نظر کے وجوب پر امام غزالی رحمہ اللہ کا موقف اُن کے ذاتی تجربہ اور علم و مشاہدہ پر مبنی ہے۔ علمِ کلام سے اُن کا شغف محض مکتبی اہداف سے نہیں جڑا تھا، بلکہ سچ کو جاننے کی تڑپ اور حقیقت کی جستجو اُس کا بنیادی محرک تھا۔ لہذا اُنھیں معلوم تھا کہ نظر حقیقی معنوں میں کن سوالات کی حامل ہوتی ہے اور اُس کی پہنچ کہاں تک کی ہے۔ بالفاظِ دیگر، امام غزالی کے موقف کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ نظر اگر صحیح معنوں میں فنکشنل ہو جائے، تو یہ کرنا کیا چاہتی ہے اور کر کیا سکتی ہے۔ یہ جاننے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ جو کرنا چاہتی ہے، وہ اُس سے بہت زیادہ ہے، جو یہ بالعموم (یعنی نناوے فی صد کیسز میں) کر سکتی ہے۔ لہذا یہ وجوب عموم کا متقاضی نہیں ہوسکتا۔ یعنی نظر سب پر واجب نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں امام غزالی آکر ٹھہر گئے اور پھر اُنھوں نے اِسے اپنی تحریروں میں باقاعدہ موضوع بنایا۔
ذہنی و قلبی اطمینان جو یقینی طور پر ایمان و اعتقاد کا حاصل ہوتا ہے، وہ اگر کسی شخص کو علم کلام کی پُر پیچ وادیوں میں سے گزرے بغیر عنایت ہوا ہو، تو اُسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور خواہ مخواہ خود کو خطروں میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے شخص کی مثال دیتے ہیں، جو سمندر کی گہرائی سے قیمتی موتی اور دوسرے نوادرات کا متلاشی ہے۔ اِن کا نفیس اور قیمتی ہونا اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن جس خطرے میں وہ خود کو ڈالنا چاہتا ہے، کیا اُس نے اِن خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ جو مطلوبہ صلاحیت، لیاقت، استعداد اور حوصلہ اس کارِ عظیم کے لیے درکار ہے، کیا وہ اس کا حامل ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ قیمتی موتیوں کی تلاش میں نکلے اور جو متاع اُس کے ہاتھ میں ہے، وہ بھی کھو دے۔ زندگی سب سے قیمتی چیز ہے، وہ اِس سے چھن جائے۔ ایمان اُس کی بیش بہا دولت ہے، وہ اُس کے ہاتھ سے جاتی رہی۔
چناچہ وہ متکلمین کے برعکس موقف اختیار کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: كفَّ الباطن عن التفكُّر في هذه الأمور؛ فذلك واجبٌ عليه۔ نظر کے وجوب کی بجائے باطن کو اِن امور میں تفکر سے روکنا ”واجب“ ہے۔ ہم نے دیکھا کہ قشیری اِسے شرعی واجب قرار دیتے ہیں۔ زرکشی اِس موقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ آمدی، اشاعرہ کی اکثریت اور معتزلہ اور اہل حق میں سے کثیر جماعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ معرفت کی جانب لے جانے والی نظر واجب ہے۔ امام غزالی اس کے برعکس موقف اختیار کرتے ہیں: كفَّ الباطن عن التفكُّر في هذه الأمور؛ فذلك واجبٌ عليه۔ مسلمان کا پہلا وظیفہ یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو اِس بارے سوال کرنے سے روکے اور اِن امور میں تصرف نہ کرے۔ دوسرا اور مشکل ترین وظیفہ یہ ہے کہ وہ اِن امور کے بارے میں خود کو سوچنے سے بھی روکے۔
اگر دل میں پھر بھی ایسے خیالات آئیں اور اِنھیں جھٹکنا ممکن نہ رہے، تو خود کو ملتے جلتے علوم میں مشغول کرے، جیسے فقہ، حساب، لغت اور طب وغیرہ۔ اگر دل اِن کی جانب راغب نہ ہو، تو صنعت و حرفت میں دل لگائے۔ کھیتی باڑی کرے تو بھی اچھا ہے۔ سب کچھ ناکام ہو جائے اور کوئی علم اور کوئی فن دل کو سکون نہ دے پائے، تو چاہے کھیل کود میں لگ جائے، وہ بھی ان سوالوں میں الجھنے سے بہتر ہے۔ خود کو روز محشر کی ہولناکی کا بتائے اور آخرت میں جوابدہی کے تصور سے خود کو آشنا کرے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اِن سب امور میں مشغولیت اِن سوالوں میں بغیر اہلیت کے غور و خوض کرنے سے بہتر ہے: فكلُّ ذلكَ خيرٌ لهُ مِنَ الخوض في هذا البحر البعيد غَوْرُه وعمقُه، العظيم خطرُه وضررُه. یہاں بڑے خطرات ہیں اور نقصانات کے اندیشہ بھی زیادہ ہیں۔ فرماتے ہیں: بل لو اشتغلَ العامِّيُّ بالمعاصي البدنيَّة. ربَّما كانَ أسلمَ لهُ مِنْ أن يخوضَ في البحث عن معرفة الله تعالى۔ بدنی گناہ میں بھی بسا اوقات معافی کی گنجائش رہتی ہے، لیکن شرک ایسا گناہ ہے کہ اسے نہیں بخشا جائے گا۔ لہذا وہ جس خطرے اور ضرر کو عظیم قرار دیتے ہیں، وہ شرک ہے۔ ایسے گناہ کی کوئی بخشش نہیں۔ چناچہ وہ اپنے مخاطب کو خبردار کرتے ہیں کہ اِن خطرات کو مول لینا ہوش مندی نہیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کی معرفت اور دین کی حقانیت پر دلیل سننا بھی کیا ناجائز ہے اور اگر یہ جائز یے، تو پھر ایک دلیل جائز اور دوسری دلیل ناجائز کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دلیل سننا جائز ہے۔ مگر دلیل کا تعاقب کرنا اور اس پر سوال در سوال غور و فکر کی عوام الناس کو اجازت نہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دلائل دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کے لیے غور و تدقیق کی ضرورت ہے جو عامی کی طاقت و قدرت سے باہر ہے، اور دوسرے وہ جو واضح اور سطحی نگاہ سے ہی فہم تک پہنچ جاتے ہیں، بلکہ سب لوگ ان کے ادراک میں مشترک ہوتے ہیں۔ ان دلائل کو سننے اور سمجھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جو چیز تمام لوگ آسانی سے سمجھ لیں اس میں کوئی خطرہ نہیں، اور جو تدقیق کا محتاج ہو وہ عام آدمی کی وسعت میں نہیں۔
دوسرا دلیل فنِ کلام کی بجائے قرآن مجید سے لانی چاہیے۔ قرآن مجید کے دلائل پر اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن مجید کے دلائل صاف اور سادہ ہیں۔ وہ فطرت اور ذہن انسانی کے ساتھ ملائمت کے حامل ہیں۔ جیسے شکر منہ میں رکھتے ہیں، گھل جاتی ہے اور توانائی فراہم کرتی ہے، ویسے ہی اِن دلائل کی نوعیت ہے۔ انھیں گوشت کی طرح چبانا نہیں پڑتا اور ہضم کرنے میں وقت نہیں دینا پڑتا۔ امام صاحب قرآن مجید کے دلائل کو پانی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ پانی میں شفا ہے۔ یہ شیر خوار بچہ بھی پی سکتا ہے اور بوڑھا انسان بھی۔ متکلمین کے دلائل مقوی غذا کی مانند ہیں، جو صرف طاقتور ہی ہضم کر سکتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات طاقتور بھی اِن سے اپنا پیٹ خراب کر بیٹھتا ہے۔ غزالی ایک بار متکلمین کے دلائل کو دوا سے تشبیہ دیتے ہیں اور ایک بار مقوی غذا سے۔ دوا کی مثال سے سمجھ میں آتا ہے کہ اسے محض بیماری کی صورت میں لینا جائز ہے اور غذا کی مثال سے سمجھ میں آتا ہے یہ اُس کے لیے جائز ہے، جو اِس کی اہلیت اصلا رکھتا ہو۔ لکھتے ہیں:
فأدلَّةُ القرآن: مثلُ الغذاء ينتفعُ به كلُّ إنسانٍ، وأدلَّةُ المُتكلِّمينَ: مثلُ الدواء ينتفعُ به الآحادُ ويستضرُّ به الأكثرون، بل أدلَّةُ القرآن كالماء الذي ينتفعُ به الرضيعُ والرجلُ القويُّ، وسائرُ الأدلَّةِ كالأطعمة التي تنتفعُ بها الأقوياءُ مرَّةً ويمرضونَ بها أخرى، ولا ينتفعُ بها الصبيانُ أصلاً. (الجام العوام عن الکلام، امام غزالی)
”پس قرآن کی دلیلیں اس غذا کی مانند ہیں جس سے ہر انسان نفع اٹھاتا ہے، اور متکلمین کی دلیلیں اس دوا کی مانند ہیں جس سے چند افراد فائدہ پاتے ہیں اور اکثریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ بلکہ قرآن کی دلیلیں اس پانی کی طرح ہیں جس سے شیرخوار بچہ بھی مستفید ہوتا ہے اور طاقتور مرد بھی، جبکہ دیگر دلیلیں اُن کھانوں کی طرح ہیں جن سے طاقتور لوگ ایک بار فائدہ اٹھاتے ہیں تو دوسری بار بیمار پڑ جاتے ہیں، اور بچے انہیں اصلاً ہضم نہیں کر سکتے۔“
قرآن مجید کے یہ دلائل کونسی آیات میں مذکور ہیں، امام صاحب نے ”الجام“ میں اِن کی مثالیں بھی رقم کی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اِن آیات سے حاصل کرنی چاہیے، نہ کہ متکلمین کی دلیلِ حدوث سے۔ یہ قریب قریب پانچ سو کے قریب آیات ہیں، جو انہوں نے اپنی ایک کتاب ”جواہر القرآن“ میں جمع کی ہیں اور اِن میں سے چند ایک کو ”الجام“ میں نقل کیا ہے۔ اِن آیات کو رقم کرنے کے بعد، لکھتے ہیں:
ينبغي أن يعرفَ الخَلْقُ جلالَ الله الخالق وعظمتَه، لا بقول المتكلِّمينَ: (إنَّ الأعراضَ حادثةٌ، وإنَّ الجواهرَ لا تخلو عن الأعراض الحادثة، وما لا يخلو عن الأعراض الحادثة فهوَ حادثٌ، ثمَّ الحادثُ يفتقرُ إلى مُحدِثٍ) فإنَّ ذكرَ تلكَ التقسيماتِ والمقدماتِ وإثباتَها بأدلتِها الرسميَّة.. تُشوِّشُ قلوبَ العوامِ، والدلالاتُ الظاهرةُ القريبةُ مِنَ الأفهام على ما في القرآن.. تُقنعُهم وتُسكِّنُ نفوسَهُم، وتغرسُ في قلوبِهِم الاعتقاداتِ الجازمة. (الجام العوام عن الکلام، امام غزالی)
”انہی آیات کے ذریعے مخلوق کو خالق کا جلال اور عظمت معلوم ہونی چاہیے، نہ کہ متکلمین کے قول سے کہ: “اعراض حادث ہیں، جواہر اعراضِ حادثہ سے خالی نہیں، اور جو اعراضِ حادثہ سے خالی نہ ہو وہ حادث ہے، پھر حادث کو محدِث کی ضرورت ہے”۔ کیونکہ ان تقسیموں اور مقدمات کا ذکر عوام کے دلوں کو پراگندہ کر دیتا ہے، جبکہ قرآن میں موجود ظاہر اور فہم کے قریب دلالتیں انہیں مطمئن کرتی ہیں، نفوس کو سکون دیتی ہیں اور دلوں میں پکے عقائد راسخ کرتی ہیں۔“
امام صاحب نے دلیلِ حدوث کا بالخصوص ذکر کیا ہے۔ اس دلیل کی فنِ کلام میں جو حیثیت ہے، وہ سب کو معلوم ہے۔ امام صاحب بیک جنبشِ قلم اسے اٹھا کر پرے رکھ دیتے ہیں۔ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ نبی کی صداقت وجود باری تعالیٰ پر مبنی ہے اور وجود باری تعالیٰ کی معرفت کی کنجی دلیلِ حدوث ہے۔ امام صاحب انھیں خاطر جمع رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ آپ دلیل حدوث کو سنبھال کر رکھیں۔ خدا کی معرفت کے لیے قرآن مجید کی آیات کفایت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، نبی کی صداقت اور روز آخرت پر بھی قرآن مجید کی آیات جو استدلال پیش کرتی ہیں، وہ سب سے اعلی و ارفع ہے۔ اس کے بالمقابل ہر دلیل کمتر اور کمزور ہے۔ بلکہ یہ دلائل مخاطبین کے دلوں کو پراگندہ اور مزید الجھاتی ہیں۔ سبحان اللہ!
امام صاحب یہاں نہیں رکتے۔ بلکہ وہ فن کلام کی تاریخ کے اُس پہلو کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس سے لوگوں کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔ وہ کہتے ہیں کہ اہل کلام نے حقائق کے گرد ایسے سوالات، اشکالات اور توجیہات کے انبار لگا دیے جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس نے حقائق کے فطری ڈسپلے کو متاثر کیا اور ان کی جگہ مصنوعی سوالات اور مصنوعی جوابات نے لے لی۔ حق کی حقانیت کا اظہار ہو یا اس کی قبولیت، ان دونوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئی۔ یہ اِس وجہ سے ہوا کیونکہ غیر اہل لوگوں نے اس میدان میں دخل دیا اور جن امور کی ضرورت بھی نہیں تھی، انھیں تختہ مشق بنایا۔ امام صاحب احدث اور بدعت کے لفظوں سے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
وما أحدثَه المُتكلِّمونَ وراءَ ذلكَ مِنْ تنقيرٍ وسؤالٍ وتوجيه إشكالٍ، ثمَّ اشتغالٍ بحلِّه.. فهوَ بدعةٌ، وضررُه في حقِّ عموم الخَلق ظاهرٌ، فهوَ الذي ينبغي أن يُتوقَّى. والدليلُ على تضرُّر الخَلق به: المشاهدةُ والتجربةُ، وما ثارَ مِنَ الفتن بينَ الخَلق منذُ نبغَ المُتكلِّمونَ وفشَتْ صناعةُ الكلام، معَ سلامة العصر الأوَّل مِنَ الصحابة رضيَ الله عنهم عن مثل ذلك.
(الجام العوام عن الکلام، امام غزالی)
” اور جو کچھ متکلمین نے اس کے وراء چھان بین، سوال اور اشکال پیدا کرنے اور پھر اس کے حل میں مشغولیت کی صورت میں ایجاد کیا ہے، تو وہ بدعت ہے، اور عوام الناس کے حق میں اس کا نقصان ظاہر ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے بچنا چاہیے۔ اس سے مخلوق کو نقصان ہونے کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ ہے، اور وہ فتنے بھی جو لوگوں کے درمیان اٹھے، جب سے متکلمین پیدا ہوئے اور علمِ کلام کا فن پھیلا، جبکہ پہلے زمانے یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور ایسی چیزوں سے سلامت رہا۔“
امام صاحب کی تعریف میں متکلمین بھی عوام کی تعریف میں شامل ہیں۔ (دیکھیں الجام) آپ اندازہ کریں کہ وہ کس قدر احتیاط کے متقاضی ہیں۔ آج ہمارے پاس گلی کے ہر کونے پر ایک متکلم اور ایک فقیہ موجود ہے۔ ہمارے متکلمین لکھے زیادہ اور پڑھے کم ہیں۔ ان کے قلم کی رفتار ہوا سے بھی تیز ہے۔ کانٹ کا رد لکھنے بیٹھتے ہیں، تو ایک کے بعد ایک تنقید بلا سوچے سمجھے سامنے آتی ہے۔ پھر ایک کے بعد ایک احمد جاوید صاحب کا رد سامنے آتا ہے۔ لیکن کھکھ کا پتا نہیں کہ کانٹ کہہ کے کیا گیا ہے اور احمد جاوید ایمان کو ماننا کیوں کہتے ہیں اور ماننے میں جاننے کی جو حالت پائی جاتی ہے، اسے احمد جاوید صاحب کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ لیکن اِن نام نہاد متکلمین کا ایمان کو جاننا بھی ایسے ہے، جیسے ہم کرسی میز کو جانتے ہیں۔ جن کا پہلا مقدمہ ہی تشبیہ سے آلودہ ہو، انھیں شرک سے بچنے کی دعوت نہ دی جائے، تو کیا کِیا جائے۔ امام غزالی کے مخاطب ایسے ہی متکلمین ہیں۔




کمنت کیجے