امام ابوحنیفہ (م 150 ھ) رحمہ اللہ کی جانب ایک رسالہ “العالم و المتعلم” کے نام سے منسوب ہے۔ یہ آپ کے ایک شاگرد ابو مقاتل (متعلم) اور امام صاحب (عالم) کے مابین سوال و جواب پر مشتمل رسالہ ہے جس میں عقائد کے بعض اہم مسائل پر گفتگو ہے۔ اس رسالے پر علامہ ابن فورک اشعری (م 404 ھ) نے شرح بھی لکھی ہے۔ رسالے میں ایمان کی حقیقت سے متعلق جو گفتگو ہے، اس کے بعض حصے علم و ایمان کی نسبت سمجھنے کے لئے اہم ہیں جسے ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں:
قال المتعلم: أخبرني ما الإيمان؟
قال العالم رضي الله عنه: الإيمان هو التصديق والمعرفة واليقين والإقرار والإسلام، والناس في التصديق على ثلاثة منازل، فمنهم من يصدق بالله وبما جاء منه بقلبه ولسانه ومنهم من يصدق بلسانه ويكذب بقلبه ومنهم من يصدق بقلبه ويكذب بلسانه
مفہوم: شاگرد نے کہا: مجھے بتائیے کہ ایمان کیا ہے؟
استاد (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: “ایمان (قلبی) تصدیق، معرفت، یقین، اقرار اور اسلام کا نام ہے۔ اور تصدیق کے اعتبار سے لوگ تین قسم کے ہیں: ایک وہ جو اللہ پر اور جو کچھ اللہ کی طرف سے آیا اس پر اپنے دل اور زبان دونوں سے تصدیق کرتا ہے (اگلے سوال کے جواب میں آپ بتاتے ہیں کہ یہ شخص عند اللہ اور دنیا کے قانون دونوں اعتبار سے ایمان والا ہے)۔ دوسرا وہ ہے جو اپنی زبان سے تصدیق کرتا ہے لیکن اپنے دل سے تکذیب کرتا ہے (یہ صرف دنیا کے قانون میں مسلمان ہے، عند اللہ نہیں)۔ اور تیسرا وہ ہے جو اپنے دل سے تصدیق کرتا ہے لیکن زبان سے انکار کرتا ہے (یہ عند اللہ ایمان والا ہے)۔
غور کیجئے کہ امام صاحب ایمان کو تصدیق و معرفت کہہ رہے ہیں۔ شاگرد ایمان کی حقیقت میں آپ کی جانب سے مذکور ان مختلف الفاظ سے متعلق پوچھتا ہے:
قال المتعلم: أخبرني عما وصفت من التصديق والمعرفة والإقرار والإسلام واليقين ما منزلتهن وتفسيرهن عندك؟.
قال العالم: إن هذه أسماء مختلفة ومعناها واحد هو الإيمان وحده وذلك بأن يقر بأن اللہ ربه ويصدق بأن الله ربه ويتيقن بأن الله ربه ويعرف بأن الله ربه فهذه أسماء مختلفة ومعناها واحد كالرجل يقال له يا إنسان ويا رجل و يا فلان وإنما يعني القائل بها واحدا وقد دعاه بأسماء مختلفة.
مفہوم: شاگرد نے کہا: مجھے بتائیے کہ تصدیق، معرفت، اقرار، اسلام اور یقین کی آپ کے نزدیک کیا منازل و تفسیر ہے؟
استاد نے فرمایا: یہ سب مختلف الفاظ یا نام ہیں لیکن ان کا معنی و مفہوم ایک ہی ہے، اور وہ صرف ایمان ہے۔ اور وہ معنی یہ ہے کہ انسان اقرار کرے کہ اللہ اس کا رب ہے، اس کی تصدیق کرے کہ اللہ اس کا رب ہے، اس پر یقین رکھے کہ اللہ اس کا رب ہے، اور اس کی معرفت رکھے کہ اللہ اس کا رب ہے۔ پس یہ مختلف نام ہیں لیکن ان کا مسمّی اور معنی ایک ہی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کسی مرد کو کبھی ‘اے انسان’، کبھی ‘اے مرد’، یا کبھی ‘اے فلاں’ کہہ کر پکارا جائے، جبکہ پکارنے والا ان مختلف ناموں سے ایک ہی چیز مراد لے رہا ہوتا ہے۔
جی ہاں، معرفت، تصدیق وغیرہ سب کی اصل حقیقت ایک ہی ہے اور وہ ہے ایمان۔ یہاں جو یقین کا لفظ آپ نے استعمال کیا ہے، ایک اور مقام پر آپ نے اس کا معنی یہ بتایا ہے:
وَالْيَقِينُ بِالشَّيْءِ هُوَ الْعِلْمُ بِالشَّيْءِ حَتَّى لَا يَشُكَّ فِيهِ
مفہوم: کسی شے پر یقین اس کا ایسا علم ہے جس میں شک نہ ہو
اس سے واضح ہوا کہ ایمان آپ کے نزدیک علم ہے کہ یہ یقین ہے۔
امام ابوحنیفہ کا مشہور موقف ہے کہ شرعی ایمان نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے، یعنی جن امور کی تصدیق کا نام شرعاً ایمان ہے وہ نہ گھٹتی ہیں اور نہ بڑھتی ہیں بلکہ وہ حقائق فکسڈ ہیں، اس اعتبار سے عام مسلمان کا ایمان و انبیاء و فرشتوں کا ایمان مساوی ہے کہ سب یکساں حقائق کی تصدیق کرنے والے ہیں (ایسا نہیں ہے کہ مثلا نبی علیہ السلام تو دس چیزوں کی تصدیق کے مکلف تھے اور ہم بارہ یا برعکس)۔ چونکہ یہ ایک باریک بات ہے، لہذا سائل پوچھتا ہے:
قال المتعلم: أخبرني من أين ينبغي لنا أن نقول: إن إيماننا مثل إيمان الملائكة والرسل. وقد نعلم أنهم كانوا أطوع لله عز وجل منا
قال العالم رضي الله عنه: قد علمت أنهم كانوا أطوع لله منا وقد حدثتك أن الإيمان غير العمل فإيماننا مثل إيمانهم لأن صدقنا من وحدانية الرب وربوبيته وقدرته وبما جاء من عنده بمثل ما أقرت به الملائكة وصدقت به الأنبياء والرسل فمن هاهنا زعمنا أن إيماننا مثل إيمان الملائكة لأننا آمنا بكل شيء آمنت به الملائكة مما عاينته الملائكة من عجائب آيات الله ولم نعاينه نحن
مفہوم: شاگرد نے کہا: مجھے یہ بتائیے کہ ہم یہ کہنے میں کیسے حق بجانب ہیں کہ ‘ہمارا ایمان فرشتوں اور رسولوں کے ایمان جیسا ہے’، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ اللہ عزوجل کے ہم سے کہیں زیادہ اطاعت گزار تھے؟
استاد (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ ہم سے کہیں زیادہ اللہ کے اطاعت گزار تھے۔ لیکن میں تمہیں پہلے بتا چکا ہوں کہ ایمان عمل سے ایک زائد حقیقت ہے (نہ کہ اس کے ہم معنی)۔ پس ہمارا ایمان ان کے ایمان جیسا اس لیے ہے کیونکہ پروردگار کی وحدانیت، اس کی ربوبیت، اس کی قدرت اور جو کچھ اس کی طرف سے نازل ہوا اس کی سچائی کے بارے میں ہماری تصدیق اور اقرار ویسا ہے جیسا کہ فرشتوں نے اقرار کیا اور انبیاء و رسل نے تصدیق کی۔ پس اسی بنیاد پر ہمارا یہ موقف ہے کہ ہمارا ایمان فرشتوں کے ایمان جیسا ہے کیونکہ ہم ان تمام حقائق پر ایمان لائے جن پر فرشتے ایمان لائے، اگرچہ فرشتوں نے اللہ کے عجائب و نشانیوں کا مشاہدہ کیا اور ہم نے ان کا مشاہدہ نہیں کیا۔
یہاں نوٹ کرنے کی بات امام صاحب کا یہ باریک استدلال ہے کہ ایمان کی اصل حقیقت جب تصدیق، معرفت اور غیر متزلزل یقین یا علم ہے، تو بطور علم و معرفت و تصدیق اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ معرفت دیکھنے سے ھوئی یا خبر سے اور یا نظر سے۔ یعنی چونکہ خبرِ صادق کے ذریعے حاصل ہونے والا علم اسی معلوم سے متعلق ہے جس کا فرشتوں نے مثلاً مشاہدہ کیا، اس لیے دونوں کے لئے علم اور تصدیق ایک ہی ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لئے قابل غور ہے جو حواس سے حاصل ادراکی حال کو علم لیکن نبی کی خبر سے حاصل ادراکی حال کو علم کے بجائے ایمان قرار دیتے ہیں اور یا ایمان کس ماورائے علم بیک گراؤنڈ مفروضے وغیرہ کا نام رکھتے ہیں۔




کمنت کیجے