بسم الله الرحمن الرحیم
مکرم و محترم جناب حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب زید مجد کم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔
والد گرامی کے ارشاد پر میں نے چند اہم مسائل کے ضمن میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت تحریر کی تھی جو الشریعہ کے تازہ خصوصی شمارہ (جون 2014ء) میں شائع ہوئی ہے۔ یہ صفحات والد گرامی کی ہدایت پر آنجناب کے ملاحظہ کے لیے ارسال کیے جارہے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی مرتبہ خیال ہوا کہ میں نے دینی وعلمی مسائل پر اپنے ناقص فہم کی روشنی میں جو کچھ لکھا ہے، وہ راہ نمائی اور اصلاح کے لیے آنجناب کی خدمت میں ارسال کروں ، تاہم آنجناب کی مصروفیات اور عدیم الفرصتی کا خیال اس سے مانع رہا۔ بہر حال، اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنی تفصیلی مطبوعہ تحریریں اس غرض سے آپ کی خدمت میں روانہ کر سکتا ہوں ۔ آنجناب کے علمی مقام و مرتبہ کا رسمی طالب علمی کے زمانے سے قدردان اور متوازن فکر و مزاج کا ہمیشہ سے خوشہ چین رہا ہوں ۔ کسی مسئلے کے فہم یا اس کی تعبیر میں کوئی کجی محسوس فرمائیں تو آنجناب کی طرف سے اس کی نشان دہی میرے طالب علمانہ غور وفکر کے لیے بڑی اہم اور قیمتی ہوگی ۔
نیک دعاؤں کی درخواست کے ساتھ
محمد عمار خان ناصر
7جون 2014ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم الله الرحمن الرحیم
عزیز گرامی قدر جناب حافظ محمد عمار خان ناصر صاحب سلمہ اللہ تعالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا گرامی نامہ اور اس کے ساتھ آپ کا مضمون “میری اختلافی آراء اور ان کی علمی بنیاد” موصول ہوا، جس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔ آپ نے ان مسائل کے بارے میں یہ فرمائش بھی کی ہے کہ “فہم یا اس کی تعبیر میں کوئی کجی محسوس کروں تو اس کی نشاندہی کروں”۔
ان میں سے ہر مسئلے کے بارے میں تبصرے کی نہ فرصت ہے (کہ میں اس وقت بھی ایک سفر کے لیے پا بہ رکاب جیسا ہوں) اور ان پر علمی تبصرے کے لیے ایک خط کافی بھی نہیں ہو سکتا، البتہ چند اصولی باتیں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ آپ کے جد امجد قدس سره اور آپ کے والد گرامی حفظہ اللہ تعالیٰ سے بندہ کا جو نیاز مندانہ تعلق ہے اس کی بنا پر میں آپ کو اپنا بھتیجا سمجھوں تو شاید بعید نہ ہو، اور اسی تعلق اور “الدین النصح” کے پیش نظر گزارشات پیش کر رہا ہوں اور انتہائی درد مندی سے پیش کر رہا ہوں ،اگر ان پر غور فرما لیں تو شاید کسی طویل بحث کی ضرورت بھی نہ ہو۔ ماشاءاللہ آپ نوجوان ہیں، تازہ علم رکھتے ہیں، مطالعہ بھی وسیع ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو تحریر و انشاء کی صلاحیت بھی خوب عطا فرمائی ہے، اور بندہ ان میں سے اکثر صفات سے تہی دامن ہے، البتہ عمر بے شک بندے کی زیادہ ہے اور شاید تجربہ بھی، کہ میرے بال دین کے مختلف شعبوں کی طالب علمی اور مختلف تحریکوں اور افکار کے مطالعے اور جائزے ہی میں سفید ہوئے ہیں، اس لیے یہ گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل امور پر ٹھنڈے دل سے غور فرما لیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں۔ آمین۔
(1)میں نے آپ کا مضمون پڑھا، اور خالی الذہن ہو کر پڑھا ،اس میں متعدد امور ایسے ہیں جن میں جمہور امت سے ہٹ کر آپ نے اپنی رائے ظاہر فرمائی ہے۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا، ہر مسئلے کے دلائل پر گفتگو کے بغیر مضمون کا جو مجموعی طرز ِفکر ہے، وہ بندے کو نہایت خطرناک محسوس ہوتا ہے ،اس طرزِ فکر کے ساتھ انسان کسی بھی وقت کسی بھی بڑی گمراہی میں مبتلا ہو سکتا ہے ،جب ایک مرتبہ کوئی صاحب ِفکر اپنے آپ کو جمہور امت کے مسلمات سے آزاد ہو کر اپنی راہ الگ اختیار کر لیتا ہے اور یہ تصور کر لیتا ہے کہ وہ ان مسلمات کے بارے میں پہلی بار اصابت ِفکر کے ساتھ غور کر رہا ہے اور چودہ صدیوں میں علمائے امت اس انداز ِفکر سے محروم رہے ہیں تو اس کے اوپر کوئی روک باقی نہیں رہتی ،اور ماضی میں یہی طرز ِفکر نہ جانے کتنی گمراہیاں پیدا کر چکا ہے۔ طہ حسین سے لے کر سر سید تک ،اور وحید الدین خان صاحب سے لے کر جاوید غامدی صاحب تک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اپنے اپنے وقت میں اس قسم کے طرز فکر نے دلائل کا زور بھی باندھا ،لیکن امت اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر رفتہ رفتہ اسے رد کر کے اس طرح آگے بڑھ گیا کہ اس کا ذکر صرف کتابوں میں باقی رہ گیا، بالخصوص آج کے دور میں جس طرح کے افکار دین میں تحریف کے در پے ہیں، اس کے سوا سلامتی کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ انسان علمائے امت کے سواد اعظم سے اور جمہور امت کے مسلمات سے وابستہ رہے۔ بے شک انبیائے کرام علیہم السلام کے سوا کوئی معصوم نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہ ہونا چاہیے کہ انسان جمہور علماء امت کے مقابلے میں خود کو معصوم سمجھنے لگے اور یہ سمجھے کہ ان سب سے بیک وقت غلطی ہوئی ہے ، مجھ سے نہیں۔
لہذا میں آپ کو اپنا بھتیجا ہونے کے ناطے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس طرز ِفکر سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہترین صلاحیتوں سے نوازا ہے،انہیں جمہور امت کے دائرے میں رہتے ہوئے خدمت ِدین کے لیے استعمال کا بہت بڑا میدان موجود ہے، اسی میدان میں اس کو استعمال فرمائیں۔
(2)دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جن مسائل پر آپ نے اپنی” اختلافی آراء “کا اظہار فرمایا ہے،ان کے بارے میں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا آپ پر یہ فریضہ عائد ہوتا تھا کہ آپ ان مسائل پر اپنی اختلافی آراء کو ظاہر اور شائع کریں ؟ نیز یہ کہ ان افکار کی اشاعت سے فائدہ کیا حاصل ہوا؟ کیا اس پر کوئی عملی مسئلہ موقوف تھا جو ان کی اشاعت سے حل ہو گیا؟ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک فکری انتشار اور رد و قدح کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیاجس نے تفریق امت کے سوا کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ اگر آپ ان افکار کے حامل تھے بھی تو ان کی اشاعت نہ کرتے تو کیا نقصان ہوتا؟ مثلا اگر رجم یا ارتداد کی سزا کے بارے میں آپ اپنا موقف شائع نہ فرماتے تو کیا نقصان ہو جاتا؟
(3)آپ کا تعلق ایک ایسے متصلب گھرانے سے ہے جس نے ہمیشہ جمہور امت کے اتباع کو اپنا شعار قرار دیا ہے۔ آپ کے جد امجد قدس سرہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ،اور آپ کے والد گرامی کو میں امت کی قیمتی متاع سمجھتا ہوں اور ان کی شخصیت کے متنازع بننے کو امت کا عظیم نقصان ۔ آپ کے اس قسم کے افکار کی وجہ سے وہ جس آزمائش میں مبتلا ہو گئے ہیں، وہ کم از کم میرے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے ہمیشہ جمہور امت کی نمائندگی فرمائی ہے اور اب بھی وہ جمہور امت سے شذوذ کے حق میں نہیں ہو سکتے، لیکن آپ کی وجہ سے لوگوں کو انہیں نشانہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔
ان حالات میں بندہ کی سمجھ میں تو یہی آتا ہے کہ آپ اوّلاً تو یہ اعلان فرما دیں کہ میں نے جو کچھ لکھا یا آراء ظاہر کیں، وہ محض احتمال یا تجویز کے طور پر برائے نقد و تبصرہ ظاہر کی تھیں، لیکن میں ان تمام مسائل میں جن میں، میں نے جمہور سے ہٹ کر کوئی رائے ظاہر کی ہے ،جمہور کے قول کی طرف رجوع کرتا ہوں اور مجھے اپنی رائے پر کوئی جزم یا اصرار نہیں ہے، بلکہ جمہور کے مقابلے میں اسے متہم سمجھتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ انسان جس راستے پر سالہا سال چلتا رہا ہو، اس سے یک لخت منہ موڑ لینا نفس پر بہت بھاری ہوتا ہے،لیکن یہی انسان کی عظمت کی دلیل ہے کہ وہ اس بھاری بوجھ کو اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہو، اور اگر آپ کو اس اقدام میں پھر بھی تامل ہو تو میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ براہ ِکرم آپ اپنے افکار کے لیے کوئی دوسرا پلیٹ فارم استعمال کر لیں اور اپنی آراء کو اپنے والد گرامی سے ملتبس ہونے سے ہر قیمت پر بچائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سے بہت کام لیا ہے، ان پر اعتراضات کی اصل وجہ آپ بنے ہیں، ورنہ کسی کو ان پر انگشت نمائی کی جرات نہ ہوتی ،ان کی شخصیت کا تحفظ اور اس پر اعتماد کا تحفظ دوسری تمام مصلحتوں اور بالخصوص بے فائدہ آراء شاذہ کی نشر و اشاعت پر بدرجہا زیادہ فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں بایں فیوض سلامت رکھیں۔
(4)آپ نے اپنی دوسری تحریریں بھیجنے کی جو پیشکش کی ہے اس پر ضرور عمل فرمائیں ،تاکہ میں بوقت ضرورت ان سے استفادہ کروں، لیکن میری مندرجہ بالا گزارشات ان پر موقوف نہیں۔ایک بات آپ سے براہ راست پوچھنا بہتر ہے، اور وہ یہ کہ جناب جاوید غامدی صاحب کے اس اظہار کے بعد کہ اخبار آحاد سے دین کا کوئی نیا حکم ثابت نہیں ہو سکتا ،کیا آپ ان کے طرز ِفکر اور ان کے اجتہادات کو بھی اجتہادی اختلاف کے دائرے میں سمجھتے ہیں؟ اور ان سے تلمذ پر مطمئن ہیں؟
یہ چند منتشر خیالات انتہائی درد مندی سے اس امید پر پیش کر رہا ہوں کہ آپ ان پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے۔ اللہ تعالی گواہ ہے کہ مذکورہ بالا تحریر کا منشاء” الدین النصیحۃ” ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالی آپ کو توفیق خاص سے نوازیں۔ آمین۔
والسلام
محمد تقی عثمانی
شعبان 1435 20
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم الله الرحمن الرحیم
گرامی قدر جناب حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب زید مجد کم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے کہ مزاج عالی بخیر ہوں گے۔
آنجناب کا مکتوب گرامی رمضان المبارک سے تین چار روز قبل مل گیا تھا۔ تا ہم ایک تو آپ کے علیٰ غارب الاغتراب ہونے کی اطلاع سے اور دوسرے رمضان المبارک میں معمولات کی تبدیلی اور پھر رمضان کے فوراً بعد یونیورسٹی کی تدریسی و انتظامی مصروفیات کے باعث خواہش کے باوجود فوری طور پر جواب تحریر نہ کر سکا۔ اس کے لیے معذرت قبول فرمائیں۔
اگر چہ مجھے آنجناب سے معروف معنوں میں شرف تلمذ حاصل نہیں ہے، میں زمانہ طالب علمی سے اپنے دل میں آپ کے لیے محبت و احترام کے وہی جذبات محسوس کرتا آ رہا ہوں جو ایک شاگرد اپنے استاذ کے لیے محسوس کرتا ہے۔ تاہم آپ نے اس تعلق کو ایک زیادہ قریبی ، گہرے اور بے تکلف رشتےیعنی چچا بھتیجے کے رشتے کا عنوان دیا ہے جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔ اس ذرہ نوازی پر از حد ممنون ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کی یہ شفقت مجھے ہمیشہ اور بعض امور میں زاویہ نظر کا اتفاق نہ ہونے کے باوجود حاصل رہے گی۔ (اس توقع کی بنیاد دیگر امور کے علاوہ خاص طور پر آنجناب کا وہ تعزیتی شذرہ ہے جو مولا نا عبد الماجد دریا بادی مرحوم کی وفات پر لکھا گیا تھا)۔
مکتوب گرامی میں جو نکات ارشاد فرمائے گئے ہیں، ان سے متعلق کسی بالمشافہہ ملاقات میں تفصیلی وضاحت اور استفادہ شاید زیادہ مفید ہوتا، تاہم قریبی زمانے میں کراچی کے کسی سفر کا بظاہر امکان نہ ہونے کی وجہ سے یہ مناسب دکھائی دیتا ہے کہ زیر بحث امور سے متعلق ناچیز کے زاویہ نگاہ کے ضمن میں چند بنیادی باتیں تحریری شکل میں آنجناب کے سامنے پیش کر دی جائیں۔ مکتوب گرامی میں زیر بحث آنے والے بعض علمی امور سے متعلق نسبتاً تفصیل سے جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے ، ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں ہو سکتی جو آنجناب کے لیے نئی ہو یا پہلے زیر غور نہ آئی ہو۔ اس لیے ان معروضات سے متعلق آپ کے علم میں اضافہ کی خواہش کی یا ارشادات پر کسی “معارضہ” کی بدگمانی نہیں ہونی چاہیے۔ مقصود ایک تو یہ ہے کہ آنجناب نے اتنی شفقت اور خیر خواہی کےساتھ اپنے قیمتی وقت کا جو حصہ ایک طالب علم کی اصلاح کے دردمندانہ جذبے سے صرف فرمایا ہےاور بعض امور سے متعلق استفسار بھی فرمایا ہے ،سرسری جواب سے اس کی ناقدری یا اہمیت نہ دیے جانے کا تاثر نہ ہو اور دوسرا یہ کہ جب آنجناب کے علم و تفقہ اور تجربہ سے استفادہ مطلوب ہے تو پھر اپنے ذہنی رجحانات اور ان کی فکری بنیادیں واضح طور پر اور بے تکلف طریقے سے آنجناب کے علم میں لے آئی جائیں۔ اگر میری نااہلی کی وجہ سے کوئی بھی بات خلافِ ادب محسوس ہو تو میں پیشگی اس کی معافی چاہتا ہوں اور اس سے صرفِ نظر کی درخواست کرتا ہوں۔
1۔آنجناب نے جمہور اہل علم سے مختلف فکری راہ اپنانے والے افراد اور گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ “اپنے اپنے وقت میں اس قسم کے طرزِ فکرنے دلائل کا زور بھی باندھا، لیکن امت اسلامیہ کا اجتماعی ضمیر رفتہ رفتہ اسے رد کر کے اس طرح آگے بڑھ گیا کہ اس کا ذکر صرف کتابوں میں باقی رہ گیا”۔
آنجناب کا یہ ارشاد سو فی صد درست ہے اور اس سے اختلاف کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ۔ یقینا کسی بھی موقف، نقطہ نظر اور استدلال کی قوت و ضعف یا قبولیت و عدم قبولیت کا حتمی فیصلہ امت کا مجموعی علمی مزاج ہی کر سکتا ہے اور اسی کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ اس بنیاد پر میں نے اصرار کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ مسلمان معاشروں میں عملی قانون سازی کی بنیاد اسی رائے کو بنانا چاہیے جسے جمہور اہل علم کی تائید حاصل ہو۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ میرا یہ طالب علمانہ احساس ہے کہ ابتدائی تین چار صدیوں میں اُس وقت کی فقہی روایت میں اہل علم کے غور و فکر اور تسلسل سے جاری رہنے والے بحث ومباحثہ کے نتیجے میں جن بہت سے امور پر ایک عمومی اتفاق رائے پیدا ہو گیا تھا ، دور جدید میں عملی حالات کے تغیر اور قرآن وسنت پر براہ راست غور وفکر کے احیا کے نتیجے میں انھی مسائل کی تعبیرِ نو کے نئے امکانات نہ صرف علمی و نظری سطح پر سامنے آچکے ہیں، بلکہ عرب و عجم میں اہل علم کی ایک معتد بہ تعداد نے ان مسائل کو علمی بحث و مباحثہ کا موضوع بھی بنا دیا ہے۔ اس وجہ سے ان تمام مسائل کو از سرنو کھلے علمی بحث و مباحثہ کا موضوع بنانا نہ صرف ایک علمی و نظری تقاضا ہے بلکہ ان مباحث کے موجودہ علمی ڈسکورس کا ایک حصہ بن جانے کی وجہ سے ان سے سنجیدہ اعتنا ایک عملی تقاضے کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔
روایتی تعبیرات ہی کو درست اور حتمی سمجھنے والا حلقہ فکر اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ اس حلقے کی طرف سے ان مسائل کے ساتھ عدم اعتنا کا رویہ اختیار کرنے سے مباحث ختم نہیں ہو جائیں گے۔ ان نئے رجحانات کو معتزلہ وغیرہ کے طرز فکر کے ہی مماثل سمجھ لیا جائے اور یہی فرض کر لیا جائے کہ آخر کار یہ بھی کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائیں گے، لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ ماضی میں معتزلہ کے اٹھائے ہوئے مباحث کا خاتمہ محد ثین کے اختیار کردہ طرزِ عمل کے نتیجے میں نہیں، بلکہ متکلمین کے فکری منہج کے ذریعے سے ہوا تھا۔ کیا آنجناب یہ سمجھتے ہیں کہ معاصر تناظر میں اس نوعیت کے مباحث سے محض گریز اختیار کرنے اور انہیں کوئی اہمیت نہ دینے کا نتیجہ ان سب سوالات کے خود بخود ختم ہوتے چلے جانے کی صورت میں نکل آئے گا ؟
جہاں تک جمہور سے اختلاف کے طرز ِفکر کا نتیجہ بعض صورتوں میں فکری گمراہی کی صورت میں نکلنے کی بات ہے تو بطور واقعہ اس سے بھی کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا، لیکن میرا اشکال یہ ہے کہ کیا اس بات کو سرے سے جمہور سے علمی اختلاف کی گنجائش یا بعض امور پر از سر نو غور وفکر کی ضرورت کی نفی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے ؟ محترم مولانا مفتی عبد الواحد صاحب کی ایک تنقید کے جواب میں راقم نے عرض کیا تھا کہ :
اس سے انکار نہیں کہ پہلے کی طرح ان نئی آرا ءمیں بھی راہ ِراست سے انحراف اور اختلاف کے جائز حدود سے تجاوز کی مثالیں پائی جائیں گی، لیکن یہ کوئی معقول طریقہ نہیں ہے کہ آپ جسم کو پھوڑے سے بچانے کے لیے خود جسم ہی کی فطری نشو و نما کا راستہ روک دیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کی علمی روایت کی پختگی اور صلابت پر ہمارا یقین روایتی طرز فکر کے علماء سے زیادہ ہے، اس لیے کہ علماء کوئی بھی نئی رائے سامنے آنے پر فوراً اس خوف کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس سے دین وشریعت کی تحریف کا راستہ کھل جائے گا، جبکہ ہمیں اس بات پر پورا اطمینان ہے کہ کوئی ایسی رائے جو ہماری علمی روایت کے بنیادی مسلمات اور اس کے فکری مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو، اس روایت کے اندر اپنی جگہ بناہی نہیں سکتی۔ یہ روایت اتنی مستحکم اور مضبوط ہے کہ ہم جیسے طالب علموں کا تو کیا شمار ، اگر ابن تیمیہؒ اور شاہ ولی اللہؒ کی سطح کے اکابر بھی ایسی کوئی بات کہیں گے تو علمی روایت اسے صاف صاف اگل دے گی ۔ (براہین ، ص 169)
پھر اہم بات یہ ہے کہ خود روایتی طرز ِفکر سے وابستہ اہل علم نے بہت سے اہم اور بنیادی امور سے متعلق روایتی تعبیرات پر ایک خاموش نظر ثانی کی ہے اور ان کے مقابلے میں نئے اجتہادات یا ماضی کی بعض “شاذ” آراء کو قبول کیا ہے۔ کم سے کم ایک آدھ مسئلے ( مثلاً حدود میں خواتین کی گواہی قبول کرنے ) کے ضمن میں تو آنجناب بھی جمہور کی رائے سے مختلف نقطہ نظر پر غور و فکر کی گنجائش تسلیم فرما چکے ہیں۔ راقم نے 2009 ء میں ماہنامہ وفاق المدارس کے تبصرے کے جواب میں اپنی تحریر میں ، جواَب براہین میں شامل ہے، اس نوعیت کی متعدد مثالیں جمع کی تھیں ۔ جب بہت سے امور میں مسلمہ یا مقبول عام روایتی مواقف سے مختلف نقطہ نظر اختیار کرنے کی مثالیں خود اس روایت کے اندر موجود ہیں جس سے ہم خود کو وابستہ قرار دیتے ہیں تو پھر نئی آراء اور نئے رجحانات کی مطلقاً نفی کر دینے کا رویہ اور کسی بھی نئی بحث کو (بالخصوص جو کسی غیر روایتی حلقے کی طرف سے سامنے آئے ) “اسلاف کے فہمِ دین کے خلاف” کہہ کر جھٹک دینے کا رویہ اپنے لیے کیا علمی جواز رکھتا ہے؟ اگر آنجناب کے لیے فرصت کے کسی وقت میں مذکورہ مثالوں کو ملاحظہ کر کے میرے اس اشکال کےحوالے سے راہ نمائی فرمانا ممکن ہو تو از حد ممنون ہوں گا۔
اس نکتے کی طرف بھی آنجناب کی توجہ مبذول کروانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کی بحث کے استثناء کے ساتھ، راقم الحروف نے جتنےبھی مسائل پر اظہار رائے کیا ہے، ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جسے معاصر تناظر میں، میں پہلی مرتبہ زیر بحث لا رہا ہوں۔ تمام امور وہ ہیں جو معاصر علمی دنیا میں پہلے سے موضوع بحث ہیں اور انہیں اس وقت عرب و عجم میں فقہی بحث و مباحثہ کے زندہ موضوعات کی حیثیت حاصل ہے۔ نفس کے شرور سے کسی کو عصمت حاصل نہیں لیکن میں اپنے ضمیر کی حد تک اطمینان رکھتا ہوں اور آنجناب کو بھی دلاتا ہوں کہ ان امور پر اظہارِ خیال کا محرک ہرگز ہرگز کسی علمی انفرادیت کا اظہار نہیں اور نہ بعض امور میں جمہور سے مختلف نئی آراء کی طرف رجحان ظاہر کرتے ہوئے خدانخواستہ ماضی کی علمی روایت پر بے اعتمادی کا اظہار یا اس کے استخفاف کا رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کی بحث کا معاملہ مختلف ہے۔ میرے علم کی حد تک یہ سوال پہلی مرتبہ میں نے ہی اٹھایا ہے، لیکن قرآن وسنت کی روشنی میں اس مسئلے کے جملہ متعلق پہلووں پر تفصیلی غور وفکر کے بعد میں دیانت داری سے جس نتیجے پر پہنچا، اسے اپنا علمی اور اخلاقی فریضہ خیال کیا کہ دلائل کے ساتھ اسے غور و فکر کے لیے اہل علم کے سامنے پیش کردوں ۔ شرور نفس اور اعجاب سے حفاظت کی دعا خود بھی ہمیشہ مانگتا ہوں اور آنجناب سے بھی استدعا کرتا ہوں کہ میرے لیے اس کی دعا فرماتے رہیں۔ آمین
2۔ آنجناب کے اس ارشاد کی معنویت واضح نہیں ہو سکی کہ اگر بعض مسائل ( مثلاً ارتداد یا رجم وغیرہ) پر اظہار رائے یا بحث و مباحثہ پر اس وقت کوئی عملی نتیجہ مرتب نہیں ہورہا تو ان پر بحث کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے طالب علمانہ فہم کے مطابق علمی و نظری بحث و مباحثہ کا دائرہ تو بہت وسیع ہے اور علمی مسائل پر اظہار رائے کے لیے عملی صورت حال کی محدودیتوں کو معیار بنانے کا طریقہ شاید امت کی تاریخ میں کبھی اختیار نہیں کیا گیا اور نہ یہ طریقہ علمی بحث و نظر کے مزاج کے ساتھ ہی مناسبت رکھتا ہے۔ اگر علمی موضوعات پر گفتگو کو اسی معیار پر جانچا جائے تو کیا اس اصول کی روشنی میں مذکورہ مسائل پر روایتی موقف کے دفاع کے لیے کی جانے والی بحثیں بھی بے فائدہ قرار نہیں پاتیں؟ آخرارتداد کی سزا اور رجم وغیرہ کے حق میں ہمارے ہاں جو مفصل بحثیں ہوئی ہیں اور اب تک ہو رہی ہیں، ان پر کوئی فوری عملی نتیجہ مرتب ہوا ہے یا مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نظر آتا ہے؟ ظاہر ہے، ان بحثوں کا مقصد اور افادیت یہی ہے کہ علمی و نظری سطح پر موضوع منقح ہو جائے اور سوالات و اشکالات کا جواب دے دیا جائے تا کہ صحیح بات کم سے کم علمی طور پر واضح اور مبرہن ہوجائے۔یہی گنجائش ان مسائل پر روایت سے مختلف مؤقف رکھنے والے حلقہ ہائے فکر کے لیے بھی مانی جانی چاہیے۔
میرے ناقص خیال میں تو مستقبل قریب یا بعید میں ان مسائل پر کوئی عملی نتیجہ مرتب ہونے کا وقت آنے سے پہلے یہ بے حد ضروری ہے کہ نظری طور پر ان مباحث کی تنقیح کا عمل پہلے سے جاری ہو اور بحث و مباحثہ کے نتیجے میں مختلف رجحانات، مواقف اور دلائل ایک واضح شکل اختیار کر چکے ہوں ۔ ماضی میں ائمہ احناف کی “فقہ تقدیری” پر بھی کم و بیش اسی نوعیت کا اعتراض اٹھایا گیا تھا، لیکن ہم یہ کہہ کر ہمیشہ اس کا دفاع کرتے آئے ہیں کہ آگے چل کر اہل علم کو جن مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، ان پر قبل از وقت غور و فکر اوران کی تنقیح بھی ایک علمی ضرورت کا درجہ رکھتی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دور جدید میں بہت سے مسائل پر پورے عالم اسلام میں روایتی فقہی مواقف سے مختلف جو نئے رجحانات سامنے آچکے ہیں ، ان پر کھلے بحث و مباحثہ سے گریز کا رویہ اختیارکرنے یا یہ کہہ کر کہ ان بحثوں کا عملی فائدہ آخر کیا ہے ،انہیں ٹالنے سے اس ضمن کے علمی تقاضے پورے کیے جاسکیں گے؟
3۔ اخبار آحاد سے متعلق جناب جاوید احمد غامدی کے نقطہ نظر کے حوالے سے گذارش یہ ہے کہ اگر اخبار آحاد سے دین کا کوئی نیا حکم ثابت نہ ہونے کا مطلب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ خبر واحد، قرآن سے” زائد” کسی حکم کے لیے ماخذ نہیں بن سکتی تو یقیناً یہ بات اہل السنۃ والجماعہ کے فکری منبج سے ہٹی ہوئی ہے، لیکن یہ بات بھی اتنی ہی یقینی ہے کہ مذکورہ جملے سے غامدی صاحب کا مدعا ہرگز یہ نہیں ۔ مجھے اس موضوع پر “المورد” میں دسیوں طویل نشستوں میں ان کا موقف براہ راست سمجھنے کا موقع ملا ہے اور ان کا تصنیفی کام بھی مذکورہ جملے کی اس تعبیر کی کلی طور پرنفی کرتا ہے۔ “دین کے نئے حکم” سے غامدی صاحب کی مراد “قرآن سے زائد حکم “نہیں، بلکہ دین کا ایسا مستقل بالذات حکم ہے جو کسی بھی اعتبار سے قرآن کے حکم پر مبنی اور اس سے متعلق نہ ہو سکتا ہو۔ غامدی صاحب کے نزدیک اخبار آحاد میں بیان ہونے والے تمام احکام قرآن مجید یا سنت متواترہ کے احکام کی تفصیل و تفریع سے عبارت ہیں اور قرآن سے بظاہر زائد دکھائی دینے والے احکام بھی اپنی لم کے اعتبار سے قرآن ہی کے حکم کی توسیع ہیں۔ مثال کے طور پر پھو پھی اور بھتیجی کو ایک نکاح میں جمع کرنے کے حکم کو انہوں نے اس بنیاد پر رد نہیں کر دیا کہ یہ قرآن سے زائد ہے، بلکہ اس کی یہ توجیہ کرتے ہوئے اسے بھی شریعت کا ایک واجب الاتباع حکم قرار دیا ہے کہ یہ دین کا کوئی نیا حکم نہیں، بلکہ قرآن نے جمع بین الاختین کی جو ممانعت بیان کی ہے، اس پر مبنی اور اسی اخلاقی اصول کی توسیع ہے۔ اسی طرح “القاتل لا یرث” کی حدیث ان کے نزدیک کوئی نیا حکم نہیں، بلکہ قرآن نے وراثت کے تعلق کے لیے “اقرب لكم نفعا” کی جو بنیاد بتائی ہے، اسی سے مستنبط ہے۔ یہ محض ایک دو مثالیں ہیں، ورنہ ” میزان” میں ہر جگہ انہوں نے شریعت کی تفصیل و تشریح کرتے ہوئے قرآن اور سنت متواترہ سے ثابت احکام کے ساتھ ساتھ ان کے تحت اخبار آحاد سے ثابت شدہ احکام کا بھی اہتمام اور التزام کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اصل اور فرع کے باہمی تعلق کو بھی واضح کیا ہے۔
دین میں اخبار آحاد کی حیثیت کے حوالے سے غامدی صاحب کے نقطہ نظر پر “الشریعہ” میں تفصیلی بحثیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایک موقع پر والد گرامی کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اعتراضات و اشکالات کے جواب میں غامدی صاحب نے اپنے موقف کی وضاحت کی تھی اور یہ واضح کیا تھا کہ وہ قرآن پر مبنی ہونے کی بنیاد پر اخبار آحاد کو نہ صرف فروعی شرعی احکام بلکہ اعتقادی امور کی جزوی تفصیلات میں بھی ماخذ تسلیم کرتے ہیں۔ یہ دونوں تحریریں آنجناب کے ملاحظہ کے لیے اس خط کے ساتھ منسلک کی جارہی ہے۔
4۔جہاں تک الشریعہ کے ساتھ میری وابستگی اور اس کی وجہ سے میرے فکری رجحانات کی زد والد گرامی کی شخصیت پر پڑنے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں،میں حسب ذیل گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا:
الف۔ والد گرامی سے متعلق مختلف حلقوں کی طرف سے گذشتہ چھ سات سال ( اور بالخصوص حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ) سے جو مخالفانہ مہم جاری ہے، اس میں بنیادی نکتہ اعتراض میری “الشریعہ” سے وابستگی نہیں، بلکہ والد گرامی کا یہ طرزِ فکر ہے کہ وہ دوسرے مکاتب ِفکر اور ان کی نمائندہ شخصیات کے طرزِ فکر کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں ، اہل علم کے لیے جمہور سے مختلف آراء قائم کرنے کو ان کا علمی حق اور اس نوعیت کی آراء کو ان کے علمی تفردات قرار دے کر ان کے احترام کی بات کرتے ہیں ، اہل سنت کے منہج سے منحرف گروہوں کی تکفیر وتضلیل کے بجائے حتی الامکان بحث و مکالمہ اور افہام و تفہیم کے ذریعے سے انہیں رجوع کا موقع دینے کو ترجیح دیتے ہیں، اجتماعی علمی وفکری اور عملی مسائل میں روایتی مذہبی فکر اور دور جدید کے غیر روایتی حلقہ ہائے فکر کے مابین باہمی استفادہ اور مکالمہ کے قائل ہیں، معاصر تناظر میں روایتی طور پر مسلمہ علمی تعبیرات سے اختلاف رکھنے والے حلقوں کے لیے بھی رائے دہی اور علمی مباحثہ میں شرکت کا حق تسلیم کرتے ہیں اور انہوں نے “الشریعہ “کو مباحثہ و مکالمہ کے لیے ایک “آزاد فورم “کی حیثیت دے کر فکری انتشار اور گمراہی پھیلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے۔ الشریعہ سے میری وابستگی کو والد گرامی کے اس طرزِ فکر کی ایک نمایاں نشانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم اعتراضات اور مخالفانہ مہم صرف ایک نکتے پر منحصر نہیں ۔ 2009ء میں ماہنامہ وفاق المدارس میں شائع ہونے والے تبصرے ،مختلف اطراف سے سامنے آنے والی متفرق تحریروں اور مستقل کتابوں سے لے کر حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ کے حالیہ فتوے تک، ہر جگہ آپ کو فر دقرارداد جرم یہی ملے گی جو عرض کی گئی ہے۔ایسی صورت حال میں یہ تجزیہ کہ اس سارے معاملے کی بنیادی ذمہ داری تنہا مجھ پر عائد ہوتی ہے، شاید نظر ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔
ب ۔ آزادانہ بحث و مباحثہ کے حوالے سے “الشریعہ” کی پالیسی یک طرفہ طور پر میری وضع کردہ نہیں۔ اس کی بنیاد خود والد گرامی نے رکھی ہے اور ان کی طے کردہ اس پالیسی کے تحت ہی میں بطور مدیر اس میں اشاعت کے لیے مختلف علمی موضوعات اور بحثوں کا انتخاب کرتا ہوں۔ گزشتہ دس بارہ سال میں اس ضمن میں مختلف اطراف سے ہونے والی تنقیدات کے جواب میں” الشریعہ” کی پالیسی کی وضاحت ، اس کی ضرورت واہمیت اور اس حوالے سے مختلف اشکالات کے جوابات پر مشتمل دسیوں مفصل تحریریں بھی “الشریعہ” کے صفحات پر میرے قلم سے نہیں، بلکہ والد گرامی ہی سے قلم سے نکلی ہیں جن کا ایک انتخاب “الشریعہ” کی حالیہ خصوصی اشاعت میں یکجا کر دیا گیا ہے۔
ج ۔ راقم الحروف کی مخصوص اختلافی آراء کے لیے “الشریعہ” کو کبھی خصوصی طور پر پلیٹ فارم بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ میری تصانیف “حدود تعزیرات”، “جہاد” اور “براہین” میں سے ایک بھی الشریعہ اکادمی کی طرف سے شائع نہیں ہوئی ۔ کتابی صورت میں اشاعت سے قبل بھی جہاد اور حدود تعزیرات کے مباحث “اشراق” ہی میں چھپتے رہے ہیں، جبکہ مولانا مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کے جواب میں نیز توہین رسالت کے موضوع پر لکھے جانے والے کتابچے بھی میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں شائع کیے تھے۔ “الشریعہ” میں اگر بعض مواقع پر میری کچھ تحریریں چھپی ہیں تو مباحثہ و مکالمہ کی اس عمومی پالیسی کے تحت چھپی ہیں جس کے تحت زیرِ بحث موضوع پر کسی بھی نقطہ خیال کا حامل لکھاری اپنی تحریر شائع کرواسکتا ہے۔ پھر یہ کہ والد گرامی نے بار بار اپنی تحریروں میں یہ وضاحت کی ہے کہ عمار کی آراء اس کی شخصی اور ذاتی آرا ہیں جن سے ان کا یا بطور ادارے کے “الشریعہ” کا اتفاق ہرگز ضروری نہیں۔ ان تمام حقائق کے تناظر میں، میں یہ عرض کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں کہ میرے متعلق “الشریعہ” کو اپنے ذاتی اور شخصی افکار کے فروغ کا ذریعہ بنانے یا اپنی ذاتی آراء کو والد گرامی کے طرزِ فکر کے ساتھ ملتبس کرنے کی رائے شایدصورت حال کی براہ راست تحقیق کے بجائے عمومی تاثر کی بنا پر قائم فرمائی گئی ہے۔
د۔ میرے “الشریعہ” سے وابستہ رہنے اور اس کی ادارت کی ذمہ داری کے تسلسل کا فیصلہ بھی اصلاً میرا نہیں، بلکہ والد گرامی کا ہے۔ میں ان آٹھ دس سالوں میں متعدد مواقع پر زبانی اور تحریری طور پر ان سے یہ گذارش کر چکا ہوں کہ مجھے اس ذمہ داری سے سبک دوش کر دیا جائے تا کہ اعتراضات و تنقیدات کی شدت میں کچھ تو کمی آئے، لیکن والد گرامی اس پر راضی نہیں ہوئے۔ ان کا فرمانا ہے کہ مخالفانہ اور تنقیدی مہم اس کے باوجود جاری رہے گی، کیونکہ یہ بنیادی طور پر اس مخصوص حلقے کی طرف سے شروع کی گئی ہے جو ٹھیٹھ مسلکی دائرے سے اٹھ کر امت کی اجتماعی علمی و فکری ضروریات کا نہ تو ادراک رکھتا ہے اور نہ اس سطح پر مخالف فکری رجحانات کے ساتھ علمی بحث و مباحثہ میں شرکت کو ذہنی طور پر قبول کرتا ہے۔
اگر محض راقم الحروف کے “الشریعہ” سے الگ ہو جانے سے والد گرامی کی شخصیت اور “الشریعہ” کی پالیسی کے حوالے سے معترضین کے اعتراضات رفع ہو جاتے ہوں تو میں اس سے پہلے بھی اس کے لیے آمادہ تھا اور اب بھی ایک لمحے کے توقف کے بغیر اس کے لیے تیار ہوں، لیکن اگر میری حیثیت موجودہ سیٹ اپ میں والد گرامی کے طرزِ فکر میں ان کے معاون کی ہے اور وہ خود اس وابستگی کو قائم رکھنا مناسب اور باعث سہولت سمجھتے ہیں تو آپ ہی فرمائیے کہ کیا اس صورت حال میں میرا ان کا ساتھ چھوڑ کر “الشریعہ” کی ادارت کی ذمہ داری سے الگ ہو جانا اخلاقی طور پر کوئی مثبت یا قابل تحسین عمل ہوگا ؟
۵۔ چند معروضات اس حوالے سے بھی پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں کہ اس صورت حال کا کیا کوئی ممکنہ حل ہو سکتا ہے؟
تنقیدی مہم کا بنیادی محرک ، جیسا کہ عرض کیا گیا، علمی وفکری مسائل میں والد گرامی کا توسع ، امت کے دوسرے علمی طبقات اور مکاتب فکر کے حوالے سے ان کار وادارانہ طرز فکر اور آزادانہ بحث و مکالمہ کے ضمن میں “الشریعہ” کی پالیسی ہے۔ جیسا کہ حالیہ خصوصی اشاعت میں بالتفصیل واضح کیا گیا ہے، والد گرامی کا اندازِ نظر حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی زندگی میں بھی وہی تھا جو آج ہے اور یہ چیز بالکل واضح اور سب حضرات کی نظر میں تھی، اور بعض حضرات دبے لفظوں میں اس پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔ میں نے کوئی بیس بائیس برس قبل طالب علمی کے زمانے میں نجی گفتگوؤں میں جب بعض ایسے خیالات کا اظہار کیا جو علماء دیوبند کی تحقیقات کے مطابق قابلِ اعتراض تھے تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عم مکرم مولانا عبد الحق خان بشیر نے فرمایا تھا کہ اگر مولانا زاہد الراشدی خود حضرت والد صاحب کے دائرہ فکر سے “اتنا” باہر نکلے ہیں تو اگلی نسل تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی زیادہ باہر نکلے گی۔ اس لیے یہ الزام تو کسی بھی لحاظ سے درست نہیں کہ والد گرامی کے ہاں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی وفات کے بعد کوئی انحراف پیدا ہوا ہے، البتہ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا نکتہ اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ حضرت شیخ الحدیث کی زندگی میں والد گرامی کے اس طرز ِفکر وعمل کو ان کے ذاتی اور انفرادی طرز فکر کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور بہت سے حضرات اس حوالے سے تحفظات رکھنے کے باوجود اس کو زیادہ اہم نہ سمجھتے ہوئے بآسانی نظر انداز کر دیتے تھے، لیکن حضرت رحمہ اللہ کے جانشین کی حیثیت سے اس طرزِ فکر کا تسلسل اس حلقے کی مخصوص ذہنی ترجیحات کے لحاظ سے قابل قبول نہیں ہے۔
خود حضرت رحمہ اللہ نے تو اس نکتے کو خاص اہمیت نہیں دی کہ ان کے حلقہ ارادت میں شامل ایک طبقہ ان کے جانشین کے طور پر ایک ایسی شخصیت کو دیکھنا پسند کرے گا جس کی علمی دلچسپیوں اور ترجیحات کا بنیادی دائرہ مسلکی ہو اور جو جزئیات تک میں حضرت رحمہ اللہ کی آراء اور ترجیحات کا مقلد ہو ،لیکن والد گرامی جیسے، وسیع تر علمی و فکری دائرے سے دلچسپی رکھنے والے شخص کا ان کا جانشین قرار پانا بہر حال ایک مخصوص حلقے کو مسلکی ترجیحات سے متصادم محسوس ہوتا ہے۔ اب تک کی صورت حال کا غائر نظر سے جائزہ لیا جائے تو تمام تر سوالات، تحفظات اور تنقیدات کے پیچھے یہی نکتہ کارفرما دکھائی دے گا۔ اگر والد گرامی کو حضرت کی طرف سے جانشین مقر نہ کیا گیا ہوتا تو ان کا پہلے سے چلا آنے والا طرز عمل کسی کڑی نگرانی بلکہ شاید توجہ کی زد میں بھی نہ آتا، لیکن اپنی مخصوص فکری ترجیحات کے ساتھ ان کو جانشینی کے منصب پر فائز کرنے کے فیصلے نے ایک مستقل سوال کو جنم دے دیا ہے جو بعض حلقوں کی طرف سے مسلسل اٹھایا جا رہا ہے اور بظاہر اس بحث کا خاتمہ ہونے والا دکھائی نہیں دیتا۔
اس الجھن کا ایک حل تو وہ ہے جو والد گرامی کے مختلف ناقدین تجویز کر رہے ہیں، یعنی یہ کہ والد گرامی اپنے اس طرز فکر و عمل سے دست بردار ہو کر، جسے وہ اپنی دیانت دارانہ رائے کی بنیاد پر اب سے نہیں، سالہا سال سے اختیار کیے ہوئے ہیں، ناقدین کے فہم اور ان کی طے کردہ حدود کے مطابق حضرت رحمہ اللہ کے طرز ِفکر اور ترجیحات کی پابندی کو قبول کر لیں اور اپنے ذاتی طرز فکر کو “انحراف ” تسلیم کرتے ہوئے اس سے تائب ہونے کا اعلان کر دیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ طریقہ سیدھا سیدھا “منافقت” اختیار کرنے کے مترادف ہے اور شرعی اور اخلاقی کسی بھی لحاظ سے کوئی جواز نہیں رکھتا۔
ایک دوسرا حل یہ ہو سکتا ہے کہ عملی مصلحت کے تناظر میں اور بہت سے حضرات کی دل جوئی نیز رفع نزاع کی خاطر جانشینی کے سوال پر ازسر نو غور کر لیا جائے ۔ اگر ایک مخصوص حلقے کی ذہنی و نفسیاتی تسکین کے لیے حضرت رحمہ اللہ کے خاندان اور اکابر علماء کے عمومی اتفاق سے کسی متبادل جانشین کا انتخاب کیا جا سکے تو شاید اس بحث سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن مجھے توقع نہیں کہ اس تجویز پر کسی بھی سطح کے سنجیدہ وفہمیدہ اور ذمہ دار حضرات غور بھی کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ حضرت کے خاندان میں مسلکی ذوق و مزاج رکھنے والے جن حضرات کا نام متبادل جانشین کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ، ان کے متعلق میں یقین کے ساتھ عرض کر سکتا ہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں گے۔ ہاں، خاندان کے بعض نو خیز حضرات کے متعلق گمان یہی ہے کہ اگر انہیں پیش کش کی جائے تو وہ اس منصب کو قبول کرنے کے لیے، انگریزی محاورے کے مطابق ، more than willing ہوں گےاور خواہ مخواہ کسی مصلحت ، حفظ مراتب، کسر نفسی یا لومۃ لائم کے خوف وغیرہ کو ہرگز آڑے نہیں دیں گے۔
خلاصہ یہ کہ اس نزاع کے خاتمے کی بظاہر دو ہی قابل عمل صورتیں دکھائی دیتی ہیں: ایک یہ کہ والد گرامی اپنے ذاتی طرز ِفکر سے دست برداری قبول کر کے ناقدین کے فہم اور ان کی ترجیحات و تعبیرات کے مطابق علماء دیو بند کے منہج کی پابندی قبول فرمالیں۔ دوسری یہ کہ اگر والد گرامی اس کے لیے آمادہ نہ ہوں تو حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی جانشینی کے معاملے پر، جو اصل استخوانِ نزاع ہے، آنجناب جیسے اکابر اور خاندان کے ذمہ دار حضرات کی مشاورت سے نظر ثانی کر لی جائے۔ اگر یہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں تو پھر میرے خیال میں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس بحث کو بھی دوسری بہت سی بحثوں کی طرح ایک اختلافی بحث کے طور پر قبول اور گوارا کر لیا جائے جس میں فریقین دیانت داری سے جس طرزِ عمل کو درست سمجھتے ہیں، اسے اختیار کیے رکھیں اور اپنے اپنے ذوق اور مزاج کے مطابق اسے پیش بھی کرتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر بحث کا کوئی حتمی تصفیہ اس دنیا میں ممکن نہیں اور نہ ہی ضروری ہے کہ ہر اختلاف کو لازماً اتفاق سے بدلنے کی کوشش کی جائے۔
آنجناب نے اپنے مکتوب گرامی میں جن امور کا ذکر فرمایا ہے، ان کے حوالے سے یہ چند گزارشات پیش کرنا مجھے مناسب معلوم ہوا۔ اگر ان میں کوئی گستاخی یا بے ادبی یا کسی بھی لحاظ سے کوئی نامناسب بات محسوس ہو تو اسے قصد و عمد کے بجائے محض میری ناتجربہ کاری اور نالائقی پر محمول فرمایا جائے۔
والد گرامی کی طرف سے سلام مسنون قبول فرمائیے ۔ یہ عریضہ انھیں ملاحظہ کروانے کے بعد ہی آپ کی خدمت میں ارسال کیا جارہا ہے۔ اس عریضے سے الگ ایک رجسٹرڈ پارسل کے ذریعے سے راقم کی تین تصانیف (براہین ، حدود و تعزیرات اور جہاد: ایک مطالعہ) کے علاوہ ماہنامہ “الشریعہ” کی دو خصوصی اشاعتیں اور” اسلام ، جمہوریت اور پاکستان” کے عنوان سے والد گرامی کا ایک مجموعہ مضامین بھی آنجناب کی خدمت میں ارسال کیے جا رہے ہیں۔
ایک مزید درخواست یہ ہے کہ ہم ان دنوں الشریعہ کی خصوصی اشاعت بعنوان “افادات امام اہل سنت” کے لیے حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی متفرق تحریریں اور مکاتیب وغیرہ جمع کر رہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بعض امور سے متعلق حضرت رحمہ اللہ کی آنجناب سے بھی مراسلت رہی ہے۔ اگر آپ کے نام حضرت کے خطوط محفوظ ہوں اور ان کی فراہمی باعث زحمت یا خلافِ مصلحت نہ ہو تو خصوصی اشاعت کے لیے یہ ایک قیمتی تحفہ ہوگا۔
آنجناب سے درخواست ہے کہ اپنی نیک دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں اور حسب مصلحت و فرصت علمی راہ نمائی سے بھی مستفید فرماتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آنجناب کو صحت و سلامتی اور عافیت کے ساتھ تا دیر امت کی راہ نمائی کی سعادت اور توفیق مرحمت فرمائے ۔ آمین
محمد عمار خان ناصر
16 اگست 2014ء




کمنت کیجے