Home » اسلامی جمہوریہ میں اسلامی قانون کی تعلیم
تعلیم و تعلم فقہ وقانون

اسلامی جمہوریہ میں اسلامی قانون کی تعلیم

ہمارے آئین کی دفعہ 1 کے مطابق پاکستان ایک ”اسلامی جمہوریہ“ ہے، دفعہ 2 کے مطابق پاکستان کا ریاستی مذہب اسلام ہے، اور دفعہ 2-الف کے مطابق حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور لوگوں کے پاس اختیارات ایک ”مقدس امانت“ کے طور پر ہیں جنھیں وہ اللہ تعالیٰ کی ”مقرر کردہ حدود کے اندر“ اپنے ”منتخب نمائندوں کے ذریعے“ استعمال کریں گے۔ دفعہ 227 نے تصریح کی ہے کہ ”قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام“ سے متصادم کوئی قانون پاکستان میں نہیں بنایا جائے گا اور رائج الوقت تمام قوانین کو ان احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 نے عدالتوں پر یہ بھی لازم کیا ہے کہ وہ تمام قوانین کی ایسی تعبیر کریں جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ سپریم کورٹ کا فل کورٹ بنچ ’راجا عامر بنام وفاق پاکستان‘ مقدمے میں 2023ء میں طے کرچکا ہے کہ آئین کی بھی ایسی تعبیر اختیار کرنا لازم ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ ’لا اینڈ جسٹس کمیشن‘ جس قانون کے تحت وجود میں لایا گیا ہے، اس کی دفعہ 6 میں قرار دیا گیا ہے کہ کمیشن قوانین میں اصلاح کے لیے تجاویز ’سماجی انصاف کے اسلامی اصولوں‘ کی روشنی میں پیش کرے گا۔
ان آئینی اور قانونی اصولوں کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ پاکستان کی جامعات میں اسلامی قانون کو ہی ملکی قانون کی حیثیت سے پڑھایا جاتا، اس کے اصولوں پر غور کیا جاتا، اس سے احکام مستنبط کرنے کے طریقے سکھائے جاتے، معاصر مسائل پر ان کی تطبیق کی مشقیں کرائی جاتیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رائج الوقت قوانین کی اسلامی تعبیر کی تربیت دی جاتی، لیکن ہماری جامعات میں قانون کی تعلیم کے نصاب اور نظام کی تشکیل میں، نیز ججوں اور وکلا کے تربیتی پروگراموں میں ان آئینی و قانونی اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔
اس وقت ملک میں قانون کی تعلیم کے لیے تین الگ طرح کے نظام تین الگ نوعیت کے نصاب کے ساتھ رائج ہیں۔ جامعات میں قانون کی تعلیم کے شعبے ہوں، یا قانون کی تعلیم کے نجی کالج، ان میں عام طور پر ’اسلامی قانون‘ کے نام پر دو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں: ایک ڈنشا فردون جی ملّا کی ’محمڈن لا‘ اور ایک سر عبد الرحیم کی ’اسلامک جوریس پروڈنس‘۔ دونوں کتابوں پر صدی بیت چکی۔ پہلی کتاب کے مصنف ایک پارسی تھے جو اعلی پائے کے وکیل تھے لیکن جنھیں اسلامی قانون کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں تھا۔ انھوں نے ”مسلم شخصی قانون“ ، یعنی نکاح، طلاق، وراثت وغیرہ کے امور میں عدالتی فیصلوں پر غور کرکے ان میں رائج اصول مستخرج کرکے انھیں دفعہ وار مرتب کیا۔ سو سال قبل یہ وکیلوں کےلیے ایک مفید کام تھا ، لیکن انگریزوں کی غلامی میں انگریزوں کے نظام کے تحت چند مخصوص امور میں دیے گئے فیصلوں اور ایک آزاد اسلامی جمہوریہ میں قرآن و سنت کے احکام پر مبنی قانون میں زمین و آسمان کا فرق ہونا چاہیے۔ سر عبد الرحیم کی کتاب بھی اپنے وقت پر ایک اچھی کتاب تھی لیکن پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، اسلامی قانون کے متعلق مستشرقین کے پروپیگنڈا کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے اور فقہ و اصول فقہ پر بہترین کتابیں اور مقالات آچکے ہیں۔ پھر بھی اس قدیم کتاب سے چپکے رہنے کی کیا وجہ ہے؟
کچھ عرصے سے ملک میں قانون کی تعلیم کے لیے نام نہاد ’ایکسٹرنل پروگرام‘ کا سلسلہ بھی چل پڑا ہے۔ یہ پروگرام زیادہ تر یونیورسٹی آف لندن کے تحت چلائے جارہے ہیں اور پاکستان میں نجی سطح پر جس طرح یہ پروگرام چلائے جارہے ہیں اس میں کالج کی حیثیت محض ایک ’ٹیوشن سینٹر‘ کی ہوتی ہے۔ تاہم ان ٹیوشن سینٹروں سے ایل ایل بی کی ڈگری محض تین سالوں میں حاصل کی جاسکتی ہے، اور پھر یہ ڈگری رکھنے والے افراد سے پاکستان کے بعض قوانین کے متعلق ایک آسان سا، مختصر سا، ٹسٹ لے کر انھیں وکالت کی پریکٹس کا لائسنس دے دیا جاتا ہے۔ اس نظام میں اسلامی قانون کی حیثیت پاکستان کے عام جامعات اور کالجوں سے بھی زیادہ قابلِ رحم ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ دو نظام ان اسلامی احکام کی تفہیم اور عملی زندگی کے مسائل پر تطبیق کا مقصد پورا کرتے ہیں جن کی پابندی آئین اور قوانین میں مذکور اصولوں کی رو سے تمام عدالتوں پر لازم ہے؟
آن آئینی و قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک تیسرا نظام 1979ء میں تشکیل دیا گیا جب دار الحکومت کی جامعہ (قائدِ اعظم یونیورسٹی) میں ’کلیۂ شریعہ‘ قائم کی گئی اور وہاں شریعہ میں ایل ایل ایم کی ڈگری شروع کی گئی۔ اگلے سال نئی اسلامی ہجری صدی کے آغاز کے موقع پر اس کلیہ کو ’اسلامی یونیورسٹی‘ کی صورت دے دی گئی اور اس کے ساتھ چند دیگر کلیات بھی اضافہ کی گئی ہیں۔ اسلامی یونیورسٹی نے شریعہ میں ایل ایل ایم کے علاوہ قانون کی بنیادی ڈگری ایل ایل بی میں اسلامی قانون کے متوازی کورسوں کا اضافہ کرکے ’ایل ایل بی شریعہ و قانون‘ کی ڈگری بھی شروع کی۔ ججوں کو اسلامی قانون کی تربیت دینے کے لیے 1981ء میں اسلامی یونیورسٹی میں ایک خصوصی ’انسٹی ٹیوٹ‘ بھی قائم کیا گیا جسے 1985ء میں ’شریعہ اکیڈمی‘ کا نام دیا گیا۔ کلیۂ شریعہ و قانون سے ایل ایل بی شریعہ و قانون اور ایل ایل ایم شریعہ و قانون کی ڈگریاں لینے والے افراد، اور شریعہ اکیڈمی سے اسلامی قانون کی تربیت حاصل کرنے والے ججوں نے ملک میں اسلامی قانون کے مطابق قوانین کی تعبیر اور مقدمات کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کیا۔ بعد میں کلیۂ شریعہ و قانون میں پی ایچ ڈی کے پروگرام، نیز تخصص کے لیے متعدد دیگر ایل ایل ایم پروگرام بھی شروع ہوئے۔ اسی طرح شریعہ اکیڈمی میں ججوں اور وکلا کے لیے اسلامی قانون کے علاوہ مفتیانِ کرام کے لیے قانون کے طویل اور مختصر دورانیے کے تربیتی کورس بھی شروع کیے گئے۔
ایل ایل بی شریعہ و قانون کے نصاب کو بعد میں صوبہ سرحد (آج کے صوبہ خیبر پختونخوا) کے تاریخی اسلامیہ کالج نے بھی اپنایا۔ پھر سوات میں شورش کے بعد وہاں یونیورسٹی بنائی گئی، تو اس نے بھی یہ پروگرام شروع کیا۔ اسی پروگرام کو پھر جامعہ اسلامیہ بہاولپور، شیخ زاید اسلامک سینٹر (جامعہ پشاور) اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان نے بھی اپنایا۔ 2022ء میں مجھے شفا تعمیرِ ملت یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ’شعبۂ شریعہ و قانون‘ کی تشکیل کی ذمہ داری دی، تو ہم نے وہاں بھی یہ پروگرام شروع کیا۔
ان سات جامعات میں یہ پروگرام کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا اور اس کے اثرات واضح طور پر عدالتی فیصلوں میں بھی نظر آنے لگے تھے کہ اچانک اگست 2025ء میں پاکستان بار کونسل نے اعلان کیا کہ تمام جامعات میں ایل ایل بی کا دورانیہ تو چار سال کا ہوگا، لیکن ایل ایل بی شریعہ و قانون کا دورانیہ پانچ سال ہی کا رہے گا۔ اس فیصلے نے، جس سے قبل ان سات جامعات میں کسی ایک سے بھی مشاورت نہیں کی گئی، ایل ایل بی شریعہ و قانون کے پروگرام کو عملاً کالعدم کردیا ہے۔ اس پر تفصیل سے بات کریں گے، ان شاء اللہ۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد شفاء تعمیر ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ وقانون کے چیئرمین ہیں اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ذیلی ادارہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

(mushtaq.dsl@stmu.edu.pk)

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں