیا گیا۔ برہان الملک نے جو ابھرتی ہوئی شیعہ سیاسی طاقت کی وجہ سے اودھ کا گورنر بنا تھا اہل سنت و الجماعت کی وقف املاک کو ضبط کر لیا، اور ان کے بڑے بڑے تعلیمی مراکز کو ختم کر دیا جس میں ایک بڑی مثال برہان پور کے مدارس کی داستانِ الم ہے۔ اس میں دلچسپ موڑ یہ ہے کہ شیعہ برہان الملک کی موت بھی نادر شاہ افشار کے ہاتھوں واقع ہوئی تھی۔ مغلیہ سلطنت کے زوال کی بنیادی وجہ میری رائے میں شیعہ سنی خانہ جنگی اور مراکزِ طاقت پر شیعوں کا قبضہ تھا۔ یہ وہ فضا تھی جس میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ”ازالہ“ لکھی تاکہ اس سنگین صورت حال میں سنی موقف کے لیے کوئی گنجائش تلاش کی جائے اور اہل تشیع کے ساتھ ”فکری مفاہمت“ کا راستہ بنانے کی کوشش کی جائے۔ مولانا شاہ عبدالعزیزؒ کی ”تحفہ اثنا عشریہ“ کا تاریخی پس منظر بھی یہی ہے۔ ”ازالہ“ اور ”تحفہ“ مغلیہ مراکزِ حکومت میں ابھرتی ہوئی شیعہ طاقت اور اس کے سنی تعلیم و علوم پر اثرات کے ماحول میں، شیعوں کے بالمقابل اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کو بیان کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتی ہیں۔ مراکز سلطنت میں شیعہ غلبے اور تسلط کے سامنے اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ بھی اسی طرح اکھڑ گیا جس طرح ان کی طاقت منہدم ہو گئی تھی، کیونکہ اہلِ سنت و الجماعت اجتماعی سطح پر زبردست ابتری کا شکار تھے، اور ان کے اداروں کی کمزوری یا تباہی نے عقیدے سے جڑی ہوئی فکری روایت پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ رہ سکی۔ اگر شیعت کے بالمقابل، سنی عقیدہ اپنے آپ کو برقرار رکھ پاتا تو اس امر کا کوئی امکان ہی نہیں تھا کہ یہاں وہابیت کا ظہور ہوتا۔ مذہب سے جڑے ہوئے عقلی علوم کے خاتمے کا ناگزیر نتیجہ تکفیر کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی حضرات کے مابین جو تکفیر ابھی تک چلی آتی ہے اس کا منبع ہمیں اٹھارھویں صدی میں تلاش کرنا چاہیے۔
یہاں اس امر کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیرؒ نے گولکنڈہ اور بیجا پور کی شیعہ ریاستوں کو فوج کشی کے ذریعے ختم کر دیا تھا حالانکہ وہ مغلوں کی باجگزار تھیں۔ دکن فوج کشی کی مہم کا بنیادی مقصد تو مرہٹہ قوت کو کچلنا تھا لیکن اس میں کوئی بڑی اور مستقل کامیابی نہیں ہوئی۔ دکن کی شیعہ ریاستوں کے خاتمے کے اثرات لامحالہ شیعہ سنی تعلقات پر پڑے اور جو آگے چل کر نمایاں ہوئے۔ مغلیہ سلطنت کا فکری بحران جو مغل اعظم شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد حکومت میں سامنے آیا تھا اس کا انٹرفیس ہندو مسلم تھا، اور ہندو تہذیب ان حالات میں ایسا کوئی بڑا سیاسی تصور سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی جو مغل اعظم کی فرمانروائی کی بنیاد بن سکتا، اور اپنی بنیادی کمزوریوں کی وجہ سے دین الہی ڈھے گیا۔ نور الدین محمد جہانگیرؒ فرمانروائی کو پھر سے شریعت پر منتقل کرنے اور کا شرعی قوانین کا احیا کرنے میں نہ صرف کامیاب رہے بلکہ اپنے سخت گیر سنی موقف کی وجہ سے مغل دربار میں شیعہ تزویرات پر روک لگانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اہلِ تشیع کے شہیدِ ثالث نور اللہ شوستری کے قتل کا واقعہ بھی شہنشاہ جہانگیرؒ کے براہِ راست حکم پر پیش آیا تھا جو مغل اعظم کے زمانے سے بڑے عہدوں پر فائز چلے آتے تھے۔ شہنشاہ جہانگیرؒ کی سخت گیر سنیت کا اسی امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک روایت کے مطابق شہیدِ ثالث نور اللہ شوستری کو سزائے موت اس لیے دی گئی کہ انھوں نے دربار میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تبری کیا تھا۔ مغل دربار کے بالکل قلب میں کئی صدیوں تک جاری رہنے والی شیعہ سنی جدلیات آخرکار بہادر شاہ اول کی صورت میں ظاہر ہوئی جن کا شاہ اسماعیل صفوی بننے کا خواب تو پورا نہیں ہو سکا لیکن گھر کا بھیدی ہونے کی وجہ سے انھوں نے لنکا ضرور ڈھا دیا۔
مولانا شاہ اسماعیل دہلوی نے جس ایمانی بیان کو تقویت دینے کے لیے ”تقویۃ الایمان“ لکھی تھی، اہل تشیع کے تصورِ امامت کے ہاتھوں اس کی کمزوری کے وہ عینی شاہد تھے، اس لیے انھوں نے بھی ایک نئے عقیدۂ امامت میں پناہ ڈھونڈی۔ جس طرح تثلیث اور توحید ایک ساتھ ممکن نہیں، اسی طرح نبوت اور امامت کا عقیدہ بھی ایک ساتھ ممکن نہیں ہے۔ اہلِ سنت و الجماعت کا اہل تشیع سے بنیادی اختلاف عقیدۂ امامت میں ہے اس لیے مولانا شاہ صاحب اپنے عقیدۂ امامت کو مضبوط بنانے کے لیے اہلِ تشیع سے بھی کئی ہاتھ آگے نکل گئے اور حریمِ نبوت ہی کو ڈھا دیا، اور خود ہی ”نبی حکمی“ بن بیٹھے۔ انھوں نے توحید خالص کی طرح امامت کا بھی ایک خالص عقیدہ پیش کیا۔ بریلوی حضرات کئی صدیوں کے بعد بھی ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ مولانا شاہ صاحب کی ”تقویۃ الایمان“ میں عقیدۂ توحید کے حوالے سے کیا مسئلہ ہے کیونکہ انھوں نے ”منصب امامت“ دیکھنے کی کبھی زحمت ہی نہیں کی۔ وہ تو آج تک ”تقویۃ الایمان“ میں درج ایسی عبارتوں پر بجا طور پر احتجاج کر رہے ہیں جو حضور علیہ الصلٰوۃ کی شان اقدس میں یقیناً گستاخی ہیں۔ اگر ہمارے علما ”منصبِ امامت“ کو سمجھ پاتے تو انھیں اندازہ ہوتا کہ مولانا شاہ صاحب تو نبوت ہی کو ڈھا رہے ہیں، اور اس کی جگہ ایک بالکل نیا عقیدۂ امامت رائج کر رہے ہیں تو بھلا انھیں کسی نبی کی شان میں کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ اور دیوبندیوں اور اہل حدیث پر بھی آفرین ہے کہ انھوں نے دو سو سال سے مولانا شاہ صاحب کا جھنڈا اٹھایا ہوا ہے اور اہلِ سنت و الجماعت بھی ہیں۔
اگر کوئی آدمی معمولی سوجھ بوجھ رکھتا ہو اور تھوڑی سی دیانتداری کی جرأت بھی بہم پہنچا سکتا ہو تو وہ خود یہ دیکھ سکتا ہے کہ گزشتہ دو سو سال سے اہلِ سنت و الجماعت عقیدے کے مسئلے پر آپس میں ہی بھڑے ہوئے کبھی نعرہ زن اور کبھی تکفیر زن ہیں۔ یہ جو ”اعلامیے“ جاری ہو رہے ہیں یہ نعرہ زنی ہے، اور تکفیر کا طوفان اس کے پیچھے پیچھے آتا دکھائی دیتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے فرقہ وارانہ صحیح غلط سے ہٹ کر اہلِ سنت و الجماعت کی مجموعی صورت حال کو دیکھنا چاہیے جو حد درجہ ناگفتہ بہ ہے۔ ہمارے علما ذاتیات اور تکفیر سے باہر ہی نہیں آ رہے۔ تکفیر کی گرم بازاری سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ سیاست بازی اور دنیا داری کا ہے، اور اب عقیدے کے معاملات کا عقل، معقولات، علم، فکر، دینی کردار، مسلمانوں کی خیرخواہی، سماجی آشتی، دینداری وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ایک ایسی صورت حال میں جب یہ معلوم ہی نہیں ہو رہا کہ اہل سنت و الجماعت کا درست عقیدہ کیا ہے تو اس میں یہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ سنی عقیدے کا شیعہ اور وہابی عقیدے سے کیا فرق ہے؟
اہلِ سنت و الجماعت عقیدے کو اس وقت چار بڑے چیلنج درپیش ہیں: (۱) وہابیت کے سامنے سنی عقیدے کا بیان جو یہ واضح کر دے کہ یہ دو قطعی الگ الگ عقیدے ہیں۔ وہابیت خارجیتِ سہ آتشہ ہے۔ خوارج کے برعکس، وہابیت توحیدِ تشبیہی کی داعی ہے؛ اپنے نئے عقیدۂ امامت کے ذریعے حریم نبوت پر نقب زن ہے؛ اور ردِ تقلید سے پوری شریعت ہی کو ختم کر کے شرک کو مدارِ عمل بناتی ہے۔ (۲) تشیع کے بالمقابل تواتر سے منتقل ہونے والے اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کو پھر سے سربلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ شیعہ تصورِ امامت اور وہابی تصور امامت کا ایک ساتھ رد کیا جا سکے۔ (۳) اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کو جدید تاریخ سے متعلق رکھنے اور عصر حاضر میں انسان کی ضروریات سے جوڑے رکھنے کے علمی اور فکری وسائل فراہم کرنا ضروری ہے۔ اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب مولوی چراغ علی اور آقائے سرسید سے شروع ہونے والے مذہبی تجدد کو رد کرنے کے فکری وسائل سامنےلائے جائیں۔ (۴) اہلِ سنت و الجماعت کے عقیدے کی ثقاہت کو صرف اسی صورت میں باقی رکھا جا سکتا ہے جب یہ جدیدیت کے پیدا کردہ تہذیبی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے علمی اور فکری وسائل پیدا کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔ بصورت دیگر، تکفیر تکفیر کا کھیل جاری رہے گا یہاں تک کافر و مسلماں ہونے کی کوئی اہمیت ہی باقی نہ رہ جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں اپنے معاملات کو سلجھانے کی فہم و بصیرت عطا فرمائے۔




کمنت کیجے