تصور کیجئے کہ ایک شخصیت خدا کے منکرین کے سامنے کہیں کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں جسے اس نے تم لوگوں کو اپنا یہ پیغام پہنچانے کے لئے مبعوث کیا ہے کہ اگر تم نے اس کی فلاں فلاں بات مانی تو خدا تمہیں ثواب دے گا اور نہ مانی تو عقاب دے گا، اور یہ بات تمہیں مجھ سے معلوم ہوگی کہ کس چیز پر ثواب و عقاب ہوگا۔
یہ لوگ ان سے کیا سوال پوچھیں گے؟ یہ دو سوال پوچھیں گے:
۱) کون اور کیسا خدا؟ ہم تو خدا کو مانتے ہی نہیں، تو جب ہم اسے مانتے ہی نہیں تو اس کی جانب سے آپ کو پیغمبر بنانے کا کیا مطلب؟
2) اگر یہ ثابت ہوجائے کہ اس کائنات کا اور بندوں کا کوئی بنانے والا ہے اور فلاں صفات کا حامل ہے اور بندوں کو احکام دینے اور طاعت و عدم طاعت پر انہیں ثواب و عقاب دینے پر قادر ہے، تو اس کی کیا دلیل ہے کہ اس نے آپ کو مبعوث کردیا ہے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کا متکلمین نے جواب دیا ہے اور علمیاتی طور پر یہی منطقی ترتیب ہے کیونکہ اس شخصیت کے دعوی نبوت کی صحت کی تصدیق ان دو سوالات کے جواب (یعنی ان ماقبل قضایا کے ثبوت) پر موقوف ہے۔ جب ان کا جواب ہوجائے گا تو مخاطبین کے لئے اس شخصیت کا یہ دعوی سچ ثابت ہوجائے گا کہ وہ خدا کی جانب سے خبر دینے والے ہیں اور اب یہ جس بھی چیز کے بارے میں یہ خبر دیں کہ فلاں بات پر خدا ثواب دے گا اور فلاں پر عقاب دے گا تو اس میں ان کی تصدیق کی جائے گی۔
لیکن اب یہ سوچئے کہ ان کے جواب میں وہ شخصیت اگر یہ کہیں کہ چھوڑو اس بات کو کہ خدا (یعنی مجھے مبعوث کرنے والا) ہے یا نہیں نیز اس کی کیا صفات ہیں، تم بس میری اس بات کی تصدیق کرو کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور پھر میرے بتانے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا (یعنی مجھے مبعوث کرنے والا) ہے یا نہیں اور وہ کیسا ہے، تو کیا اس بات سے خدا اور خود ان کا دعوی ثابت ہوگا کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں؟ یہ تو سیدھی سیدھی سرکولر دلیل ہے اور متکلمین نے اسے ایسے ہی کہا ہے۔
الغرض جو بھی لوگ وجود باری کی بحث کو نبی کی خبر پر موقوف کرتے ہیں وہ کبھی درج بالا دو سوالات کا جواب نہیں دیں گے، صرف گول مول باتیں کرتے ہیں۔
کچھ سادہ لوح اپنے اس غیر معقول موقف کو تقویت پہنچانے کے لئے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا صحابہ ایسے استدلال سے ایمان لائے تھے؟ ہم کہتے ہیں کہ ایسی باتیں کرنے والے پر یہ دکھانے کی ذمہ داری ہے کہ نبی علیہ السلام ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے تھے جہاں سب یا اکثریت ملحد تھے اور پھر آپ علیہ السلام نے انہیں درج بالا طریقے پر دعوت دی ہو۔ ہم یہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں کہ صحابہ میں سے کسی کو دلیل عقلی سے یہ معلوم ہی نہ تھا کہ اس کائنات کا خالق ہے جس نے آپ علیہ السلام کو مبعوث کیا ہے اور ان کی سچائی کی دلیل مقرر کی گئی ہے، بس وہ (العیاذ باللہ) بلا وجہ ہی ان کے دعوے کی تصدیق کیا کرتے تھے۔
جو اوپر لکھا گیا اسے اب منظم قضایا کی صورت لکھتے ہیں تاکہ مذہبی کانٹینز کے موقف کی سرکولیریٹی سمجھنا مزید آسان ہوجائے۔ متکلمین کہتے ہیں کہ بحث کی علمیاتی ترتیب یہ ہے:
الف) خدا موجود ہے، اور وہ بعض صفات (علم، قدرت، ارادہ، کلام وغیرہ) کا حامل ہے
ب) خدا کی طرف سے کسی انسان کو پیغمبر بنانا معقول و ممکن ہے
ج) فلاں شخص کے حق میں دلیل مقرر کی گئی ہے کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے
د) فلاں شخص کا یہ دعوی کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے، یہ بات سچ ہے
ھ) یہ شخص عند اللہ جن ثواب و عقاب کی خبریں دے رہا ہے وہ سچی ہیں
تو ان قضایا کی درست ترتیب یوں ہے:
الف ثابت ہو (خدا کا وجود اور اس کی صفات)
الف کا نتیجہ ب ہے (اگر ایسا خدا ہے تو پیغمبر مبعوث کرنے کا امکان اور معقولیت ثابت ہے)
ب + ج کا نتیجہ د ہے (امکان نبوت اور معجزہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا نے اس شخص کو مبعوث کیا ہے)
د کا نتیجہ ھ ہے (پیغمبر کی خبر پر اعتماد)
یعنی ھ کی تصدیق د پر، د کی تصدیق ب اور ج پر، اور ان کی الف پر موقوف ہے:
الف ← ب ← ب + ج ← د
یہی ماقبل قضایا (prior propositions) کی درست ترتیب ہے۔ اب ہمارے مذہبی کانٹینز، جو حشویہ کے منہج پر ہیں، کی ترتیب نوٹ کیجئے:
ان کے مطابق اس شخصیت کا دعویٰ یوں ہے:
تم پہلے میری نبوت یعنی یہ دعوی مان لو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں، پھر میری بات سے جان لو کہ خدا ہے اور کیسا ہے۔ اسے قضایا کی صورت رکھیں:
د) میں سچا پیغمبر ہوں
د کا نتیجہ الف) چونکہ میں پیغمبر ہوں، اس لیے میرے بتانے سے خدا اور اس کی صفات کا ثبوت ہے
الف کا نتیجہ ب) اگر ایسا خدا ہے تو پیغمبری ممکن ہے
ب + ج کا نتیجہ د) چونکہ پیغمبری ممکن ہے اور میرے حق میں دلیل مقرر ہوئی ہے، اس لیے میں پیغمبر ہوں۔
تو ترتیب یہ بنی:
د ← الف ← ب ← ب + ج ← د
یعنی:
- نبوت (د) کو خدا کے ثبوت (الف) پر ثابت کر رہے ہیں
- اور خدا کے ثبوت (الف) کو نبوت (د) کے ثبوت پر
اسے کون ذی عقل مانے گا؟ البتہ اس قسم کی باتوں کو یہ حضرات ایمانی عقل کہتے ہیں!




سر! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا علاوہ کتنے ایسے انبیاء ہیں جن کی بعثت ایسے لوگوں میں ہوئی ہے جن کی اکثریت ملحد تھی؟ یا یوں کہیے کہ ایسے کتنے انبیاء علیہم السلام ہیں جن کی دعوت کا اہم جزء وجود خدا کا اثبات ہو؟
یا پھر اب تک جتنے انبیاء آئے وہ سب ایسے معاشروں میں مبعوث ہوے ہیں جو سب وجود خدا کے قائل تھے؟ یعنی وجود خدا کسی نبی کی دعوت کا اہم حصہ ہی نہیں رہا؟