Home » علم کلام اور فلسفے کا فرق؟
اسلامی فکری روایت فلسفہ کلام

علم کلام اور فلسفے کا فرق؟

علم کلام کے بارے میں پھیلائے گئے پراپیگنڈے میں سے ایک یہ ہے کہ متکلمین کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں جبکہ فلسفی عقلی کاوش سے حقیقت کی آزادانہ دریافت میں ہوتا ہے۔ اس قسم کے دلائل بعض مستشرقین مثلا رچرڈ مائیکل فرینک کے ہاں بھی مل جاتے ہیں  اور مسلم مفکرین بھی کلام و فلسفے میں فرق کے اس منہج کو اختیار کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ علم کلام وحی کے تابع کی جانے والی عقلی ایکسرسائز ہے جبکہ فلسفہ ایک آزادانہ عقلی استدلال پر حقائق کی جانچ ہے۔ دراصل یہ ایک پرانا پراپیگنڈہ ہے جو مسلم فلاسفہ بھی متکلمین کے خلاف کرتے آئے ہیں۔ اس پراپیگنڈے کے ذریعے متکلمین کے بارے میں یہ تاثر قائم کیا جاتا ہے کہ ان کا عقلی منہج ایک جعلی ڈسکورس ہےجہاں نتائج پہلے سے طے ہوتے ہیں اور پھر ان کے دفاع کے لئے دلائل وضع کرلئے جاتے ہیں۔

تاہم بعینہ یہی بات دنیا کے ہر بڑے سے بڑے فلسفی کے نتائج کو دیکھ کر اس کے بارے میں کہی جاسکتی ہے کہ اس نے فلاں فلاں نتیجے کے لئے اپنے فلسفے کی عمارت کھڑی کی۔ بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ دیکھو متکلم عقلی ایکٹیویٹی سے خدا اور نبی کی تصدیق سے دستبردار نہیں ہوتا، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ آخر کسی نتیجے سے دستبردار نہ ہونا اس نتیجے کے عقلی دلیل پر مبنی نہ ہونے کی دلیل کیسے ہوگئی!یہ بھی محض غلط فہمی ہے کہ متکلمین کے ہاں نتائج گویا فکسڈ ہوتے ہیں اس لئے یہ ایک جیسا نظام فکر قبول کرتے ہیں جبکہ معاملہ یہ ہے کہ جس گروہ کا نام متکلمین ہے ان کے ہاں بھی انٹالوجیکل، علمیاتی و اخلاقی مسائل میں متعدد مناہج پائے جاتے ہیں، ایک ہی نتیجے کے لئے ان کے ہاں متعدد دلائل ہوتے ہیں اور کبھی متعدد دلائل کے متعدد نتائج ہوتے ہیں (ذیل میں اس کی مثالیں آرہی ہیں)۔ ہر فلسفی کہلایا جانے والا شخص بعض حقائق و نتائج کو تھیورائز ہی کررہا ہوتا ہے، یعنی وہ استدلال کے عمل میں حقائق کو ایسی علمیاتی ترتیب میں پروتا ہے کہ وہ حقائق گویا ان منطقی طور پر ماقبل مقدمات کی ترتیب کا نتیجہ ہیں۔ تمام حقائق سے ذہن کو یکسر ازاد و خالی کرکے اس نکتے سے تحقیق کا آغاز کرنا جو استدلال میں مقدمات کی ترتیب کی ابتدا پر واقع ہے، یہ بس ایک نرا فرضی خیال ہے اور کوئی بھی فلسفیانہ نظام اس طرح مرتب نہیں ہوتا۔ یعنی ہر فلسفی یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہ جو بعض حقائق کا حقیقت ہونا طے ہوا ہے، یہ بعض ماقبل و مابعد حقائق سے مربوط ہیں۔

متکلم بھی یہی کرتا ہے۔ متکلمین کا یہ کہنا نہیں ہے کہ حقائق کے ادراک کی ترتیب میں سب سے مقدم و سب سے قطعی دلیل لفظی (یعنی نبی کی خبر) سے حاصل ہونے والے علمی قضایا ہیں جن سب کو پہلے سچ فرض کرکے پھر عقلی استدلال آگے بڑھتا ہے۔ متکلم کا کہنا یہ ہے کہ “جس شخص تک اس شخص کی خبر پہنچی جس نے کہا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے جس سے خدا نے کلام کرتے ہوئے اپنے بندوں کو احکام کا مکلف بنایا ہے کہ جس نے اس شخص کا کہنا نہ مانا وہ ابدی زندگی کے عقاب کے خطرے سے دوچار ہے”، کیا اس مدعی کا یہ دعوی نبوت حقیقت و سچائی ہے؟ اس کے دعوے کی سچائی کی تحقیق کرنا خود میری طبعیت کے عین مطابق ہے اس لئے کہ میں الم و اذیت کو پسند نہیں کرتا۔ حقائق کا مطالعہ و تحقیق اسے یہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شخص واقعی اپنے اس دعوے میں سچا ہے۔ یعنی متکلم یہ کہہ رہا ہے کہ ہر حقیقت پسند و عقلمند شخص کے سامنے ایسے دلائل موجود ہیں جن کی رو سے اس پر اس شخص کی تصدیق واجب ہے اور یہی حقیقت ہر اس انسان کو مکلف بناتی ہے جس تک اس شخص کی خبر پہنچ گئی، نیز میرا اس شخص کے دعوے کی تصدیق کرنا ان حقائق کی بنا پر جسٹیفائیڈ و علمی دعوی ہے۔ چنانچہ وہ ماقبل علمی حقائق جن کے صدق پر اس شخص کے دعوے کی تصدیق موقوف ہے یا جو اس کی تصدیق میں مضمر ہیں، متکلم کے ان مطالعاتی حاصلات پر یہ لیبل چسپاں کردینا کہ “یہ آزادانہ غور و فکر نہیں یہ تو محض اپنے عقیدے کو سچ فرض کرکے اس کی دلیل کھڑی کرنا ہے یا وحی کو پہلے سے سچ فرض کرکے عقل کو اس کے تحت استعمال کرنا ہے”، یہ کوئی علمی تجزیہ نہیں بلکہ تعصب ہے۔ اسلام کی آفاقیت اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کا صدق ایسے آفاقی حقائق پر مبنی ہو جو غیر مسلم کے لئے بھی اسے قبول کرنے کا حوالہ بن سکیں، علم کلام اسی حقیقت کی جستجو و بیان ہے۔

کلام و فلسفے میں فرق کرنے کی خاطر کلام کو مذہب و وحی کے تابع اور فلسفے کو آزادانہ عقلی و ٹروتھ سیکنگ ایکٹیویٹی قرار دینے کے لئے جو دلائل وضع کئے جاتے ہیں، ان میں اس بات میں امتیاز نہیں کیا جاتا کہ انسان کن امور سے بحث کا آغاز کررہا ہے (یعنی وہ کیا ثابت کرنا چاہتا ہے) اور اس کے حق میں کیا شواہد و دلائل پیش کیے جارہے ہیں۔ کسی چیز کے علم ہونے میں صرف وہی مفروضات مسئلہ یا ڈاگماٹک بنتے ہیں جو بغیر توجیہ کے بطور دلیل استعمال کیے جائیں۔ سب انسانی علمی سرگرمیاں مقصدیت و ایجنڈہ رکھتی ہیں۔ کسی تحقیق کا ایجنڈہ کیا ہے یہ ایک نارمیٹو سوال ہے، لیکن اس کے حق میں دی جانے والی دلیل درست ہے یا نہیں یہ علمیاتی (epistemic) سوال ہے۔ چنانچہ صرف کسی تحقیقاتی ایجنڈے کا تعین ہونا اس بات پر اثر انداز نہیں ہوتا کہ تحقیقات شواہد کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے علمی انداز میں کی گئی یا نہیں نیز اسے فلسفہ کہنا ہے یا نہیں۔ پس اگر کوئی فلسفی متکلم سے کہے کہ “تم نے عالم کے حادث ہونے پر دلیل صرف اس لیے دی کیونکہ تمہارے مذہب نے تمہیں ایسا کرنے کا حکم دیا”، تو متکلم اس مغالطے پر کندھے اچک کر یہ کہہ سکتا ہے: “ٹھیک ہے، اب یہ دکھاؤ کہ دلیل میں خرابی کہاں ہے۔” اگر متکلم کے دلائل واقعی قوی ہوں تو صرف یہ کہہ دینا کہ “تمہارا ابتدا ہی سے یہ مقصد تھا”، ناقد کو کوئی علمی فائدہ نہیں دیتا اور نہ ہی اس کا اس کام کی فلسفیانہ خوبی یا خامی سے کوئی تعلق ہے۔ اس کے برعکس اصل مسئلہ ان لوگوں کے ہاں ہے جو صدیوں پر محیط ایک حقیقی فلسفیانہ اور علمی کام کی قدر گھٹانے کے لئے صرف اس چیز کو حوالہ بنا لیتے ہیں کہ اس کے عاملین مسلمان تھے، اور اسی لئے ایسے لوگوں کی ان باتوں کو ہم پراپیگنڈہ سمجھتے ہیں۔

فلسفہ و کلام میں فرق کرنے کا یہ درج بالا فریم ورک اس بات کی مناسب وضاحت بھی نہیں کرتا کہ متکلمین فی الحقیقت کیا و کیوں کرتے رہے ہیں۔ یہاں چند مثالوں سے بات سمجھنا آسان ہوگا۔

اول: وحی سے انہیں کیا عقیدہ ثابت کرنا ہے یا کیا عقیدہ ثابت ہوتا ہے، متکلمین کا اس میں اختلاف ہوتا ہے اور ایسے کئی اختلافات فلسفیانہ اور لسانی اختلافات پر مبنی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر رویت باری اہل سنت اور معتزلہ کے مابین متنازع مسئلہ ہے۔ معتزلہ نے یہ طے کیا کہ چونکہ خدا کی رویت محال ہے اس لیے نصوص کی ایسی تاویل کی جائے جو اس عقلی اصول سے ہم آہنگ ہو، جبکہ اشاعرہ و ماتریدیہ اسے ممکن سمجھتے ہیں اس لیے وہ نصوص کی تفسیر اسی کے مطابق کرتے ہیں۔ اسی طرح صفات خبریہ پر مشتمل نصوص کی توجیہ پر ماتریدیہ و اشاعرہ کا بعض حنابلہ و شیخ ابن تیمیہ سے اختلاف ہے۔ چنانچہ کلام و فلسفے کا درج بالا فرق ان اختلافات کی وضاحت نہیں کرسکتا اس لئے کہ اس سے یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہر گروہ نے وہ مخصوص موقف آخر کیوں اختیار کیا جبکہ مفروضہ یہ ہو کہ متکلم کی عقلی ایکٹیویٹی وحی کے تابع ہوتی ہے۔

دوم: اتنا ہی نہیں بلکہ جب کسی عقیدے پر فریقین کے مابین اتفاق ہو، جیسے عالم کا حادث ہونا، وہاں بھی اس بات پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ حادث اشیاء کو علت کی حاجت کیوں ہے۔ چنانچہ اگر متکلمین کا مقصد پہلے سے طے شدہ عقیدے کے لئے نمائشی عقلی دلائل وضع کرنا ہوتا تو ان میں یہ اختلاف کیوں رہا کہ حادث کو علت کی حاجت اس کے حدوث کی وجہ سے ہے یا اس کے مرکب ہونے کی وجہ سے؟ آخر ان میں یہ اختلاف کیوں ہوا کہ ماہیت و وجود ایک ہیں یا جدا؟ ماہیات جعل جاعل سے ہیں یا نہیں؟ اگر ماہیت و وجود جدا ہیں تو وجود لاحق ہونے سے قبل کیا ماہیات لاموجود و لامعدوم کی حالت میں ثبوت رکھتی ہیں یا نہیں؟ معدوم شے ہوتا ہے یا نہیں؟ کیا وجود صرف خارجی ہے یا ذھنی بھی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ امام اشعری نے “مقالات الاسلامیین” میں لکھا ہے کہ متکلمین جسم کی حقیقت کے بارے میں درجن بھر مختلف آراء رکھتے تھے۔ کیا ان سب تنوعات کی یہ کہہ کر توجیہ کی جاسکتی ہے کہ “یہ ان کے مذہبی عقائد کی وجہ سے ہے”؟ الغرض ایسی توضیح سطحی و غلط ہونے کے ساتھ ساتھ ترتیب توضیح کو بھی الٹ دیتی ہے۔ حقیقت یہ نہیں کہ متکلمین نے دلائل اس لیے قائم کیے کہ وہ مسلمان تھے، بلکہ وہ اس لیے مسلمان ہیں کہ انہوں نے ان دلائل کو درست پایا ( جن دلائل کی یہاں بات ہورہی ہے یہ وہ امور ہیں جو “محمد (صلی الله علیه وسلم)  اللہ کے نبی ہیں” کی تصدیق میں مضمر ہیں یعنی ان کی سچائی اس قضئے کی سچائی کو لازما مستلزم و متضمن (implied) ہے، چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص “محمد (صلی الله علیه وسلم)  اللہ کے نبی ہیں” کی تو شعوری طور پر تصدیق کررہا ہو مگر یہ کہے کہ میں ان ماقبل علمی قضایا کو نہیں مانتا یا یہ غیر متعلق ہیں  یا انہیں محمد(صلی الله علیه وسلم)   کی خبر کی وجہ سے درست مانتا ہوں وغیرہ، مثلاً ایسی بات کوئی عقلمند شخص نہیں کہہ سکتا ہےکہ میں محمد (صلی الله علیه وسلم)   کو تو خدا کا پیغمبر مانتا ہوں مگر میں خدا کے وجود کا ان کی خبر کی وجہ سے قائل ہوں)۔

پھر فلسفہ و کلام کو جدا کرنے والی اس منطق کو اگر نحو اور لسانیات جیسے روایتی علوم پر لاگو کیا جائے تو سیبویہ کو بھی ایک ماہر لسانیات کے بجائے ایک الہیات دان قرار دینا چاہئے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا حالانکہ عربی زبان کے مطالعے کا پورا علمی منصوبہ علوم تفسیر، فقہ، اصول فقہ، کلام اور حدیث کی خدمت کے لیے تھا۔ تو کیا اس بنا پر یہ ایک معروضی علمی سرگرمی نہیں رہتی اور اسے لسانیات سے خارج کرکے الہیات کا نام دے دینا چاہیے اور ماہر لسانیات کا لقب صرف ان لوگوں کے لئے رکھ چھوڑنا چاہئے جو کسی غیر مذہبی منصوبے کے تحت لسانیات پر کام کرتے ہیں؟ اور اگر کوئی شخص آگے بڑھ کر ایسا دعوی کردے، تو پھر یہی مسئلہ اس بات کی توضیح میں بھی پیش آئے گا کہ آخر بصری اور کوفی نحویوں نے سو سے زائد مسائل میں اختلاف کیوں کیا؟ اب اگر کوئی کہتا ہے کہ اس کے نزدیک فلسفہ اسی عقلی ایکٹیویٹی کا نام ہے جو غیر مذھبی ہو تو یہ محض اصطلاح سازی ہے۔

الغرض یہ کوئی بامعنی تقسیم نہیں ہے کہ کلام وحی کو ماقبل طور پر بالادست فرض کرکے کی جانے والی عقلی ایکٹیویٹی ہے جبکہ فلسفہ مجرد عقلی ایکٹیویٹی ہے۔ انسان جس چیز کو حقیقت کہتا ہے اس کی بنیاد و دلائل کی کھوج لگاتا ہے، اس کھوج میں عقلی استدلال بھی کارفرما ہوتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مقدمات کو فلسفہ کہہ دیا جاتا ہے۔ یوں ھندو فلاسفی، عیسائی فلاسفی، مسلم فلاسفی، سیکولر فلاسفی، الحادی فلاسفی وغیرہ وغیرہ جنم لیتی ہیں۔ چنانچہ کلام کو مسلم فلاسفی کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اسے اسلامی الہیات یا صرف  کہنے میں بھی حرج نہیں، یہ محض نام ہیں۔

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں