Home » جدید دنیا اور اسلامی بیانیہ ، فکری محاسبہ
سیاست واقتصاد

جدید دنیا اور اسلامی بیانیہ ، فکری محاسبہ

سید اسد مشہدی

اگر جمہوریت کو اسلامیانے کی کوشش میں سقم موجود ہے (جیسا کہ گزشتہ تحریر میں اسکی نشاندہی کی گئی) تو یہی مسئلہ نیشن اسٹیٹ (Nation-State) کے تصور پر بھی لاگو ہوتا ہے، بلکہ یہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جمہوریت کی طرح نیشن اسٹیٹ محض ایک سیاسی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظریہ ہے جو جدید مغربی فکر کی بنیاد پر استوار ہوا ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیات میں قومی خودمختاری، جغرافیائی سرحدوں کی تقدیس، شہری قومیت، اور ریاست کے اندر قانون سازی کا اختیار عوام کو دینا شامل ہیں۔ یہ تمام عناصر اسلامی سیاسی فکر سے مختلف ہیں، جس فکر میں امتِ مسلمہ کی وحدت، شریعت کی بالادستی، اور بین الاقوامی سطح پر اسلامی اخوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

اسلامائزیشن کا عمل تو ہو چکا لیکن کچھ فکری ابہامات ہنوز تشنہ ہی ہیں مثلاً یہ نظام امتِ مسلمہ کے فکری اور عملی انتشار کا باعث بنا ہے، کیونکہ اس کے تحت مسلمانوں کی اجتماعیت جغرافیائی سرحدوں میں محدود ہو گئی، اور ریاست کے تحفظ کو دین کے تحفظ پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ اس کا ایک عملی اثر یہ ہوا کہ جہاں پہلے امتِ مسلمہ ایک وحدت تھی، وہاں اب ہر ملک اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھنے پر مجبور ہے۔ نتیجتاً، امت کے اجتماعی مسائل اب ان ریاستوں کے قومی مفادات کے تابع ہو گئے ہیں، اور اسلامی دنیا اپنے داخلی معاملات میں بھی ایک ہم آہنگ موقف اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اہل علم کے لیے دوہری مشکل یہ ہے کہ وہ ان حقائق سے بھی صرف نظر نہیں کر سکتے اور نہ ہی موجودہ دنیا میں ان نظام ہائے حیات سے بغاوت کی تعلیم کوئی درست اقدام ۔

یہ سوال بھی غور طلب ہے کہ اگر نیشن اسٹیٹ کا پورا نظام کسی بنیادی اسلامی اصول کے اطلاق میں رکاوٹ بنے، تو اسے “اسلامی ریاست” کہنا کہاں تک درست ہوگا؟ جدید ریاستی ڈھانچے میں جوہری تبدیلیاں لائے بغیر کیا اسلامی قوانین کے نفاذ کا خواب پورا ہو سکتا ہے؟ یا یہ محض ایک وقتی اور سطحی حل ہوگا جو اصل مسئلے کو جوں کا توں رکھے گا؟ نیشن اسٹیٹ کے نظام نے بعض فقہی تصورات کو بھی مجرد کر دیا ہے، اور ان کے استدلالات کو کمزور یا غیر موثر بنا دیا ہے۔ یہاں “فقہ عولمی” کی تشکیل کی ضرورت پھر تازہ ہو جاتی ہے ۔

یہ تمام پہلو ایک مضبوط اور علمی اجتہادی کام کا تقاضا کرتے ہیں۔ اگر مذہبی نوجوانوں کو جدید دنیا میں فکری طور پر مطمئن کرنا ہے تو محض چند سیاسی اصطلاحات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ان بنیادی سوالات پر ازسرِ نو غور لانا ہوگا کہ آیا جدید ریاستی ڈھانچے کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں، اور اگر کیا جا سکتا ہے تو اس کی عملی شکل کیا ہوگی؟ واضح رہے کہ اس ضمن میں یہ سوال پھر غور طلب ہے کہ کسی اصطلاح کا معنی وہی ہوتا ہے جو متعین کر دیا گیا ہو، یا اس میں کوئی نیا مفہوم شامل کیا جا سکتا ہے؟ جمہوریت کی طرح نیشن اسٹیٹ بھی ایک ایسا تصور ہے، جسے اسلامیانے کی کوشش میں کئی بنیادی اصول نظرانداز کیے جا چکے ہیں۔ یہاں محض اصطلاحات کی بحث نہیں، بلکہ ان کے اطلاق میں درپیش عملی مشکلات اور فکری تضادات کا سامنا ہے۔ اگر ہم جدید سیاسی نظم کے ساتھ اسلام کے تعامل کو واضح طور پر سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اسلامی روایت کی روشنی میں ایک منظم اور مضبوط علمی کام کی ضرورت ہے، تاکہ کنفیوژن کا خاتمہ ہو اور امت ایک فکری سمت اختیار کر سکے۔

(ملک میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری مسلح جدوجہد اور اس کی تازہ لہر کے خلاف عملی سطح کی کوششیں تو ظاہر ہے کہ اہل ریاست کا کام ہے ۔ لیکن مجھے یہ احساس پیدا ہوا کہ معاملہ صرف عملی نہیں بلکہ فکری و علمی طور پر ناتمام لگ رہا ہے ۔ ماضی میں کی گئی اسلامائزیشن کی کوششیں ادھوری اور غیر مؤثر لگ رہیں۔ مزید برآں، جدید تعلیم یافتہ اہلِ علم سے گفتگو کے دوران واضح ہؤا کہ موجودہ علمی مواد ان کے سوالات کا مکمل احاطہ نہیں کرتا، اس لیے مزید سنجیدہ فکری محنت درکار ہے۔ فکری استدراک کا یہ سلسلہ تحاریر اسی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لئے ہے)

منتظمین

کمنت کیجے

کمنٹ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں