ماضی کے واقعات کومستقبل کے واقعات پر قیاس کرنے کی غلطی کو ہم تفصیلاً واضح کرچکے ہیں، مستقبل کے موجود واقعات لامتناہی نہیں ہوتے لہذا اس پر ماضی کا قیاس درست نہیں۔ لیکن عام لوگوں کے لئے ہم ایک نسبتاً زیادہ موٹی بات سے بھی اسے واضح کرتے ہیں تاکہ مسلم فلاسفہ اور علامہ ابن تیمیہ کے مداحین کے شبہے کا ازالہ ہوسکے۔ شبہ یوں ہے کہ کسی معین واقعے کو درمیان میں رکھ کر ایک تیر ماضی کے واقعات کی طرف اور ایک تیر مستقبل کے واقعات کی طرف کھینچ دیا جائے، تو چونکہ دونوں طرف یہ تیر لامتناہی واقعات پر محیط دکھائی دیتے ہیں لہذا دونوں صورتیں یکساں ہوگئیں۔ پس اگر مستقبل کے لامتناہی واقعات جائز ہیں تو ماضی کے بھی جائز ہیں۔
ماضی اور مستقبل میں فرق اتنا بدیہی ہے کہ کوئی انہیں ایک جیسا قرار نہیں دے سکتا۔ ہم مستقبل میں آگے بڑھتے ہیں، اگر یہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ ماضی میں نہیں جاسکتے (مثلاً جیسے مکان میں آگے پیچھے جاسکتے ہیں)؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ماضی کے کسی رونما ہوچکنے والے واقعے کو تبدیل نہیں کرسکتے ہیں؟ یہ بنیادی قرینہ ہی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرنا ایک فاسد خیال ہے۔
ماضی کے واقعات رونما ہوکر گزر چکے (they are completely actualized and elapsed)، ماضی میں آپ نہ کچھ جمع کرسکتے ہیں اور نہ تفریق، ماضی کے واقعات میں کوئی امکان (possibility or potentiality) نہیں۔ چنانچہ اگر کسی خاص واقعے سے ماقبل گزرے واقعات کا کوئی آغاز نہیں تو اس کا مطلب لازماً یہ ہے کہ لامتناہی واقعات گزر کر مکمل ہوچکے، جبکہ یہ بات ہی لغو ہے۔ نیز گزر چکے واقعات کی بالفعل لامتناہی تعداد کو محض یہ کہہ کر ممکن نہیں بنایا جاسکتا کہ سلسلہ آگے بھی جاری رہ سکتا ہے۔ جو واقعات گزر چکے وہ گزر چکے، ان میں مزید واقعات کا اضافہ کرکے یا ان میں سے کچھ کو حذف کرکے اس بالفعل لامتناہی ماضی کو متناہی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کے برعکس کسی خاص یا متناہی حادث سے شروع ہونے والے آگے کے واقعات ہمیشہ متناہی ہیں کیونکہ وہ گزرے نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرے واقعے کی صورت گزر رہے ہیں اور یہاں ہمیشہ ایک ایسا واقعہ رونما ہونا ممکن ہے جو اب تک کے متناہی نمبر میں شامل ہوکر اس میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ دونوں صورتوں کو محض “دو مخالف سمتوں میں لامتناہی تسلسل” قرار دینا سطحی خیال ہے۔
ناقد کے شبہے میں مذکور مماثلت محض تصویری یا تخیلاتی ہے، حقیقی و خارجی نہیں۔ ماضی کی طرف جانے والا تیر گزر چکے حقیقی واقعات پر محیط تیر ہے، جبکہ آپ کے ذہن میں مستقبل کی طرف جانے والا لامتناہی تیر ابھی واقع نہ ہونے والے ممکنہ واقعات کا تیر ہے۔ ماضی میں اگر کوئی اولین واقعہ نہیں ہے، تو اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ موجودہ واقعے سے پہلے بالفعل لامتناہی واقعات واقع ہوکر گزر چکے ہیں۔ جبکہ مستقبل میں، خواہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہو، کسی بھی معین مرحلے تک صرف متناہی تعداد میں واقعات واقع ہوچکے ہوں گے جن میں ایک ایک کرکے مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ پس ایک طرف actualized and elapsed events ہیں، دوسری طرف not-yet-actualized events۔ یعنی پیچھے کی جانب تیر حقیقی گزر چکنے والے واقعات پر محیط ہے، جبکہ آگے کی جانب تیر گزر چکنے والے لامتناہی واقعات پر محیط نہیں بلکہ ہمیشہ کسی متناہی مقام پر پایا جانے والا تیر ہے۔ آگے کی جانب اس تیر کو کسی متناہی مقام سے آگے لامتناہی صرف آپ کا ذہن سوچ رہا ہے جس کا خارج میں کوئی وجود نہیں۔ اس غلطی کی وجہ یہ ہے کہ مستقبل کے تمام امکانی واقعات کو آپ نے بالفعل واقع شدہ اور انہیں لامتناہی فرض کرکے تیر کو سب پر محیط سوچنا شروع کردیا ہے، یہ صرف آپ کے ذہن کا تخیل ہے۔ خارج میں مستقبل کا جو بھی متعین مرحلہ ہوگا، اس وقت تک واقع ہوچکے واقعات کی تعداد متناہی ہی ہوگی اور تیر بس اسی مقام تک محیط ہوگا اور وہ یک بعد دیگرے واقعات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، وہ ہمیشہ ایک حقیقی متناہی تیر ہوگا۔ لامتناہی مستقبل کا تصور یہ نہیں کہ لامتناہی واقعات بالفعل واقع ہوچکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ متناہی واقعات کے بعد مزید اضافی واقعات کا امکان کبھی ختم نہیں ہوگا۔ یعنی آگے کی جانب جو realized یا ہوچکے واقعات ہیں وہ ہمیشہ متناہی ہیں، ان میں جو یک بعد دیگرے اضافہ ہے وہ بھی متناہی ہے، یہاں جو لامتناہی ہے وہ بالفعل موجود یا realized ہوچکے واقعات نہیں، بلکہ ممکنہ مگر غیر موجود واقعات کا سلسلہ ہے۔ اسی کو یوں کہتے ہیں کہ مستقبل کی لامتناہیت potential ہے، actual نہیں۔ ناقد نے آگے کی جانب تیر کو ان غیر موجود واقعات پر بھی پھیلا رکھا ہے۔
اس بدیہی طور پر واضح فرق کے خلاف یہ کہنا کہ “میں تو مستقبل کے لامتناہی واقعات کی طرح ماضی کے لامتناہی واقعات کو سوچ سکتا ہوں”، یہ کوئی دقیق بات نہیں اور نہ ہی کوئی فلسفہ ہے، یہ محض تخیل کاری ہے جہاں موجود و غیر موجود کو ایک دوسرے پر قیاس کرلیا گیا ہے۔ سوچنے والے تو یہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ خدا کسی کو بنا کر اسے خدا بناسکتا ہے، یا خدا کسی کو اپنا بیٹا بناسکتا ہے، یا خدا اس کائنات میں ہے، یہ کائنات ہی خدا ہے، وہ ایک جسم ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیا محض ذھنی تخیل خارجی حقیقت کے ہم معنی ہے؟ ایسا تخیل باندھنے والوں کے نام مثلاً اگر علامہ ابن سینا ہوں یا علامہ ابن تیمیہ تو اس سے یہ تخیل حقیقت نہیں بن جائے گا۔




کمنت کیجے