Home » سیٹ تھیوری اور حوادث لا اول لھا کا امکان؟
شخصیات وافکار • کلام

سیٹ تھیوری اور حوادث لا اول لھا کا امکان؟

حوادث لا اول لھا کی بحث میں Cantor نامی ریاضی دان کی سیٹ تھیوری کے بعض تخیلاتی مباحث کہ مثلاً دو لامتناہی مجموعوں (یا سیٹس) کو متعین کیا جاسکتا اور انہیں باہم ضرب بھی دیا جاسکتا ہے، انہیں بنیاد بنا کر کچھ لوگ پے درپے لامتناہی حوادث گزرنے کو ممکن قرار دیتے ہیں۔ اس استدلال کی غلطی کو واضح کرنے کے لئے ہم نے ایک مختصر تحریر لکھی جس میں متعین مثالوں کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ محض ریاضیاتی تصور میں کسی چیز کا امکان اس کے خارجی امکان کے ہم معنی نہیں۔ اس مختصر تحریر سے شاید بات واضح نہ ہوسکی، تو یہاں ہم نسبتاً کچھ تفصیل کے ساتھ دو امور کی وضاحت کرتے ہیں۔ ناقد کے اعتراض کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ کانٹر کی سیٹ تھیوری میں بڑے چھوٹے لامتناھی سیٹس کا تصور بغیر تضاد قابل فہم ہے، لہذا یہ میٹافزیکلی بھی ممکن ہے۔ تفہیم کی خاطر ہم گفتگو کو دو مقدمات میں توڑ لیتے ہیں: پہلے ہم یہ بتائیں گے کہ ریاضیاتی یا کسی تصوراتی ماڈل کی ہم آھنگی خود بخود اس کے میٹافزیکل امکان کے ہم معنی نہیں، دوسرے نمبر پر یہ بتائیں گے کہ کانٹر کے اس ماڈل کے خارجی وقوع کے اعتبار سے ہم آھنگی کے امکان کا دعوی بھی محل نظر ہے۔

ریاضیاتی امکان و ہم آھنگی اور وجودی (میٹافزیکل) امکان میں لزوم نہیں

کسی تصوراتی ماڈل کا ریاضیاتی طور پر منظم یا ھم آھنگ ہونا اور یا دکھائی دینا اس بات کو لازم نہیں کہ ماڈل میں فرض کی گئی ہر شے یا ہر ساختی تعلق خارج میں بھی اسی صورت موجود ہو یا اس کا خارجی تحقق ممکن ہو۔ ماڈلز کی تشکیل کے کئی مقاصد ہوا کرتے ہیں جیسے تفہیم کے لئے تقریب (approximation)، حسابی سہولت، حد سے زیادہ پیچیدہ معاملے کے لئے تفہیمی سادگی، تجرید، پیش گوئی، simulation (کسی فرضی نظام کے ممکنہ نتائج کو فرضی ماحول میں دیکھنا)، کسی ماڈل کی حدودی (limiting) حالات کی جانچ، فرضی علامت نگاری (Formal        Symbolic         Systems) جیسے مثلاً بعض علوم میں موھومی اعداد(-1) √ کا استعمال وغیرہ۔ کسی میتھمٹیکل ماڈل کی تشکیل کو خود بخود ontological        commitment کے ہم معنی فرض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان وضع شدہ ماڈلز کا مقصد ہمیشہ یہ کہنا نہیں ھوتا کہ ماڈل شدہ تصورات و تعلقات خارج میں موجود ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ پس کسی میتھمٹیکل ماڈل کے اندر کسی فرضی ساخت کے ساتھ بلامناقضہ کچھ ریاضیاتی آپریشنز سر انجام دے سکنا، یہ بذات خود اس ساخت کے خارجی امکان کا ثبوت نہیں۔ اس بات کی جانب اشارہ کرنے کے لئے ہم نے چند مثالیں پیش کی تھیں جنہیں سمجھنے میں شاید مشکل ہوئی۔ اب ہم ایسی مزید مثالیں پیش کرتے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوسکے کہ کانٹر کی سیٹ تھیوری میں پیش کردہ ذھنی امکان کو پیش کردینا ناقد کے لئے مفید نہیں۔

1) ایک لکیر پر دو معین نکات کو ریاضی میں 1/8,1/4,1/2,…لامتناہی حصوں میں تقسیم کرتے جائیں تو ریاضیاتی ماڈل میں کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر خارجی اشیا جوہر فرد (discrete        or        indivisible        parts) پر مشتمل ہوں تو محض اس ذھنی تقسیم کے امکان سے یہ لازم نہیں آتا کہ خارجی خط میں واقعی لامتناہی غیر منقسم اجزا موجود ہوں۔

2) علم معاشیات میں آبادی کی شرحِ نمو کو سمجھنے اور مختلف نتائج اخذ کرنے کے لیے آبادی کا ایک continuous         function فرض کرلیا جاتا ہے۔ اس فنکش پر differentiation، integration اور دوسرے متعدد ریاضیاتی آپریشنز بھی کئے جاتے ہیں، اور ان آپریشنز سے باقاعدہ نتائج و پیش گوئیاں بھی اخذ کی جاتی ہیں جو آبادی کی حقیقی تعداد کے لگ بھگ برابر بھی رہتی ہے، نیز ان کی بنیاد پر سرکار پالیسی سازی بھی کرتی ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خارجی دنیا میں انسان واقعی کسی continuous         plane پر پیدا ہو رہے ہیں یا ہوسکتے ہیں بلکہ ہم قطعی طور پر جانتے ہیں کہ انسان اکائیوں کی (Discrete) صورت میں ہی ہیں نہ کہ مسلسل۔ یہاں continuity ہمارے میتھماٹیکل ماڈل کی خصوصیت ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کے خارجی موضوع کی بھی یہی خصوصیت ہو۔ یہی نکتہ کانٹر کے بارے میں بھی یوں منتقل ہوتا ہے کہ اگر ریاضی کسی لامتناہی مجموعے اور اس کے ساتھ بعض مخصوص آپریشنز کو بلامناقضہ انجام دینے کی اجازت دیتی ہے، تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے میتھماٹیکل ماڈل میں وہ آپریشن ممکن ہے اور بس، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ خارجی دنیا میں بھی اس آپریشن کے مطابق کوئی حقیقی ساخت متحقق ہوسکتی ہے۔

3) اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اپنے ذہن میں ایک ایسی بلی کا تصور کر سکتا ہوں جو کسی محدث یا علت کے بغیر از خود موجود ہوجائے اور وہ بلی میرے ذھن میں موجود ہے نیز ایسا سوچنے میں فوری منطقی تناقض بھی محسوس نہیں ہوتا، تو محض اس تصور کے ذھن میں قابل تشکیل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خارج میں بھی ایسی بلی کا وجود ممکن ہو۔ اسی طرح ایک ویڈیو گیم بنانے والا پروگرامر گیم کے اندر ایسی کوڈنگ کرسکتا ہے کہ ایک ہی کھلاڑی ایک ہی وقت میں دو جگہوں پر موجود ہو جائے یا ایک جسم کا دوسرے میں تداخل ہوجائے وغیرہ۔ لیکن اگر کسی واضح دلیل سے یہ معلوم ہو کہ بلی کا اس طرح خارج میں وجود میں آنا یا دو اجسام کا اس طرح تداخل محال ہے، تو محض اس ویڈیو گیم کی تشکیل اس کے خارجی وقوع کے امکان کے ہم معنی نہیں۔

4) کاغذ پر ایسا ماڈل لکھا جاسکتا ہے جہاں ایک شخص مثلاً ماضی میں گھوم پھر لے یا ماضی کے کچھ امور کو بدل دے اور پھر اس پر سمولیشن کرے کہ اگر فلاں بات پیچھے بدل جائے تو آگے یوں ہوگیا وغیرہ۔ اس سب میں ذھن کے اندر کہیں تضاد نہ بھی واقع ہو تب بھی اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوا کہ میں نے ایک ایسا ذہنی یا ریاضیاتی ماڈل بنا لیا ہے جس میں کوئی داخلی تضاد دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن آیا خارج میں بھی کوئی ایسی صورت حال متحقق ہوسکتی ہے یہ ایک الگ سوال ہے جس کا جواب صرف اس ماڈل کی داخلی ہم آہنگی سے نہیں ملتا بلکہ اگر خارج سے متعلق کسی دلیل و علم سے یہ معلوم ہو کہ ایسا ہونا ممکن نہیں تو یہ کاغذی ماڈل کسی خارجی امکان کی دلیل نہیں بن سکتا۔

ریاضی اور فزکس سمیت دیگر علوم کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں کاغذی ماڈلز میں کسی چیز کو متصل (Continuous) یا لامتناہی فرض کر کے انتہائی مفید نتائج حاصل کیے جاتے ہی، لیکن ان آئیڈئیلایزڈ ماڈلز کا کوئی خارجی وجود نہیں ہوتا۔ اس قسم کے ماڈلز کے امکان پر قیاس کر کے ان امور کو خارج میں ممکن قرار دینا ایک بنیادی خلط مبحث (Category        Mistake) ہے۔ کانٹر کی سیٹ تھیوری کا بھی یہی معاملہ ہے اور صرف اسے پیش کرکے اس کے خارجی وجود کا امکان ثابت نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی حوادث لا اول لھا کا۔ متکلمین نے فلاسفہ کے بعض ایسے ہی اعتراضات کے جواب میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ دلیل تطبیق (infinite        regress ar        gument) کا تعلق وہم و تخیل میں خیالات کی تعداد سے نہیں ہے بلکہ خارج میں اس کے متحقق ہونے کے امکان سے متعلق ہے۔ چنانچہ کانٹر کی دلیل یہ نہیں بتاتی کہ مثلا لامتناہی سیٹس کو ضرب دینا بیرونی حقیقت میں کن حالات و شرائط کے تحت درست ہوسکتا ہے، یا یہ کہ آیا سرے سے کوئی ایسی حالت ممکن بھی ہے جس میں یہ بیرونی حقیقت میں درست ہو، وہ محض ریاضی کر رہا تھا نہ کہ میٹافزکس۔ کانٹر کا ریاضیاتی فریم ورک مابعد الطبعیاتی اعتبار سے مجرد ہے، وہاں فرضی طور پر حقیقت سے تجرید کرتے ہوئے ایک امکان پیدا کرلیا گیا ہے یہ بتائے بغیر کہ دنیا متصل مقادیر پر مشتمل ہے، غیر منقسم اجزا پر، منفرد و جداگانہ حوادث پر، یا کسی اور نوع کی اشیا پر نیز مختلف قسم کی شرائط کا اس کے خارجی تحقق پر کیا اثر پڑتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اگر ریاضی کسی لامتناہی مجموعے کو تسلیم بھی کرتی ہو، تب بھی یہ سوال کہ ایسی لامحدودیت ذہن سے باہر حقیقت میں وجود رکھ سکتی ہے یا نہیں، اس کا جواب اس دنیا کی ماہیت پر منحصر ہوگا جس میں اسے متحقق ہونا ہے۔

لامحدودیت کے بارے میں کوئی ریاضی فریم ورک بذات خود یہ طے نہیں کرتا کہ خارجی دنیا میں لامحدودیت کی کون کون سی صورتیں متحقق ہوسکتی ہیں اور کس شرط کے ساتھ، اس سوال کا جواب خارجی دنیا کی ماہیت اور اس کی ساخت کے بارے میں کسی مستقل دلیل یا اصول وغیرہ کے ذریعے طے ہوسکتا ہے۔ چنانچہ کانٹر کے ریاضیاتی ماڈل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پے در پے بلا ابتدا حوادث کا خارجی وقوع بھی ممکن ہے، اس استدلال میں ایک غیر منطقی چھلانگ لگا لی گئی ہے۔ پس اس کے ماڈل کی فرضی ہم آھنگی کے باوجود بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا یہ میٹافزیکلی ممکن ہے؟ جب ناقد کو خود بھی قبول ہو کہ اس کے پاس اس کے میٹافزیکلی ممکن ہونے کی کوئی دلیل نہیں اور نہ ہی وہ اس کی نوعیت سے واقف ہے تو وہ اصولاً ہم سے یہ سوال نہیں کرسکتا کہ تمہیں اس ذھنی تصور کے خارجی طور پر غلط ہونے کا علم کیسے ہوا۔ ظاہر ہے جب تک وہ اس کی وجودی نوعیت واضح نہیں کرتا اس سوال پر بحث ممکن نہیں۔ تاہم ہم پھر بھی ناقد کے اس قول پر بحث کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کے میٹافزیکلی غلط ہونے کی کیا دلیل ہے۔  اس کے بعد اب ہم دوسرے پہلو پر بات کریں گے۔

میٹافزیکل احکام اور وھمی احکام

متکلمین جنہیں احکام عقلیہ کہتے ہیں جیسے واجب، محال و ممکن، ان سے مراد میٹافزیکل احکام ہیں جو ماھیات، وجود و عدم کے احکام ہیں اور وہ خارج سے متعلق ہیں، نہ کہ احکام وھمیہ جو محض ذھنی تصورات ہوتے ہیں۔ میٹافزیکل امکان ثابت کرنے کا طریقہ ان دلائل کی نشاندہی کرنا ہے جو آپ خارجی ماھیات و موجودات سے متعلق جانتے ہیں اور جن پر آپ کو جزم ہے۔ وہ دلائل چند طرح کے ہیں: (الف) بدیہی حقائق کا علم جیسے ہر موجود کا وجود و عدم کے مابین حصر ہونا، جمع بین النقیضین کا محال ہونا، جزو کا کل سے چھوٹا ہونا (یہ بھی وجود و عدم کے حصر پر مبنی ہے)، عدم وجود کے سبب ہوسکنے کا محال ہونا، مرتب افعال کا بغیر علم نہ ہوسکنے کا لزوم، وغیرہ (ب) حسی معلومات، اور (ج) نظر (استدلال) جہاں چند معلوم امور سے بعض مزید امور کا حکم معلوم کیا جاتا ہے۔ میٹافزکس کی تفہیم کے اس عمل میں بعض شواہد یا دلائل سے بعض دیگر احکام اخذ ہوتے ہیں، اور اگر ایک مرتبہ کسی اصول کی بنیاد پر کسی شے کا خارجی طور پر محال ہونا ثابت ہوجائے تو محض کسی موہوم ذہنی امکان کی بنیاد پر اس کا میٹافزیکل امکان ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر دوران استدلال زیر بحث کوئی پروپوزل کسی معلوم اصول کے خلاف ثابت ہوجائے، یا اس سے کوئی ایسی بات لازم آئے جو محال یا معلوم حقیقت کے منافی ہو، تو یہ اس کے خارجی امکان نہ ہونے کے علم کا ایک طریقہ ہے۔ اسے دلیل خلف (Reduction         ad        Absurdum) کہتے ہیں۔ الغرض میٹافزیکل امکان کی بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ زیرِ بحث پروپوزل کسی معلوم وجودی اصول یا حقیقت پر قائم ہے یا نہیں، اور آیا معلوم حقائق کی روشنی میں اس سے کوئی تضاد یا لغو نتیجہ لازم آتا ہے یا نہیں۔ میٹافزیکل امکان اور وھمی امکان کا فرق سمجھانے کے لئے ہم ایک مثال یہ پیش کریں گے کہ ابن تیمیہ کے نزدیک خدا کا جسم ہونا اور اس میں حوادث جاری ہونا قابل تخیل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب دلیل سے معلوم ہوگیا کہ حدوث و جسمیت مخلوق کی صفت ذاتی ہے، تو خالق لازماً ان سے منزہ ہوگا اور یہ قطعی حکم عقلی ہے جبکہ ابن تیمیہ جو کہتے ہیں وہ حکم وھمی ہے جس کا خارج سے کوئی تعلق نہیں، نیز علامہ صاحب کی جانب سے اسے قابل تخیل کہنے سے کوئی خارجی امکان ثابت نہیں ہوتا۔

کانٹرین امکان غلط ہونے کی وجوہات

کانٹر کی اس سیٹ تھیوری پر متکلمین کا ایک جواب یہ ہوگا کہ اس کے لئے کسی میٹافزیکل بنیاد کی نشاندہی نہیں کی گئی بلکہ صرف ایک میتھمٹیکل آبجیکٹ جیسے کہ سیٹس کو حوالہ بنالیا گیا ہے۔ اشاعرہ و ماتریدیہ کے نزدیک کلیات نیز میتھمٹیکل آبجیکٹس کا از خود کوئی خارجی وجود نہیں، پس ان موھومی امور اور ان کے آپسی احکام کو بنیاد بنا کر کوئی میٹافزیکل امکان کھڑا نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا نہ صرف یہ کہ کانٹر کے تھیوریٹکل امکان سے خارجی امکان لازم نہیں آتا (جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا) بلکہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس کے لئے جس چیز کو بنیاد بنا لیا گیا ہے اس خیال کے لئے کوئی خارجی بنیاد موجود نہیں۔ کانٹر کا فریم ورک کوئی میٹافزیکل امکان تب کھڑا کرسکتا ہے جب یہ خود کسی میٹافزیکل قدم پر کھڑا ہو جبکہ ہمیں اس کے خلاف علم حاصل ہے۔ پس جب ان کا کسی خارجی آبجیکٹ کے بارے میں صادق ہونا ثابت ہی نہیں تو یہ کہنا درست نہیں رہتا کہ مثلاً یہ خارج میں حوادث لا اول لھا کا جواز فراہم کرتی ہیں۔

دوسری بات، جو یہاں ضمنی ہے اور جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں، یہ کہ کانٹرین سیٹ تھیوری کے بعض نتائج ہماری خارجی اشیا کے بارے میں معلوم اصولوں سے متناقض و منافی ہیں۔ مثلاً کانٹر کی لامتناہی سیٹ تھیوری میں سبٹریکشن اور تقسیم کا عمل لغو نتائج کو جنم دیتا ہے۔ اگر کانٹر کی تھیوری واقعی خارج سے متعلق ہوسکتی تو یہ نتیجہ جنم نہ لیتا کیونکہ خارجی دنیا میں مثلاً لامتناہی کتب کی لائبریری سے لامتناہی کتب منہا کرنے (بذریعہ کتاب ادھار لینے) یا تقسیم کرنے کی صورت ممکن ہے۔ کسی تصوراتی پروپوزل کے خارجی امکان و ہم آھنگی کو چیک کرنے کے اس طریقے کو تھاٹ ایکسپیریمنٹ (     thought        experiment) کہتے ہیں جہاں دلیل خلف سے دیکھا جاتا ہے کہ زیر بحث مقدمہ کسی معلوم اصول سے ٹکرا تو نہیں رہا یا کاونٹر انٹیوٹو تو نہیں۔ اگر ایسا ثابت ہوجائے تو اس مخصوص مفروضے کے خارجی امکان پر سوال پیدا ہوتا ہے۔ کانٹر کے نظریے کی ایسی متعدد مشکلات کی وجہ سے ریاضی دانوں نے سیٹ تھیوری کے دیگر ورژنز و ماڈلز پیش کئے ہیں۔ الغرض کانٹر کی سیٹ تھیوری سے ان لغو امور کا لازم آنا یہ بتاتا ہے کہ میٹافزیکلی یہ قابل فہم (intelligible) نہیں، محض ذھنی و وھمی تخیل میں قابل تشکیل ہونا کوئی متعلقہ دلیل نہیں۔ ذھن میں تو بعض لوگ یہ بھی قابل تخیل سمجھتے ہیں کہ مثلاً بغیر محدث از خود کائنات بن جائے، انتہائی مرتب افعال بلا کسی صاحب علم فاعل رونما ہورہے ہوں، خدا کسی جسم میں حلول کرجائے، ایک جسم کا دوسرے میں تداخل ہوجائے، خدا تین اور بیک وقت ایک ہوں، اس عالم سے ماورا ایک عالم مثال ہو جہاں سب جزیات کی کلی ہو وغیرہ۔

تیسری بات کہ اس سیٹ تھیوری کے باوجود حوادث لا اول لھا منع ہونے کی وجہ کیا ہے، تو متکلمین کی جانب سے اس کے دو جواب ہیں، ایک الزامی اور دوسرا تحقیقی۔

  • الزامی جواب یہ کہ علامہ ابن تیمیہ کے موقف کی تائید میں کانٹر کی جس سیٹ تھیوری کو پیش کیا جارہا ہے، خود علامہ صاحب اور مسلم فلاسفہ کے بعض آنٹالوجیکل مقدمات بھی اس کی زد میں ہیں نیز خود ناقد کو بھی کانٹر کے نتائج کو ابن تیمیہ کے مخصوص آنٹالوجیکل موقف کے تناظر میں contextualize کرنا ہوگا۔ مثلاً ابن تیمیہ کے نزدیک دو قدیم اجسام میں حوادث لا اول لھا جائز نہیں جبکہ ایک میں جائز ہے! کیا کانٹر کی سیٹ تھیوری اس فرق کو قبول کرتی ہے؟ اگر نہیں کرتی، تو یہ بتانا ہوگا کہ دو قدیم اجسام کے محال ہونے کی ابن تیمیہ کی دلیل اس کی رو سے کیسے درست رہی؟ اسی طرح کانٹر کے لامتناہی سیٹس سے تو کوئی علتوں کے لامتناہی تسلسل (infinite        regress         of         causes) کا امکان بھی اخذ کرسکتا ہے، حالانکہ مسلم فلاسفہ سمیت ابن تیمیہ بھی ہر قسم کے علتی تسلسل کو ممکن نہیں مانتے۔ پس اگر یہ سیٹ تھیوری متکلمین کے خلاف کوئی دلیل ہے تو یہ مسلم فلاسفہ و ابن تیمیہ کے خلاف بھی دلیل ہے۔ اس الزام سے بچنے کا طریقہ ناقد کے پاس اس کے سوا کیا ہے کہ احکام وھمیہ و احکام عقلیہ میں فرق کیا جائے؟ الغرض کانٹر کی سیٹ تھیوری مشترک الالزام ہے، اور اہل علم جانتے ہیں کہ جو چیز مشترک الالزام ہو اس سے مخالف پر الزام قائم نہیں کیا جاسکتا۔
  • تحقیقی جواب یہ ہے کہ جیسا ہم نے بتایا کہ کانٹر کا اخذ کردہ حکم انٹالوجی سے مجرد ہے، وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ حکم کس نوعیت کی اشیا کے بارے میں درست ہوسکتا ہے اور کس نوعیت کی اشیا کے بارے میں نہیں، لہذا اسے کسی معین انٹالوجی میں ثابت حکم کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں بنیادی غلطی یہ ہے کہ مختلف معنوں میں استعمال ہونے والے ‘لامتناہی’ کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے جبکہ بیک وقت حقیقی لامتناہی، پے در پے بالفعل گزر جانے والا لامتناہی، مستقبل میں جاری رہنے والا پوٹنشل لامتناہی، اور لامتناہی کی محض ذہنی یا ریاضیاتی اظہار (representation)، سب الگ امور ہیں۔ اس لیے کانٹر کے اصول کی بنیاد پر یہ سوال بہرحال پوچھا جائے گا کہ یہاں ذہن میں متصور ہونے والے لامتناہی تصورات کی بات ہورہی ہے یا خارج میں موجود اشیا کی؟ نیز پوٹنشل لامتناہی کے امکان کی بات ہورہی ہے یا حقیقی لامتناہی کے امکان کی؟ پس اگر میٹافزکس کے اصول یہ ہوں کہ جمع بین النقیضین اور جمع بین الضدین محال ہے، تو یہ بات معلوم ہوگئی کہ حوادث لا اول لہا کا وقوع محال ہے کیونکہ اس میں جمع بین النقیضین لازم آتا ہے۔ پس ہم کہیں گے کہ ماضی کے حوادث لا اول لہا کے بارے میں اس کا غلط ہونا تسلسل و جمع بین النقیضین کے محال ہونے کی بنیاد پر معلوم ہے۔

دھیان رہے کہ یہاں ہم نے اس نتیجے کو محض فرض نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ بیان کی ہے۔ ہماری دلیل کا خلاصہ یہ ہے:

الف) جمع بین النقیضین محال ہے

ب) حوادث لا اول لھا کے وقوع میں جمع النقیضین ہے

ج) لہذا حوادث لا اول لھا کا وقوع محال ہے۔

یہاں نہ لامتناہی ایک ساتھ کسی طرح ذھن میں موجود ہونے کی بحث ہے اور نہ ہی خارج میں پے در پے مستقبل کے پوٹنشل لامتناہی کی، بلکہ یہاں خارج میں لامتناہی واقعات پے در پے گزر چکنے کی بحث ہے۔ تسلسل کی اس مخصوص صورت میں اس کے بالفعل تحقق سے فراغ (completion) لازم آتا ہے جو انتہا کو لازم ہے جبکہ اس کی تعریف ہی عدمِ انتہا ہے۔ لہذا یہاں امتناعِ تسلسل محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ جمع بین النقیضین کی بنیاد پر قائم کیا جارہا ہے۔ پس جب کسی شے کے وقوع کا محال ہونا ثابت ہوجائے تو محض سیٹ تھیوری میں زیرِ بحث کسی ایسے حکم کی بنیاد پر، جس کا کوئی خارجی وجود نہیں اور نہ ہی وہ کسی خارجی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، اس قطعی نتیجے کو غلط ثابت نہیں کیا جاسکتا۔

چنانچہ ناقد کے پاس بحث کا بامعنی طریقہ یہ بتانا ہے کہ اس کے تصوراتی ماڈل کے فلاں وجودی شواہد ہیں، یا یہاں جمع بین النقیضین نہیں ہوا (یعنی فراغ/تحققِ بالفعل اور عدمِ انتہا میں تناقض کیسے نہیں ہے) یا مثلاً اس سے لغو نتائج برآمد نہیں ہوئے، نیز خود ابن تیمیہ کا موقف اس سیٹ تھیوری کی رو سے کیسے درست ہے۔ یہ کہنا کہ “مجھے تو یہاں جمع بین النقیضین محسوس نہیں ہوتا یا میرے ذھن میں چونکہ ایک ایسا تصوراتی ماڈل موجود ہے جہاں لامتناہی ہوسکتے ہیں‘‘، اس سے نہ اس کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی ہماری دلیل کا ابطال ہوتا ہے۔ اس ناقد کو اس بات پر غور کرنا چاھئے کہ اس کے ذھن میں سمایا ہوا تصوراتی ماڈل میٹافزکس سے غیر متعلق ہے، فافہم۔ اگر وہ متعلقہ گفتگو چھوڑ کر محض اپنے تصوراتی ماڈل ہی کا حوالہ دیتا رہے، تو اس سے بحث آگے نہیں بڑھ سکتی کیونکہ محض تصوراتی امکان دلیل سے ثابت شدہ میٹافزیکل عدم امکان کے مقابلے میں حجت نہیں بن سکتا۔ جو شخص اس بات کو نہ سمجھے اور تصوراتی ماڈل پر اصرار کرتا رہے، وہ دراصل میٹافزکس کی بحث کی نوعیت کو نہیں جانتا، وہ وہم کا پیرو ہے۔

خلاصہ بحث یہ کہ:

الف) کانٹر کی سیٹ تھیوری ایک میتھمیٹیکل فارم یا حکم ہے جو از خود میٹافزیکل امکان یا حکم کے ہم معنی نہیں یہاں تک کہ اس کی وجودی بنیاد بتائی جائے کہ یہ کس چیز کے بارے میں صادق ہے یا ہوسکتی ہے، بصورت دیگر یہ صرف حکم وہمی ہوگا نہ کہ حکم عقلی۔ جو کوئی اسے میٹافزیکلی ممکن کہتا ہے اس پر اس کا وجودی گراؤنڈ دکھانا لازم ہے، محض اس فارم کو ذکر کرتے رہنا اسے کفایت نہیں کرسکتا۔

ب) کانٹر کی سیٹ تھیوری کے آبجیکٹس کا کوئی خارجی وجود نہیں، لہذا متعلقہ بحث میں انہیں حوالہ بنانا اور اس پر اصرار کرنا غیر متعلق ہے۔

ج) کانٹر کے فریم ورک کے بعض نتائج ہمارے معلوم خارجی اور مابعدالطبیعی اصولوں کے خلاف یا کم از کم نہایت غیر موزوں ہیں، اور یہ اس کے میٹافزیکل امکان کے خلاف ایک دلیل ہے۔

د) اگر کانٹر کے فریم ورک کو براہ راست میٹافزیکل امکان کا معیار مانا جائے تو اس کے نتائج ابن تیمیہ اور مسلم فلاسفہ کے بعض اصولوں سے بھی متعارض ہیں۔ پس ناقد بتائے کہ اپنے موقف کے بارے میں وہ کیا کہتا ہے؟

ھ) کانٹر کا فریم ورک یہ طے نہیں کرتا کہ لامتناہی کی کونسی صورتیں کس میٹافزیکل سسٹم میں محال ہیں اور کس میں ممکن۔ لہذا جب دلیل سے تسلسل حوادث کا محال ہونا معلوم ہوجائے، تو اس کے برخلاف محض اس ریاضیاتی امکان کو اس تسلسل کا میٹافزیکل امکان ثابت کرنے کے لیے پیش کرنا ایک طرف غیر متعلق ہے اور دوسری طرف حکم عقلی کو ترک کرکے حکم وہمی کی پیروی ہے۔

ناقد کی دلیل یا مصادرہ علی المطلوب؟

آخری بات: ناقد کا استدلال دراصل مصادرہ علی المطلوب (begging       the        question) کا شکار ہے۔ محل نزاع یہ ہے کہ کیا لامتناہی حوادث کے تسلسل کا خارجی وجود ممکن ہے، نہ یہ کہ کیا ذہن میں لامتناہی کا کوئی تصوراتی یا ریاضیاتی ماڈل بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ ناقد نے کہا دیکھو سیٹ تھیوری میں لامتناہی مجموعے جائز ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ غیر متعلق دلیل ہے یہاں تک کہ تم اس کی وجودی بنیاد فراہم کرو۔ مزید یہ کہ ہم نے اس امکان کی وجودی بنیاد کے فقدان کے ساتھ ساتھ بعض صریح اصولوں سے اس کے تعارض اور تسلسل حوادث کی صورت میں جمع بین النقیضین کو بھی واضح کیا، جس سے معلوم ہوا کہ خارج میں تسلسل حوادث محال ہے۔ اب اگر اس کے جواب میں وہ کہے کہ ’’ریاضی کے ماڈل میں چونکہ ایسا لامتناہی تسلسل ممکن ہے اس لیے یہ خارج میں بھی ممکن ہے‘‘، تو وہ دراصل محلِ نزاع ہی کو دلیل بنا رہا ہے۔

ھذا ما عندی، واللہ اعلم بالصواب

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔
zahid.siddique@s3h.nust.edu.pk

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں