اس موضوع پر متعدد آرا پائی جاتی ہیں اور کل سے جس فتوی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اس کے بعد سے یہ بحث پھر تازہ ہوگئی ہے۔ آرا کا تنوع اپنی جگہ، اور فتوی کے دلائل سے اتفاق و اختلاف کا اپنا محل، لیکن سب سے احمقانہ، جی ہاں احمقانہ، موقف ان صاحب کا ہے جو فرماتے ہیں کہ یہ بتانا دین کا کام ہی نہیں ہے کہ کیا چیز مال ہے اور کیا نہیں؟
یہ بتانا دین ہی کا کام ہے کہ دین کے اصولوں کی رو سے کیا چیز مال ہے اور کیا چیز مال نہیں ہے؟ دین کے ان اصولوں نے ہی طے کیا ہے کہ ہمارے قانونی نظام میں خنزیر اور مردار مال نہیں ہیں، اور شراب کو ہم غیر مسلموں کےلیے تو مال مان سکتے ہیں، لیکن مسلمانوں کےلیے ہم اسے مال نہیں مان سکتے۔ پھر دین کے اصولوں نے ہی بتایا ہے کہ مال کے مال سے تبادلے میں کس چیز کو “مبیع”، یعنی فروخت کی جانے والی چیز کہا جائے گا، اور کون سی چیز “ثمن” یعنی اس فروخت کی جانے والی چیز کی قانونی قیمت سمجھی جائے گی۔ پھر دین کے اصولوں نے ہی بتایا ہے کہ مال کے مال کے ساتھ تبادلے کا عقد کیے جاچکنے کے بعد اگر فروخت کنندہ خریدار کو مبیع نہ دے، یا خریدار فروخت کنندہ کو ثمن نہ دے، یا خریدار مبیع کو خرید چکنے کے بعد فروخت کنندہ کے پاس رکھوائے اور وہ ضائع ہوجائے، تو کون ذمہ دار ہوگا؟ کس کا مال ضائع گیا؟ پھر دین کے اصولوں نے ہی بتایا ہے کہ مبیع کے ضائع ہوچکنے کے بعد اس کا “مثل” دیا جاسکتا ہے یا اس کی “قیمت” ادا کی جائے گی، اور یہ بھی دین کے اصولوں نے ہی طے کیا ہے کہ “قیمت” اور “ثمن” میں کیا فرق ہے؟ پھر ان اصولوں اور دیگر کئی مزید دینی اصولوں سے ہی مال کی ایک مخصوص صورت، جسے آج کل “کرنسی” کہا جاتا ہے، کا تصور پیدا ہوتا ہے اور یہی اصول بتاتے ہیں کہ کس چیز کو ہم دین کے اصولوں کی رو سے کرنسی مان سکتے ہیں اور کس کو نہیں؟
واضح رہے کہ یہ صرف ہمارے دین کا ہی موقف نہیں، ہر قانونی نظام نے مال، مالیت اور کرنسی وغیرہ کے متعلق اپنے اصول دیے ہوئے ہیں۔
یہ احمقانہ رائے رکھنے والے صاحب جس وفاقی ملک میں مقیم ہیں، اور جہاں وفاق کی ایک اکائی کو یہ “اپنا صوبہ” بھی قرار دے چکے ہیں، اس ملک کی سب سے اعلی عدالت سے ہی پوچھ لیتے، تو انھیں معلوم ہوجاتا کہ کیا چیز مال ہے اور کیا چیز مال نہیں ہے، یہ خالص قانونی سوال ہے، اور ہر قانونی نظام اس سوال کا جواب اپنے اصولوں کی روشنی میں دیتا ہے۔
امریکا میں ڈیڑھ صدی قبل ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا تھا کہ کیا امریکی دستور کی رو سے “بینک نوٹ” دے دینے سے “دَین” (debt) کی ادائیگی ہوجاتی ہے؟ امریکی سپریم کورٹ تک بات گئی۔ ابتدا میں سپریم کورٹ نے یہی کہا کہ ادائیگی تبھی ہوگی جب مال، یعنی سونا، ادا کیا جائے اور بینک نوٹ تو مال نہیں، بلکہ مال کی رسید ہے۔
اس پر بینکاروں کی جانب سے وہ طوفان اٹھا کہ الامان و الحفیظ! امریکی صدر کو سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانی پڑی اور بہت جلد ایک اور کیس میں سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ بینک نوٹ میں ادائیگی امریکی آئین کی رو سے درست ہے اور مدین جب بینک نوٹ دے دے، تو اس کے ذمہ سے دین ادا ہوجائے گا۔ پھر مزید کچھ کیسز نے بالآخر سونے پر بینک نوٹوں کو فوقیت دلا ہی دی۔ 1870ء کی دہائی کے ان کیسز کو legal tender cases کہا جاتا ہے اور امریکی آئینی تاریخ میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔
ہمارے ہاں یہ سوال یوں اٹھا کہ کیا روپوں میں ادائیگی سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے؟ اس سوال کا آج بہت سے لال بجھکڑ مذاق اڑاتے ہیں لیکن یہی سوال امریکی سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے سامنے آتا ہے اور پورے ملک کا آئینی نظام اس کی وجہ سے مفلوج ہوجاتا ہے تو کسی کو حیرت نہیں ہوتی، بلکہ ان مقدمات میں طے کیے گئے قانونی اصول آج بھی آئینی مباحث کے اعلی درجات میں نصاب کا حصہ ہیں!
خیر یہ تو جملۂ معترضہ ہوا۔ بتانا یہ ہے کہ 1880ء کی دہائی میں انگریز سرکار نے دو اہم قوانین جبراً نافذ کیے جو آج تک پاکستان میں نافذ ہیں: ایک Metal Tokens Act جس کے ذریعے سونے اور چاندی کے سکوں پر پابندی لگادی گئی اور ان کے استعمال کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا؛ اور دوسرا Negotiable Instruments Act جس کے ذریعے پرو نوٹ، بل آف ایکسچینج اور بینک چیک رائج کیے اور یہ بھی قرار دیا کہ promisory note payable to bearer on demand صرف سرکار ہی دے سکتی ہے۔ یہی مؤخر الذکر چیز بعد میں کرنسی نوٹ کہلانے لگی۔
سادہ لوح لوگ کہتے ہیں نوٹ چل گیا، فتوی نہیں چلا۔ وہ نہیں دیکھتے کہ نوٹ کے پیچھے ریاستی جبر تھا۔ جیسے ہی ریاستی جبر اس کے پیچھے سے نکل جائے، یہ محض کاغذ کا ایک بے قیمت ٹکڑا رہ جائے گا، اور بس۔
کرپٹو کو مال اور کرنسی مانا جاسکتا ہے یا نہیں، مذکورہ فتوی میں دینی اصول بتائے گئے ہیں، ان کا جواب دے سکتے ہیں، تو کوشش کیجیے، لیکن یہ کہنا کہ یہ دین کا مسئلہ نہیں، نہ صرف یہ کہ احمقانہ بات ہے، بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ کا دین کا تصور کتنا ناقص ہے!
کرپٹو مال ہے یا نہیں ؟



کمنت کیجے