عمران شاہد بھنڈر
میں نے ان مولانا صاحب کی کانٹ پر جب بھی کوئی تحریر پڑھی ہے، میرا یہ یقین مزید پختہ ہوا ہے کہ ان کی کانٹ کے فلسفے کی تفہیم میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا کانٹ سے متعلق تعصب ہے۔ اگر اپنے نظریات و عقائد کی بنیاد پر قائم تعصب واقعی کوئی بُری چیز ہے تو کانٹ اپنے اخلاق ، کردار اور علم میں ان متعصب افراد سے کہیں زیادہ برتر وافضل تھا۔میرے لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ مولانا نے ایک بار پھر اپنے مذہبی تعصب، نفرت اور لاعلمی کو برقرار رکھتے ہوئے اس عظیم انسان دوست فلسفی سے متعلق ان خیالات کا اظہار کیا ہے، جن کا کانٹ کے فلسفے کے ساتھ سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حیرت مجھے اس بات پر ہے کہ موصوف نے اپنی تحریر میں جتنے بھی افکار کانٹ سے منسوب کرکے نتائج نکالے ہیں، وہ افکار اور نتائج مکمل طور پر غلط ہیں۔ میں موصوف کو بیسیوں بار یہ مشورہ دے چکا ہوں کہ چار، پانچ برس کہیں بیٹھ کر کانٹ کو تسلی سے پڑھ کر اس کے فلسفے کو سمجھ لیں، لیکن موصوف ہر اگلی تحریر میں پہلے سے زیادہ غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ موصوف کہتے ہیں کہ کانٹ کے نزدیک،
’’خارج از ذہن حسی اشیا ناقابلِ علم۔‘‘
موصوف کا یہ خود ساختہ نتیجہ سرے سے غلط ہے۔ کانٹ کے نزدیک علم حسی ادراک اور فہم کے مقولات کی ترکیب سے بنتا ہے۔ کانٹ کے بقول ’’تجربہ اس علم کا نام ہے جو ادراکات کے ربط سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ اگر حسی ادراکات دستیاب نہ ہوں تو علم کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ موصوف مزید تاویل گھڑتے ہیں،
’’خارج از ذہن ماورائے حس اشیا (یعنی حسی اشیا کی میٹا فزکس) ناقابلِ علم۔‘‘
کانٹ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ کانٹ اس کے برعکس ’’اشیائے حقیقی‘‘ یا اشیا فی الذات‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اشیا سے منسلک تمام تصورات ہماری فہم میں پائے جاتے ہیں جن سے اشیا قابلِ فہم ہوتی ہیں، لیکن ہماری حسیات ہمیں اشیائے حقیقی فراہم نہیں کرتیں، بلکہ مظاہر مہیا کرتی ہیں۔ کانٹ کے ہاں چونکہ حسی تجربہ ، قبل از تجربہ (a priori) شرائط کا پابند ہوتا ہے اس لیے وہ اشیا ہمارے لیے قابلِ فہم ہوتی ہیں، لہذا مظاہر جو نسبتیں ایک دوسرے کے ساتھ رکھتے ہیں وہ ہمارے ذہن میں موجود فہم کے تصورات ہیں جن کی وجہ سے وہ نسبتیں قابلِ فہم ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ انہیں فہم کے مقولات یا کیٹیگریز کہا جاتا ہے۔ کانٹ کہتا ہے کہ عالمِ طبیعی میں مظاہر کے قوانین کو تجربی مواد کو ربط دینے کی قوت کے مطابق ہونا چاہیے۔ کانٹ واضح کرتا ہے کہ مظاہر سے پرے اشیائے حقیقی میں اگر کوئی قانون ہے تو وہ ان کا لازمہ تصور کیا جائے گا، جس تک پہنچنے کی استعداد ہماری فہم میں نہیں ہے۔ ہمیں صرف مظاہر کے ادراکات حاصل ہوتے ہیں، نہ کہ اشیائے حقیقی کے داخلی قوانین۔ فہم کے قوانین کا اطلاق صرف حسی ادراکات پر ہوتا ہے، نہ کہ ماورائے حس اشیائے حقیقی پر۔ اگر ان اشیائے حقیقی کو فہم میں تصور کر لیا جائے تو پھر بھی اس کے قوانین ناقابل فہم ہی رہیں گے۔ لہذا ہم صرف مظاہر کو جانتے ہیں، اشیائے حقیقی کو نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی متکلم پر کوئی ’’شے حقیقی‘‘ ظاہر ہو گئی ہے، بلکہ وہ صرف الٰہیاتی تصورات کو غیر عقلی و غیر منطقی طور پر جہاں چاہتا ہے لاگو کر دیتا ہے، جہاں اس کا دل چاہے وہ ’’خدا‘‘ کے نام سے خالی جگہ کو پُر کر دیتا ہے۔
موصوف مزید لکھتے ہیں،
’’ذہن کے اندر ماورائے حس ساخت بطور کیٹیگریز (یعنی ذہنی شبیہات کی میٹا فزکس) قابلِ علم۔‘‘
کانٹ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم بھی جانتا ہے کہ کانٹ نے فہم کی کیٹیگریز کا واحد استعمال تجربی بتایا ہے اور یہ کیٹیگریز خود میں کیا ہیں، یہ حسی ادراکات کے بغیر کبھی بھی جانا نہیں جا سکتا۔ کانٹ لکھتا ہے کہ ’’خالص فہمی مقولات فہمِ محض کے واسطے سے کُل معروضات مشاہدہ پر عائد ہوتے ہیں۔ وہ انسانی مشاہدہ ہو یا کوئی اور مشاہدہ، اس کا حسی ہونا ضروری ہے۔‘‘ مولانا یہ سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں کہ مقولات صرف خیال کی صورتیں ہیں، جو مشمول (حسی معروض) سے خالی رہیں تو کبھی علم پیدا نہیں کر سکتیں۔ موصوف کے مزید باطل نتائج دیکھیے،
’’چنانچہ کانٹ کا استدلال یہ نہیں ہے کہ میٹا فزکس کا علم ممکن نہیں ، بلکہ یہ ہے کہ خارج از ذہن اشیا کی میٹا فزکس کا علم ممکن نہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ عقل کی کسی حد کو پہچان گیا ہے، بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہ سوفسطائیوں کی طرح خارج از ذہن حقیقت و اشیا کے علم کا قائل نہیں، اس نے متعلق علم کو بدل دیا۔‘‘
یہ اقتباس باطل خیالات کی آماج گاہ ہے، اور شاید دنیا کے کسی بھی کانٹین اسکالر نے ایسا مہمل نتیجہ نہ نکالا ہو جو مولانا نے کانٹ کو پڑھے بغیر ہی نکال رکھا ہے۔ کانٹ جب “شے حقیقی” کی بحث کرتا ہے تو وہ واضح طور پر تین ’’عقلی اعیان‘‘ کا ذکر کرتا ہے، جو یوں ہیں: خدا، ارادہ اور لافانیت۔ کانٹ کا استدلال یہ ہے کہ یہ ایمان کا موضوع ہیں، نہ کہ عقل کا۔ عقل اپنے ذرائع کو بروئے کار لاکر ان کا علم حاصل نہیں کر سکتی، نہ ہی ان ’’عقلی اعیان‘‘ کو مظاہر (حسی تجربے) میں ثابت کیا جا سکتا ہے، وجہ یہ کہ یہ تینوں حسی تجربے میں ظاہر نہیں ہوتے، اور عقل میں ان کا علم اس لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس صرف اعیان ہیں، نہ کہ وہ مافہیا (content) جو ان خالی اعیان کو علم میں تبدیل کر دے۔ اس لیے کانٹ ان اعیان کا اثبات کرتا ہے، مگر ان کے منظم علم کے حصول کا قائل نہیں ہے۔ اگر مولانا کے پاس خدا، ارادے اور روح کا مافیہا موجود ہے تو ہمیں بھی آگاہ کریں اور اس مافیہا کے علم کے حصول کا ذریعہ بھی بتائیں۔ یقین کریں کہ یہ کانٹ کے اسکالرز پر ایک عظیم احسان ہو گا۔ بس اس بات کا خیال رہے کہ خدا کے نام پر عقیدے کا پنڈورا بکس نہ کھول دیا جائے۔ چونکہ کانٹ عقل سے خدا کا علم حاصل کرنے کا انکاری ہے، اس لیے مولانا نے بھی عقل سے ہی خدا کا علم حاصل کرنے کی وضاحت کرنی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ جو حسی تجربے میں ظاہر نہیں ہوئی وہ عقل کے مطابق خدا ہے، اور پھر خدا کی قدرت، خدا کا ارادہ اور اس قسم کے دوسرے غیر متعلق تصورات نکال دیے جائیں۔ فلسفیانہ مباحث فلسفیانہ علاقے میں ہوں تب ہی بامعنی بنتے ہیں، ورنہ دوسری طرف تو عقیدہ موجود ہے، اس کو تسلیم کرتے جائیں، کسی نے نہیں روکا۔ مولانا مزید لکھتے ہیں،
’’یوں کانٹ جس طرح حسی علم کو خارج سے کاٹ کر وجود ذہنی کے قائلین کی طرح تصویریں بنادیتا ہے، وہ میٹا فزکس کے عنوان و فنکشن کو بدل کر انہیں کیٹیگریز کہتا ہے ۔۔۔۔۔ پس وہ میٹافزکس کو ختم نہیں کرتا۔‘‘
یہ اقتباس بھی اغلاط کا مجموعہ ہے۔ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں کہ کانٹ کہیں بھی “حسی علم کو خارج” سے نہیں کاٹتا، بلکہ حسی ادراکات سے الگ کسی علم کا قائل ہی نہیں ہے۔ کانٹ وہ پہلا فلسفی ہے جس نے مشاہدے کی صورت اور خارجی حسی تجربے میں وحدت قائم کی۔ چونکہ ہم عالم طبیعی میں صرف مظاہر کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان ہی سے ادراکات حاصل کرتے ہیں، کیونکہ ہماری حسیات ان سے پَرے کسی بھی قسم کے ادراکات ہمیں فراہم نہیں کرتیں، اس لیے فہم کی کیٹیگریز کا اطلاق ان ہی ادراکات پر ہوتا ہے۔ فہم کی کیٹیگریز خود میٹافزیکل نہیں ہیں، بلکہ قبل از تجربہ فہم کے تصورات ہیں، جن کا کوئی میٹا فزیکل استعمال سرے سے موجود ہی نہیں ہے، چہ جائیکہ ان کو میٹافزیکل بنا دیا جائے۔ موصوف کا یہ کہنا کہ کانٹ کیٹیگریز کو میٹافزکس کہتا ہے، مکمل طور پر غلط ہے، اور کیٹیگریز کو میٹافزکس کہتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا کہ کانٹ ’’میٹا فزکس کو ختم نہیں کرتا‘‘ سرے سے غلط ہے۔ کانٹ نے ’’تنقید عقلِ محض‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچے میں یہ واضح کر دیا تھا ۔کانٹ کہتا ہے کہ مابعد الطبیعات’’ دیگر علوم سے قدیم تر ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی خواہ عالم سوز وحشت و جہالت دوسرے تمام علوم کو مٹا دے۔‘‘ لہذا کانٹ مابعد الطبیعات کو ’’دفن‘‘ کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا، بلکہ عقل کی حدود کو متعین کرتا ہے جو حسی تجربے سے ماورا علم کے حصول کا دعویٰ کرتی ہے۔ چونکہ اشیا کی حقیقت حسی تجربے میں ظاہر نہیں ہوتی، اس لیے کانٹ ماورائے حس عقلی گھوڑے دوڑا کر اپنے مسیحی عقیدے کی کوئی تعبیر نہیں نکالتا۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی متکلم مابعد الطبیعاتی عوامل (خدا، ارادہ، روح) کا عقلی و منطقی علم حاصل نہیں کر پایا۔علت اور واجب الوجود کو خدا سے بدل دینا اور پھر ان فلسفیانہ تصورات کو خدا سمجھ کر اپنی مذہبی کتابوں میں موجود خدا کے اوصاف متعین کرنا نہ عقلی ہے نہ منطقی۔ یہ محض اپنے عقیدے کو عقلیانے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ علت خدا ہے نہ واجب الوجود خدا ہے۔ علت معلول سے تعلق رکھتی ہے اور واجب الوجود، اتفاقی وجود سے۔ ان دونوں کا اطلاق کائنات کے اندر ہوتا ہے، ماورائے کائنات ان کا کوئی استعمال نہیں ہے۔ علتِ اولیٰ اور واجب الوجود کے بارے میں فیصلہ دینا کوئی مذہبی فرض تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کا فلسفیانہ و منطقی مباحث سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ جن علوم میں مخصوص تصورات و اصطلاحات جنم لیں ان کو ان ہی علوم کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ اصطلاحات و تصورات کا تبادلہ غیر منطقی و غیر عقلی ہے۔ مشکل اصطلاحات کے استعمال سے قارئین کو دھوکا تو دیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے علمی خیانت کا جو پہلو نکلتا ہے، اس کا ازالہ نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا اپنے مبنی بر عقائد تعصبات کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو چونکہ وہ اپنے پہلے سے قائم موقف کی بنیاد ہی غلط قضایا پر رکھتے ہیں، اس لیے اپنے مضامین میں تمام نتائج بھی غلط پیش کرتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ پہلے کسی فلسفی کے فلسفے کو اچھی طرح سے سمجھا جائے، پھر بیان کیا جائے۔ کانٹین فلسفے پر متعلقہ اور درست تنقید ایسا مرحلہ ہے، جو کم از کم مولانا کے فکری دائرے سے ماورا ہے۔




کمنت کیجے