Home » فلسفہ اور علمِ کلام میں فرق
شخصیات وافکار فلسفہ

فلسفہ اور علمِ کلام میں فرق

عمران شاہد بھنڈر

ایک اہم اور بنیادی نکتہ جو کہ فلسفے کا ہر طالب علم جانتا ہو گا، لیکن شاید ہی یہ نکتہ علم اکلام کا کوئی طالب علم جانتا ہو۔ نکتہ کیا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں۔ اس نکتے کو سمجھنا، دراصل، فلسفے اور علم الکلام کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھنا ہے۔
فلسفیانہ تصورات کی تشتکیل اور ان کے استخراج کا تمام عمل فلسفے کے احاطے میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر وجود و عدم، علت و معلول، جوہر و عرض، فاعل و منفعل، لازمی، ممکن اور محال، متناہی و لامتناہی، شناخت و افتراق، مقدار اور معیار، لازمہ و حادثہ وغیرہ سمیت جتنے بھی تصورات ہیں ان پر تمام مباحث جو منطقی انداز میں کیے جاتے ہیں وہ فلسفے کے احاطے میں رہتے ہوئے نتائج پیش کرتے ہیں۔ خواہ وہ انٹولاجیکل دلیل ہو، کاسمولاجیکل ہو یا ڈیزائن آرگیومنٹ، یہ سب فلسفے کے دائرے میں تشکیل پاتے ہیں۔ تاہم جوں ہی علت، فاعل، محدث، جوہر وغیرہ کو خدا سے غیر منطقی طور پر تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ وہی تبدیلی کا عمل علم الکلام کا آغاز ہوتا ہے۔ متکلمین نے صرف یہ کیا ہے کہ کبھی تو ارسطو کے “غیر متحرک محرک” کو خدا بنا دیا، کبھی کانٹ کے غیر مشروط کو “مطلق” کہہ دیا، کبھی افلاطون کے “کاریگر” (Demiurge) اور کبھی انیکساغورث کے Nous کو خدا سے تبدیل کر دیا۔ تاہم متکلمین یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ فلسفیوں کا خدا شخصی خصوصیات کا حامل نہیں ہے۔ وہ لوگوں سے انتقام نہیں لیتا، اسے غم و غصے سے کوئی غرض نہیں ہے، وہ مال غنیمت میں اپنا حصہ مقرر نہیں کرواتا، وہ انسانوں سے مدد نہیں مانگتا، وہ اس کی بات نہ ماننے والوں کی گردن کاٹنے کا حکم نہیں دیتا، اس نے کوئی جہنم نہیں بنا رکھی کہ جس سے اپنے جذبہ انتقام کو تسکین دے گا، وہ لوگوں سے بہتر “مکر” کرنے والا تو دور “مکر” کرتا ہی نہیں ہے۔ وہ انسانوں کو عورتیں پیش نہیں کرتا، ادے کسی کے نکاح و طلاق میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ صرف ایک عقلی و اخلاقی اصول ہے جسے خود انسان نے تشکیل دیا ہے۔ فلسفیوں کا یہ عقلی و اخلاقی اصول مذہب کے شخصی خدا کی لاش پر خود انسان نے تشکیل دیا ہے۔
یہ نکتہ ہمیشہ کے لیے ذہن میں رکھ لیجیے کہ غزالی ہو یا رازی، آگسٹائن ہو ایکوناس ، ان سب کی علت و معلول، زمان و مکان، اور دیگر تمام تصورات (جو اوپر پیش کیے گئے ہیں) کی بحث فلسفے کے احاطے میں آتی ہے۔ تاہم ان کی سوفسطائیت کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ فلسفیانہ تصورات اور منطقی مقولات کو، کسی بھی دلیل کے بغیر، مذہبی اصطلاحات سے تبدیل کرتے ہیں، اور پھر ان ہی مذہبی تصورات کی روشنی میں خدا، اس کا ارادہ، اس کی قدرت وغیرہ جیسے مہمل اور اساطیری تصورات سے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ واضح اور ذہن نشین رہے کہ جتنے بھی تصورات جن کی اوپر تفصیل دی گئی ہے (علت و معلول وغیرہ) ان کا علم الکلام کے ساتھ سرے سے ہی کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف اور صرف مذہبی اساطیر میں معقولیت پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر فلسفیانہ و منطقی تصورات کو قدیم مذہبی اساطیر کو “معقول” بنانے کی کوشس نہ کی جاتی تو مذہبی تصورات قدیم توہمات کی بدترین شکل بن کر رہ جاتے۔ بہرحال علم الکلام کا یہ نتیجہ ضرور نکلا ہے کہ مذہبی اساطیر کو معقول ثابت کرنے کے لیے عقل کا محتاج بنا دیا گیا ہے۔ عقل ہی طے کرنے لگی کہ عقلی تصورات کی ترتیب و تنظیم اور استخراج کیسے کرنا ہے۔ تاہم مذہبی اساطیر اور فلسفہ یہ وضاحت نہیں کر پاتے کہ علت اور خدا کے درمیان جو شگاف، خلا اور روزن ہے، اس کو استخراجی عمل کے دوران کیسے پر کرنا ہے!

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں