Home » ہائیڈیگر کے نزدیک ٹروتھ کا تصور
شخصیات وافکار فلسفہ

ہائیڈیگر کے نزدیک ٹروتھ کا تصور

سچائی ہائیڈگر کے نزدیک صداقت یا تصدیق نہیں۔ صداقت یا تصدیق چیزوں کو پہلے سے حاضر مان کر چیزوں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنا ہے۔ چیزیں ذہن میں حاضر ہیں، جو مثالیت پسندوں کا موقف ہے۔ اس کی تصدیق خارج سے فراہم ہوتی ہے۔ یا چیزیں خارج میں حاضر ہیں اور ذہن ان حاضر چیزوں سے تصور سازی کرتا ہے۔ یہ تجربیت پسندوں کا موقف رہا ہے۔

پہلے موقف میں ذہن کو اولیت حاصل ہے اور دوسرے موقف میں خارج کو اولیت حاصل ہے۔ ذہن خارج سے صداقت کا حامل بنے یا خارج کو اپنے تصور کی تشکیل میں صرف کرے، ہائیڈگر کہتا ہے کہ زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ یہ دونوں ہی غلط ہے۔

چیزیں خود کو متواجد (Dasein) کے اعمال و افعال سے ظاہر کرتی ہیں۔ چیزیں اپنے ظہور میں متواجد کی مرہون ان معنوں میں ہے کہ متواجد اپنے اعمال سے ان کو دریافت کرتا ہے یا ان کے منکشف ہونے کی توجیہ بنتا ہے۔

سچائی ہائیڈگر کے نزدیک ایک عمل کا نام ہے۔ اس عمل سے گزرے بغیر صداقت کے کوئی معنی نہیں۔ یعنی چیزوں کی حقیقت نہ ذہن میں ہے اور نہ خارج میں۔ بالفاظِ دیگر، چیزیں ذہن اور خارج دونوں کے آزادانہ تفاعل سے اپنے ظہور کی جگہ پیدا کرتی ہے۔ چیزوں کی حقیقت ذہن اور خارجی وجود دونوں میں یکساں پوشیدہ ہیں اور حالات کے مطابق ذہن کی قوتِ کان کنی سے اپنے ظہور کا رستہ حاصل کرتی ہے۔

اس کو فوکو کی اصطلاح آثار شناسی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ فوکو کہتا ہے کہ ہر چیز ڈسکورس ہے۔ بطور ڈسکورس یہ جہاں ہمیں اپنے داخل میں آنے کی مستقل دعوت دیتا ہے۔ ہم قاری کی حثیت میں اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ متن لامتناہی معانی کا حامل ہے۔ ہر کوئی اپنی بساط بھر اس کے معانی کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔

لہذاپہلی بات ہمارا چیزوں سے تعلق فاعلِ علمی اور موضوعِ علمی کا نہیں ہے۔ بلکہ قاری اور متن کا ہے۔

دوسری بات قاری کو متن سے اور متن کو قاری سے جوڑنے والے بندھن کا نام معانی ہے۔

تیسری بات یہ معنی متن کے فہم پر منحصر ہیں۔ لہذا فہم کا اختلاف یقینی بات ہے۔

چوتھی بات معنی متن سے پہلے ہیں اور نہ بعد میں۔ وہ معاً ظاہر ہوتے ہیں۔

پانچویں بات معنی متن خوانی کا نتیجہ ہیں۔ متن کو سمجھنے کا جو ڈھنگ اور اسلوب اختیار کیا جائے گا، معانی اِس سے سے یقینی طور پر متاثر ہونگے۔

چھٹی بات معنی مستقل نہیں۔ کیونکہ یہ متن خوانی کا نتیجہ ہیں اور چونکہ متن کے فہم کے لیے متکلم سے زیادہ قاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا قاری کے آزاد و خود مختار ہونا لازمی شرط ہے۔

ساتویں بات قاری کے آزاد اور خود مختار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سچائی مستقل اور غیر متغیر نہیں ہوسکتی۔

آٹھویں بات قاری کے خود مختار ہونے کے معنی یہ ہے کہ قاری کو اپنی قرآت کی حفاظت کرنی ہے۔ یعنی اس کے اوریجنل ہونے پر کوئی قدغن نہ لگے۔ اگر قاری کی افعال و اعمال کلی موافقت کے اصول پر قائم کیے جائے اور ان میں سے خودمختاری غائب ہو جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذہن نے فرار کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہائیڈگر ایسی زندگی کو اپنے لیے موت تصور کرتا تھا۔

جہانگیر حنیف

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں