پاکستان میں دہشت گردی کہاں سے آئی؟ کب آئی؟ کیوں آئی؟ کون اس کےلیے کس حد تک ذمہ دار ہے؟ ان سوالات پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر اس عفریت کا مقابلہ کرنے کےلیے درست حکمتِ عملی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ اس لیے کچھ تلخ حقائق پیش کرنا لازم ہے۔ حقائق آنکھیں چرانے سے تبدیل نہیں ہوتے؛ ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انھیں تسلیم کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی انھیں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
مثلاً ذرا ان سوالات پر سوچیے کہ کیا واقعی پاکستان میں دہشت گردی اور غیرریاستی عناصر کی کارروائیاں افغانستان پر روس کے حملے کے بعد سے شروع ہوئی ہیں اور اس سے پہلے راوی چین ہی چین لکھتا تھا؟ یا کیا واقعی پاکستان نے 80 اور 90 کی دہائی میں ہی جہادی تنظیموں کی پرورش کی پالیسی اختیار کی اور اس سے قبل ریاست نے کبھی غیر ریاستی عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کی؟ یا کیا واقعی نائن الیون کے بعد ریاست نے غیر ریاستی عناصر کی تائید کا راستہ ترک کردیا؟ یا کیا واقعی دہشت گردی میں صرف مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد ہی مبتلا ہیں؟ یا کیا واقعی اس فساد کی ذمہ داری صرف ہمارے مغربی اور/یا مشرقی پڑوسیوں پر ہی عائد ہوتی ہے اور ہمارے ’اپنے لوگ‘ اس کےلیے ذمہ دار نہیں ہیں؟
عام طور پر لوگ جنرل ضیاء کے دور سے یہ کہانی شروع کرتے ہیں اور اسی دور پر ختم سمجھتے ہیں۔
یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ سوشلسٹ اور سیکولر ذو الفقار علی بھٹو صاحب کے دور میں، جبکہ ابھی افغانستان میں روس نے فوجیں داخل نہیں کی تھیں، ہم نے گورنر سرحد جنرل نصیر اللہ بابر کے ذریعے افغان مجاہدین کی تربیت شروع کی تھی۔ بھٹو صاحب سے بھی پیچھے جاکر دیکھیں کہ مشرقی پاکستان میں مسلح تنظیموں کی پرورش کیا صرف بھارت نے کی تھی، یا ہم نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا تھا؟
پھر تھوڑا مزید پیچھے جاکر 1965ء کی جنگ اور اس سے قبل ”آپریشن جبرالٹر“ کو ”جہادِ کشمیر“ ہی کا حصہ ہم نے باقاعدہ سرکاری طور پر منوانے کی کوشش کی تھی، اور وہ بھی ترقی پسند سیکولر فوجی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں۔
پھر جب بات جہادِ کشمیر کی آئی، تو تھوڑا مزید پیچھے جاکر دیکھیں کہ 1948ء کے جہاد کشمیر میں ”غیور قبائل“ کو استعمال کرنا ہماری ریاستی پالیسی کا حصہ تھا۔ گویا ہماری ریاست نے آغاز سے ہی یہ نسخہ استعمال کیا ہے اور جو لوگ کہانی کا آغاز جنرل ضیاء سے کرتے ہیں، وہ کہانی درمیان سے شروع کرتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کہانی جنرل ضیاء پر ختم بھی نہیں ہوتی۔ ضیاء دور کے بعد دیکھیے۔
کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیکولر دور میں، اور میاں صاحب کے اسلامی جمہوری دور میں، ہم نے جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کا سلسلہ بیک وقت جاری نہیں رکھا؟
پھر محترمہ کے دوسرے دور میں اسی جنرل نصیر اللہ بابر کے ذریعے جس نے ستر کی دہائی میں بھٹو کے ساتھ مل کر افغان مجاہدین کی تربیت کا پروگرام لانچ کیا تھا، ہم نے افغانستان میں طالبان کی قوت تخلیق نہیں کی؟
پھر میاں صاحب کے دور میں کیا ہم نے کارگل کا جہاد نہیں کیا؟
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔
کیا روشن خیال اعتدال پسند جنرل مشرف کے دور میں نائن الیون تک ہم ”جہاد اور دہشت گردی میں فرق“ پر دنیا کو قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتے رہے؟ اور کیا آگرہ سربراہ کانفرنس کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ نہیں تھی کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی ”گھس بیٹھیوں“ کی مداخلت کی بات کرنا چاہتا تھا اور ہمارا اصرار تھا کہ یہ بات نہیں ہوگی؟
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد بھی ہم نے یہ سلسلہ ترک نہیں کیا، بلکہ ہم نے بیک وقت جہاد کی پروموشن اور اس پر پابندی لگاکر ”گڈ طالبان“ اور ”بیڈ طالبان“ کی تقسیم کی۔
پھر کیا اسی دور میں کبھی طالبان سے معاہدے کرکے اور کبھی ان کے مقابلے میں ”عوامی لشکر“ تخلیق کرکے خود ہم نے مزید عسکریت پسندی کو تقویت نہیں بخشی؟
پھر کیا ان عوامی لشکروں اور امن کمیٹیوں کے سربراہان اور ارکان کو طالبان کا نشانہ بننے کےلیے چھوڑ دینا مسلسل ہمارا وتیرہ نہیں رہا؟
اس ریاستی پالیسی کی، جو روزِ اول سے تا حال جاری ہے، اپنی وجوہات ہوں گی، کچھ قابلِ قبول، کچھ ناقابلِ قبول، کچھ قابلِ فہم، کچھ لایعنی۔ اس وقت میں ان وجوہات پر، یا اس پالیسی کے اچھے یا برے نتائج پر بحث نہیں کررہا ، بلکہ صرف تاریخ کے چند حقائق یاد دلا رہا ہوں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ کہانی جنرل ضیاء سے شروع نہیں ہوتی، نہ ہی اس پر ختم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ روزِ اول سے آج تک بلا انقطاع ریاستی پالیسی رہی ہے۔
کمنت کیجے