یاد رہے کہ غور/سوچ/خوض (thinking)، تدبر (reflection)، اٹکل آرائی (speculation) اور یافتائگی (receptivity) نظری عقل کے ہی طور (modes) ہیں۔ ان میں سے خوض معروف (active) جبکہ تدبر مجہول (passive) ہے۔ اور اٹکل آرائی (speculation) فاعلی ہے اور یافتائگی (receptivity) مفعولی ہے۔ ان میں سے اول الذکر دو طور (modes) نظری عقل کی ایسی فعلیت کو ظاہر کرتے ہیں جو مکمل طور پر منطق میں رہتے ہوئے سامنے آتی ہے اور جب وہ شے کے روبرو ہوتی ہے، اور تشکیلِ علم کی حرکت پذیری میں ہوتی ہے۔ نظری عقل کے یہ دو طور (modes) نظری علم کی حدود کو متعین کرتے ہیں۔ ریاضیاتی منطق میں اب صرف یہی دو طور (modes) باقی ہیں کیونکہ وہ نظری عقل کے وہبی اقتضآت (innate needs) کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھتی۔ لسانی منطق میں نظری عقل کے وہبی اقتضآت کی گنجائش نہ صرف موجود ہوتی ہے بلکہ وہ وہبی اقتضآت (innate needs) کے جبر میں اس کے مظاہر بھی سامنے لاتی ہے۔ نظری عقل کا اپنے وہبی اقتضآت کا ادراک بھی مکمل طور پر جبری ہے۔ اس جبر سے آزاد ہونے کی حرکت پذیری میں نظری عقل پر منطق اور استدلال کی نارسائی مکمل طور پر عیاں ہو جاتی ہے کیونکہ منطق اور استدلال اس کے کسی بھی وہبی اقتضا کو پورا نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں نظری عقل خود اپنے بنائے ہوئے منطق اور استدلال کے جال کو توڑ کر، فطرتی طور پر ان سے ماورا (transcend) جانے کی کوشش کرتی ہے۔ یہاں ماورا (transcend) کوئی زمانی مکانی پرتوئیں نہیں رکھتا، یہ صرف وجودی ہے۔ اپنے وہبی اقتضآت کے جبر میں منطق اور استدلال سے ورا نظری عقل کی یہ حرکت پذیری اٹکل آرائی (speculation) اور یافتائگی (receptivity) کے طور (modes) اختیار کرتی ہے۔ داخلی اقتضا کے جبر میں نظری عقل کی ”مطلوب لیکن مزعومہ اور مفروضہ حققیت مطلقہ“ کے لیے حرکت پذیری اٹکل آرائی (speculation) میں ظاہر ہوتی ہے اور اس کی ”سمت“ خارج از شہود ہے، اور یہ ہمیشہ کسی مابعدالطبیعات (metaphysics) کی تشکیل پر ختم ہوتی ہے۔ یعنی نظری عقل اپنی ”مزعومہ اور مفروضہ حقیقت“ کے لیے ایک ایسے ”کہیں“ کی طرف لپکتی ہے جو خود اس کے لیے قطعی نامعلوم ہے۔ داخلی اقتضا کے جبر میں نظری عقل کی ”مطلوب لیکن مزعومہ اور مفروضہ حققیت مطلقہ“ کے لیے دوسری حرکت پذیری یافتائگی (receptivity) کے طور (mode) میں ظاہر ہوتی ہے اور اس کی سمت داخلِ شہود ہے، اور یہ حرکت پذیری کسی وجودیات (ontology) کی تشکیل کرتی ہے۔ یافتائگی (receptivity) وجودِ شہود کے ”روبرو“ نظری عقل کا مراقبہ ہے۔ اگر ہم نظری عقل کے اپنے تناظر سے باہر کھڑے ہو کر دیکھیں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ نظری عقل کی خود تشکیل کردہ ہر، ہر مابعدالطبیعات اور ہر، ہر وجودیات شرک ہی ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسے بدنصیب زمانے میں جب ”اہل توحید“ نظری عقل کو مطلق طلاق دے چکے، ہرمینیاتی عقل کو جدیدیت کے سپرد کر چکے اور وہابیت کی آڑ میں توحید ہی کو اثباتیاتی (positivistic) اور تشبیہی (immanantist) بنا چکے وہاں بھلا ان کو اس توحید کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے جو ہمارے آقا و مولا حضور علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ہمیں تعلیم فرمائی ہے۔
آخر میں ایک گزارش کرنا ضروری ہے کہ انسان کو ودیعت کردہ نظری عقل اور ارادے کی خلقت میں ایک چیز مشترک ہے، اور وہ تجاوز (excess) ہے۔ نظری عقل اور ارادے کی اس خلقی ماہیت کے درست ادراک کے بغیر تکلیف (obligation) اور انسان کا مکلف ہونا کبھی مفہوم نہیں ہو سکتا۔ نظری عقل کا تجاوز اسے مابعدالطبیعات اور وجودیات کی طرف لے جاتا ہے جو شرک اور ظلم عظیم ہے جبکہ انفرادی اور سیاسی ارادے کا تجاوز اسے عصیان، جبر اور استحصال کی راہ دکھاتا ہے اور جو صریح ظلم ہے۔ نظری عقل کو خود اس کی خلقی لگام جو کہ تشبیہ اور تنزیہ کا تحدیدی تصور ہے دینے کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ انفرادی اور سیاسی ارادے کی بحالی شرعی اقدار سے ہی ممکن ہے۔




کمنت کیجے