حسن ابن ساقی
قرآن کریم کا نزول عربی زبان میں ہوا اس لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے الفاظ کے لغوی معانی جان لینا کافی نہیں بلکہ اس زبان کے ان طریقہ ہائے بیان اور اسالیب سے واقفیت بھی ناگزیر ہے جن کے ذریعے عرب اپنے مفاہیم کو ادا کرتے تھے۔۔ اکثر ایک ہی لفظ یا ترکیب اپنے مختلف مواقعِ استعمال کی وجہ سے مختلف معنوی کیفیت پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات کلام میں کسی لفظ کا حذف، کسی جزو کو مقدم کرنا، خطاب کے انداز کو تبدیل کرنا یا ایک طرز بیان سے دوسرے طرز کی طرف منتقل ہونا ہی اصل معنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اسی بنیادی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے مولانا حمید الدین فراہی نے قرآن کے اسلوبی اور بلاغی پہلوؤں پر خاص توجہ دی اور ” اسالیب القرآن“ کے نام سے ایک مستقل رسالہ مرتب کرنے کی کوشش کی، گرچہ یہ رسالہ مکمل نہیں ہو سکا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ نا مکمل ہونے کے باوجود بھی یہ مسافرانِ علم کے لیے اتنا مواد رکھتا ہے کہ اس موضوع پر انہیں ایک روڈ میپ فراہم کر سکے۔ مولانا فراہی کی تمام عمر قرآن مجید کے فہم و تدبر کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا مقصد صرف ایک روایتی تفسیر لکھ دینا نہیں تھا، بلکہ وہ قرآن فہمی کے لیے ایک ایسا جامع علمی منہج مرتب کرنا چاہتے تھے جس میں قرآن کے الفاظ، زبان، اسلوب، نظم، اصولِ تاویل اور دیگر متعلقہ مباحث کو الگ الگ علمی بنیادوں پر سمجھا جا سکے۔
ان کے اس وسیع منصوبے میں مفردات القرآن، اسالیب القرآن، التکمیل فی اصول التأویل اور دلائل النظام جیسی تصانیف بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسالیب القرآن دراصل اس منصوبے کا وہ حصہ ہے جس کا تعلق قرآن کے طرزِ بیان اور اس کی لسانی ساخت سے ہے۔ مولانا کے نزدیک قرآن کے اسلوب کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید کسی دوسری زبان میں منتقل ہونے والا محض ایک مفہومی متن ہرگز نہیں بلکہ اپنے مخصوص الفاظ، تراکیب، ترتیب اور طرزِ ادا کے ساتھ ایک زندہ عربی کلام ہے۔ ترجمہ کسی حد تک معنی منتقل کرسکتا ہے لیکن اصل زبان کے تمام اسلوبی اور بلاغی اثرات کو دوسری زبان میں پوری طرح منتقل کرنا ناممکن ہے۔ سو قرآن کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے اس کی اصل عربی زبان، عربی محاورے اور کلامِ عرب کے طریقہ ہائے استعمال سے واقفیت ضروری ہے۔
مولانا فراہی نے قرآن میں استعمال ہونے والے ان اسالیب کی نشان دہی کی جو عام طور پر قاری کی نگاہ سے اوجھل رہ جاتے ہیں مگر آیت کے مفہوم کو متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں کئی عنوانات کے تحت مختلف اسالیبِ کلام اور ان کے مواقعِ استعمال پر گفتگو کی ہے اور ان مباحث میں قرآن کی آیات کے ساتھ کلامِ عرب سے بھی استشہاد کیا ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ قرآن اپنے بیان میں عربی زبان کے معروف اسالیب کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ مولانا فراہی کے منہج کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ قرآن کے اسلوب کو محض ادبی آرائش نہیں سمجھتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک اسلوب معنی تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ چنانچہ اگر کسی آیت کے اسلوبی پہلو کو نظر انداز کردیا جائے تو ممکن ہے کہ لفظ کا ظاہری معنی تو سامنے آجائے مگر آیت کا اصل مقصد اور مدعا پوری طرح واضح نہ ہو۔ اس لحاظ سے ان کی نظر میں علمِ بلاغت، نحو، لغت اور عربی ادب محض مستقل علوم نہیں رہتے بلکہ فہمِ قرآن کے معاون علوم بن جاتے ہیں۔
اس کتاب میں حذف، تقدیم و تاخیر، التفات اور واو وغیرہ جیسے مباحث اسی اصول کی مثال ہیں۔ بظاہر یہ مسائل زبان کے فنی اور نحوی مباحث معلوم ہوتے ہیں، لیکن فراہی انہیں معنی کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ مثلاً حذف کو صرف یہ کہہ کر نہیں چھوڑا جاسکتا کہ کلام میں فلاں لفظ موجود نہیں ہے بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اسے حذف کرنے سے کلام میں کیا معنوی فائدہ پیدا ہوا۔ اسی طرح تقدیم و تاخیر محض الفاظ کی ترتیب کا مسئلہ نہیں بلکہ بعض مواقع پر کسی معنی کو نمایاں کرنے، اس پر زور دینے یا کلام کے خاص مقصد کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اسی طرح التفات عربی بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے جس میں کلام کا انداز اچانک ایک صیغے یا اسلوب سے دوسرے اسلوب کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اگر قاری اس تبدیلی کو محض نحوی تبدیلی سمجھ کر گزر جائے تو وہ اس تبدیلی کے اندر پوشیدہ معنوی اور بلاغی مناسبت سے محروم ہوسکتا ہے۔ مولانا کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایسی تبدیلیوں کو قرآن کے عمومی نظم اور موقع و محل کے ساتھ مربوط کرکے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح واو کے متعلق بحث بھی ان کے تحقیقی طرزِ عمل کی ایک اچھی مثال ہے۔ انہوں نے اس امکان پر گفتگو کی ہے کہ واو بعض مواقع پر محض عطف کے لیے نہیں بلکہ بیانیہ نوعیت بھی رکھ سکتی ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں قرآن اور کلامِ عرب سے شواہد پیش کیے۔ اس بحث سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فراہی کسی نحوی قاعدے کو صرف کتابی تعریف کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے عربی زبان کے حقیقی استعمال کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیے گئے تحقیقی مطالعوں میں واوِ عاطفہ، حذف، نفی اور تقدیم و تاخیر کو اسالیب القرآن کے اہم مباحث میں شمار کیا گیا ہے۔
مولانا فراہی کی ایک اہم علمی خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ قرآن کو صرف لغت کی کتابوں کے ذریعے نہیں سمجھتے اور نہ صرف نحوی قواعد کو حتمی معیار بناتے ہیں، بلکہ قرآن کے اپنے استعمال، کلامِ عرب، عربی محاورے، لغت، نحو، بلاغت اور سیاق و سباق کو باہم ملا کر معنی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس منہج کی بنیاد میں ایک واضح اصول کارفرما ہے کہ قرآن جس زبان میں نازل ہوا ہے، اس زبان کے حقیقی اسلوب اور طرزِ بیان کو سمجھے بغیر قرآن کے بے شمار دقیق مقامات کی صحیح تفہیم نا ممکن ہے۔ لہٰذا قرآن کے ادبی اسلوب سے واقفیت دراصل قرآن کے مفہوم تک زیادہ گہرائی سے پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسالیب القرآن ایک مختصر کتاب ہونے کے باوجود غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کا مقصد محض چند ادبی اصطلاحات کی تعریفیں بیان کرنا نہیں بلکہ قاری کو قرآن کے ساتھ ایک خاص طرزِ مطالعہ سکھانا ہے۔ قاری جب قرآن کے اسلوبی پہلوؤں کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو اس کے سامنے قرآن کا متن محض الفاظ اور جملوں کا مجموعہ نہیں رہتا؛ بلکہ اسے اندازِ بیان، ترتیبِ کلام، حذف و ذکر، تقدیم و تاخیر، خطاب کی تبدیلی اور دوسرے بلاغی پہلوؤں کے ذریعے معنی کی ایک گہری دنیا دکھائی دینے لگتی ہے۔
اس پورے منہج کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مولانا فراہی کے نزدیک اسلوب معنی سے باہر کوئی اضافی آرائش نہیں، بلکہ معنی کی تشکیل میں شریک ایک بنیادی عنصر ہے۔ قرآن کا ایک لفظ اپنے سیاق میں جو معنی دیتا ہے، وہ محض لغت سے معلوم نہیں ہوسکتا اس کے لیے اس لفظ کے ساتھ آنے والی ترکیب، اس سے پہلے اور بعد کا کلام اور پورے بیان کا مقصد بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ آج کے دور میں مولانا کی یہ کاوش اس لیے بھی اہم ہے کہ قرآن کے مطالعے میں اکثر ترجمے پر انحصار بڑھ چکا ہے۔ ترجمہ فہم کا اہم ذریعہ ہے، لیکن اصل عربی اسلوب سے بے خبری بعض مواقع پر معنی کے ایسے پہلوؤں سے محروم کرسکتی ہے جو صرف اصل عبارت میں نمایاں ہوتے ہیں۔ سو مولانا کی اسالیب القرآن اسی طرف دوبارہ متوجہ کرتی ہے کہ قرآن کو اس کی اصل زبان، اس کے محاورے اور اس کے مخصوص طرزِ بیان کے ساتھ پڑھا جائے۔




کمنت کیجے