Home » نظر کا وجوب : سیف الدین آمدی کا موقف
شخصیات وافکار کلام

نظر کا وجوب : سیف الدین آمدی کا موقف

علمِ کلام کی برہانِ قاطع اور اشعری مذہب کے مایہ ناز مفکر، سیف الدین علامہ آمدی رحمہ اللہ رقم کرتے ہیں:
أجمع أكثر أصحابنا، والمعتزلة، وكثير من أهل الحق من المسلمين، على أن النظر المؤدي إلى معرفة الله تعالى، واجب. غير أن مدرَك وجوبه عندنا: الشرع، خلافا للمعتزلة في قولهم إن مدرَك وجوبه العقل، دون الشرع. وقد احتج أصحابنا على وجوبه من جهة الشرع بمسلكين. المسلك الأول: التمسك بظواهر النصوص الدالة على وجوب النظر. منها قوله تعالى: (قل انظروا ماذا في السماوات والأرض) سورة يونس آية 101 أمر بالنظر، والأمر ظاهر في الوجوب.
(سيف الدين الآمدي: أبكار الأفكار 1/156)
”ہمارے اکثر اصحاب اور معتزلہ اور حق کو ماننے والوں مسلمین میں سے ایک بڑے گروہ کا موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی جانب لیجانے والی نظر واجب ہے۔ اختلاف محض اس میں ہے کہ یہ وجوب شریعت کا مقرر کردہ ہے یا عقل سے اِس کی تعیین ہوئی ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک یہ وجوب شرع پر مبنی ہے۔ معتزلہ اس کا وجوب عقل سے متعین کرتے ہیں۔ اشاعرہ نے شریعت سے وجوب پر دو طریقوں سے استدلال کیا ہے۔ پہلا طریق نصوص کے ظاہر سے استدلال ہے، جن میں نظر کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: قل انظروا ماذا في السماوات والأرض۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے نظر کا حکم دیا ہے۔ حکم اپنے ظاہر کے اعتبار سے وجوب ہی ہوتا ہے۔“
یہ اقتباس اہم ہے۔ اس سے بہت سے کلیدی نکات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ پہلا یہ کہ اشاعرہ کے نزدیک شریعت نے نظر کو واجب کیا ہے۔ معتزلہ اسے عقل سے اخذ کرتے تھے۔ اشاعرہ نصوص سے نظر کے وجوب کو مستنبط کرتے تھے۔ لہذا شریعت نظر پر اولیت رکھتی ہے۔ نظر واجب ہے، یہ چیز شریعت سے معلوم ہوئی ہے۔ ہمارے جدید متکلمین اس حقیقت کو فراموش کر چکے ہیں کہ اکابرین اشاعرہ کا علم کلام کے مبادی تدبر پر کیا موقف رہا ہے۔ ان کے نزدیک عقل و نظر خود ایک مستقل ماخذ ہے جو شریعت اور نصوص شریعت کی قبولیت کے معیارات بناتا اور رد کرتا ہے۔ وہ معتزلہ کے موقف پر کھڑے اشاعرہ کے مذہب کی ترویج میں شریعت کی بیخ کنی چاہتے ہیں۔ سیف الدین واضح لفظوں میں اعلان کرتے ہیں کہ نظر کا وجوب شریعت سے ماخوذ ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ سیف الدین نے محض نظر کو واجب قرار نہیں دیا ہے۔ بلکہ وہ نظر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف لے کر جائے، اسے واجب قرار دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انھوں نے نظر کی تعریف اور اس کے وجوب اور اس کے ماخذ تینوں کو اس جملہ میں جمع کردیا ہے: أن النظر المؤدي إلى معرفة الله تعالى واجب۔ نظر خود سے کوئی چیز نہیں۔ یہ کوئی ایسا وجوب نہیں کہ جس نے عقل و نظر سے کام لے لیا اور خدا کو نہیں پہچانا، اس سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ نظر خود مقصود نہیں۔ بلکہ نظر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت میں معاون ہو، وہ واجب ہے۔ لہذا نظر اول الواجب نہیں۔ اول الواجب خدا کی معرفت ہی ہے۔ خدا کی معرفت سے جڑی نظر واجب ہے۔ چناچہ مثال کے طور پر برٹرینڈ رسل کی نظر کا یہاں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ دوسری چیز جو تعریف کے انہی لفظوں سے کھلتی ہے، وہ یہ ہے کہ نظر سے پہلے قصد و ارادہ اور شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ قصد و ارادہ اور شک جیسی کیفیت اس وقت وجود میں آتی ہے، جب نظر بحثیت نظر مطلوب ہو۔ نظر خود کو واجب کرے اور اپنی حرکت کو خود سے تحریک فراہم کرے۔ نظر کو تحریک جب معرفت سے حاصل ہو، تو قصد و ارادہ کی ضرورت نہیں۔ مُحرِّک معرفت ہے اور حاصل بھی معرفت ہے۔
سیف الدین رحمہ اللہ نے کمال یہ کیا ہے کہ انھوں نے چار لفظوں کو یوں جوڑا ہے کہ کیا معتزلہ اور کیا متشککین سب کا ایک ساتھ قلع قمع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جدید متکلمین کے فسادِ علم کو بھی مسدود کردیا ہے۔ جدید متکملین ممکن ہے کہ اپنے دفاع میں علامہ آمدی کی اس عبارت کی تاویل کا رستہ اختیار کریں اور کہیں کہ نظر شریعت کے واجبات میں اسی وقت دیکھی جا سکتی ہے، جب شریعت پر ایمان و اعتقاد لایا جائے۔ ایمان و اعتقاد سے قبل نظر کسی طور بھی شریعت کے نصوص پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ لہذا علامہ صاحب بعد از ایمان و اعتقاد وجوب کی بات کرتے ہیں۔ یعنی نظر کا وجوب جو بالنظر قائم تھا، جب اس نظر پر چلا گیا، تو معلوم ہوا کہ شریعت کی بھی یہی منشاء تھا۔ یہ اسی طرح کا استدلال ہے جیسے غامدی صاحب فطرت کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔ جب قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ، تو یہ شریعت کا حکم نہیں، بلکہ بیانِ فطرت ہے۔ یہ بیان قرآن مجید ہی میں ہوا ہے، لیکن قرآن مجید نے فطرت میں ودیعت طیبات کے حلال ہونے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ غامدی صاحب طیبات کے حلال ہونے کو شرعی حکم قرار نہیں دیتے، بلکہ بیان فطرت کہتے ہیں۔ علی ہذا القیاس، قرآن مجید میں قل انظروا ماذا في السماوات والأرض کے حکم کا مخاطب مومن نہیں۔ بلکہ وہ ہے، جسے مومن بنانا مقصود ہے۔ لہذا یہ حکم قرآن مجید میں وارد ہونے کے باوجود شرعی حکم نہیں، بلکہ شریعت کی طرف لانے والی اس دعوت کی تمھید ہے، جو غور و فکر کے بعد شریعت کے سامنے سر نگوں ہوتی ہے۔ علامہ صاحب نے نتیجہ کے اعتبار سے اسے شرعی قرار دیا ہے، جبکہ اپنی نوعیت میں یہ قبل از شریعت ہے۔
یہ تاویل بوجوہ غلط ہے۔ پہلی یہ کہ ایسا استدلال معتزلہ سے متوقع ہے، اشاعرہ سے اس استدلال کی کوئی توجیہ نہیں۔ عقل و فطرت کی اولیت معتزلہ کا موقف ہے، اشاعرہ کا یہ موقف ہی نہیں۔ بلکہ وہ اس سے متضاد موقف کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے غامدی صاحب کے ہاں فطرت کی اولیت و مقبولیت انھیں اعتزال کے قریب کرتی ہے اور ان پر یہ الزام لگتا بھی رہا ہے۔ لیکن یہ چیز اشاعرہ کے جدید نمائندوں سے متوقع نہیں، الا یہ کہ انھیں اپنے اکابرین کے درست موقف ہی کا کچھ علم نہ ہو اور وہ اپنی معصومیت میں واجبات شرعیہ کو واجبات عقلیہ کی حیثیت میں پیش کررہے ہو۔ سیف الدین رحمہ اللہ نے نظر اور معرفت کے لزومی تعلق کو ان لفظوں سے ادا کیا ہے: أن النظر المؤدي إلى معرفة الله تعالى، واجب. اس پر معتزلہ کے اتفاق کو بھی نقل کیا ہے۔ لزومی تعلق کو ماننے کے بعد عقل و نظر کے خود سے وجوب پانے کی کوئی توجیہ باقی نہیں رہ جاتی۔
معرفت خداوندی سبب بھی ہے اور مسبب ہے۔ لزوم کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں ہوتے۔ لازم و ملزوم جس تعلق کا عنوان ہے، اسے لزومیت سے ادا کیا جاتا ہے۔ اسی کو ہم سب و مسبب کہا ہے اور اسی کو علت و معلول کہا جاتا ہے۔ عقل جب حقائق سے تحریک حاصل کرنے پر حقائق ہی کے علم پر مطلع ہو، اسے لزومیت کہا جاتا ہے اور معرفت خداوندی کے شعوری حضور میں یہی لزومیت کار فرما ہے۔ چناچہ سیف الدین کے بقول معتزلہ نے جب اس لزومی تعلق کو مان لیا، تو اب اول الواجب معرفت ہی ہے اور اس لزومیت کو دریافت عقل کی بجائے وحی کی خبر سے کیا جائے گا۔ وحی عقل کو گائیڈ نہیں کرتی، بلکہ اس کی داخلیت کا درست علم فراہم کرتی ہے۔ شرعی ہونے کا یہی معنی ہے، جسے ہمارے جدید متکلمین کے ساتھ ساتھ جاوید احمد غامدی صاحب اور ان کے رفقاء کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ خدا کی منشاء جو بھی ہے، وہ ایک یونیورسل امر ہے۔ اسے متعین کردینا، شریعت کا وظیفہ ہے۔ شریعت کے بتانے پر وہ امر شرعی ہی رہے گا۔ کیونکہ اگر اس امر کو شرعی حکم کے آنے سے پہلے کی حالت پر پھیرا جائے گا، یعنی وہ حالت جس میں شریعت خاموش تھی، تو وہی حالت دوبارہ پیدا ہو جائے گی اور وہاں اس مبحث کو سمیٹنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔ شریعت کے وارد ہونے کے بعد اب وہ چیز شرعی ہے۔ یہ اس کی مستقل خصوصیت ہے۔ فطری ہونا، عقلی ہونا، یہ اضافی امر ہیں۔ یہ لوگ اپنی نادانی میں مستقل خصوصیت یعنی شرعی ہونے کو اضافی بناتے ہیں اور اس کے فطری / عقلی ہونے کو مستقل۔ یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس کے فطری / عقلی ہونے کی خصوصیت اگر مستقل ہوتی، تو شریعت کے نازل ہونے کی ضرورت ہی نہ تھی۔

جہانگیر حنیف

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں