وسیم رضا ماتریدی
ول ڈیورانٹ نے وحی کی ماہیت پر کوئی مستقل فلسفیانہ کتاب یا منظم نظریہ پیش نہیں کیا۔ہاں البتہ اپنی کتب “تہذیب کی کہانی ” کے حصے The Age of Faith میں رسول اللہ ﷺ، قرآنِ کریم اور نزولِ وحی کے متعلق اس کے منتشر بیانات کو یکجا کیا جائے تو وحی کے بارے میں اس کا ایک نسبتاً واضح تصور سامنے آتا ہے۔ یہ تصور اس معنی میں اس سے مستنبط ہے کہ ڈیورانٹ نے خود اسے کسی باقاعدہ نظریاتی عنوان کے تحت مرتب نہیں کیا، لیکن قرآن کے ماخذ، نبوی تجربے اور مذہبی تاریخ کی جو توضیح وہ پیش کرتا ہے، اس کا مجموعی رخ وحی کو الٰہی خطاب کے بجائے انسانی، ثقافتی اور نفسیاتی عوامل کے ذریعے سمجھنے کی طرف ہے۔
ڈیورانٹ قرآنِ کریم کی ادبی عظمت، تہذیبی تاثیر اور اخلاقی کردار کا انکار نہیں کرتا۔ وہ قرآن کو خالص عربی زبان کی ایک غیر معمولی کتاب قرار دیتا، اس کی تشبیہات، آہنگ اور خطیبانہ قوت کی تحسین کرتا اور اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے اخلاقی و ثقافتی معیار کو بلند کرنے، معاشرتی نظم پیدا کرنے اور ایک منتشر قوم کو متحد کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ قرآن کے متن کی حفاظت کو بھی غیر معمولی قرار دیتا ہے۔ لیکن اس تحسین کے ساتھ وہ قرآن کو قریب ترین انسانی سطح پر “the work of one man” قرار دیتا ہے۔[1]
یہیں سے ڈیورانٹ کے تصور کا بنیادی داخلی تناؤ سامنے آتا ہے۔ وہ قرآن کو تاریخ کی عظیم ترین مؤثر کتابوں میں شمار کرتا ہے، مگر اس عظمت کو اس کے الٰہی ماخذ کی دلیل تسلیم نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک ایک کتاب ادبی طور پر معجز نما، اخلاقی طور پر مؤثر اور تہذیبی طور پر انقلاب آفریں ہوسکتی ہے، لیکن اس کے باوجود انسانی تصنیف ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس کی اصل دل چسپی یہ دریافت کرنے میں ہے کہ قرآن کی تشکیل میں کون سے تاریخی، معاشرتی اور نفسیاتی عوامل کارفرما تھے۔
ڈیورانٹ مؤرخ کے کام کو بھی اسی تناظر میں متعین کرتا ہے۔ اس کے مطابق مؤرخ یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ کسی مذہب کا علمِ الٰہیات درست ہے یا غلط؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کن سماجی اور نفسیاتی عوامل نے اس مذہب کو پیدا کیا، اس نے انسانوں کے اخلاق و معاشرت کو کس حد تک تبدیل کیا اور تاریخ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔[2] یہ منہج مذہب کے تاریخی مطالعے کے لیے اپنی جگہ مفید ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سماجی اور نفسیاتی عوامل کی شناخت کو وحی کے الٰہی امکان کی نفی سمجھ لیا جائے۔ کسی مذہب کے تاریخی ظہور کی توضیح اور اس کے مابعد الطبیعی دعوے کی تردید دو الگ علمی مسائل ہیں۔
اسلامی تصور میں وحی نبی کے اندر خود بخود پیدا ہونے والی مذہبی کیفیت، تخلیقی الہام یا اجتماعی شعور کا اظہار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے منتخب رسول تک پہنچایا جانے والا خطاب ہے۔ نبی ﷺ اس خطاب کے مصنف نہیں، بلکہ اس کے وصول کنندہ، امین اور مبلغ ہوتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ، معانی اور نسبت سب اللہ تعالیٰ کی طرف ہیں، اگرچہ ان کا نزول انسانی زبان، تاریخی حالات اور نبوی شعور کے واسطے سے ہوتا ہے۔ انسانی شخصیت اور تاریخی ماحول وحی کے ابلاغ کا محل ہیں، اس کا حقیقی مصدر نہیں۔
ڈیورانٹ کی تعبیر میں یہی فرق بتدریج ختم ہوجاتا ہے۔ وحی کے انسانی تاریخ میں ظاہر ہونے کو اس کے انسانی ماخذ کی دلیل سمجھا جاتا ہے، اور پھر قرآن کی تشکیل کو تین بڑی توضیحات کے تحت دیکھا جاتا ہے: سابقہ مذہبی روایتوں سے ثقافتی اخذ، رسول اللہ ﷺ کے شخصی و عملی مقاصد، اور تجربۂ وحی کی نفسیاتی یا اعصابی تعبیر۔
ثقافتی اخذ اور قرآن کے مصادر:
ڈیورانٹ کے تصورِ وحی کی پہلی جہت ثقافتی اور تاریخی ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے شام کے سفر، عرب میں موجود یہودی و مسیحی افراد، مدینہ کے یہودی ماحول اور ورقہ بن نوفل سے ملاقات کو ایسے ممکنہ ذرائع کے طور پر دیکھتا ہے جن سے آپ ﷺ نے سابقہ مذہبی روایتوں کا علم حاصل کیا ہوگا۔
بچپن کے سفرِ شام کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ احتمال ظاہر کرتا ہے کہ اس سفر میں رسول اللہ ﷺ کو یہودی اور مسیحی مذہبی روایات سے کچھ واقفیت حاصل ہوئی ہو۔ یہ بیان کسی قطعی تاریخی ثبوت پر نہیں بلکہ امکان پر قائم ہے۔ اس کے باوجود ڈیورانٹ بعد میں قرآن کے مصادر پر گفتگو کرتے ہوئے نسبتاً زیادہ قطعی زبان اختیار کرتا ہے۔ وہ قرآن کے اسلوب اور مضامین کو “adaptation of Judaic doctrines, tales, and themes” قرار دیتا ہے۔[3]
اس کے نزدیک توحید، نبوت، آخرت، توبہ، جنت، جہنم اور انبیاء کے واقعات جیسے قرآنی موضوعات کا قریبی ماخذ یہودی روایت ہے۔ وہ بعض قرآنی قصص کو تلمودی اور ہاگادی روایات سے، بعض عبادات و احکام کو یہودی شریعت سے اور بعض مذہبی تصورات کو یہودیت، مسیحیت یا زرتشتیت سے وابستہ کرتا ہے۔[4]
اس استدلال کی بنیادی ساخت یہ ہے کہ جب دو روایتوں میں مماثلت پائی جائے اور ایک روایت زمانی اعتبار سے پہلے موجود ہو تو بعد والی روایت نے غالباً پہلی سے مواد اخذ کیا ہے۔ لیکن تاریخی اخذ و اقتباس کو ثابت کرنے کے لیے محض مماثلت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ مبینہ ماخذ رسول اللہ ﷺ کی دسترس میں تھا، اس تک رسائی کا کوئی قابلِ تحقیق ذریعہ موجود تھا، تعلیم یا نقل کا کوئی مسلسل تعلق ثابت ہے، اور دونوں متون کی مماثلت ایسی اختصاصی نوعیت رکھتی ہے جس کی کوئی دوسری معقول توضیح ممکن نہیں۔
ڈیورانٹ اس تاریخی سلسلے کو مکمل طور پر ثابت نہیں کرتا۔ اس کی ابتدائی عبارتیں ’’ممکن ہے‘‘ اور ’’شاید‘‘ کی سطح پر ہیں، لیکن ان امکانات سے آگے بڑھتے ہوئے وہ قرآن کے بڑے حصے کو سابقہ یہودی روایت کی موافقت یا ترمیم کے طور پر بیان کرنے لگتا ہے۔ یوں امکان اور ثبوت کے درمیان موجود فاصلہ پوری طرح واضح نہیں رہتا۔
مذہبی روایتوں میں اشتراک کے اور بھی امکانات ہوتے ہیں۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام خود کو ایک مشترک ابراہیمی و نبوی روایت سے وابستہ کرتے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ان میں پائی جانے والی بنیادی مماثلتیں اس امر کا نتیجہ ہیں کہ ان سب کا اصل سرچشمہ وحیِ الٰہی ہے۔ قرآن سابقہ انبیاء اور کتابوں کی اصل صداقت کی تصدیق کرتا ہے، ان میں داخل ہونے والی انسانی تحریفات کی نشان دہی کرتا اور ان کے بعض فراموش شدہ یا مختلف فیہ پہلوؤں کی اصلاح کرتا ہے۔
اگر قرآن محض سابقہ روایتوں کا اقتباس ہوتا تو یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ انھی روایتوں کی تمام بنیادی تفصیلات، اعتقادی پیچیدگیوں اور تاریخی غلطیوں کو بھی بعینہٖ قبول کرتا۔ لیکن قرآن بعض امور میں موافقت، بعض میں تصحیح اور بعض میں واضح اختلاف اختیار کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت و مصلوبیت، انبیاء سے منسوب اخلاقی لغزشوں، تصورِ خدا اور نجات کے مسئلے میں قرآن کا موقف مروج یہودی و مسیحی بیانیوں سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ یہ اختلاف محض نقل کے نظریے کو پیچیدہ بنادیتا ہے۔
اسی طرح قرآن میں حضرت ہود، حضرت صالح اور بعض عرب اقوام کے واقعات ایسے اسلوب میں بیان ہوئے ہیں جو یہودی و مسیحی صحائف کے معروف متن میں موجود نہیں۔ قرآن کا اپنا اعتقادی، اخلاقی اور تشریعی نظام بھی محض مختلف سابقہ روایتوں کو جمع کرنے کا نتیجہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ وہ ایک مربوط توحیدی زاویے کے تحت ان سب کی ازسرِنو تعبیر کرتا ہے۔
ورقہ بن نوفل کو قرآن کا ممکنہ معلّم قرار دینے کا مفروضہ بھی مضبوط تاریخی شہادت سے محروم ہے۔ مستند اسلامی روایت میں ان کی رسول اللہ ﷺ سے معروف ملاقات آغازِ وحی کے بعد ہوئی۔ انھوں نے وحی کی تعلیم دینے کے بجائے اس تجربے کو سابقہ نبوی روایت کے تسلسل میں شناخت کیا اور رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی۔ اس کے کچھ عرصے بعد ان کا انتقال ہوگیا، جب کہ قرآن کا بیشتر حصہ اگلے تئیس برس میں مختلف حالات، سوالات، معرکوں اور معاشرتی مسائل کے تناظر میں نازل ہوا۔[5]
اس لیے ورقہ یا کسی دوسرے مبینہ معلّم کو قرآن کا ماخذ قرار دینے کے لیے صرف مذہبی معلومات رکھنے کا ذکر کافی نہیں۔ ایک مسلسل تعلیمی رابطہ، مخفی ملاقاتیں، متن کی فراہمی اور نزول کے متنوع حالات میں اس معلّم کی موجودگی ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔ ایسا کوئی تاریخی سلسلہ دستیاب نہیں۔
ثقافتی ماحول سے واقفیت اور ثقافتی ماخذ میں بھی فرق ہے۔ وحی جس قوم میں نازل ہوتی ہے، اسی کی زبان، علامات، سوالات اور تاریخی شعور سے خطاب کرتی ہے۔ قرآن کا عربی ماحول سے متعلق ہونا یا سابقہ انبیائی روایتوں کا ذکر کرنا اس کے انسانی ماخذ کو ثابت نہیں کرتا۔ کوئی الٰہی خطاب انسانی تاریخ سے بے تعلق نہیں ہوتا؛ وہ تاریخ میں اترتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ تاریخ ہی اسے پیدا کرے۔
شخصی اغراض اور وحی کا استعمال:
ڈیورانٹ کے تصورِ وحی کی دوسری جہت یہ ہے کہ قرآن کو رسول اللہ ﷺ کی شخصی ضرورتوں، سیاسی فیصلوں اور عملی مقاصد سے وابستہ کیا جائے۔ وہ مدنی عہد کے بعض احکام کو حالات کے مطابق جاری ہونے والے فیصلے سمجھتا ہے اور یہ رائے ظاہر کرتا ہے کہ مذہبی احکام کو وحی کی نسبت دینے سے انھیں غیر معمولی تقدس اور اجتماعی اطاعت حاصل ہوگئی۔
حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کا ذکر کرتے ہوئے ڈیورانٹ لکھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحی کے طریقے کو “ very human and personal ends” کے لیے استعمال کیا۔[6] اس تعبیر میں سورۂ احزاب کی متعلقہ آیت کسی عمومی شرعی و معاشرتی اصلاح کے بجائے ایک شخصی خواہش کو مذہبی جواز دینے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
یہ اعتراض صرف کسی واقعے کی تاریخی تعبیر نہیں، بلکہ وحی کی نسبت کے بارے میں ایک بنیادی دعویٰ ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ ﷺ خود احکام وضع کرتے اور انھیں خدا کی طرف منسوب کرکے اپنے لیے مذہبی و سیاسی سند پیدا کرتے تھے۔
لیکن کسی حکم کا نبی کی ذاتی زندگی سے متعلق ہونا اس کے خودساختہ ہونے کی دلیل نہیں۔ نبوت کا منصب صرف عمومی اخلاقی نصائح تک محدود نہیں؛ نبی کی اپنی زندگی بھی شریعت کی عملی تشکیل کا حصہ ہوتی ہے۔ متعدد احکام رسول اللہ ﷺ کے گھر، ازواج، عبادات، جنگ، صلح اور معاشرتی معاملات کے ذریعے امت تک پہنچے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کا قرآنی سیاق عرب معاشرے میں منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے کے مساوی قرار دینے والی رسم کی عملی تنسیخ سے متعلق ہے۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے حقیقی فرزند نہ تھے، لیکن جاہلی معاشرے میں متبنّٰی کے احکام نسبی بیٹے کی طرح سمجھے جاتے تھے۔ قرآن نے اس تصور کو ختم کیا اور اس اصلاح کو محض نظری حکم کے بجائے رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی کے ذریعے نافذ کیا۔
قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ قرآن نے اس واقعے میں رسول اللہ ﷺ کی داخلی جھجک اور لوگوں کے ردِعمل سے متعلق اندیشے کو بھی چھپایا نہیں:
«﴿وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ﴾
’’اور آپ اپنے دل میں وہ بات چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا، اور آپ لوگوں سے اندیشہ کرتے تھے، حالاں کہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔‘‘(الأحزاب: 37)»۔
اگر قرآن صرف ذاتی اغراض کی حفاظت کے لیے تصنیف کیا گیا ہوتا تو ایسی عبارت، جس میں خود رسول اللہ ﷺ کی جھجک پر تنبیہ موجود ہے، اس دعوے کے لیے موزوں نہ تھی۔ شخصی تصنیف کا مفروضہ ان آیات کی بھی مکمل توضیح نہیں کرتا جن میں رسول اللہ ﷺ کے بعض اجتہادی فیصلوں پر عتاب کیا گیا؛ مثلاً سورۂ عبس، غزوۂ بدر کے قیدیوں کا معاملہ اور بعض منافقین کو اجازت دینے کا واقعہ۔
اسی طرح واقعۂ افک میں رسول اللہ ﷺ نے طویل مدت تک وحی کا انتظار کیا۔ یہ معاملہ آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ، خانگی زندگی اور اجتماعی وقار سے براہِ راست متعلق تھا۔ اگر قرآن آپ ﷺ کی اپنی تصنیف ہوتا تو فوری طور پر ایک فیصلہ کن بیان جاری کرکے اس اذیت ناک صورتِ حال کو ختم کیا جاسکتا تھا۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنی ذاتی خواہش یا یقین کو وحی قرار نہیں دیا، بلکہ نزولِ آیات تک انتظار فرمایا۔
قرآن میں رسول اللہ ﷺ کے والدین، بیشتر اولاد، متعدد ازواج اور عظیم صحابہ کے نام نہیں آئے، جب کہ ایسے واقعات اور عتاب محفوظ کیے گئے جو ذاتی مدح یا سیاسی خودنمائی پر مبنی کتاب میں غالباً شامل نہ کیے جاتے۔ رسول اللہ ﷺ کا نام بھی قرآن میں صرف چند مرتبہ آیا ہے، جب کہ سابقہ انبیاء، بالخصوص حضرت موسیٰ علیہ السلام، کا ذکر کہیں زیادہ ہے۔
قرآن اور حدیثِ نبوی کے اسلوب میں نمایاں فرق بھی شخصی تصنیف کے مفروضے کو مشکل بناتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث، خطبات اور مکاتیب نہایت فصیح اور حکیمانہ ہیں، لیکن ان کا صوتی آہنگ، ترکیبی ساخت، الفاظ کی ترتیب اور بیان کا بہاؤ قرآن سے الگ شناخت رکھتا ہے۔ ایک ہی شخصیت سے دو مختلف اسالیب کا صدور اصولاً ناممکن نہیں، لیکن تئیس برس تک مختلف اور اچانک حالات میں دونوں اسالیب کا مسلسل اور واضح امتیاز خود تصنیفی نظریے سے مزید توضیح کا مطالبہ کرتا ہے۔
ڈیورانٹ قرآن میں تجارتی تعبیرات کی کثرت کو بھی رسول اللہ ﷺ کے تجارتی تجربے سے جوڑتا ہے اور لکھتا ہے کہ قرآن کی زبان تجارتی استعارات سے بھرپور ہے۔[7] لیکن کسی متن میں معاشرے کی معروف اصطلاحات کا استعمال اس کے انسانی ماخذ کو ثابت نہیں کرتا۔ ہر مؤثر خطاب اپنے مخاطبین کی زبان اور تجربات سے مثالیں لیتا ہے۔ نفع، خسارہ، قرض، میزان، تجارت اور سودا عرب معاشرے کے لیے قابلِ فہم علامات تھیں، اس لیے قرآن نے انھیں اخلاقی اور اخروی حقائق واضح کرنے کے لیے استعمال کیا۔
زبان کا انسانی ہونا اور کلام کا انسانی مصدر سے صادر ہونا ایک ہی بات نہیں۔ اسلامی تصور میں قرآن عربی زبان میں نازل ہوا، مگر اس زبان میں کلام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ زبان ابلاغ کا وسیلہ ہے، ماخذ نہیں۔
نفسیاتی اور اعصابی تعبیر:
ڈیورانٹ کے تصورِ وحی کی تیسری جہت نفسیاتی ہے۔ اس نے نزولِ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ پر طاری ہونے والی جسمانی کیفیات کا ذکر کیا ہے: جسم پر بوجھ، پسینہ، غیر معمولی ارتکاز، بعض مواقع پر زمین پر جھک جانا، اور گھنٹی جیسی آواز کا تجربہ۔ ان روایات کی بنیاد پر وہ یہ امکان ظاہر کرتا ہے:
«“Possibly his convulsions were epileptic seizures.”[8]»
تاہم اسی مقام پر ڈیورانٹ اس مفروضے کی کم زوری بھی تسلیم کرتا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ میں زبان کاٹنے، گرفت کی قوت کھو دینے یا ذہنی صلاحیت کے تدریجی زوال جیسی وہ علامات نہیں ملتیں جنھیں وہ مرگی سے وابستہ سمجھتا تھا۔ اس کے برعکس وہ مانتا ہے کہ عمر کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی فکر، قیادت، اعتماد اور عملی قوت میں اضافہ ہوا۔ آخرکار وہ نتیجہ نکالتا ہے کہ دستیاب شہادت قطعی نہیں۔[9]
یہ اعتراف اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیورانٹ خود مرگی کے مفروضے کو ثابت شدہ تشخیص نہیں سمجھتا۔ اس کے باوجود تجربۂ وحی کے بیان میں اس احتمال کو شامل کرنے سے قاری کے ذہن میں وحی کی مرضیاتی تعبیر پیدا ہوتی ہے۔
تاریخی روایات کی بنیاد پر صدیوں بعد کسی شخصیت کی طبی تشخیص اپنی اصل میں دشوار ہے۔ کسی مرض کی تشخیص کے لیے مکمل طبی تاریخ، علامات کی نوعیت، مدت، تکرار، جسمانی معائنہ اور دیگر ممکنہ اسباب کا جائزہ درکار ہوتا ہے۔ نزولِ وحی سے متعلق محدود روایات کو کسی خاص اعصابی مرض پر منطبق کردینا احتیاط کے منافی ہے۔
مزید اہم بات یہ ہے کہ کسی جسمانی یا نفسیاتی کیفیت کی شناخت وحی کے مضمون اور ماخذ کی توضیح نہیں کرتی۔ فرض کیا جائے کہ نزولِ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ کے جسم و شعور میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہوتی تھی؛ تب بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ اس کیفیت میں موصول ہونے والا مربوط، محفوظ اور بامعنی کلام کہاں سے آیا۔
اسلامی روایت خود وحی کو ایک بھاری تجربہ قرار دیتی ہے:
«﴿إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا﴾
’’یقیناً ہم آپ پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔‘‘
(المزمل: 5)»
جسمانی بوجھ اس تجربے کا اثر ہوسکتا ہے، اس کا مصدر نہیں۔ انسانی سماعت، حافظہ اور شعور وحی کے وصول کے ذرائع ہیں۔ کسی پیغام کا انسانی شعور کے ذریعے وصول ہونا اس بات کو ثابت نہیں کرتا کہ وہ پیغام اسی شعور نے پیدا کیا ہے۔
مرگی یا کسی دوسری اعصابی کیفیت کا مفروضہ قرآن کی تدریجی ساخت، مختلف حالات سے مناسبت، قانونی و اخلاقی نظام، مستقل اسلوب اور اجتماعی حفظ و کتابت کی بھی جامع توضیح فراہم نہیں کرتا۔ نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ آیات کی تلاوت فرماتے، صحابہ انھیں حفظ کرتے، کاتبین انھیں لکھتے اور بعد میں وہ ایک مربوط قرآنی نظام کا حصہ بنتی تھیں۔ ایک مرض کا نام اس پورے تاریخی و متنی مظہر کی وضاحت نہیں کرسکتا۔
ڈیورانٹ رسول اللہ ﷺ کو بعض مقامات پر حساس، بے قرار اور وقتی افسردگی سے دوچار شخصیت کے طور پر بھی بیان کرتا ہے۔[10] لیکن حساسیت، غم، تفکر یا مزاجی تبدیلیاں بذاتِ خود ذہنی اختلال کی علامت نہیں۔ ایک عظیم اخلاقی و اجتماعی ذمہ داری، مخالفت، ظلم، ہجرت، جنگ اور اپنے قریبی افراد کی وفات سے گزرنے والی شخصیت میں غم اور شدید جذبات کا وجود ایک انسانی حقیقت ہے، مرض کا قطعی ثبوت نہیں۔
یہاں بھی ڈیورانٹ کا بنیادی منہج یہ ہے کہ نبوی تجربے کو اس کے انسانی مظاہر سے سمجھا جائے۔ اس میں علمی قباحت نہیں، بشرطیکہ انسانی مظاہر کو الٰہی ماخذ کی خودکار تردید نہ بنایا جائے۔ ایک مذہبی تجربہ انسانی نفسیات میں واقع ہوتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ صرف اسی نفسیات کی پیداوار ہے۔
تنقیدی محاکمہ:
ڈیورانٹ کی تعبیرِ وحی کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن کی عظمت اور اسلام کے تہذیبی اثرات کا انکار نہیں کرتا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو تاریخ کی مؤثر ترین شخصیات میں شمار کرتا، قرآن کے ادبی مقام کو تسلیم کرتا اور اسلامی دعوت کے اخلاقی و اجتماعی نتائج کی تحسین کرتا ہے۔ اس لیے اس کا موقف سطحی تحقیر یا سادہ مذہب دشمنی پر مبنی نہیں۔
اس کے باوجود اس کے منہج میں ایک بنیادی فلسفیانہ تحدید موجود ہے۔ وہ تاریخی توضیح کے دائرے میں صرف ان عوامل کو مؤثر حیثیت دیتا ہے جو انسانی، سماجی یا نفسیاتی زبان میں بیان کیے جاسکتے ہیں۔ الٰہی وحی اس کے تجزیے میں ایک داخلی مذہبی عقیدہ تو ہے، مگر تاریخی توضیح کا حقیقی امکان نہیں۔
یہ رویہ صریح انکارِ وحی سے مختلف ہے۔ ڈیورانٹ یہ ثابت نہیں کرتا کہ خدا کا انسان سے کلام کرنا محال ہے؛ وہ صرف ایسا تاریخی بیانیہ تشکیل دیتا ہے جس میں خدا کے کلام کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ قرآن کو سابقہ روایات سے اخذ، نبوی ذہانت، شخصی مقاصد اور نفسیاتی کیفیات کے مجموعے سے سمجھنے کی کوشش اسی منہج کا نتیجہ ہے۔
لیکن یہ توضیحات قرآن کی مکمل حقیقت کا احاطہ نہیں کرتیں۔ ثقافتی اخذ کا نظریہ ماخذ تک یقینی رسائی، مسلسل تعلیم اور متنی انحصار ثابت نہیں کرتا۔ شخصی اغراض کا نظریہ ان آیات کی توضیح نہیں کرتا جو رسول اللہ ﷺ کے عتاب، انتظار، تکلیف اور داخلی جھجک کو محفوظ کرتی ہیں۔ نفسیاتی نظریہ نزول کی جسمانی کیفیت کا مفروضہ تو پیش کرتا ہے، لیکن قرآن کے مضمون، اسلوب، حافظے میں حفاظت اور تئیس سالہ تسلسل کی وضاحت نہیں کرتا۔
ڈیورانٹ کے استدلال میں بعض اوقات مماثلت کو اقتباس، انسانی واسطے کو انسانی مصدر اور نفسیاتی کیفیت کو مابعد الطبیعی نفی میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ تینوں نتائج منطقی طور پر لازم نہیں۔
دو روایتوں میں مماثلت تاریخی اخذ کی ایک ممکنہ علامت ہوسکتی ہے، لیکن خود اخذ کا ثبوت نہیں۔ وحی کا انسانی زبان اور شعور کے ذریعے ظاہر ہونا اس کے انسانی ماخذ کو ثابت نہیں کرتا۔ اسی طرح تجربۂ وحی کے جسمانی آثار اس تجربے کی الٰہی یا غیر الٰہی حقیقت کا قطعی فیصلہ نہیں کرتے۔
اسلامی تصورِ وحی انسانی تاریخ اور نبوی شخصیت کی نفی نہیں کرتا۔ قرآن ایک مخصوص زبان، قوم اور تاریخی صورتِ حال میں نازل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے شعور میں وصول کیا، زبان سے ادا کیا اور عملی زندگی میں نافذ کیا۔ لیکن ان تمام انسانی واسطوں کے باوجود اس کا مصدر اللہ تعالیٰ ہے۔
اس لیے اصل اختلاف اس بات میں نہیں کہ وحی انسانی تاریخ میں ظاہر ہوئی یا اس نے انسانی شعور کو مخاطب کیا۔ اصل اختلاف یہ ہے کہ کیا انسانی تاریخ اور شعور وحی کے صرف محلِ ظہور ہیں یا اس کے حقیقی خالق بھی؟
ڈیورانٹ کی تعبیر دوسرے امکان کی طرف مائل ہے۔ وہ وحی کو انسانی تاریخ، ثقافت اور نفسیات میں اس طرح تحلیل کرتا ہے کہ بالآخر قرآن ایک عظیم مذہبی و تہذیبی تخلیق تو رہتا ہے، مگر کلامِ الٰہی نہیں رہتا۔
یہی اس کے تصور کی بنیادی قوت اور بنیادی کم زوری دونوں ہیں۔ اس کی قوت یہ ہے کہ وہ وحی کے انسانی و تاریخی مظاہر کو نظر انداز نہیں کرتا؛ اس کی کم زوری یہ ہے کہ وہ ان مظاہر اور وحی کے حقیقی ماخذ میں امتیاز برقرار نہیں رکھتا۔
حواشی و حوالہ جات
[1] Will Durant, The Age of Faith: A History of Medieval Civilization—Christian, Islamic, and Judaic—from Constantine to Dante, A.D. 325–1300, The Story of Civilization, Vol. IV (New York: Simon and Schuster, 1950), pp. 174–176۔ ڈیورانٹ قرآن کو ایک انسانی شخصیت سے قریب ترین نسبت دیتے ہوئے اس کے ادبی اثر اور متن کی حفاظت کا بھی اعتراف کرتا ہے۔
[2] Ibid., pp. 175–176۔ ڈیورانٹ کے مطابق مؤرخ مذہب کی حقانیت پر فیصلہ کرنے کے بجائے اس کی سماجی، نفسیاتی اور تاریخی کارکردگی کا مطالعہ کرتا ہے۔ [3] Ibid., p. 184۔ قرآن کے یہودی مصادر کے متعلق ڈیورانٹ کی بحث “The Sources of the Koran” کے عنوان کے تحت آتی ہے۔ [4] Ibid., pp. 184–186۔ ڈیورانٹ نے قرآنی عقائد، قصص، عبادات اور احکام کو یہودی، تلمودی اور بعض ایرانی مذہبی تصورات سے وابستہ کیا ہے۔ [5] محمد بن اسماعیل البخاری، الجامع الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللہ ﷺ۔ اسی روایت میں ورقہ بن نوفل کی تصدیقِ نبوت اور آغازِ وحی کے کچھ عرصے بعد ان کی وفات کا ذکر ہے۔ نیز دیکھیے: ابن حجر العسقلانی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی۔ [6] Durant, The Age of Faith, p. 172۔ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے متعلق ڈیورانٹ نے وحی کو شخصی مقاصد سے وابستہ کیا ہے۔ [7] Ibid., p. 180۔ قرآن کی تجارتی تعبیرات سے متعلق ڈیورانٹ کی گفتگو اخلاق اور معاشی احکام کی بحث میں واقع ہوئی ہے۔ [8] Ibid., p. 164۔ یہ ڈیورانٹ کی جانب سے پیش کیا گیا ایک احتمال ہے، حتمی طبی تشخیص نہیں۔ [9] Ibid۔ ڈیورانٹ خود زبان کاٹنے، جسمانی گرفت کے زوال اور ذہنی انحطاط جیسی علامات کے عدمِ ثبوت کا ذکر کرتا اور شہادت کو غیر قطعی قرار دیتا ہے۔ [10] Ibid., pp. 163, 173۔ رسول اللہ ﷺ کے مزاج اور شخصیت کے بارے میں ڈیورانٹ کے بیانات مختلف مقامات پر آئے ہیں۔ [11] عبد الرحیم خیر اللہ عمر الشریف، ’’المؤرخ ويل ديورانت وآراؤه بشأن مصدر القرآن الكريم في كتاب قصة الحضارة: عرض ونقد‘‘، ص 241–253۔ عربی مقالے میں ڈیورانٹ کی آرا کو اہلِ کتاب سے تعلق رکھنے والے معلّمین، نبوی ضروریات اور نفسیاتی اضطرابات کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔




کمنت کیجے