Home » مستقبل کے لامتناہی واقعات؟
شخصیات وافکار کلام

مستقبل کے لامتناہی واقعات؟

ہمارے بعض دوست علامہ ابن تیمیہ کی طرح اس مسئلے میں الجھن کا شکار ہیں۔ حدوث عالم کو غلط ثابت کرنے کی خاطر حوادث لا اول لھا جیسے غیر معقول تصور کو جواز دینے کے لئے اسے مستقبل کے مسلسل چلنے والے حوادث پر قیاس کرنا، یہ علامہ ابن تیمیہ کی جانب سے کیا جانے والا فاسد قیاس ہے۔ اس پر ہم پہلے بھی لکھتے رہے ہیں، یہاں آسان طریقے سے بات سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پے در پے واقعات کی ایسی سیریز جس کا کوئی متناہی آغاز ہو وہ لامتناہی نہیں ہوسکتی، وہ متناہی ہی ہوگی چاہے کتنی ہی طویل چلے اور نہ ختم ہو۔ فرض کریں زید آج جنت میں داخل ہوا اور یہ پہلی ایکٹیویٹی ہے جہاں سے آغاز ہوا۔ زید وہاں ایک کے بعد دوسرے افعال کررہا ہے، مثلاً پھل کھانا، نہروں میں نہانا وغیرہ وغیرہ۔ ایکٹیویٹیز کی سیریز یوں چل رہی ہے:
فعل 1 ← فعل 2 ← فعل 3 ← فعل 4 ← ۔۔۔
یعنی جنت میں جب بھی ایک فعل رونما ہوتا ہے، واقعات کی سیریز ایک نمبر سے زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک روز زید کو یہ جاننے کا تجسس ہوا کہ اب تک کتنی ایکٹیویٹیز ہوچکیں؟ فرض کریں اس کے پاس ایکٹیویٹی کاؤنٹ گننے والی ایک مشین ہے جس سے اسے معلوم ہوا کہ اب تک مثلاً سو ملین ایکٹیویٹیز ہوچکیں۔ وہ جنت میں مزید و مسلسل رہے چلے جارہا ہے اور افعال رونما ہوئے چلے جارہے ہیں۔ لیکن یہاں کتنے ہی افعال رونما ہوجائیں، ان کی تعداد متناہی رہے گی اس لئے کہ وہ ایک پچھلے متناہی عدد میں ایک کا اضافہ ہے اور ایسا کوئی عدد نہیں جس میں ایک کے اضافے سے وہ لامتناہی ہوجائے۔ چنانچہ زید کو جب بھی یہ جاننے کا تجسس ہوگا کہ اب تک کتنے افعال ہوچکے، اس کی مشین اس حادث تک گزر چکنے والی ایکٹیویٹیز کا ایک متناہی عدد ہی بتائے گی چاہے وہ کتنا ہی بڑا عدد ہوجائے، مثلاً پچاس ھزار ٹریلین وغیرہ، اور اس میں ایک مزید کا اضافہ ہوجائے گا۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ ایک دن جب زید صبح بیدار ہو کر مشین کو دیکھے گا تو اس کی مشین اسے یہ بتانے لگے کہ “اب تک لامتناہی افعال ہوچکے”۔
یہ وہ نکتہ ہے جسے متکلمین سمجھاتے آئے ہیں کہ مستقبل کے کسی بھی متعین مرحلے تک حوادث کی تعداد متناہی رہتی ہے اور وہ حقیقی لامتناہی نہیں بنتا اگرچہ سلسلہ بلا انتہا جاری رہے، شرط یہ ہے کہ اس کا متناہی آغاز ہو۔ لہذا یہ سوال کبھی پیدا نہیں ہوتا کہ کیا لامتناہی واقعات گزر چکے؟ جب مستقبل کا تسلسلِ واقعات لامتناہی نمبر ہے ہی نہیں تو اس اصل کو بنیاد بنا کر ماضی کے حقیقی لامتناہی کو جواز کیوں کر دیا جاسکتا ہے؟ چنانچہ پہلے اس غلط فہمی سے نکلنے کی ضرورت ہے کہ اگر مستقبل میں لامتناہی ایکٹیویٹیز کا تسلسل جائز ہے تو ماضی کا بھی جائز ہے۔ یہاں قیاس کرنے کی سرے سے بنیاد ہی موجود نہیں، اسی کو فاسد قیاس کہتے ہیں۔ “متناہی واقعات کی سیریز میں ایک کا مسلسل اضافہ” اور “لامتناہی واقعات کا رونما ہونا”، یہ ایک بات نہیں، فافہم۔
اب ذرا ماضی کی جانب واقعات کی سیریز کو دیکھیں جسے ہم موجودہ حادث سے پچھلی سمت میں دکھاتے ہیں:
… → فعل 3 → فعل 2 → فعل 1 → موجودہ حادث
اگر افعال و واقعات کی اس سیریز کا کوئی متناہی آغاز ہے تو یہ سیریز بھی متناہی ہوگی اور موجودہ حادث پر یہ ختم ہوجائے گی، اس صورت میں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر اس کا کوئی آغاز ہی نہیں تو ہر موجودہ حادث سے پہلے حوادث کی ایک لامتناہی تعداد کا بالفعل گزرنا لازم ہے جبکہ یہ محال ہے۔ مستقبل میں معاملہ یوں ہے:
finite        beginning + indefinite         continuation         with          addition         of          one
یعنی: ایک متناہی آغاز ہے، اور اس کے بعد حوادث کا ایسا تسلسل ہے جس میں ہر مرحلے پر مزید ایک حادثے کا اضافہ ہورہا ہے۔
جبکہ ماضی کے حوادث لا اول لھا میں معاملہ یوں ہے:
no          beginning + completed           infinite           regress
یعنی: کوئی آغاز نہیں، اور موجودہ حادث تک پہنچنے سے پہلے بالفعل لامتناہی حوادث گزر چکے ہیں۔
ان دونوں میں ایسا کوئی مشترک معنی نہیں کہ ایک سے دوسرے پر قیاس کرلیا جائے لیکن علامہ ابن تیمیہ یہی کرتے ہیں۔
دراصل علامہ صاحب کا شبہ یوں سوچنا ہے کہ ایک طرف واقعات کا تسلسل چلا رہے ہو تو دوسری طرف بھی چلا لو، جبکہ یہ ایک طرف یا دوسری طرف چلانے کی بحث ہی نہیں۔ بحث یہ ہے کہ کسی معین حادث کے وقوع تک گزر چکنے والے حوادث متناہی ہیں یا لامتناہی؟ اگر حوادث کا آغاز ہے تو وہ متناہی ہوں گے اور کسی بھی واقعے تک لامتناہی واقعات ہوچکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر واقعات کی سیریز کا آغاز ہی نہیں تو اب یہ کہنا درست نہیں کہ اب تک گزرچکے حوادث متناہی ہیں بلکہ وہ لامتناہی ہوں گے جبکہ یہ جملہ ہی ہے معنی ہے کہ اب تک لامتناہی افعال ہوچکے، اتنا ہی نہیں بلکہ اس موقف کا تقاضا یہ کہنا بھی ہے کہ ہر نئے واقعے سے قبل لامتناہی واقعات گزر گئے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ حوادث لا اول لھا کا تصور اپنی ذات میں متناقض یعنی oxymoron ہے۔ علامہ ابن تیمیہ اور ان کے مداحین کو یہی نکتہ سمجھنے میں شبہ لگا ہے۔
اسی طرح اس بحث میں علیتی توقف و غیر علیتی توقف نیز سابق حوادث کا وجود و عدم وجود جیسی جہتیں سب غیر متعلق ہیں اور نہ ہی یہ اس متعلقہ سوال کو حل کرتی ہیں کہ کسی موجودہ حادث تک کتنے حوادث رونما ہوچکے؟ اگر جواب متناہی ہے تو لازماً ایک ابتدائی حادث ماننا پڑے گا، اور اگر جواب لامتناہی ہے تو پھر وہی اصل مسئلہ سامنے آگیا: ایک معین حادث سے پہلے بالفعل لامتناہی حوادث گزر چکے!

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں