علم و خیال میں فرق کے لئے کیا کانٹین فریم ورک قبول کرنا ضروری ہے، اس پر کبھی الگ سے تبصرہ کریں گے۔ سردست یہ نوٹ کیجئے کہ ہمیں ایک ایسے مفکر کے خیالات کا پابند بننے کا سبق دیا جارہا ہے:
– جو ایک طرف یہ کہتا ہے کہ ہم اشیاء فی نفسہ (things in themselves) نہیں جان سکتے، ہم صرف ان کے مظاہر (phenomena) کو جان سکتے ہیں، اس لئے روایتی مابعد الطبعیات (metaphysics) غلط ہے۔
– لیکن اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ذہن بذاتِ خود کیسے کام کرتا ہے، اور یہ دراصل اس کی نئی مابعد الطبعیات ہے: یعنی ذہن کی کیٹیگریز (categories of the mind) کی تحقیق۔
– لیکن ظاہر ہے یہ دوسری بات پہلے دعوے سے متناقض ہے، اس لئے کہ دوسری بات کے مطابق ہم کم از کم ایک چیز کو فی نفسہ جان سکتے ہیں اور وہ ہے ذہن۔ کانٹ دراصل یہاں ایک ایسی بات بیان کر رہا ہے جو فی نفسہ ایک حقیقت کے بارے میں ہی دعوی ہے: یعنی یہ کہ انسانی ذہن خارجی دنیا کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے، جبکہ یہ دعوی خود ظواہر کے دائرے سے آگے کی بات ہے۔ اور اگر کانٹ اسے بھی حقیقت نہیں کہتا تو ہمیں بتایا جائے کہ اس کی فکر کی رو سے علم و خیال کا فرق کیسے ممکن ہے جبکہ اس کی کیٹیگریز بھی محض خیال ہوں؟
پھر یہ غور کیجئے کہ کانٹ صاحب علم کی ماہیت متعین کرنے کے لئے معرفت کے عمل کی ماہیت (یعنی cognition کیسے کام کرتی ہے) کے مابعد الطبیعی سوال کو حل کرنے کی کوشش کررہا ہے، حالانکہ علم کی حقیقت کے لئے ذہن کے کسی داخلی میکینزم کی توضیح کی ضرورت نہیں۔ نیز اس پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر علم کی ماہیت اس داخلی میکینزم کی ماہیت پر موقوف ہے تو اس داخلی میکینزم کی ماہیت کا علم کیسے ہوتا ہے جبکہ علم ہی وہ چیز ہے جس سے کچھ معلوم ہوتا ہے؟ پھر اس دعوے کی درستگی کے لئے ذھن کی ساخت کے ساتھ ساتھ خارج کی ساخت کا علم بھی لازم ہے، خارج کی ساخت کا یہ علم کیسے ہوا کہ جس کی بنا پر اس تعامل و نسبت کو علم کہا جارہا ہے جو دونوں کے مابین قائم ہوتی ہے؟
کانٹین موقف رکھنے والا شخص علم ممکن ہونے کے لئے یہ شرط عائد کر رہا ہے کہ ناظر کے ذہن میں وہی ساخت (structure) ہونی چاہئے جو معلوم ہونے والی شے کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دعوے کی دلیل کیا اور کہاں ہے؟ اہل علم جانتے ہیں کہ کسی شے کے محال ہونے کے دعوے کے لئے دلیل درکار ہوتی ہے۔ یہ سوال اشعری ماتریدی موقف کی رو سے مزید مضبوط ہوجاتا ہے جو ان کلی نما مقولوں کے وجود بلکہ اس کے وجود کی ضرورت ہی کے قائل نہیں جسے کانٹ ذہن کی ساخت بتانا چاہتا ہے۔ علم کے لئے ناظر کے ذہن کی ساخت تو درکنار، معلوم کا خارج میں موجود ہونا بھی شرط نہیں، معدوم کا علم بھی ممکن ہے۔ ہاں یہ بات البتہ درست ہے کہ ادراک (perception)، جیسے کہ رویت وغیرہ، کے لئے مدرَک ( object of perception) کا وجود شرط ہے لیکن مدرَک کی صفات (جیسے کہ مکانی ہونا، وزنی ہونا وغیرہ) کو مدرِک (perceiver) کی صفات بنا دینا محض خلط مبحث ہے اور جو اسے مدرِک کے ذہن کی صفت بنانے کا مدعی ہے اسے اس کی دلیل بھی پیش کرنا چاہئے (ایک نام نہاد دلیل وہ ہے جو جناب فاروقی صاحب نے بھی پیش کی تھی اور اس پر ہم تبصرہ کرچکے ہیں)۔
الغرض سوائے لیپا پوتی کرنے کے کانٹین فریم ورک میں ان سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب میسر نہیں ہے۔
چنانچہ علم کی بحث پر جو فکر داخلی طور پر متناقض، بنیادی قسم کے سوالات کو ایڈریس کرنے سے قاصر اور خارج کے علم کو ناممکن بتانے والی ہو، کیا اسے علم و خیال کے فرق کے لئے معیار بنایا جانا چاہئے؟




کمنت کیجے