Home » پاکستان میں اکثریت کو اقلیت کا خوف
تاریخ / جغرافیہ سیاست واقتصاد شخصیات وافکار مطالعہ کتب

پاکستان میں اکثریت کو اقلیت کا خوف

قاسم زمان صاحب نے اپنی کتاب ( Islam        in        Pakistan         A        history ) کے ایک حصے میں ” اکثریت کو اقلیت ” کا خوف عنوان کے تحت گفتگو کی ہے اور دیکھایا ہے کہ پاکستان میں مذہبی تفہیم کے جتنے زاویے ہیں ، ان سب میں ابتداء ہی سے باہم اس طور پر تصادم رہا ہے کہ زیادہ عوامی اثر و رسوخ رکھنے والی اکثریت ہمیشہ اقلیت سے خائف رہی ہے ۔
اہل سنت کی اکثریت کو ہمیشہ تشیع کا ، قادیانیوں کا ، اہل قرآن وغیرہ کا خوف رہا ہے ۔
خصوصا ان معاملات میں جہاں حکومت سے ” ریاست کی تشکیل ” کے متعلق مذہبی اسٹیک ہولڈرز کی انگیجمنٹ رہی ہے یا ہوتی ہے ، پاکستان کی اکثریت خائف رہتی ہے ۔ اور اپنے خوف کے تحت وہ مختلف زاویوں سے اقلیت کو کچلنے اور انکی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔
قاسم زمان صاحب نے اسکی کچھ مثالیں بھی دی ہیں اور انہی مثالوں کے تحت ” خوف ” کے سبب کی نشان دہی بھی کی ہے ۔
مثلا اہل تشیع کو لیا جائے تو مصنف انکے خوف کا اثر ، اس پر اکثریت کے رد عمل کی تاریخ لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اکثریت جس قسم کے خواب کی تعبیر چاہتی تھے ، اہل تشیع اپنے مختلف نکتہ نظر کی بنا پر اس میں بارہا رکاوٹ بنے ہیں ۔
قاسم صاحب کا اپنا تجزیہ یہ ہے کہ بہت سے مسائل میں جہاں اکثریت کو اپنے خواب کی تعبیر کا یقین رہا ہے ، وہاں اہل تشیع اپنے سیاسی و فقہی اختلاف کی وجہ سے ایسی رکاوٹ بنے ہیں کہ اکثریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا ۔
قدیم رسائل و جرائد اور اخبارات میں تاریخ کو گھنگالتے ہوئے مجھے ذاتی طور پر ایک احساس یہ پیدا ہوا ہے ، جسے ممکن ہے قاسم زمان نے اپنی کسی دوسری تحریر میں تفصیل سے ڈسکس کیا ہو لیکن مذکورہ کتاب میں یہ پہلو تشنہ ہے ، ۔ وہ احساس بمع تاریخی ثبوت یہ ہے کہ اکثریت کو لاحق ہونے والا یہ خوف بے جا نہیں رہا بلکہ ہمیں واضح طور پر نظر آتا ہے کہ پاکستان کی بابت ہر طبقہ نے اپنا الگ الگ ایک خواب دیکھا ہے جسکی تعبیر کے حصول کے لئے انکی علمی و سیاسی جد و جہد ریاست بننے سے پہلے ہی شروع ہو چکی ہے ، ہر طبقہ اپنی تعبیر پانے کے لئے عوامی رائے ہموار کرنے کی شدید کوشش میں ہے ۔ اور ریاست بنتے ہی تمام اسٹیک ہولڈرز نئی ریاست سے فورا انگیج کر رہے ہیں ۔
اگر سطحی نظر سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا کہ ریاست کی علماء سے انگیجمنٹ ان واقعات کی حد تک ہی رہی ہے جو معروف ہیں ۔ مثلا قرارداد مقاصد کے لئے علامہ شبیر احمد عثمانی کی سفارش پر سید سلیمان ندوی ، مناظر احسن گیلانی ، مفتی شفیع عثمانی اور ڈاکٹر حمید اللہ پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی تاکہ یہ لوگ مذہبی پہلو سے اپنی سفارشات پیش کریں ۔
لیکن اصل صورتحال میں نظر آتا ہے کہ ریاست سے مذہبی انگیجمنٹ صرف اس حد تک محدود نہیں رہی بلکہ جن لوگوں سے ریاست نے از خود انگیج نہیں کیا لیکن وہ ریاست کی بابت اپنا مخصوص خواب رکھتے ہیں ، انہوں نے خود سے ریاست کو انگیج کیا ہے ۔
نتیجہ یہ رہا ہے کہ بعد میں بننے والی کمیٹیوں میں ایسے زاویہائے نگاہ رکھنے والے لوگوں کو بھی جگہ دی گئی ہے جن کا وجود ہی اکثریت کے خواب کے منافی ہے ۔
دوسری طرف ریاست کی باگ دوڑ جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ جیسی ریاست چاہتے ہیں انہیں اپنی خواہشات کے قریب تر ہونے کے لئے مذہبی اقلیت کے کاندھے دستیاب رہے ہیں جو اقلیت نے خوشی خوشی پیش کئے ہیں ۔ ایسا مذہبی کندھا جسے استعمال کرتے ہوئے اربابِ حکومت اپنے ریاستی تصور کے قریب تر ہو سکتے ہوں ، اسکی طرف ریاست کا جھکاؤ اکثریت کو شدید الجھن کا شکار کرتا رہا ہے ۔
تاریخی ریکارڈ میں ہمیں وہ جھکاؤ ، وہ کندھے اور بعد ازاں آئین و قانون میں انکے اثرات واضح نظر آتے ہیں جس میں خصوصیت کے ساتھ ذکر کئے جانے والے لوگ اہل تشیع ، اہل قرآن اور تجدد پسند ہیں ۔
گویا ” اکثریت کو اقلیت ” کا خوف بنا سبب کسی نفسیاتی رد عمل کے طور پر نہیں رہا بلکہ اقلیت کی نظریاتی بنیادیں اور سیاسی جہد اور انکی طرف ارباب حکومت کا اپنی مطلب براری کے لئے جھکاؤ ، اکثریت کو اپنے خواب کی تعبیر نہ ملنے کے خوف میں مبتلاء کرتا رہا ہے ۔

زید حسن

زید حسن بہاولپور اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ مدرسہ ڈسکورسز کی ویب سائٹ کے ایڈیٹر کے طور پر ذمہ داری انجام دے رہے ہیں۔
hassanzadi24@gmail.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں