نظر واجب ہے۔ ایک گروہ کی نزدیک یہ وجوب عقل سے قائم ہے اور دوسرا اسے وجوب شرعیہ مانتا ہے۔ لیکن معتزلہ کے مابین اس بحث نے یہ رخ اختیار کیا کہ نظر واجب نہیں، بلکہ شک واجب ہے۔ خدا کے وجود میں شک سے یقین کی جانب سفر ہونا چاہیے۔ یہ موقف معتزلہ کے شیخین بالخصوص ابو ہاشم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
نظر صحیح کے لیے ضروری ہے کہ مدلول میں شک کیا جائے۔ جب تک مدلول کو شک کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، تب تک نظر کا صحت کے ساتھ قائم ہونا ممکن نہیں۔ قاضی عبدالجبار کے استاذ ابو عبداللہ نے شیخین کے اس موقف سے اختلاف کیا ہے اور یہ رائے اختیار کی نظر کی شرط شک نہیں۔ قاضی عبدالجبار نے خود اپنے استاذ کے موقف کا گہرا تجزیہ کیا اور درست موقف کی نشان دہی کی ہے۔ قاضی کا موقف دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خود معتزلہ اس بارے میں مختلف فیہ تھے اور اس مبحث کو گہرائی سے سوچتے سمجھتے تھے۔ ہماری رائے میں معتزلہ کے موقف کے اس پہلو کو دیکھنا اس مبحث کو بہتر سمجھنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ قاضی صاحب لکھتے ہیں:
ومن حق النظر أن لا يصح إلا مع الشك في المدلول، عند شيخينا رحمها الله، فأما إذا كان عالما بالمدلول فالنظر لا يصح منه. وذكر شيخنا أبو عبد الله رحمه الله، أن النظر إنما لا يصح مع العلم بالمدلول، فأما أن تجب مجامعة الشك له في المدلول فلا، بل قد يصح مع اعتقاد المدلول، ومع الظن به. ويجب أن لا يصح أن يجامعه ما يقتضي العلم بالمدلول، على قول الكل، نحو أن ينظر ويعلم أنه يولّد العلم بشيء مخصوص على وجه مخصوص. فأما مجامعة العلم، فإنه يولد أصلا له، وأنه يولّد العلم بالشيء، وإن لم يعلم على أي وجه يولد، فغير ممتنع. (القاضي عبد الجبار المغني 12/12).
” ہمارے شیخین کی رائے یہ ہے کہ ”نظر“ اسی وقت درست ہوتی ہے، جب مدلول میں شک ہو۔ پس اگر مدلول کا علم پہلے سے حاصل ہو، تو اس صورت میں نظر درست نہیں ہوتی۔ ہمارے استاذ ابو عبد اللہ رحمہ اللہ نے بھی یہی فرمایا کہ مدلول کا علم پہلے سے حاصل ہو، تو نظر صحیح نہیں ہوتی۔ لیکن اس سے واجب نہیں ٹہرتا کہ شک کو مدلول کے ساتھ نتھی کیا جائے۔ بلکہ نظر مدلول کے اعتقاد کے ساتھ بھی درست ہوسکتی ہے اور ظن کے ساتھ بھی۔ البتہ تمام لوگوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نظر کے ساتھ وہ چیز جمع نہ کی جائے جو علم بالمدلول کی مقتضی ہو۔ جیسے کہ کوئی نظر کرے اور جانتا ہو کہ یہ اس مخصوص چیز کا علم اس مخصوص پہلو سے پیدا کرے گی۔ رہا علم کا ساتھ ہونا کہ نظر اصلاً علم پیدا کرتی ہے اور یہ کہ وہ کسی چیز کا علم پیدا کرے گی، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ کس طریقے سے پیدا کرے گی، تو یہ ممتنع نہیں۔”
(قاضی عبد الجبار، المغنی ۱۲/۱۲)
اس مسئلے میں تین اہم موقف سامنے آتے ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ نظر کی صحت دو الگ الگ چیزوں سے متعلق ہے: ایک کا تعلق مدلول کے ساتھ ہے اور دوسرے کا تعلق دلالت کے ساتھ ہے۔ مدلول وہ نتیجہ ہے جس تک نظر پہنچنا چاہتی ہے، اور دلالت وہ ربط ہے جو دلیل کو مدلول سے جوڑتا ہے۔ ناظر کی ان دونوں کے بارے میں حالت: علم ہو، اعتقاد ہو، ظن ہو یا شک — نظر کی صحت پر مختلف اثر ڈالتی ہے۔ لہذا
پہلی صورت چار امکانات پر مشتمل ہوگی:
شک بالمدلول
اعتقاد بالمدلول
ظن بالمدلول اور
علم بالمدلول
دوسری صورت محض دو امکانات پر مشتمل ہے:
علم بالدلالہ اور
اعتقاد بالدلالہ
پہلا موقف شیخین یعنی ابو علی جبائی اور ابو ہاشم کا ہے۔ وہ مدلول کے حوالے سے کہتے ہیں کہ نظر کی صحت کے لیے ناظر کا مدلول میں شاک ہونا لازمی شرط ہے۔ یعنی ان کا موقف شک بالمدلول کا ہے۔ صرف شک بالمدلول کی صورت میں نظر درست ہے۔ اگر ناظر مدلول کو پہلے سے جانتا ہو، تو نظر باطل ہے۔ یعنی علم بالمدلول نظر کو باطل کردیتا ہے۔ اگر وہ مدلول کا معتقد ہو تو بھی نظر باطل ہے، اور اگر وہ مدلول کے بارے میں ظن رکھتا ہو تو بھی نظر باطل ہے۔ صرف اور صرف شک کی حالت میں نظر صحیح ہوتی ہے۔ گویا شیخین کے نزدیک شک نظر کی ایسی لازمی شرط ہے جس کے بغیر نظر سرے سے واقع ہی نہیں ہوتی۔
دوسرا موقف ابو عبداللہ کا ہے۔ وہ مدلول کے حوالے سے شیخین سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شک نظر کی لازمی شرط نہیں۔ ان کے نزدیک صرف علم بالمدلول نظر کو باطل کرتا ہے۔ یعنی اگر ناظر مدلول کو پہلے سے یقینی طور پر جانتا ہو تو نظر صحیح نہیں۔ لیکن اگر وہ مدلول کا صرف معتقد ہو، یا اس کے بارے میں ظن رکھتا ہو، یا شاک ہو تو ان تینوں حالتوں میں نظر صحیح ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ابو عبداللہ اعتقاد بالمدلول اور علم بالمدلول میں فرق کرتے ہیں۔ شیخین نے اعتقاد بالمدلول کو بھی نظر کے لیے مانع قرار دیا تھا، لیکن ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ اعتقاد بالمدلول نظر کو باطل نہیں کرتا، صرف علم بالمدلول باطل کرتا ہے۔
لیکن ابو عبداللہ کے یہاں ایک اور بحث بھی ہے جو دلالت سے متعلق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نظر کے توليدِ علم کے لیے ضروری ہے کہ ناظر کو علم بالدلالة ہو۔ یعنی وہ جانتا ہو کہ یہ دلیل اپنے مدلول پر کس طرح دلالت کرتی ہے۔ اگر ناظر دلالت کا صرف معتقد ہو تو ابو عبداللہ کے نزدیک یہ ایک الگ اور کمتر درجے کی نظر ہے جو حقیقی مولِّد نظر سے مختلف ہے اور علم پیدا نہیں کرتی۔ گویا ابو عبداللہ نے شیخین کی غلطی یہ پکڑی کہ انہوں نے اعتقاد بالمدلول کو مانع قرار دیا، حالانکہ اصل مانع اعتقاد بالدلالة ہے۔ یعنی خرابی مدلول کی طرف سے نہیں بلکہ دلالت کی طرف سے آتی ہے۔
تیسرا موقف قاضی عبدالجبار کا ہے جو سب سے زیادہ گہرا اور پیچیدہ ہے۔ مدلول کے حوالے سے وہ ابو عبداللہ سے جزوی طور پر متفق ہیں کہ علم بالمدلول نظر کو باطل کرتا ہے۔ لیکن صرف اس صورت میں جب نظر خود مدلول کے علم کو لازم کرے، یعنی ناظر کو پہلے سے معلوم ہو کہ یہ نظر یہ مخصوص نتیجہ اس مخصوص طریقے سے دے گی۔ لیکن اگر علم بالمدلول محض نظر کے ساتھ موجود ہو اور نظر نے اسے لازم نہ کیا ہو تو قاضی کے نزدیک نظر پھر بھی جاری رہتی ہے اور علم پیدا کرتی رہتی ہے۔ چاہے ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کیسے ہوتا ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں۔ دلالت کے حوالے سے وہ ابو عبداللہ سے مکمل اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نظر مع العلم بالدلالة اور نظر مع الاعتقاد بالدلالة ایک ہی نظر ہے، کیونکہ دونوں حالتوں میں فاعل، قدرت اور محل تینوں ایک ہیں، اور جب یہ تینوں نہیں بدلے تو نظر کیسے بدل سکتی ہے؟ دلالت دراصل وہ معروضی ربط ہے جو دلیل اور مدلول کے درمیان موجود ہے۔ اسے جاننا اور اس کا معتقد ہونا ایک ہی بات ہے کیونکہ اعتقاد اس ربط میں نہ کچھ اضافہ کر سکتا ہے نہ کمی کر سکتا ہے۔
لیکن قاضی کے موقف کی سب سے گہری تہہ وہ ہے جہاں وہ علم بالمدلول کے پورے تصور کو از سرِ نو دیکھتے ہیں۔ ان کا اصل نکتہ یہ ہے کہ علم کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ علم ایک مسلسل عمل ہے جو سطحوں میں آگے بڑھتا ہے۔ پہلے مجمل علم ہوتا ہے، پھر تفصیلی علم، پھر یقینی علم، پھر مضمرات کا علم۔ مثلاً اللہ کے وجود کے بارے میں پہلی نظر سے مجمل علم حاصل ہوتا ہے کہ خالق موجود ہے، دوسری نظر سے تفصیلی علم کہ خالق کن صفات کے ساتھ موجود ہے، وحدت، کمال اور علم و قدرت۔ تیسری نظر سے یقینی علم کہ اللہ کا وجود واجب ہے، اور چوتھی نظر سے اس وجود کے لوازم و مضمرات کا علم۔ ہر نئی نظر پہلے سے موجود علم میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتی ہے۔ اسے گہرا کرتی ہے، مکمل کرتی ہے، یا اس کے نئے پہلو کھولتی ہے۔ اس لیے علم بالمدلول کی موجودگی میں بھی نظر بے فائدہ نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ یہ وہی نکتہ ہے جو ارسطو نے اپنے نظریہ علم میں بیان کیا کہ علم ایک منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے اور ہر نظر عقل کو آگے لے جاتی ہے۔ ابن رشد نے اس کو مزید واضح کیا کہ عقل کا کام صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے مسلسل گہرا اور مکمل کرتے رہنا ہے۔ عقل کبھی ایک مقام پر نہیں ٹھہرتی۔ قاضی کا موقف اسی روایت سے جڑتا ہے کہ نظر کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا کیونکہ علم کبھی مکمل نہیں ہوتا۔
اور یہیں سے قاضی کا سب سے گہرا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر علم کبھی مکمل نہیں ہوتا تو پھر علم بالمدلول کا پورا تصور محل نظر ہے۔ کیونکہ جسے شیخین اور ابو عبداللہ علم بالمدلول کہہ رہے ہیں وہ دراصل ایک درجے کا علم ہے، مکمل علم نہیں۔ اور اگر وہ مکمل نہیں تو وہ یا اعتقاد بالمدلول ہے یا ظن بالمدلول اور ان دونوں میں نظر صحیح ہے۔ گویا قاضی کے نزدیک علم بالمدلول شاید کبھی حاصل ہی نہیں ہوتا اس درجے پر کہ نظر کو باطل کر سکے اور اس لیے نظر ہمیشہ ممکن، ضروری اور ناگزیر ہے۔ البتہ اگر کوئی مانع آ جائے تو وہ علم کو وقتی طور پر روک سکتا ہے، لیکن نظر کی اقتضائی قوت ختم نہیں ہوتی۔ بالکل ویسے جیسے زنجیر سے لٹکا ہوا پتھر زنجیر کٹنے پر فوراً گر پڑتا ہے، کیونکہ گرنا اس کی فطری خاصیت ہے جسے زنجیر روک رہی تھی، ختم نہیں کرتی۔ چناچہ علم بالمدلول جو ایک متفقہ علیہ امر تھا کہ یہ نظر صحیح کے وقوع میں مانع ہے۔ قاضی کے ہاں وہ ایک گہری توجیہ کے تحت نظر کے لیے امکان وقوع کا ایک دوسرا راستہ کھول دیتی ہے۔ وہ اجمال سے تفصیل اور اکمال کی جانب سفر یے، جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اجمال میں یہ قطعی اور تفصیل میں یہ ظن ہوتا ہے۔ اس سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شک بالمدلول کی شرط نظر کے وقوع کے لیے کس قدر غیر اہم ہے۔ کیونکہ شک بالمدلول کی شرط نظر کو نظر سے تحریک دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ لیکن قاضی فرماتے ہیں کہ نظر شک کی بجائے علم سے بھی تحریک حاصل کرتی ہے اور اس امکان کی نفی نہیں کی جاسکتی۔



کمنت کیجے