Home » فلسفہ کے لیے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟
کلام

فلسفہ کے لیے مذہبی کھونٹیاں تباہ کن کیوں ہیں؟

وسیم رضا

فلسفہ صرف عقل کی حاکمیت کا نام ہے۔ فلسفے میں ہر اثبات و نفی کا مرجع صرف انسانی عقل ہوتی ہے۔ فکر اس وقت تک فلسفیانہ نہیں ہوتی جب تک وہ عقائد، آئیڈیالوجی اور شناختوں کے دائرے سے باہر نہ ہو۔ عقلی فکر کو مقید کرنے والے تمام سانچے ادب اور فن جیسے فریب کار عنوانات کے ذریعے پردہ پوشی کرتے ہیں، اور سب سے خطرناک فریب وہ ہے جب عقائد، آئیڈیالوجی اور شناختیں چھپ کر فلسفہ، معرفت اور علم کے پردے میں اپنے احکام مسلط کرتے ہیں۔ بہت سی تحریریں ایسی ہیں جنہیں فلسفہ نہیں بلکہ علمِ کلام کہا جا سکتا ہے، اگرچہ وہ فلسفیانہ عنوانات اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جب عقل کسی عقیدے کے فریم میں سوچتی ہے تو اس کی فکر چھپا ہوا لاهوت بن جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ “فلسفے کی اسلامی تشکیل” کی کوششیں دراصل فلسفے کے خلاف تفلسف ہیں۔ فلسفے کی اسلامیت کا مطلب فلسفے کو اعتقادی شناخت کے اندر قید کرنا ہے، جبکہ فلسفہ ایک عقلی اور تنقیدی طرزِ فکر ہے جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہونے والی شناختوں اور عقائد کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اس پر کوئی چھت نہیں، یہ عقل کے سوا کسی دائرے میں مقید نہیں ہوتا، کسی بھی سوال کو اٹھانے سے نہیں رکتا، اور ان کے جواب صرف اسی نتیجے کے مطابق دیتا ہے جہاں تک عقل پہنچتی ہے۔ فلسفے کو کسی اعتقادی شناخت کے تابع درجہ بند کرنا درست نہیں ہے ۔ فلسفے کی کوئی اعتقادی شناخت نہیں ہوتی۔ فلسفہ ایک مشترک عقلی میدان ہے۔

فلسفہ اعتقادی تجنیس اور شناختی درجہ بندی کو قبول نہیں کرتا۔ اعتقادی تجنیس دراصل فلسفے کے لیے ایک دینی شناخت کا اعلان ہے۔ عقل کو کسی آسمانی یا زمینی دین یا کسی بھی عقیدے کے ذریعے مقید کرنے کی ہر کوشش عقل کو تفلسف سے معطل کر دیتی ہے۔ تفلسف کا مطلب سوچ کی آزادی کو مقید نہ کرنا، اور عقل کے لیے عقل کے سوا کسی اور مرجع کو تسلیم نہ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر وہ تحریر جو خود کو فلسفیانہ کہتی ہے مگر کسی دین یا عقیدے کے فریم میں قائم ہوتی ہے، اس کے مضمون کو خواہ اس کا عنوان فلسفیانہ ہی کیوں نہ ہو فلسفہ نہیں بلکہ علمِ کلام قرار دینا چاہیے۔ کلامی عقل کی مرجعیت نص ہوتی ہے، اگرچہ وہ عقلی مقدمات اختیار کیے ہوئے ہو ۔ اسی سبب یہ عقل نہ اپنی ذات کی تفسیر و تحلیل کرتی ہے، نہ اپنی حقیقت پر غور کرتی ہے، نہ اپنے فہم کے طریقے پر سوچتی ہے، نہ اس بات پر کہ وہ کیسے سوچتی ہے اور اس کی فکر کی قدر و قیمت کیا ہے، اور نہ ہی اپنی فکر کو جانچتی اور پرکھتی ہے۔ اور اگر یہ عقل عقل ہی کی طرف رجوع بھی کرے تو بالآخر کلامی عقل ہی کی طرف لوٹتی ہے، کسی متکلم کی پیروی اور تقلید پر منتج ہو جاتی ہے، اس کے منجز کو حد سے زیادہ بلند کرتی ہے، اور دینی فکر کی تاریخ میں دوسروں کے منجزات خواہ ان کا اثر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو سے انکار کرتی ہے۔ یوں عقل اپنے ہی اندر بند ہو جاتی ہے، اور عقلی فکر کا انجام سوال، تفلسف اور اختلاف کے تعطّل کی صورت میں نکلتا ہے۔ کلامی عقل فلسفیانہ عقل نہیں ہوتی۔

کلامی عقل پہلے سے طے شدہ مسلّمات سے آغاز کرتی ہے۔ فلسفیانہ عقل ایک کونی (عالمگیر) عقل ہے، جو قومی، اعتقادی، دینی، لسانی اور ثقافتی شناختوں سے ماورا ہوتی ہے۔ فلسفہ صرف عقلی تفکر اور فلسفیانہ قرأتِ فلسفہ سے ہی وجود میں آتا ہے۔ فلسفیانہ تفکر کسی پہلے سے طے شدہ مسلّمات، یا تیار شدہ قبلی موقف، یا کسی بھی نوع کی شعوری جانبداری سے آغاز نہیں کرتا۔ فلسفیانہ تفکر وجود کو اس حیثیت سے کھوجتا ہے کہ وہ وجود ہے، حقیقت کو اس حیثیت سے کہ وہ حقیقت ہے، اور انسان کو اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہے؛ یعنی فلسفیانہ تفکر انسان کی اس مشترک وجودی کینونیت کو موضوع بناتا ہے جو حالات، واقعہ، زمان و مکان کی تبدیلی سے نہیں بدلتی۔ ذہن کو بند گلیوں سے باہر لے جانے والی چیز وہ فلسفیانہ تفکر اور تحریر ہے جو تمہیں اپنے خلاف سوچنے پر آمادہ کرتی ہے۔ فلسفیانہ تفکر اور تحریر کی قدر اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ وہ کتنے دہرائے ہوئے جوابات پیدا کرتی ہے۔ فلسفیانہ تحریر اپنی قدر اس صلاحیت کے ذریعے ظاہر کرتی ہے کہ وہ عقل کو گہرے سوالات پیدا کرنے پر ابھارتی ہے—ایسے سوالات جن میں اترنے کے لیے عجلت سے خالی طویل غور و فکر درکار ہوتا ہے۔ فلسفیانہ تفکر کے بغیر کوئی تجدید ممکن نہیں، ایسا تفکر جو سوال اٹھانے اور تنقیدی سوچ میں رکاوٹ بننے والی تمام تاریخی دیواروں کو توڑ کر آگے بڑھے، ہر طرح کے لاهوتی جبر سے آزاد ہو، اور ان جامد فکری سانچوں سے نجات حاصل کرے جو ماضی کو جوں کا توں نقل کرتے ہیں۔ وہ فلسفیانہ تفکر جو تاریخی عقل کی فصیلوں سے باہر نکلتا ہے، تقلید کی مزاحمت کو شکست دیتا ہے، اور ایسی بصیرت کی تشکیل کو یقینی بناتا ہے جو بدلتی ہوئی حقیقت کی ضرورت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ وہ تفکر ماضی کو بحال کرنے سے زیادہ آنے والے کل کے افق میں سوچتا ہے، اس لیے کہ اس کا الہامی نمونہ مستقبل کی صورت میں ظہور کا منتظر ہوتا ہے، نہ کہ ماضی کی صورت میں تکرار کا۔ ہیگل کا خیال ہے کہ جدیدیت کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک نیا تاریخی مرحلہ ہے؛ وہ اپنی بنیادیں ماضی کے ادوار میں تلاش نہیں کرتی جیسا کہ نشاۃِ ثانیہ کی فکر نے کیا، اور نہ ہی خود کو کسی سابقہ واقعے سے جوڑتی ہے تاکہ اس میں اپنے وجود کا جواز ڈھونڈے، بلکہ وہ موجودہ واقعات کو نقطۂ آغاز بناتی ہے، جن کی روشنی میں وہ ماضی اور مستقبل دونوں کو دیکھتی ہے۔

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں