لاہور ہائی کورٹ نے ایک مقدمے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ بیوی خواہ ہاؤس وائف ہو تب بھی میاں کی معاشی سرگرمیوں میں اس کی برابر کی معاونت شامل ہوتی ہے اس لیے طلاق کی صورت میں میاں کی جائیداد دونوں میں برابر تقسیم ہونی چاہیے. اس سلسلے میں حکومت کو مناسب قانون سازی کی ہدایت کی گئی ہے.
میں بوجوہ اس پر تفصیلی گفتگو نہیں کر سکتا تاہم چند نکات عرض کرنا چاہتا ہوں.
میرے مطالعے کے مطابق وصال نبوی کے بعد سب سے پہلا انحراف خواتین کے حقوق اور ان کے سماجی مرتبے کے حوالے سے ظاہر ہوا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو جو مقام عطا فرمایا تھا اجلہ صحابہ کے بقول بھی وہ عرب کی سماجی روایات میں قبولیت پانا آسان نہیں تھا. اگر عہد نبوی میں خواتین کے حقوق کو جاننا چاہیں تو ابو شقہ، ابو زہرہ، مصطفی المراغی، یاسین مظہر ندوی کو پڑھ لیجیے لیکن بہت جلد یہ رویہ سامنے آگیا کہ” اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج کے حالات کو دیکھتے تو خواتین پر فلاں فلاں پابندیاں عائد کر دیتے”
مجھے اس قول کی نسبت میں ہمیشہ شک رہا اور میں اسے ختم نبوت کے بنیادی تصور سے ہم آہنگ نہیں سمجھتا. مجھے لگتا ہے کہ کسی درسگاہ میں بیٹھ کر یہ خوبصورت قول وضع کر کے مقدس شخصیات کی طرف منسوب کر دیا گیا
تاہم جس قانون سازی کی سفارش عدالت نے کی ہے اس کے بارے میں چند مزید پہلو بھی پیش نظر رکھنے ضروری ہے؛
1_جن اہل علم کے نزدیک اولین حیثیت عالمگیری اور شامی کی ہے اور قرآن ثانوی حیثیت رکھتا ہے ان کے نزدیک تو ایسا کوئی بھی فیصلہ شریعت کے خلاف ہے.
2_ قرآن کی آیت متاع بالمعروف حقا علی المتقین اور امام حسن رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سےاس قانون کی تائید ہوتی ہے.
3_یاد رہے کہ یورپ کے بہت سے ملکوں اور کئی اسلامی ملکوں میں بھی یہ قانون رائج ہے لیکن اس سے فرار کے مختلف راستے بھی کھل گئے ہیں:
1_ بہت سے ملکوں میں جائیداد کے تقسیم ہونے کے سے بچنے کے لیے نکاح کے بغیر جوڑوں کا اکٹھے زندگی گزارنا اور اولاد پیدا کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا. مسلمان ملکوں میں فوری طور پر تو اس کا خطرہ نہیں لیکن ممکن ہے کہ ایلیٹ طبقہ یہی راہ فرار اختیار کرے.
2_بعض ممالک میں جب شوہر طلاق دینے کی نیت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنی جائیداد فروخت کر کے اپنے سارے اثاثے کسی دوسرے ملک میں منتقل کر دیتا ہے یا بے نامی کھاتے کھول لیتا ہے اس طرح بیوی کو حصہ دینے سے بچ جاتا ہے. ممکن ہے کہ کچھ ذہین لوگوں نے فرار کے کچھ اور راستے بھی تلاش کر لیے ہوں
اس سے بڑا ظلم کیا ہے کہ ایک بیوی جو 20 _30 سال سپیدہ سحر سے لے کر رات کے اندھیروں تک اپنے گھر اور شوہر کی ہر ضرورت، آسائش اور آرائش کے لیے خود کو وقف کیے ہوئے ہو ایک دن اگر اسے تین حرف کہہ کر گھر سے نکال کر دروازہ بند کر دیا جائے تو اس پر آسمان ٹوٹ پڑنا چاہیے.
ایک اور پہلو بھی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ کہ اسلام نے جو مہر کی شرط عائد کی ہے درحقیقت وہ خاتون کی انشورنس اور سوشل سیکیورٹی کا انتظام ہے جو اتنی مقدار میں ہونا چاہیے کہ بیوی نا مساعد حالات میں کچھ سال اس اثاثے سے بآسانی زندگی گزار سکے. بدقسمتی سے پیشہ ور فقہا کی تاویلات اور عیاش سرپرستوں کی خواہشات نے مہر کو جو قرآن کی رو سے قنطار ہو سکتا تھا اور احادیث کی رو سے باغات ہوتے تھے وہ صرف 32 روپے یا دو چار سو روپے تک محدود ہو گیا. ہمارے خیال میں اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جب کہ عرب ممالک میں اور پاکستان میں بھی پختون معاشروں میں نکاح اتنا ارزاں نہیں جتنا پنجابی سماج میں ارزاں ہو گیا ہے.
طلاق کی صورت میں میاں بیوی میں جائیداد کی تقسیم



کمنت کیجے