کہا جاتا ہے کہ کانٹ نے عقل کی حدود واضح کیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ اس نے عقل محض سے مابعد الطبعیات کا علم ممکن نہ ہونے کو واضح کیا اور یہ اس کا عظیم کارنامہ ہے۔ یہ دونوں ہی دعوے اتنے عموم کے ساتھ غلط ہیں۔
دلیل عقلی سے تمام نہیں بعض حقائق کا علم حاصل ہوتا ہے، یہ بات پہلے سے معلوم رہی ہے (متکلمین کے ہاں یہ تقسیم نہایت مشہور ہے)۔ اسی طرح یہ بات بھی درست نہیں کہ کانٹ میٹافزکس کے علم کا انکار کرتا ہے، درست بات یہ ہے کہ وہ خارج از ذھن حقائق کے علم کا انکار کرتا ہے، چاہے وہ حسی (sensory) ہو یا ماورائے حسی (super sensory جسے مابعد الطبعیات کہتے ہیں)۔ کلیات کے خارجی وجود کا اقرار کرنے والوں کے نزدیک خارج از ذھن مابعد الطبعیات سے مراد کلی ماھیات و مقولات ہوا کرتے تھے جیسے مقدار، کیف وغیرہ۔ ان کے نزدیک علم چونکہ خارج کو جاننے کا نام ہے، لہذا یہ مقولات بھی خارجی شے ہی سے متعلق ہیں۔ لیکن کانٹ نے کہا کہ لائق ادراک حقیقت (knowable reality) خارج از ذھن نہیں بلکہ ذھن کے اندر ہے جسے وہ دو میں تقسیم کرتا ہے: ذھنی شبیہات اور ذھنی مقولات جنہیں وہ کیٹیگریز وغیرہ کہتا ہے۔ پہلی اس کی رائے میں حسی تجربے سے آتی ہیں اور دوسری ماقبل تجربہ ہے۔ تاہم اس کے مطابق حسی تجربے میں ہم شے کو نہیں بلکہ اس کی ایک شبیہہ کو دیکھتے ہیں۔
اب نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ جنہیں کانٹ کیٹیگریز کہتا ہے، کلیات کو خارجی ماننے والے انہیں حسی تجربے سے ماخوذ مابعد الطبعیات کہتے ہیں۔ چنانچہ کانٹ جسے قابل ادراک حقیقت مانتا ہے (یعنی ذھنی دنیا)، وہ اس کے حسی و ماورائے حس (یعنی کیٹیگریز) دونوں پہلووں کو لائق علم سمجھتا بھی ہے اور ان کے علم ہونے کا مدعی ہے جبکہ خارج از ذہن دونوں پہلووں کو ناقابل علم۔ یعنی اس کے فلسفے کی رو سے صورت معاملہ یوں ہے:
– خارج از ذہن حسی اشیا: ناقابل علم
– خارج از ذہن ماورائے حس اشیا (یعنی حسی اشیا کی میٹافزکس): ناقابل علم
– ذہن کے اندر حسی اشیا بطور شبیہات: قابل علم
– ذہن کے اندر ماورائے حس ساخت بطور کیٹیگریز (یعنی ذھنی شبیہات کی میٹافزکس): قابل علم
چنانچہ کانٹ کا استدلال یہ نہیں ہے کہ میٹافزکس کا علم ممکن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ خارج از ذھن اشیا کی میٹافزکس کا علم ممکن نہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ نہیں کہ وہ عقل کی کسی حد کو پہچان گیا ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ سوفسطائیوں کی طرح خارج از ذھن حقیقت و اشیا کے علم کا قائل نہیں، اس نے متعلقِ علم (یا معلوم) کو بدل دیا۔ دراصل کانٹ نے عقل کی حدود دریافت نہیں کیں، بلکہ اس نے پہلے متعلقِ علم کو خارج سے ذہن کی طرف منتقل کرکے پھر کہنا شروع کردیا کہ عقل خارج از ذہن حقائق (بشمول خارجی اشیا کی میٹافزکس) کو نہیں جان سکتی! رہی کانٹ کی اپنی میٹافزکس، تو اس کا علم اسے حاصل ہے۔ یوں کانٹ جس طرح حسی علم کو خارج سے کاٹ کر وجود ذھنی کے قائلین کی طرح تصویریں بنادیتا ہے، وہ میٹافزکس کا عنوان و فنکشن بدل کر انہیں کیٹیگریز کہتا ہے۔ خود اس کی اپنی لائقِ علم حقیقت کے اندر بہرحال ایک میٹافزکس موجود ہے جس کا اسے علم ہے اور جو اس کے خیال میں دیگر سب انسانوں کو یکساں طور پر معلوم ہے۔ پس وہ میٹافزکس کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اپنی سوفسطائیت کی بنا پر اسے خارج سے ذہن کی طرف منتقل کرتا ہے جس کے بعد میٹافزکس ذھنی کیٹیگریز کو جاننے کا نام ہے۔
اس فلسفے کی بنیاد یہ لغو مفروضہ ہے کہ لائق علم شے خارجی دنیا نہیں بلکہ ذھنی دنیا ہے، ذھن کے اندر گویا ایک ایسی سکرین ٹنگی ہوئی ہے جس پر عکس پڑ رہے ہیں اور اس عکس کے پیچھے کوئی پراسسنگ مشین (کیٹیگریز نما ذہنی ساخت) ہے جو ان عکوس کو مرتب کرکے میرے لئے لائق ادراک بناتی ہے، جبکہ میں ایک چھوٹے سے انسان کی طرح کرسی ڈال کر اس سکرین کے آگے بیٹھا ہوا یہ مناظر دیکھ رہا ہوں۔ علم کی ماہیت کو سمجھنے کا یہ ایک سطحی قسم کا تخیلاتی ماڈل ہے۔ معلوم (object of knowledge) عالم کے اندر ہوتا ہے، یہ ایک فرسودہ نظریہ ہے جسے ہمارے متکلمین نے رد کیا تھا۔
مولانا علی میاں صاحب سمیت دیگر مذھبی حضرات جو کانٹ کی اس خدمت کا ذکر کرتے ہیں کہ اس نے میٹافزکس کا علم محال ہونے کو ثابت کردیا، انہیں اگر کانٹ کے ساتھ چلنا ہے تو اس کی دلیل کی ہم آھنگی کے مطابق پورا چلتے ہوئے یہ بھی مانیں کہ حواس و عقل سے انہیں خارجی دنیا کی حقیقت کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ کانٹ کے نزدیک عقل کی حد کا مطلب صرف خارج از ذھن میٹافزکس کا علم ناممکن ہونا نہیں، بلکہ خارج سے متعلق کوئی بھی علم ممکن نہ ہونا ہے۔ اگر اس بات میں کانٹ کے ساتھ چلتے ہوئے آپ کی سانس پھولتی ہے اور آپ یہ مانتے ہیں کہ حسی علم خارجی دنیا ہی سے متعلق ہے، تو آپ پہلے ہی کانٹ کی بنائی ہوئی عقلی حدود کو پھلانگ چکے ہیں۔ ایسے میں کانٹ آپ کے کسی کام کا نہیں ہے، اب آپ میٹافزکس کا علم محال ہونے پر کوئی اپنی دلیل پیش کریں۔
آخر میں ہم پوچھتے ہیں کہ “بعض حقائق کا علم دلیل عقلی سے ممکن نہیں”، بھلا یہ بات سمجھنے کے لئے سوفسطائی بننے کی کیا ضرورت ہے؟




کمنت کیجے