Home » تاریخ ، روایت اور تراث (1)
اسلامی فکری روایت • تاریخ / جغرافیہ • تہذیبی مطالعات

تاریخ ، روایت اور تراث (1)

تاریخ، روایت اور تراث کسی قوم کے مجموعی تہذیبی ورثے کا عنوان ہوتے ہیں۔ یہ سب مل کر جو سب سے اہم اور سب سے پائیدار چیز کسی قوم کو مہیا کرتے ہیں، وہ ’’شناخت’’ ہے۔ شناخت کسی قوم کے لیے ایک طرح سے تقدیری چیز بن جاتی ہے جس سے دامن الگ کرنا کم وبیش ناممکن ہوتا ہے۔ معلوم تاریخ میں قوموں کی تہذیبی شناخت کی تشکیل میں مختلف مذاہب کا کردار بنیادی رہا اور آج بھی بنیادی طور پر یہی شناختیں برقرار ہیں۔ ہندو شناخت، کنفیوشس شناخت، مسلم شناخت، اور مسیحی شناخت، یہی آج بھی تہذیبی سطح پر اقوام عالم کے باہمی امتیاز کا بنیادی حوالہ ہیں۔ شناخت کی سطح پر ان کا متبادل پیدا کرنے کی کوششوں کو ابھی تک خاص کامیابی نہیں ملی۔ تین چار دہائیاں پہلے ہنٹنگٹن نے اسی کی نشان دہی کی تھی اور آج امریکا اور یورپ میں مذہب سے نظری اور عملی بے تعلقی کے باوجود ’’مسیحی شناخت’’ پر اصرار کا رجحان جس طرح دوبارہ قوت پکڑ رہا ہے، وہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔
شناخت اس لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے کہ یہ قوموں کو تاریخ میں بقا اور تسلسل کا بنیادی وسیلہ فراہم کرتی ہے۔ بقا اور تسلسل، مخالف اور حریف شناختوں کے مقابلے میں مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے جو وحدت اور اجتماعیت کے تصور کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔ شناخت اسی وحدت اور اجتماعیت کو ممکن بناتی ہے۔ تاہم تاریخ سے ملنے والے اس ’’تقدیری’’ وسیلے کو موثر انداز میں بروئے کار لانے میں ایک چیلنج بھی قوموں کو مسلسل درپیش رہتا ہے، اور وہ یہ ہوتا ہے کہ تاریخ کے تغیرات سے تعامل کے لیے جو لچک اور نظری وعملی وسعت درکار ہوتی ہے، وہ پیدا کرتے ہوئے اپنی تاریخ، روایت اور تراث کے ساتھ زندہ تعلق کیسے قائم رکھا جائے اور یہ کہ تاریخ میں آگے بڑھنے کا عمل تاریخ، روایت اور تراث کو disown کرنے کی قیمت پر نہ ہو۔
یہ توازن پیدا کیے رکھنا بنیادی طور پر اہل علم کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کسی قوم میں ایسے رجحانات نمایاں ہونے لگیں کہ شناخت کی تعبیر تاریخ، تراث اور روایت سے خود کو ’’بری الذمہ’’ قرار دیے بغیر مشکل نظر آنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل علم ایک ایسا نظری وعلمی فریم ورک دینے میں ناکام رہے ہیں جو نئے تاریخی حالات میں ماضی کی تفہیم میں مددگار ہو اور ماضی کو ایک liability سمجھنے کے بجائے کے asset کے طور پر دیکھنے کا اندازِ نظر پیدا کرتا ہو۔
شناخت اس لیے تقدیری ہوتی ہے کہ قومی اجتماعیت کے لیے اس کا کوئی متبادل تاریخ میں دستیاب نہیں ہوتا۔ لیکن تقدیری صورت حال کسی قوم کے لیے ایک کارآمد وسیلہ تبھی بن سکتی ہے جب نظری طور پر تاریخ، روایت اور تراث کو disown کیے بغیر اس کے ساتھ تعامل کرنے، اس کا تنقید وتجزیہ کرنے اور اس میں اضافہ کرنے کے امکانات شعور کی سطح پر موجود ہوں۔ اگر یہ امکانات سطحِ شعور سے مستقل طور پر غائب ہونے لگیں تو شناخت یا تو مضمحل ہونے لگتی ہے یا پھر قوموں کی سیاسی اور اقتصادی کشمکش میں محض ایک آلے اور ہتھیار کے طور پر برتنے کے قابل رہ جاتی ہے۔
مسلم تہذیب میں تاریخ کے حوالے سے ’’چیلنج’’ بن جانے والے فکری سوال یعنی مشاجرات کی مشکل یہ ہے کہ یہ عین اس دور میں رونما ہو گیا تھا جس کو تہذیب کا تشکیلی دور کہا جاتا ہے اور جو مسلمانوں کے عمومی دینی شعور کے مطابق ’’معیاری’’ دور بھی ہے۔ اسی لیے اس کو ’’قصہء ماضی’’ سمجھ کر صرفِ نظر کرنا مسلمانوں کے لیے کبھی ممکن نہیں ہوا اور شاید ہوگا بھی نہیں۔ اور بعینہ اسی سبب سے مسلمانوں کے ہاں ہمیشہ اس کی ضرورت سمجھی گئی ہے کہ تاریخ کے اس حصے کی ایک ایسی تفہیم سامنے لائی جائے جس کے ساتھ تاریخ میں آگے بڑھنا یعنی تہذیب کے تسلسل کو قائم رکھنا بھی ممکن ہو۔
اس ضمن میں جن مذہبی تفہیمات کو کسی نہ کسی درجے میں قبولیت ملی، وہ معروف ہیں۔
۱۔ خوارج کی تفہیم یہ تھی کہ پہلے دو خلفاء کے بعد مسلمانوں کی وہ جماعت جس کو سیاست وحکومت کی ذمہ داری دی گئی تھی، خود بحیثیت مجموعی انحراف اور نتیجتاً‌ تقسیم واختلاف کا شکار ہو گئی، اس لیے اسے کوئی تقدس اور احترام بھی حاصل نہیں رہا۔ اس کے بعد مسلمانوں کا سیاسی نظم دراصل انحراف پر قائم ہے جسے شرعی جواز حاصل نہیں، چنانچہ سچے اہل ایمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس انحراف کو درست کرنے کے لیے اس نظم کے خلاف برسرِ پیکار ہوں۔ گویا خوارج کی تفہیم میں زیربحث مرحلہ تاریخ پر ’’انحراف’’ کا حکم لگاتے ہوئے تاریخ میں تسلسل اور بقا کا عنوان ’’بحالی کی جدوجہد’’ کو قرار دیا گیا اور ان کے مختلف گروہ اسی تصور کے تحت تاریخ میں جب تک ممکن ہوا، اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
۲۔ اہل تشیع کی تفہیم میں ’’انحراف’’ کی ابتدا خوارج کے متعین کردہ مرحلے سے بھی پہلے شروع ہو گئی تھی، البتہ سنگینی کے اعتبار سے اس انحراف کے مدارج مختلف تھے۔ انحراف کی ابتدا منصوص امام کو اقتدار سپرد کرنے کے بجائے خلیفہ کا انتخاب کرنے سے ہوئی۔ پھر جب منصوص امام کو ’’خلافت’’ کے طریقے پر اقتدار دیا گیا تو ایک بڑے گروہ نے اس کو بھی قبول نہیں کیا جس سے انحراف کی سنگینی مزید بڑھ گئی۔ پھر نواسہء رسول کی شہادت کے واقعے پر یہ انحراف اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔
تاہم چونکہ ائمہ اہل بیت نے امت کی اجتماعی مصلحت کے پیش نظر پہلے تین خلفاء کی خلافت کو عملاً‌ قبول کیا، پھر صلحِ حسن میں اسی نقطہ نظر سے خلافت سے دستبرداری قبول کی گئی، اور پھر شہادتِ حسینؓ کے بعد ان کی طرف سے عموماً‌ اقتدار کی کشمکش سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی، اس لیے ظہورِ مہدی تک دین وشرع کا منشا یہی ہے کہ اس حوالے سے کوئی عملی کشمکش پیدا نہ کی جائے۔ گویا شیعہ تفہیمِ تاریخ کا بنیادی نکتہ مسلمانوں کے سیاسی نظم پر اصولی حکم انحراف کا لگاتے ہوئے، بالفعل اس کو قبول کرنا اور اس سے موافقت اختیار کرتے ہوئے تاریخ میں اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔
اہل تشیع کی دوسری شاخ یعنی اسماعیلیوں نے البتہ خوارج کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے حصولِ اقتدار کی جدوجہد جاری رکھی اور کافی عرصے تک مختلف علاقوں میں اپنی چھوٹی بڑی حکومتیں قائم کرنے میں بھی کامیاب رہے۔
3۔ انحراف اور سیاسی اقتدار کے جواز یا عدمِ جواز سے متعلق ایک اور تفہیم معتزلی روایت میں سامنے آئی جو اس لحاظ سے دلچسپ تھی کہ اس میں شیعی، خارجی اور اہل السنۃ تینوں کے موقف کے کچھ کچھ عناصر شامل تھے۔ اس کے مطابق انحراف کا آغاز حضرت علیؓ کی بیعت نہ کرنے سے ہوا تھا اور ان کے مقابلے میں نیز ان کے بعد قائم ہونے والا سیاسی نظم غاصبانہ تھا جس کی ڈی فیکٹو حیثیت تو اجتماعی مصلحت کے پیش نظر معتزلی اہل علم تسلیم کرتے تھے، لیکن اصولاً‌ وشرعاً‌ اسے ناجائز قرار دیتے تھے۔ اسی لیے ان کے نزدیک سیاسی نظم کے خلاف خروج جائز تھا اگر اس کی کامیابی کے امکانات عملاً‌ موجود ہوں۔ (سنی روایت کے مرکزی دھارے میں امام ابوحنیفہؒ کا رجحان بھی اسی کے قریب دکھائی دیتا ہے)۔ گویا تہذیبی بقا اور تسلسل کے پہلو سے معتزلی تفہیمِ تاریخ اور شیعی تفہیمِ تاریخ تقریباً‌ ایک ہی جگہ کھڑی تھی۔
4۔ ان تمام تفہیمات کے تقابل میں، اہل السنۃ کے ہاں جس تفہیمِ تاریخ نے عمومی تائید حاصل کی، اس کے تین چار بنیادی نکات تھے:
الف۔ مشاجرات کی نوعیت ’’انحراف’’ کی نہیں، بلکہ ’’ابتلا’’ کی تھی جو جماعتوں اور گروہوں کے باب میں اللہ کی ایک مستقل سنت ہے۔ اس ’’ابتلا’’ میں سیاسی صورت حال کا بھی دخل تھا اور بشری عوارض کا بھی، اور بنیادی طور پر یہ بحیثیت مجموعی پوری ’’جماعت’’ کا ابتلا تھا جس کی ذمہ داری کلیتاً‌ انفرادی کرداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
ب۔ اس ’’ابتلاء’’ سے اس کا دینی یا اخلاقی جواز پیدا نہیں ہوتا کہ جماعتِ صحابہ کا جو منصب اور ذمہ داری قرآن نے بیان کی ہے، اور نبی علیہ السلام کی نصرت وحمایت کے حوالے سے ان کا جو کردار بیان کیا ہے، اس کی نفی کر دی جائے، اور خاص طور پر ’’ابتلاء’’ کے بعد امت کی اجتماعیت کو بحال کرنے کے لیے انھوں نے جو فکرمندی اور سرگرمی دکھائی، اس سے صرفِ نظر کر لیا جائے۔
ج۔ ابتلاء کے بعد سیاسی نظم جس رخ پر قائم ہوا، اس کی تفہیم جواز اور عدمِ جواز کے پیرایے میں نہیں، بلکہ آئیڈیل اور نان آئیڈیل کے پیرایے میں کی جائے گی اور معروضی حالات میں نان آئیڈیل بندوبست کی بھی ایک شرعی اور قانونی، نہ کہ صرف ڈی فیکٹو، حیثیت تسلیم کی جائے گی۔
د۔ تاریخ کے اس مرحلے کی واقعاتی پیچیدگی کے پیش نظر اس حوالے سے مختلف تفہیمات رکھنے والے گروہوں کے، غلطی میں مبتلا ہونے کی گنجائش مانی جائے گی، چاہے وہ رفض اور خارجیت جیسی قبیح اور شنیع صورتوں میں ہی کیوں نہ ہوں، خصوصاً‌ ان کو امت کا حصہ شمار نہ کرنے اور قانونی سطح پر تکفیر کا موقف اختیار نہیں کیا جائے گا۔
تفہیمِ تاریخ سے متعلق اہل السنۃ کے عمومی موقف کے پہلے دو نکتے ’’اعتقادی’’ نوعیت کے تھے، یعنی ان کی بنیاد جماعتِ صحابہ کے منصب اور دینی حیثیت سے متعلق قرآن وحدیث کے بیانات پر تھی، جبکہ تیسرے اور چوتھے نکتے کا تعلق تہذیبی بقا اور تسلسل سے تھا، یعنی وہ اس سوال کو موضوع بنا رہے تھے کہ آئیڈیل سیاسی نظم کے برقرار نہ رہنے کی صورت حال میں مسلمان اپنے تاریخی وتہذیبی کردار کو کس بنیاد پر تسلسل دیں؟ اور اس حوالے سے جو اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، ان کے ساتھ کیا معاملہ کریں؟
اس تفہیم کا مجموعی حاصل یہ تھا کہ ہم آئیڈیل دور کو معیار سمجھتے ہوئے بھی اس کا جواز نہیں بنائیں گے کہ اس کے بعد کی پوری تاریخ کو ڈس اون کر دیں اور امت کو یہ باور کروائیں کہ تاریخ میں اس کی ذمہ داری ’’تسلسلِ ناجائز’’ کا بوجھ لے کر آگے بڑھنے کی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ان گروہوں کو بھی تاریخ کے سفر میں امت کے ساتھ شامل رکھیں گے جو اس قضیے میں انتہاوں پر چلے گئے ہیں۔ یہ ایک بہت carefully         crafted موقف تھا جو عقیدہ، سیاست اور تاریخ تینوں کے تقاضوں کو پورا بھی کر رہا تھا اور ان کے مابین توازن بھی قائم کر رہا تھا۔ اس کے تینوں اجزا باہم جڑے ہوئے اور متلازم تھے، اور کسی ایک کو بھی درمیان سے نکال دینے سے اس پورے موقف کا داخلی انسجام ٹوٹ جانا ناگزیر تھا۔
معاصر تناظر میں اگر اس موقف کے ’’اعتقادی’’ پہلو میں ہمیں ایک طرح کا غلو یا غیر حقیقت پسندی یا عدم توازن دکھائی دے رہا ہے تو یہ محض جذباتیت نہیں ہے۔ اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو اس کے پس منظر میں اہل السنۃ کے موقف کے تینوں اجزا سے مرحلہ بہ مرحلہ رجوع کا عمل کارفرما ہے۔
برصغیر کے تاریخی تناظر میں تیسرے جزو سے رجوع کی ابتدا حضرت مجدد الف ثانیؒ کے رسالے سے ہوتی ہے جس میں روافض کی، بطور ایک جماعت کے تکفیر کا مقدمہ پیش کیا گیا اور اس نے بیسویں صدی میں مختلف اوقات میں جاری کیے جانے والے اجتماعی فتاوائے تکفیر کی بنیاد فراہم کی۔
دوسرے جزو یعنی دورِ ملوکیت کی شرعی حیثیت کو منہا کرنے کا فریضہ بیسویں صدی میں مولانا مودودیؒ کے ’’خلافت وملوکیت’’ کے بیانیے اور اقامتِ دین اور حکومت الٰہیہ کے تصورات نے انجام دیا۔
اور ان دونوں ترمیمات کے نتیجے میں (یعنی پہلی ترمیم کے زیر اثر، جبکہ دوسری ترمیم کے رد عمل میں) اہل السنۃ کے موقف کے اعتقادی پہلو میں بھی وہ ترمیم سامنے آئی ہے جو ’’عقیدہ’’ اور ’’تاریخ’’ کو ایک دوسرے کا مدمقابل بنانے کی صورت میں ہے۔ یہ اہل السنۃ کی تفہیمِ تاریخ کی کایا کلپ ہونے کی ابتدا نہیں، بلکہ اس کی تکمیل ہے اور اسے درست تاریخی ترتیب سے سمجھنا ضروری ہے۔

محمد عمار خان ناصر

محمد عمار خان ناصر گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔
aknasir2003@yahoo.com

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں