Home » کیا ظلم جہاد کو لازم کرتا ہے؟ علماء کے اعلان کی شرعی حیثیت
سیاست واقتصاد • شخصیات وافکار • فقہ وقانون

کیا ظلم جہاد کو لازم کرتا ہے؟ علماء کے اعلان کی شرعی حیثیت

اسلامی شریعت میں کسی حکم کی فرضیت تین اصولی تقاضوں پر قائم ہوتی ہے: سبب کا ظہور، شرط کا تحقق اور مانع کا ازالہ۔ کوئی ہدایت اُسی وقت لازم قرار پاتی ہے، جب اُس کا حقیقی سبب سامنے آ جائے،عمل کے لیے مطلوبہ استطاعت میسر ہو اور راستے کی رکاوٹیں دور کر دی گئی ہوں۔
یہ اصول نہ کسی فقہی اصطلاح کی اختراع ہے، نہ اجتہادی قیاسات کا نتیجہ، بلکہ انسانی عقل و فطرت کا وہ بدیہی مطالبہ ہے، جس پر دین کا پورا عملی نظام استوار ہے۔ شریعت نے اپنے احکام کی ترتیب میں اِسی فطری حقیقت کو بنیاد بنایا ہے اور فقہ اسلامی نے دینی احکام کی نوعیت اِسی عقلی اصول کی روشنی میں مرتب کی ہے۔
عقل جب کسی حکم کا تجزیہ کرتی ہے تو فطری طور پر تین بنیادی سوالات اٹھاتی ہے: کیا اِس مطالبے کے پس منظر میں کوئی معقول سبب موجود ہے؟کیا اُس پر عمل کرنا عملی طور پر ممکن ہے؟اور کیا کوئی ایسی رکاوٹ حائل ہے، جو عمل کے امکان کو معدوم کر دے؟اِنھی بنیادوں پر انسان کسی دینی یا اخلاقی مطالبے کی معقولیت یا عدم معقولیت کا فیصلہ کرتا ہے اور اپنی ذمہ داری کے دائرے کا تعین کرتا ہے۔ یہی فطری ترتیب ہے، جس پر انسانی ذمہ داری کی اساس استوار ہے۔
اسلامی شریعت نے انسانی عقل کی اِسی فطری ترتیب کو اپنے احکام کی بنیاد بنایا ہے۔کوئی دینی فریضہ حقیقت کے ظہور کے بغیر لازم قرار نہیں دیا گیا، نہ استطاعت کی عدم موجودگی میں عمل لازم ٹھیرایا گیا ہے اور نہ مانع کے باقی رہنے کی حالت میں ذمہ داری برقرار رکھی گئی ہے۔ دین جب انسانی شعور سے خطاب کرتا ہے تو اِسی فطری منہاج کی رعایت سے کرتا ہے، یعنی اپنی ہر دعوت اور ہر تقاضے کو انسانی عقل کی ساخت کے مطابق ترتیب دیتا ہے۔
چنانچہ جب دین کسی چیز کا حکم صادر کرتا ہے تو یا اُس کے پس منظر میں سبب کو صراحت کے ساتھ بیان کر دیتا ہے یا خود حکم کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ اُس سے علت بدیہی طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔اِسی طرح ہر دینی مطالبے میں عمل کی استطاعت اور خارجی موانع کا لحاظ بھی اصولی طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ کوئی ذمہ داری انسانی طاقت اور عملی امکان کے حدود سے باہر نہ ہو۔
اِن اصولوں کی عملی تطبیق جہاد و قتال کے باب میں پوری وضاحت کے ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔
پہلی چیز مشروعیت کا بنیادی سبب ہے۔
جہاد و قتال کے معاملے میں یہ سبب ظلم و زیادتی کا ظہور ہے؛ مطلوبہ قوت، وسائل اور اجتماعی قیادت کی دستیابی اِس کے وجوب کے لیے لازم شرط ہے؛ اور فساد یا یقینی ناکامی کا اندیشہ ایسا مانع ہے،جو اِس فرضیت کو ساقط کر دیتا ہے۔ اِسی لیے جہاد کا وجوب اِن تمام تقاضوں کے پورے ہونے پر موقوف ہے۔محض ظلم اور عدوان کا واقعہ بہ ذاتِ خود قتال کو لازم نہیں کرتا، جب تک کہ عمل کی صلاحیت میسر نہ ہو اور راہ کی رکاوٹیں دور نہ کر دی گئی ہوں۔
فقہ اسلامی کے جلیل القدر عالم امام شاطبی رحمہ اللہ نے اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:

فإن الشارع لم يجعلها أسبابًا مقتضية إلا مع وجود شرائطها وانتفاء موانعها، فإذا لم تتوفر لم يستكمل السبب أن يكون سببًا شرعيًا.(الموافقات 1/345)
”شارع نے اِن چیزوں کو موثر اسباب صرف اُسی وقت بنایا ہے، جب اِن کی شرطیں موجود ہوں اور موانع ختم ہوں۔ پس جب یہ امور پورے نہ ہوں تو سبب اِس حد تک مکمل نہیں ہوتا کہ وہ شرعی سبب بن سکے۔“

دوسری چیز استطاعت ہے۔
اِسی اصولی ترتیب کی روشنی میں قرآنِ مجید جہاد و قتال کے معاملے میں بھی مطلوبہ استطاعت پر بار بار زور دیتا ہے۔ بدر کے موقع پر مومنین کو قتال پر ابھارتے ہوئے فرمایا:

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا.
(الانفال8: 65)
”اے پیغمبر، اِن مومنوں کو (اُس) جنگ پر ابھارو (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے)۔ اگر تمھارے لوگوں میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے سو ہوں گے تو ہزار منکروں پر بھاری رہیں گے۔“

تاہم، جب مسلمانوں کی عملی قوت کو مدِنظر رکھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کا اعلان فرمایا:

اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنۡکُمۡ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمۡ ضَعۡفًا ؕ فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ اَلۡفٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَیۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ .
(الانفال8: 66)
”اِس وقت، البتہ اللہ نے تمھارا بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اِس لیے کہ اُس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کم زوری ہے۔ سو تمھارے سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تمھارے ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر بھاری رہیں گے۔“

تیسری چیز موانع ہیں۔
یہی اصول جہاد و قتال کے نتائج پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر قتال کے نتیجے میں فساد کا غلبہ یا یقینی ناکامی کا اندیشہ ہو تو یہ مانع قرار پاتا ہے اور اِس صورت میں جہاد و قتال کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کیا ہے:

فإن الأمر والنهي وإن كان متضمنًا لتحصيل مصلحة ودفع مفسدة، فينظر في المعارض له.
(مجموع الفتاوى28 / 129)
”بے شک امر (حکم) اور نہی (ممانعت) اگرچہ کسی مصلحت کے حصول اور کسی مفسدہ کے ازالے کو متضمن ہوتے ہیں، لیکن ان کے مقابل میں موجود معارض (مخالف یا مزاحم امر) کو بھی دیکھا جاتا ہے ۔“

اِسی اصول کو قرآنِ مجید نے عمومی ضابطے کے طور پر یوں بیان فرمایا ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا.
(البقرہ 2: 286)
”اللہکسیپراُسکیطاقتسےزیادہبوجھنہیںڈالتا۔“

اور قتال کی تیاری کے باب میں واضح ہدایت دی گئی ہے:

وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ.(الانفال8: 60)
” تم لوگوں سے جس قدر ہو سکے، اِن کے لیے فوج اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھو۔“

مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں جب اہل ایمان ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے، تب بھی قتال کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ اُنھیں صبر اور نماز پر استقامت کی تلقین کی گئی:

کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ.
(النساء4: 77)
”اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز کا اہتمام کرو۔“

بعض لوگ نماز میں تیمم کی رعایت سے یہ قیاس کرتے ہیں کہ جس طرح پانی نہ ہونے پر نماز ساقط نہیں ہوتی، اُسی طرح استطاعت نہ ہونے کے باوجود قتال بھی فرض رہتا ہے،لیکن یہ قیاس محل نظر ہے۔ نماز ایک انفرادی عبادت ہے، جس میں پانی کی عدم موجودگی پر تیمم کا بدل مقرر ہے، جب کہ قتال ایک اجتماعی فریضہ ہے، جو امت کی مجموعی طاقت پر موقوف ہے۔اگر استطاعت اور قوت موجود نہ ہو تو قتال کی فرضیت عملاً معلق ہو جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے ایسی حالت میں اہل ایمان کو صبر، ہجرت اور صلح کا راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی اور دشمن کے مقابلے میں قوت کی تیاری پر زور دیا تاکہ جب مطلوبہ استطاعت حاصل ہو تو جہاد و قتال کی ذمہ داری ادا کی جا سکے۔چنانچہ قتال کا فیصلہ کسی فرد یا گروہ کے سپرد نہیں کیا گیا، بلکہ اُسے اجتماعی قیادت اور ریاست کے اختیار میں رکھا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ.
(النساء4: 59)
”ایمان والو، (یہ خدا کی بادشاہی ہے، اِس میں) اللہ کی اطاعت کرو اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو اور اُن کی بھی جو تم میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے جائیں۔“

مزید فرمایاہے:

وَ اِذَا جَآءَہُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَوۡفِ اَذَاعُوۡا بِہٖ ؕ وَ لَوۡ رَدُّوۡہُ اِلَی الرَّسُوۡلِ وَ اِلٰۤی اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡہُمۡ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنۡہُمۡ .(النساء4 : 83)
” اِنھیں جب امن یا خطرے کی کوئی بات پہنچتی ہے تو یہ اُسے پھیلا دیتے ہیں، دراں حالیکہ اگر یہ اللہ کے رسول اور اُن لوگوں کے سامنے اُسے پیش کرتے جو اُن میں سے معاملات کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں تو جو لوگ اُن میں سے بات کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ اُس کو سمجھ لیتے۔“

یہ آیات اِس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ قتال جیسے نازک معاملات میں اقدام کا اختیار صرف اہل حل و عقد کو حاصل ہونا چاہیے تاکہ فیصلے حکمت، تدبر اور اجتماعی مصلحت کی بنیاد پر کیے جائیں۔
اِسی اصول پر شریعت نے قتال کے وجوب کو بھی سخت شرائط کے ساتھ مشروط کیا ہے۔ ظلم اور زیادتی اگرچہ جہاد کی غایت کا بیان اور مشروعیت کا بنیادی سبب ہیں، لیکن قتال کا وجوب محض سبب کے ظہور پر موقوف نہیں رکھا گیا۔ اِس کے لیے مطلوبہ استطاعت کا تحقق، موانع کا ازالہ،حالات کی رعایت اور غالب مصلحت کی موجودگی کو ناگزیر شرائط قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا جہاد کا حکم فرد کو نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو مخاطب کرتا ہے اور آج کے دور میں معاشرہ اجتماعی نظم ریاست کی صورت میں منظم ہو چکا ہے۔ اِس بنا پر قتال کا فیصلہ بھی کسی فرد یا گروہ کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا گیا، بلکہ اُسے اجتماعی قیادت اور ریاستی نظم کے اختیار میں رکھا گیا ہے۔ چنانچہ استطاعت کی تعیین اور اقدام کے فیصلے کا اختیار بھی اُنھی کے پاس ہے۔
شریعت نے یہ اہتمام اِس لیے کیا ہے کہ امت انتشار اور ہلاکت سے محفوظ رہے اور دین کا عملی نظام حکمت، عدل اور توازن پر استوار ہو۔
اِس طے شدہ نظم کے برخلاف، علما کی طرف سے انفرادی راے یا محض فتوے کی بنیاد پر جہاد کی فرضیت کا اعلان نہ صرف شریعت کے مقرر کردہ ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ دینی معاملات میں ایسا غیر شرعی اقدام ہے، جو امت کو مزید افتراق اور فساد کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

محمد حسن الیاس

محمد حسن الیاس علوم اسلامیہ کے ایک فاضل محقق ہیں۔انھوں نے درس نظامی کی روائتی تعلیم کے ساتھ جامعۃ المدینۃ العالمیۃ سے عربی ادب کی اختصاصی تعلیم حاصل کی۔معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کے شاگرد اور علمی معاون ہونے کے ساتھ ان کے ادارے میں تحقیقی شعبے کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہیں۔

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں